اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت نواز،فیضان ام عطار شفیع
کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کو سدھارنے کے کئی طریقے ہیں جو والدین کی رہنمائی اور محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔
یہاں کچھ اہم طریقے دیئے جا رہے ہیں:
1۔ محبت اور توجہ: بچوں کو محبت اور توجہ دینا بہت ضروری
ہے۔ یہ ان کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انہیں محفوظ محسوس کراتا ہے۔ جب بچے
محسوس کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی پرواہ کرتے ہیں، تو وہ بہتر رویے کی طرف
مائل ہوتے ہیں۔
2۔ مثالی کردار بنیں: والدین کو خود ایک اچھا کردار بننا
چاہیے۔ بچے اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں، لہذا اگر آپ اچھے اخلاق اور رویے کا
مظاہرہ کریں گے تو بچے بھی آپ کی پیروی کریں گے۔
3۔ قواعد و ضوابط: بچوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط بنائیں
اور ان پر عمل درآمد کروائیں۔ یہ ان کو سکھاتا ہے کہ کس طرح صحیح اور غلط میں فرق
کرنا ہے۔
4۔ تعلیم و تربیت: بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں۔ انہیں
مختلف موضوعات میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور ان کی ذہنی
نشوونما میں مدد کریں۔
5۔ مثبت تنقید: بچوں کی غلطیوں پر تنقید کرتے وقت مثبت
انداز میں بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ وہ کیا بہتر کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف
ان کی غلطیوں پر توجہ دیں۔
6۔ سماجی مہارتیں: بچوں کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے
کی تربیت دیں۔ انہیں سکھائیں کہ کس طرح دوستانہ رویہ اپنایا جائے، دوسروں کا
احترام کیا جائے، اور مسائل کو حل کیا جائے۔
7۔ وقت گزاریں: اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کے
ساتھ کھیلیں، باتیں کریں، اور ان کی دلچسپیوں میں شامل ہوں۔ یہ ان کے ساتھ تعلق کو
مضبوط کرتا ہے۔
8۔ مثبت ماحول: گھر میں ایک مثبت اور خوشگوار ماحول
بنائیں۔ یہ ان کی ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور انہیں بہتر رویے کی طرف مائل
کرتا ہے۔
یہ
طریقے بچوں کی تربیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور انہیں بہتر انسان بنانے میں
مدد کریں گے۔بیشک، بچوں کی تربیت میں احادیث کا بہت بڑا مقام ہے۔ یہاں کچھ احادیث
ہیں جو بچوں کی تربیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہیں:
1۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی،
نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (بخاری، 1/457، حدیث: 1358) اس حدیث سے یہ سمجھا جا
سکتا ہے کہ بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ ان کی فطرت کے مطابق ہونی
چاہیے۔
2۔ ایک
اور حدیث میں آتا ہے: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ
والدین کو اپنے بچوں کی تربیت میں ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔
3۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان کا اپنے
بچے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی،
3/382، حدیث: 1958)
یہ اس
بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بچوں کو صحیح ادب اور اخلاق سکھانا بہت اہم ہے۔
یہ
احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ بچوں کی تربیت میں محبت، توجہ، اور صحیح اخلاق سکھانا
کتنا ضروری ہے۔ جہاں تک اولادکو سکھانے کی بات ہے تو قرآن پاک سکھائے، سات برس کی
عمر میں نماز کا حکم دینے کے ساتھ ہی نماز اور طہارت کے ضروری مسائل بھی سکھائے کہ
سات سے نو برس کی عمر بچوں کی تربیت کے تعلق سے بالخصوص بچیوں کے لیے بےحد اہم ہے
کہ بچیاں اس کے بعد کبھی بھی بالغہ ہو سکتی ہے۔ ان علوم کے سکھانے کے ساتھ ساتھ
شرعی تقاضوں کے مطابق دنیوی تعلیم بھی دی جاسکتی ہے۔ والدین پر اولاد کے جو حقوق
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بیان
فرمائے ہیں ان میں سے سیکھنے سیکھانے کے چند حقوق یہ ہیں:
زبان
کھلتے ہی اللہ،اللہ پھر لا الٰہ الّا اﷲ پھر پورا کلمۂ طیبہ سکھائے۔ جب تمیزآئے
ادب سکھائے، کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اٹھنے، بیٹھنے،چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ،
بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ، استاذ وغیرہ کا ادب سکھائےاور دختر (یعنی بیٹی)
کوشوہرکی اطاعت کے طرق (یعنی طریقے) و آداب بتائے۔ قرآن مجید پڑھائے۔ استاذ نیک،
صالح، متقی، صحیح العقیدہ، سنّ رسیدہ (یعنی بڑی عمر)کے سپرد کردے اور دختر کو نیک
پارسا عورت سے پڑھوائے۔ بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔ عقائد اسلام و
سنّت سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی وقبول حق پرمخلوق ہے (یعنی چھوٹے بچے دین
فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں یہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا) اس وقت
کابتایا پتھر کی لکیر ہوگا۔ حضور اقدس، رحمت عالم ﷺ کی محبت وتعظیم ان کے دل میں
ڈالے کہ اصل ایمان وعین ایمان ہے۔ حضورپرنور ﷺ کے آل و اصحاب و اولیاء و علما کی
محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصل سنّت و زیور ایمان بلکہ باعث بقائے ایمان ہے(یعنی یہ
محبت ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے)۔
سات
برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے۔ علم دین خصوصاً وضو،غسل، نماز و
روزہ کے مسائل توکل، قناعت، زہد، اخلاص، تواضع، امانت، صدق، عدل، حیا، سلامت صدور
و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل،حرص وطمع، حب دنیا، حب جاہ، ریا، عجب، تکبّر،
خیانت، کذب، ظلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل(یعنی بری صفات)
پڑھائے۔ خاص پسر (یعنی بیٹے)کے حقوق سے یہ ہے کہ اسے لکھناسکھائے۔ سورۂ مائدہ کی
تعلیم دے۔ اعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔ خاص دختر (یعنی بیٹی) کے حقوق سے یہ ہے کہ
اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمت الٰہیہ جانے، اسے سینا،پرونا، کاتنا،کھانا
پکانا سکھائے اورسورۂ نور کی تعلیم دے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/455 ملخصا)
اولاد
کو سدھارنے کے لیے مختلف منفرد طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں جو ان کی شخصیت، عمر،
اور ضروریات کے مطابق ہوں۔ یہاں کچھ مؤثر طریقے دیئے جا رہے ہیں:
1۔ مثالی رویہ: والدین کو خود ایک اچھا نمونہ بننا
چاہیے۔ بچے والدین کے رویے سے سیکھتے ہیں، اس لیے اگر آپ ان سے محبت، احترام، اور
ایمانداری کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔
2۔ مثبت حوصلہ افزائی: بچوں کی اچھی عادات اور کارکردگی کی
تعریف کریں۔ جب وہ کچھ اچھا کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہ ان کے اعتماد
کو بڑھاتا ہے اور انہیں بہتر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
3۔ کھلی بات چیت: بچوں کے ساتھ کھل کر بات کرنے کی عادت
ڈالیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان کے خیالات کا احترام کریں۔ اس سے انہیں
احساس ہوگا کہ آپ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔
4۔ نظم و ضبط: بچوں کے لیے واضح اصول اور حدود مقرر
کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ ان اصولوں کی پیروی کیوں ضروری ہے۔ نظم و ضبط سے انہیں
ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔
5۔ تعلیمی سرگرمیاں: بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول
کریں جیسے کہ کتابیں پڑھنا، سائنسی تجربات کرنا، یا فنون لطیفہ میں حصہ لینا۔ یہ
ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے اور انہیں سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
6۔ وقت گزارنا: اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، چاہے وہ
کھیلنے کا وقت ہو یا کوئی مشترکہ سرگرمی۔ اس سے آپ کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے
اور بچے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
7۔ مشکلات کا سامنا: بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کی تربیت
دیں۔ انہیں سکھائیں کہ ناکامی بھی سیکھنے کا حصہ ہے اور اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
8۔ جذباتی حمایت: بچوں کو یہ سمجھائیں کہ ان کے جذبات
اہم ہیں۔ اگر وہ پریشان یا غمگین ہیں تو ان کی بات سنیں اور انہیں تسلی دیں۔
یہ
طریقے آپ کی اولاد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر بچہ منفرد ہوتا
ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان کی ضروریات اور حالات کے مطابق طریقے اپنائیں۔اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ناہید،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت والدین کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ بچوں کو درست راہ پر
گامزن کرنے کے لیے محبت، حکمت، اور صبر کے ساتھ ایک متوازن رویہ اختیار کرنا ضروری
ہے۔ یہاں اولاد کو سدھارنے کے چند مفید طریقے دیے گئے ہیں:
1۔ محبت اور توجہ دیں: بچوں کے لیے والدین کی محبت اور توجہ
سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے جذبات کو سمجھیں اور انہیں اپنی اہمیت کا احساس
دلائیں۔ محبت سے بات کریں اور ان کے مسائل سننے کے لیے وقت نکالیں۔
2۔ مثالی کردار پیش کریں: بچے وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے
والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے اخلاق اپنائیں، تو
خود بھی مثالی کردار کا مظاہرہ کریں۔ سچ بولیں، وعدے نبھائیں، اور اچھے رویے کا
مظاہرہ کریں۔
3۔ مثبت بات چیت کریں: ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی بجائے بچوں سے
محبت بھرے اور مثبت انداز میں بات کریں۔ اگر وہ کوئی غلطی کریں تو تحمل کے ساتھ
انہیں سمجھائیں اور ان کی رہنمائی کریں۔
4۔ صحیح عادات سکھائیں: بچوں کو نماز، قرآن، اور اچھے اخلاق کی
عادت ڈالیں۔ وقت پر کام کرنا، صفائی رکھنا، اور دوسروں کی مدد کرنا ان کی شخصیت کو
نکھارنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
5۔ حوصلہ افزائی کریں: بچوں کی کامیابیوں کو سراہیں اور ان کی
حوصلہ افزائی کریں۔ اگر وہ ناکام ہوں تو ان کا ساتھ دیں اور دوبارہ کوشش کرنے کا
درس دیں۔
6۔ دوست بنیں: بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق قائم
کریں تاکہ وہ اپنے مسائل اور خیالات آپ سے بلا جھجک شیئر کرسکیں۔ اس سے آپ انہیں
بہتر سمجھ سکیں گے۔
7۔ دعاؤں کا سہارا لیں: اولاد کی کامیابی اور اصلاح کے لیے
دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور مدد طلب کریں، کیونکہ دعا والدین کا سب
سے بڑا ہتھیار ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ممتاز،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بچوں کی
تعلیم کے لیے کئی خاص طریقے ہیں جو ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے
مطابق ہوتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم طریقے دیئے گئے ہیں:
1۔ تفریحی سیکھنے کا طریقہ: بچوں کے لیے سیکھنے کو مزید
دلچسپ بنانے کے لیے گیمز، کہانیاں، اور تخلیقی سرگرمیاں شامل کی جا سکتی ہیں۔ اس
سے بچوں کی توجہ برقرار رہتی ہے اور وہ بہتر طریقے سے سیکھتے ہیں۔
2۔ عملی تجربات: بچوں کو عملی تجربات فراہم کرنا، جیسے
کہ سائنس کے تجربات یا کھانا پکانے کے طریقے، ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا
ہے۔ اس طرح وہ اپنی سیکھنے کی معلومات کو عملی زندگی میں استعمال کر سکتے ہیں۔
3۔ مشترکہ سیکھنا: گروپ میں سیکھنے سے بچے ایک دوسرے سے
سیکھتے ہیں اور اپنی سماجی مہارتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ انہیں اپنی رائے کا
اظہار کرنے اور دوسروں کی رائے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
4۔ مثبت حوصلہ افزائی: بچوں کی کامیابیوں پر تعریف اور حوصلہ
افزائی انہیں مزید سیکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ یہ انہیں خود اعتمادی فراہم کرتی ہے
اور سیکھنے کے عمل میں دلچسپی بڑھاتی ہے۔
5۔ وقت کی منصوبہ بندی: بچوں کے لیے ایک منظم شیڈول بنانا
ضروری ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل اور آرام کا وقت بھی رکھ سکیں۔
اولاد
کو نماز کی طرف لانے کے لیے آپ درج ذیل طریقے اپنا سکتے ہیں:
1۔ مثال بنیں: سب سے پہلے، خود نماز قائم کریں۔ جب اولاد
آپ کو نماز پڑھتے دیکھے گی تو ان کی دلچسپی بڑھے گی۔
2۔ محبت سے بات کریں: اولاد سے محبت اور احترام کے ساتھ بات
کریں۔ انہیں نماز کے فوائد، جیسے کہ روحانی سکون، اللہ کی رضا، اور دنیا و آخرت
میں کامیابی کے بارے میں بتائیں۔
3۔ آہستہ آہستہ شروع کریں: اگر اولاد نماز نہیں پڑھتے تو
انہیں آہستہ آہستہ نماز کی عادت ڈالنے کی کوشش کریں۔ مثلاً، انہیں فجر کی نماز کے
لیے اٹھانے کی کوشش کریں۔
4۔
نماز کی اہمیت سمجھائیں: اولاد کو یہ سمجھائیں کہ نماز روزمرہ زندگی کا ایک اہم
حصہ ہے اور یہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
5۔
نماز کے اوقات بتائیں: انہیں نماز کے اوقات بتائیں اور ان کے ساتھ مل کر نماز
پڑھنے کی کوشش کریں۔
6۔
دعاؤں کا سہارا لیں: اللہ سے دعا کریں کہ وہ اولاد کے دل میں نماز کی محبت ڈالے اور انہیں اس کی
توفیق عطا فرمائے۔
7۔
اجتماعی نماز کا اہتمام: اگر ممکن ہو تو خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر
باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد شبیر، فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
اللہ پاک کی طرف سے بہت ہی انمول تحفہ اور نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے۔
بڑھاپے میں ہمارا سہارا ہے۔ اولاد ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ ہمارے نام و نسل باقی
رہتی ہے۔ ہماری موت کے بعد ہمیں ایصال ثواب کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ہر انسان کی یہی
تمنا ہوتی ہے کہ ہماری اولاد نیک ہو، فرماں بردار ہو جو دنیا میں بھی ہماری راحت و
سکوں کا باعث بنے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے۔
اولاد
کو نیک بنانے میں والدین کا بہت دخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اولاد کی تربیت اچھی کرے
اسکو اسکا صلہ ضرور ملتا ہے۔ اور جو کوئی تھوڑی سی کوتاہی کر دے اس کے لیے وہ
اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ تو اس کے لیے والدین کو چاہئے کہ اولاد کی تربیت اسلامی
تعلیمات کے مطابق کریں۔ یہ والدین کی اول ذمہ داری ہے اس بارے میں معمولی سی
کوتاہی بھی نہیں کرنی چاہئے۔ کیوں کہ اسکا نقصان یہ ہوتا کہ اولاد بگڑ جاتی ہے
جیسا کہ آج کل ایک وافر تعداد ہے جو اس چیز کا رونا روتے نظر آتے ہیں جیسے کہ بات
نہیں مانتیں، گالیاں دیتے، بد تمیز ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کاش! کہ والدین اولاد کی
تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق کریں۔
اولاد کی تربیت کیسے کی جائے؟ اس کے بہترین اصول ہمیں قرآن پاک
میں ملتے ہیں۔ مثلا نیک اعمال کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے، اور ایسے
ہی گناہگاروں کو گناہ کرنے پر جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ اولاد کی اچھی تربیت
کرنے کی فضیلت کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔
فرمان
مصطفٰی ﷺ ہے: ایک آدمی کا اپنی اولاد کو اچھا ادب سکھانا ایک صاع خیرات کرنے سے
بہتر ہے۔ (ترمذی، 3/328،حدیث: 1958)
بچوں
کی اخلاقی تربیت کس طرح کی جا سکتی ہے اس کے متعلق چند طریقے ملاحظہ کیجئے، جن پر
عمل کر کے آپ اپنے بچوں کے اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں:
اپنی سوچ بدلئے: والدین کی جو یہ سوچ ہے کہ بچے بڑے ہو
کر سمجھ جائیں گے اور خاص دھیان نہیں دیتے بلکہ بعض حرکتوں پر تو ہنس دیا جاتا اور
خوشی خوشی رشتہ داروں کو بھی بتایا جاتا ہے کہ ہمارا بچہ یہ سب کر رہا ہو اور اسکو
ان سب باتوں اگرچہ وہ غلط ہی ہوں پیار ملتا ہے جو کہ بچے بگڑنے کا سبب ہے ایسے تو
بچوں کی عادت پختہ ہو جائے گی لہذا بچپن سے ہی انکی اخلاقی تربیت کی جائے۔
پلاننگ کریں: ہر ضروری کام کو مکمل کرنے کے لیے
پلاننگ بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کے بغیر کام صحیح طریقے سے مکمل نہیں ہو سکتا۔
پلاننگ اس چیز کی کرنی ہے کہ کاموں سے بچنا ہوگا اور کون کون سے امور اختیار کرنے
ہوں گے وغیرہ۔
اپنے طور طریقے میں تبدیلی لائیں: یہ حقیقت ہے
کہ بچہ قول سے کم اور عمل سے زیادہ سیکھتا ہے، اپنے والدین اور قریب موجود دیگر
افراد کو جو کچھ کرتے دیکھتا ہے وہی کرتا ہے۔ لہذا جیسے والدین چاہتے ہیں کہ انکا
بچہ اچھے کام کریں ویسے ہی والدین کو چاہئے کہ خود بھی اس طرح کا عمل ہی کریں۔
بچوں کو سمجھائیے: بچے نا سمجھ ہوتے ہیں اس لیے کوئی بھی
ایسا کام کر دیتے ہیں جو اخلاقیات کے خلاف ہوتے ہیں لیکن چونکہ بچوں کی حرکتیں سب
کو بہت اچھی لگتی ہیں اور ان سے بچوں پر مزید پیار آتا ہے اور بچوں کو بار بار وہی
کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اور وہی کام جب بڑا ہو کر کرے تو سب اس کے پیچھے پڑ
جاتے ہیں اور ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں لہذا والدین کو چاہئے کہ شروع ہی سے بچوں کو
ایسی حرکت پر پیار سے سمجھا دینا چاہئے۔
اولاد کے لیے دعا: اولاد
کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں، حدیث پاک میں ہے کہ تین دعائیں ایسی ہیں جن
کے مقبول ہونے میں کوئی شک نہیں:1۔مظلوم کی دعا 2۔مسافر کی دعا اور3۔ والد کی دعا
اولاد کے لیے۔ (ترمذی،3 / 362،حدیث:1912)
محترم
والدین! مذکورہ طریقے اپنا کر آپ اپنی اولاد کو سدھار سکتے ہیں اللہ کریم والدین
کو اولاد کی تربیت قرآن و سنت کر مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت فرید علی،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ بچے قوم کا مستقبل اور والدین کا
سرمایہ ہوتے ہیں۔ بچوں کو ایک نیک، مہذب اور کامیاب انسان بنانے کے لیے درج ذیل
طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
1۔ اچھی مثال قائم کریں: بچے عموماً والدین اور اپنے اردگرد کے
لوگوں کی نقل کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود ان اصولوں پر عمل کریں جو وہ
اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے دیانت داری، وقت کی پابندی، اور دوسروں کا
احترام۔
2۔ محبت اور شفقت سے پیش آئیں: بچوں کے ساتھ
محبت بھرے رویے سے پیش آئیں تاکہ وہ آپ پر اعتماد کریں۔ سختی اور چیخنے چلانے سے
بچے بغاوت کی طرف جا سکتے ہیں جبکہ شفقت اور نرمی انہیں مثبت سمت میں لے جاتی ہے۔
3۔ اخلاقی تربیت: بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھائیں اور
انہیں اخلاقی اقدار جیسے سچ بولنا، امانت داری، بڑوں کا ادب اور دوسروں کی مدد
کرنا سکھائیں۔ دینی تعلیم کی بنیاد ڈالنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اللہ کا خوف اور
محبت دل میں رکھیں۔
4۔ مثبت گفتگو کریں: بچوں کو حوصلہ افزائی دینے والے جملے
کہیں اور ان کی چھوٹی کامیابیوں پر تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی انہیں خود اعتمادی
دیتی ہے اور وہ بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
5۔ وقت دینا: بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں۔ ان کی
بات سنیں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور انہیں رہنمائی فراہم کریں۔ والدین کی توجہ
بچوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں سے دور رکھتی ہے۔
6۔ تعلیم کی اہمیت: بچوں کو تعلیم کی اہمیت بتائیں اور
انہیں علم حاصل کرنے کے لیے شوق دلائیں۔ اسکول کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف مہارتیں
سکھائیں جو زندگی میں کام آئیں۔
7۔ غلطیوں پر مناسب رویہ اپنائیں: بچوں کی
غلطیوں پر سخت ردعمل دینے کے بجائے سمجھداری اور صبر سے انہیں درست کریں۔ غلطی کی
نشاندہی کریں مگر ساتھ ہی اصلاح کا طریقہ بھی بتائیں تاکہ وہ بہتر ہو سکیں۔
8۔ نظم و ضبط سکھائیں: بچوں کو وقت کا پابند بنائیں اور انہیں
ذمہ داری کا احساس دلائیں۔ نظم و ضبط انہیں زندگی میں کامیاب انسان بننے میں مدد
دیتا ہے۔
9۔ دوستی کا رشتہ قائم کریں: بچوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں
کہ وہ آپ سے اپنے مسائل اور راز بلا جھجھک شیئر کر سکیں۔ والدین کی حیثیت سے ساتھ
ساتھ ان کے دوست بھی بنیں۔
10۔ ٹیکنالوجی کا استعمال معتدل کریں: بچوں کے
موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت
سرگرمیوں جیسے کھیل، کتابیں پڑھنا اور تخلیقی کاموں کی طرف راغب کریں۔
11۔ دعا اور تربیت میں استقامت: اولاد کی
اصلاح کے لیے والدین کو دعا کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ سے ہدایت اور نیک اولاد کی
دعا کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔
اولاد
کو سدھارنے کا عمل وقت اور محنت طلب ہے۔ والدین کو مستقل مزاجی اور حکمت سے بچوں
کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ بچوں کی صحیح تربیت نہ
صرف والدین کی کامیابی ہے بلکہ یہ پوری قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عتیق،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کو سدھارنے کے کئی طریقے ہیں جو والدین کو مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم
نکات دیئے جا رہے ہیں:
1۔ مثالی رویہ: بچوں کے سامنے خود ایک مثالی رویہ پیش
کریں۔ اگر آپ اچھے اخلاق، ایمانداری اور محنت کی مثال قائم کریں گے تو بچے بھی آپ
کی پیروی کریں گے۔
2۔ محبت اور توجہ: بچوں کو محبت اور توجہ دیں۔ ان کے ساتھ
وقت گزاریں، ان کی باتیں سنیں اور ان کی ضروریات کو سمجھیں۔ یہ انہیں احساس دلائے
گا کہ آپ ان کی فکر کرتے ہیں۔
3۔ تعلیم کی اہمیت: بچوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں۔
انہیں کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔
4۔ حدود کا تعین: بچوں کے لیے واضح حدود مقرر کریں۔
انہیں بتائیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور ان حدود کی پاسداری کریں۔
5۔ مثبت حوصلہ افزائی: جب بچے اچھا کام کریں تو ان کی حوصلہ
افزائی کریں۔ ان کی کامیابیوں پر تعریف کریں تاکہ وہ مزید محنت کرنے کی خواہش
رکھیں۔
6۔ مشکلات کا سامنا: اگر بچے کسی مسئلے کا سامنا کر رہے
ہیں تو انہیں سمجھائیں کہ مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی انسان مضبوط ہوتا ہے۔ ان کی
مدد کریں کہ وہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
7۔ دوستانہ ماحول: گھر میں دوستانہ اور خوشگوار ماحول
بنائیں۔ بچوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں محفوظ ہیں اور ان کی رائے اہم ہے۔
اولاد
کو برے کاموں سے روکنے کے لئے کچھ طریقے ہیں جو آپ آزما سکتے ہیں:
1۔ بات چیت کریں: سب سے پہلے، اس کے ساتھ کھل کر بات
کریں۔ اسے بتائیں کہ آپ کو اس کے برے کاموں کے بارے میں کیا تشویش ہے اور کیوں آپ
چاہتے ہیں کہ وہ انہیں نہ کرے۔
2۔ مثبت متبادل پیش کریں: اس کو بتائیں کہ وہ اپنے وقت
اور توانائی کو کس طرح بہتر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ مثلاً، اگر وہ خطرناک
کام کر رہا ہے تو اسے کوئی محفوظ اور مفید سرگرمی تجویز کریں۔
3۔ نمونہ بنیں: خود بھی اچھے کام کریں اور اس کے سامنے
ایک مثال قائم کریں۔ اگر وہ آپ کی مثبت تبدیلیوں کو دیکھے گا تو شاید وہ بھی متاثر
ہو۔
4۔ حمایت فراہم کریں: اگر وہ کسی مشکل میں ہے تو اس کی مدد
کریں۔ کبھی کبھار لوگ برے کاموں کی طرف اس لیے جاتے ہیں کیونکہ انہیں حمایت یا
رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عبدالمجید،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
انسان کی زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے اولاد کو سدھارنے کے لیے بہت سے اصولوں کو مدنظر
رکھنا ضروری ہے۔
1۔ حسن اخلاق: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو ہر
ایک سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں کہ اس میں بہت سی دینی اخروی سعادت
پوشیدہ ہیں جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: حسن اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے
جس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے۔ (شعب الایمان، 6/247، حدیث: 8036)
2۔ پاکیزگی: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو صاف
ستھرا رہنے کی تاکید کریں حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ہے پاکیزگی پسند فرماتا ہے
ستھرا ہے ستھرا پن پسند فرماتا ہے۔ (ترمذی، 4/365، حدیث: 2808)
3۔توکل: اپنی اولاد کا توکل کے لیے ذہن بنائیں کہ ہماری نظر
اسباب پر نہیں خالق اسباب یعنی اللہ پر ہونی چاہیے رب تعالیٰ چاہے گا تو یہ روٹی
ہماری بھوک مٹائے گی وہ چاہے گا تو یہ دوا ہمارے مرض کو دور کرے گی۔
4۔صبر: اپنی اولاد کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی صدمہ
پہنچے تو بلا ضرورت شرعی کسی کے سامنے بیان نہ کیجیے اور صبر کیجیے اور صبر کا
ثواب کمائیے حضور ﷺ نے فرمایا: جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے اللہ
تعالی اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا۔ (ترمذی، 4/145، حدیث: 2332)
5۔وقت
کی اہمیت: اپنی اولاد کو وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ان کا ذہن بنائیے کہ وقت
ضائع کرنا عقل مندوں کا شیوا نہیں۔
حضرت
داؤد طائی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے اس کی
وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے اتنی دیر میں
قرآن کریم کی 50 آیتیں پڑھ لیتا ہوں۔ (تذکرۃ الاولیاء، 1/201)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت طاہر راحیلہ،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
اللہ کریم کی طرف سے والدین کے لیے ایک نعمت ہے اور اس کی قدر ہر کوئی نہیں کرتا
حقیقی والدین وہی ہیں جو اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں بچپن سے ہی ان کی ہر
لحاظ سے شریعت کے مطابق تربیت کریں کیونکہ اولاد وہی کرتی ہے جو اپنے بڑوں کو کرتے
دیکھتی ہے اور اگر اولاد بگڑ جائے یا وہ برے افعال میں مبتلا ہوجائے تو پھر ان کو
سدھارنا انتہائی مشکل کام ہے اس لیے ہر آن اولاد پر نظر رکھیں وہ کن کاموں میں آج
کل مصروف ہے اگر برے کاموں میں مبتلا ہے تو فورا ان کو ان کاموں سے روکا جائے اور
اچھے کاموں کی ترغیب دلائی جائے آئیے ذیل میں چند اولاد کو سدھارنے کے طریقے
بتائیں جائیں گے ملاحظہ کیجیے۔
(1)تین باتیں سکھاؤ: آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو
تین(3)چیزیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبّت، اہل بیت کی محبّت اور قرآن پاک پڑھنا۔ (الصواعق
المحرقہ، ص 172)
(2) تربیت کرنے میں سختی نہ کریں: بعض والدین
اپنی اولاد کی تربیت تو کرتے ہیں ہر لمحہ اپنی اولاد کی تربیت تو کرتے ہیں لیکن
اتنا سخت رویے اور انداز کے ساتھ کہ بچہ سدھرنے کی بجائے اور بگڑ جاتا ہے تو یاد
رکھیں جو کام نرمی سے ہوتا ہے وہ گرمی سے نہیں ہوتا تو ہر آن ہر لمحہ نرمی والا
انداز ہونا چاہئے اس سے آپ کی اولاد پر اچھا اثر پڑے گا۔
(3)دیکھ کر سیکھنا: یاد رکھیں اولاد جو دیکھے گی وہی کرے
گی لہذا والدین کو چاہئے کہ وہ خود نیک کام کریں نماز اور تمام احکام شرعیہ اچھے
انداز میں پورے کریں ان شاء اللہ الکریم اس کی برکت سے ان کی اولاد میں بھی مثبت
اثر پڑے گا اور ان کا نیک کاموں میں دل بھی لگے گا۔
(4)نظر رکھیں:والدین کو چاہیے وہ اپنی اولاد پر نظر
رکھیں کہ معاذ اللہ ان کی اولاد کہیں برے کاموں یا بری صحبتوں میں تو نہیں پڑ گئی
اگر والدین اپنی اولاد پر نظر رکھیں گے تو اولاد کو بھی ڈر ہو گا جس کی وجہ سے برے
کاموں سے بچ جائے گی۔
(5) بلا وجہ جھڑکنے سے بچیں: بعض اوقات والدین اپنی کسی
پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے میں اگر اولاد ان سے کچھ جائز خواہش کرے تو
والدین بغیر کسی وجہ سے جھڑک دیتے ہیں جس کا اولاد پر برا اثر پڑتا ہے اولاد
والدین سے متنفر ہو جاتی ہے اور پھر باغی ہو جاتی ہے کسی کی بات نہیں سنتی لہذا
والدین کو اگر کوئی پریشانی ہو تو کوشش کریں اس کا اظہار اگر اولاد پر کرنا تو اس
کے لیے جھڑکنے کی بجائے نرم انداز سے بتائیں تاکہ اولاد بری سوچ سے بچے اور متنفر
نہ ہو۔
وظیفہ کیجئے: نافرمان بچے کو فرماں بردار کرنے کے
لئے روحانی علاج پیش خدمت ہے: جو شخص یا شہید 21 بار صبح سورج نکلنے سے پہلے
نافرمان بچے ىا بچى کى پىشانى پر ہاتھ رکھ کر آسمان کى طرف منہ کرکے پڑھے ان شآء
اللہ اس کا وہ بچہ ىا بچى نىک بنے۔ یہ وظیفہ اس طرح نہیں پڑھنا کہ بچے کو بولیں:
ادھر آ! تو بہت شیطانی کرتا ہے، میں وظیفہ پڑھتا ہوں، تو صحیح ہوجائے گا۔اس طرح
اور زىادہ بگاڑ پىدا ہوجائے گا۔ وظیفہ اس طرح پڑھیں کہ بچے کو پتا نہ چلے۔ بچے کو
جھوٹ بھی نہیں بولنا اور حکمت عملی سے کام لے کر یہ وظیفہ پڑھنا ہے۔ شہید اللہ پاک
کا نام ہے، ان شاء اللہ آپ کو اس کی برکتیں حاصل ہوں گی۔
یاد
رکھیں کہ بچوں کی تربیت وقت، محبت اور مستقل محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر آپ ان
اصولوں پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ آپ کی اولاد ایک بہترین شخصیت کی حامل ہوگی۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت طارق نذیر،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بچے
مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر انہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے
ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت
سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل
میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر
بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر
عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت
کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے
اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں
نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت
دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ
نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبال جان ہو گی اور آخرت میں
بھی رسوائی کا سبب بنے
گی۔
اولاد
کو ﷲ ربّ العزت نے دنیاوی زندگی میں رونق سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ رونق اسی وقت ہے
جب والدین کی جانب سے اپنی ذمے داری کو پورا کرتے ہوئے بچوں کی صحیح نشو و نما،
دینی و اخلاقی تربیت کی جائے اور بچپن ہی سے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔
لہذا
والدین کو اپنی اولاد کے حوالے سے بہت محتاط اور ذمہ دار ہونا چاہیے ان کو وقت
دینا چاہیے اور اچھی عادات اپنانے کا ذہن بنانا چاہیے اور بری عادات سے بچنے کی
تلقین کرنی چاہیے۔
ذیل
میں اولاد کو سدھارنے کی چند ہدایات پیش کی جاتی ہیں ان کو اپنانے سے ان شاءاللہ
بہتر نتائج اخذ ہوں گے۔
1۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال: سوشل میڈیا دو
دھاری تلوار ہے یعنی اس کے فوائد بہت ہیں تونقصانات بھی بہت۔ بات کریں فوائد کی تو
دور حاضرمیں سوشل میڈیا سیکھنے کا آسان ترین، سستا ترین اور سب سے بڑا ذریعہ بن
چکا ہے۔ ہر شعبے کی معلومات ہمارے ایک کلک کے فاصلے پر دستیاب ہیں۔ تاہم اس کا حد
سے زیادہ یا بے مقصد استعمال نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ جسم و ذہن پر بھی خطرناک
اثرات ڈالتا ہے۔ اس ضمن میں والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ایسی
ذہنی تربیت کریں کہ وہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور اس کے منفی اثرات سے
بچیں۔
2۔اصول بنائیں: ماؤں کوچاہئے کہ اپنے گھرکے کچھ مخصوص
اصول بنائیں جس پر تمام لوگوں کو عمل کرناضروری ہو، اور ماؤں کو چاہئے کہ ان
اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہیں۔ اپنی سہولت یا بچوں کی ضد کی وجہ سے ان اصولوں
میں پھیربدل نہ کریں ورنہ بچہ آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دے گا اور ہمیشہ ان
اصولوں سے انحراف کی کوشش کرے گا۔
3۔ مقصددیجئے: بچوں کی ضداور غلط حرکتیں کرنے کی عادت
اگر بڑھتی جارہی ہے تو آپ کو انہیں اپنے پاس بٹھا کر سمجھانا چاہئے کہ غلط طریقے
سے برتاؤ کرنے کے برے نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہیں آپ مقصد دیجئے کہ آپ کو اچھا اور
کامیاب انسان بنناہے تو آپ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔
یہ بات
تو طے ہے کہ بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اس لئے مائیں بچوں کے سامنے
اچھی عادات کا مظاہرہ کریں، تاکہ بچے بھی ایسی ہی عادات اپنائیں۔
4۔ بہتر ماحول دیجئے: بچے وہ نہیں کرتے جو انہیں کہا جاتا ہے،
بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس لئے ماؤں کو
چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترماحول دیں۔ اگرمائیں خود گھر کے بزرگوں یا لوگوں
پرغصہ کررہی ہو یاچلارہی ہو توبچہ بھی یہی سیکھے گا۔ ایسے میں ماؤں کو چاہئے کہ
گھر کا ماحول اور بچوں کی تربیت اس طرح کرے کہ بچہ سمجھ جائے کہ بڑوں کی باتوں کو
مانناضروری ہوتاہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت شمس پرویز،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بگڑی
اولاد کو اگر پیار و محبت سے سمجھایا جائے ان کی طرف توجہ کی جائے تو یقینا وہ
اپنے والدین کے فرمانبردار بن جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں بچہ ابھی چھوٹا ہے
کہہ کر لاپرواہی کی جاتی ہے اور پھر جب وہ بگڑ جائے تو پیار سے سمجھانے کی بجائے
اسے ہر بات پر ڈانٹا جاتا ہے جس سے وہ ضدی ہو جاتا ہے اور اکثر ہمارے زیادہ پیار
اور محبت کی وجہ سے بچہ ہر بات پر ضد کرتا ہے ہر بچہ ضد کرتا ہے ایسا نہیں کہ بچے
کا ضد کرنا غلط ہے لیکن بات بات پر اور حد سے زیادہ ضد کرنا غلط ہے اور اس کا اثر
بچے کے مستقبل پڑھتا ہے اس لیے ماؤں کو درج ذیل باتوں پر عمل کرتے ہوئے بچوں کی
تربیت کرنی چاہیے ماں کو چاہیے کہ بچے کی بات بغور سنے اور اگر اس کی بات میں
اچھائی ہے تو اس بار اس کی حوصلہ افزائی کرے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت شکیل،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کے بگڑنے میں سب سے اہم کردار ماں باپ کا ہوتا ہے۔ جب ماں نے بچے کو کسی غلط کام
سے روکنا نہیں تو بچے نے کس طرح سیدھا ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اور بگڑے گا۔ جب
والدین کا مقصد حیات حصول دولت عیش و آرام بن جائے تو وہ اولاد کی ترتیب کیا کرئے
گے اور پھر جب اولاد کی طرف سے ایسا بگڑا پن دیکھتے ہیں تو ہر ایک سے اسکے بگڑنے
کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے
والدین کو غور کرنا چاہئے کہ اولاد کو اس حال تک پہنچانے میں ان کا کتنا ہاتھ ہے
کیونکہ انہوں نے اپنے بچے کو ABC تو سکھا یا مگر قرآن پڑھنا نہ سکھایا مغربی
تہذیب کے طور طریقے بتائے مگر سنتیں نہ سکھائیں، انہیں جنرل سائیں وغیرہ کا بتایا
مگر ان کو فرض علوم نہ سکھائے اسکے دل میں مال کی محبت ڈالی مگر عشق رسول ﷺ کی شمع
نہ روشن کی اسے دنیاوی ناکامیوں کے بارے میں بتایا مگر یہ نہ بتایا کہ اگر آخرت
میں ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا اس کی ناکامی کا خوف نہ دلایا تو ایسی صورت میں جب
بچے کو کچھ سیکھانا ہی نہیں اسکی دین کی طرف رہنمائی ہی نہیں کرنی تو اسطرح
اولادنے تو بگڑنا ہی ہے۔
اس
لیے اپنی اولاد کو سیدھے راستے پر چلائیے ان کو دین کی طرف راغب کرے انہیں قرآن سیکھنے
کے لیے بھیجے۔ ان کو حضور ﷺ کی سنتوں کے بارے میں بتائے ایسے میں ہمارا شعبہ دعوت
اسلامی ہمیں بہت سی آسائش فراہم کر رہا ہے۔ بہت سے بچے قرآن کی تعلیم حاصل کر ر ہے
ہیں اور طرح طرح کے کورس کر رہے ہیں اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کر رہے ہیں اور
سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ ماشاء اللہ
اللہ
پاک سبکی اولاد کو فرمانبردار بنائے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
اولاد
کو سدھارنے کے بہت سے روحانی علاج بھی ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
1۔
نافرمان اولاد کو فرمانبردار بنانے کے لئے تاحصول مراد نماز فجر کے بعد آسمان کی
طرف رخ کر کے کا يا شہيد 21 بار پڑھیں ( اول و آخر ایک بار درود پاک)۔
2۔ ہر
نماز کے بعد ذیل میں دی ہوئی دعا اول و آخر درود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیں۔
انشاء اللہ عزوجل بال بچے سنتوں کے پابندیں گے۔ اور گھر میں مدنی ماحول قائم ہوگا:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا
مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا
لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ 9، الفرقان: 74)
اولاد کو سدھارنےکے طریقے از بنت دلاور حسین،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
والدین
کی ذمہ داریوں میں سے سب سے اہم ذمہ داری اولاد کی اچھی تربیت کرنا ہے ان کو اچھے
برے کام کی تمیز سکھانا ہے تاکہ گھر اور معاشرہ پرامن ہو سکے اور بچوں کو بھی صحیح
غلط کی تمیز آ سکے۔ اولاد کو سدھارنےکے چند اسباب بیان کیے گئے ہیں جن کو مدنظر
رکھتے ہوئے ان کی بہترین تربیت کی جا سکتی ہے اس میں سب سے پہلا
اخلاق و کردار: بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود
ہوتی ہے یعنی اس کی ماں ہوتی ہے اور پھر باقی گھر والے ہوتے ہیں بچہ جو اپنی ماں
یا اپنے گھر والوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے وہی طریقہ اپناتا ہے تو بہتر ہے کہ بچوں
کی ماں اپنے اخلاق کو کردار مثبت رکھے تاکہ اولاد کے لیے اخلاق اور کردار بھی بہتر
ہو سکے۔
مثبت گفتگو: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے
سامنے اپنے بزرگوں کی عزت کریں اپنے بزرگوں سے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کرے ان
کا ادب و احترام کرے تاکہ ان کی اولاد بھی اپنے بڑوں کی عزت کرے اور ان کے ساتھ
حسن اخلاق سے پیش ائے۔
محبت اور توجہ: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے
ساتھ محبت سے پیش آئے ان کی ہر بات کو اہمیت دے اور توجہ سے سنیں تاکہ بچوں میں
خود اعتمادی پیدا ہو اور والدین کو ان کی تربیت کرنے میں آسانی ہوگی۔
تعلیم و تربیت: والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت
پر توجہ دینی چاہیے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر بھی توجہ دینی چاہیے
بالخصوص فرائض علوم پر تاکہ بچوں میں دنیا کے ساتھ آخرت کی فکر کرنے کی کہ بھی کڑھن
پیدا ہو۔
حوصلہ افزائی کرنا: والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کہ اچھے
کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان میں کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور اپنے
کام کو خوش اسلوبی سے انجام دے۔
دوست بنائیں: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے
ساتھ گل مل کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں تاکہ ان کے بچے ان کے
ساتھ کوئی بھی بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔
ایکٹیوٹیز: والدین کو چاہیے کہ اپنے اولاد کی ایکٹیوٹیز پر نظر
رکھے وہ کب کیا کرتے ہیں یہ کیا کرنا چاہتے ہیں ان کی ایکٹیویٹیز کیا ہے۔
مثالی کردار: والدین کو چاہیے کہ مثالی کردار کے لیے
اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگی کی مثال دے کر ان کی زندگیوں کو
بھی بہتر بنایا جائے۔
اور
اپنی اولاد کے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک آپ کی اولاد کو نیک صالح اور والدین کا
فرمانبردار بنائے۔
Dawateislami