مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو،
مولانا الیاس عطار قادری
عاشقانِ رسول کی عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ
اسلامی“ کے زیرِ اہتمام 12 ستمبر
2026ء بمطابق 30 ربیع الأول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کی نشست کا انعقاد کیا
گیا۔
تفصیلات کے مطابق بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں اس مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیاجس میں
عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کو مدنی چینل کے پلیٹ فارم سے عالمگیر سطح پر بھی براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جس
کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ رسول ان لمحاتِ تربیت سے مستفید ہوئے۔
علمِ دین سے بھرپوراس مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ
کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ والہ سلم سے ہوا جس کے بعد امیرِ
اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی مدنی مذاکرے میں تشریف آوری ہوئی۔
مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی امیرِ
اہلِ سنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی طرف سے ہونے والے سوالات کے
تفصیلی جوابات عنایت فرمائے۔ آپ نے اپنے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین و ناظرین کی
دینی، اخلاقی اور تنظیمی بنیادوں پر جامع تربیت فرمائی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ :’’كبهى
مشكل ميں كسى بُزدل سے مشورہ مت لينا كيونكہ وه تمہارى بچى ہوئى ہمت كو بهى ختم كر دے گا‘‘اس
بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: باہر وہی آتا ہے جو اندر ہوتا ہے ،جو پہلے ہی ڈرا ہوا
ہو گا، وہ ہمت بڑھانے والی بات نہیں کرے گا۔مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو ۔وہ اس چیز کا مشورہ دے گا کہ ہمت میں رہنا ہے اور جو
مشکل ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔مشورہ اچھا دینا چاہئے اور ہمت بڑھانی چاہئے کہ رکھ مولیٰ تے آس(یعنی بندہ اللہ پاک
پر بھروسہ کرے،اُس کی رحمت پر اُمید رکھے)۔
سوال:
اگر کسی کی طرف سے دل آزاری کرنے پر دل
میں گھٹن ہوتی ہو تو کیا کریں ؟
جواب: بعضوں کی یہ
کیفیت ہوتی ہے کہ جب کوئی دل آزاری کر دے
تو جب تک کسی کے سامنے اپنی بھڑاس نکال نہ دیں،اِنہیں سکون نہیں آتا، ایسوں کو صبر کرنا چاہئے کہ اگر کسی کو بتائیں گے اور یہ بتانا شرعی طور پر درست نہ
ہوا تو اس شخص کی بُرائی اور غیبت میں مبتلا ہوں گے جبکہ اس نے دل آزاری تنہائی میں کی ہو۔ انبیائے کرام علیہم السلام پر
لوگوں نے ظلم و ستم کیے ،مگر اُنہوں نے صبر کیا ،گِلہ شکوہ ان کے ہاں نہیں تھا، اسی
طرح کی مثال کربلا
والوں کی ہے،اِنہیں کیا کیا نہیں کہا گیا
مگر انہوں نے صبر کیا ،یہ استقامت کا پہاڑ تھے۔
سوال:خَاتَمَ النَّبِیّٖنْ کا مکمل مفہوم اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی تفصیلی تشریح
ارشاد فرما دیں۔
جواب: خَاتَمَ
النَّبِیّٖنْ کا معنیٰ ہے نبیوں میں سب
سے آخری نبی۔انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام
تو بہت سے تشریف لائے مگر سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے۔ اب ان کے بعد کوئی نیا نبی
نہیں آئے گا ،حدیث پاک ہے کہ لَانَبِیَّ بَعْدِی یعنی میرے
بعد کوئی نبی نہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف
لائیں گے مگر وہ نئے نبی نہیں ،مزید وہ انجیلِ مقدس کی تعلیم نہیں دیں گے
بلکہ قرآنِ کریم کی تعلیم دیں گے ۔مکتبۃ
المدینہ کا رسالہ’’ سب سے آخری نبی صلی
اللہ
علیہ والہ وسلم ‘‘ پڑھیں
،اس سے درس بھی دیں ،گھر والوں کو بھی مکمل پڑھ کر سنائیں ۔
سوال: عقیدہ کیا
ہوتا ہے؟
جواب:
عقیدہ بیج کی طرح ہے اور عمل اس کی شاخیں
اور پتیاں ہیں ۔اللہ و رسول کوماننا عقیدہ ہے،تمام
ضروریاتِ دِین عقیدہ ہیں ۔ عقیدہ اُن دِینی اُمور کا نام ہے جن پر دل بغیر
کسی شک وشبہ کے پختہ ہو جائے۔ ( حدیقہ ندیہ، 1/ 96)
سوال: اِیثار سے کیا مراد ہے ؟
جواب: کسی کو کسی چیز کی خود ضرورت ہے مگر اپنے نفس پر دُوسرے کو ترجیح
دے یعنی وہ خود اِستعمال نہ کرے بلکہ
دُوسرے کودیدے تو یہ اِیثار ہے ،صحابۂ
کرام اور بزرگانِ دِین بہت ایثار کرتے تھے ۔ غزوۂ یرموک کے موقع پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے زخمی چچازاد بھائی
کے لیے پانی لے کر پہنچے۔ چچازاد بھائی نے خود پانی پینے کے بجائے قریبی زخمی
صحابی حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کو
پانی دینے کا اشارہ کیا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی دوسرے زخمی کی طرف پانی بھیج دیا، مگر وہ شہید
ہو چکے تھے۔ جب واپس حضرت ہشام رضی اللہ
عنہ
کے پاس آئے تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے اور آخر میں اپنے چچازاد بھائی کے پاس پہنچے
تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس واقعے سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایثار، ہمدردی اور دُوسروں
کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی عظیم مثال نظر آتی ہے۔
سوال: کیا آپ جہلم شہر میں بھی تشریف لے گئے ہیں ؟
جواب: میں جہلم(پنجاب،پاکستان) میں دو تین مرتبہ حاضر ہوا ہوں اور مسجد میں بیان کئے ہیں ۔
سوال: صدیقِ اکبر کا کیا معنی ہے اور یہ کس کا لقب ہے ؟
جواب: صدیق کا معنی سچا، اکبر
کا معنی بہت بڑا۔ مسلمانوں کے
پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ
بہت سچ بولتے تھے ،یہ آپ کا لقب ہے۔
سوال: رشتے میں رکاوٹ ہو تو کیاپڑھیں ؟
جواب: رشتے کی رُکاوٹ ہو توجہاں رشتہ کرنا ہو وہاں جاتے ہوئےیَاعَزِیْزُ 40 مرتبہ پڑھ لیجئے۔ان شاءاللہ الکریم کامیابی ملے گی۔لڑکی کو دیکھنے آرہے ہوں اُس
وقت لڑکی یہی عمل کرے۔
مشورہ:
کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔
مُدّت:
ایک بار میں کام نہ بنے تو ضرورت کے مطابق ہر بار کرتے رہئے۔
لازمی:
نماز کی پابندی اور بندوں کی حق تلفی سے پرہیز۔
(انٹرویو دینے جائیں،
گھر دکان وغیرہ کا سودا کرنے جائیں، قرض کی وصولی، الغرض جس کام کیلئے جائیں یہ
عمل مفید ہے)
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھ یا سُن لے ،اُس کو کم بولنے
اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت اس کی
بے حساب بخشش فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami