حضور ﷺ سراپا رحمت ہیں، آپ کی حیات طیبہ اسلام کا مظہر اتم ہے آپ کے عمل کے چراغ نے عالم کو وہ روشنیاں عطا فرمائی کہ ہر گوشہ گوشہ چمک اٹھا اور اور ہر ایک چاہے وہ جن ہوں یا انسان،زیر آسمان ہوں یا آسمان میں،زمین کے اندر ہوں یا زمین پر، مسلمان ہوں یا کفار،گناہگار ہوں یا نیکوکار،اپنے ہوں یا پرائے اللہ کریم نے آپ کو رحمت عطا فرماکر مبعوث فرمایا: رب کریم ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

حضور کی رحمت خاص جن پر خاص ہوئی وہ عظیم جماعت،جماعت صحابہ ہے کہ کسی کو جنت میں ہمسائیگی عطا فرمائی تو کسی کو جنت کے محل، کسی جنتی نوجوانوں کا سردار بنادیا تو کسی کو یار غار بنا کر افضل البشر بعد الانبیاء (انبیاء کے بعد سب سے افضل) بنادیا۔

یوں تو حضور ﷺ کی حیات پاک میں بالخصوص ایسے فرامین ملتے ہیں جو کسی خاص شخصیت کے حامل افراد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔لیکن یہاں پیش نظر موضوع مجاہدین سے حضور کی محبت ہے۔

آئیے پہلے مختصراً جہاد کا تعارف مع حکم سنتے ہیں تاکہ اس سے بیان کا مقصود حاصل ہو۔

حافظ ابن حجر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:جِہَاد میم پر زیر کے ساتھ لغت میں مشقت پر بولا جاتا ہے۔شریعت میں کافروں سے لڑنے اور یہ لفظ (یعنی جہاد) نفس اور شیطان اور فساق کے مجاہدات پر بولا جاتا ہے۔ (فتح الباری، 6/38)

حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مسلم و محقق بات یہی ہے کہ کفار کے مقابلے میں جنس جہاد پر مسلمان پر فرض عین ہے خواہ یہ جہاد ہاتھ سے ہو یا زبان سے، مال سے یا دل سے۔ (فتح الباری، 6/38)

حضور خاتم النبیین ﷺ نے کئی مقامات پر بالعموم تمام مجاہدین اسلام اور کہیں بالخصوص جانثار امت کو بشارتِ عظمی عطا فرمائی اور کہیں ان سے کمال انداز میں محبتوں کا اظہار فرمایا آئیے یہاں چند موضوعات کے تحت حضور ﷺ کی مجاہدین سے محبت کو ملاحظہ کرتے ہیں۔

سب سے پہلے انصاری شہید کو جنت کی بشارت: صاحبِ مشکاۃ صحیح مسلم کی روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت انس روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ تشریف لے گئے حتی کہ بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچ گئے اور مشرکین بھی آگئے تو رسولاللہ ﷺ نے فرمایا: اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں و زمین کے برابر ہے تو عمیر ابن حمام بولے خوب خوب رسولاللہ ﷺ نے فرمایا تجھے: خوب خوب کہنے پر کون چیز بھڑکا رہی ہے؟ بولے یارسولاللہ اور کوئی چیز نہیں سواء اس امید کے کہ میں بھی جنت کے اہل سے ہوجاؤں، فرمایا: تم اہلِ جنت میں سے ہو راوی فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ چھوارے نکالے اور انہیں کھانے لگے پھر بولے کہ اگر ان چھوہاروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ زندگی بہت دراز ہے فرماتے ہیں کہ جتنے چھوارے ان کے پاس تھے پھینک دیئے پھر کفار سے جنگ کی حتی کہ شہید کردیئے گئے۔ (مسلم، 1053، حدیث: 1901)

یہ جذبۂ جہادصحابہ کرام میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ وہ اپنی جان اللہ و رسول اللہ ﷺ کی راہ میں قربان کرنے میں پیش پیش رہتے تھے اسی صفت بے مثل کی وجہ سے کئی اصحاب سے آقا خاتم النبیینﷺ نے بشارتیں عاطف فرمائی اور کئی کے فضائل بیان فرمائے۔

ایک رات راہ خدا میں پہرہ دینے والے سے محبت: آقا خاتم النبیینﷺ کی عطا ہے جس کو چاہیں جیسے چاہیں عطا فرمادیں، اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔

میرے کریم سے اگر قطرہ کسی نے مانگا دریا بہا دیے ہیں در بے بہا دیے ہیں

روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے جنازے میں تشریف لے گئے جب جنازہ رکھا گیا تو حضرت عمر ابن خطاب نے عرض کیا یارسول اللہ اس پر نماز نہ پڑھیئے کیونکہ فاجر آدمی ہے تب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف توجہ فرمائی کہ کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلامی کام پر دیکھا ہے تو ایک شخص نے عرض کیا ہاں یارسولاللہ اس نے ایک رات راہِ خدا میں پہرہ دیا تھا تو اس پر رسولاللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور اس پر مٹی ڈالی اور فرمایا: تیرے ساتھی تو گمان کرتے ہیں کہ تو دوزخی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتیوں میں سے ہے۔ (شعب الایمان، 4/43، حدیث:4297)

مجاہد الله کے ذمہ کرم پر ہے: آقا خاتم النبیین ﷺ کی شان کریمی پر کروڑوں سلام حضور ﷺ کی نگاہ کرم سے کوئی محروم نہ رہا بلکہ کفار کے لیے حضور ﷺ رحمت ہیں کیونکہ آپ علیہ السلام رحمۃ للعالمین ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ہیں جن سب کی ذمہ داری(یعنی ان کا اجروثواب اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے) اللہ پر ہے ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلے وہ خدا کی ذمہ داری میں ہے حتی کہ اسے موت آجائے تو جنت میں داخل فرمادے یا اجروغنیمت کا مال لے کر واپس کرے اور ایک وہ شخص جو مسجدکی طرف چلے وہ اللہ کی ذمہ دار ی میں ہے اور ایک وہ شخص جو ا پنے گھر میں سلام سے جائے وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔ (ابوداود، 3/12، حدیث: 2494)

عمل کم اجر زیادہ: حضرت بَراء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا جس نے لوہے کا خود پہنا ہواتھا،عرض کی: یارسول اللہ! میں جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟ارشاد فرمایا:پہلے اسلام لاؤپھر جہاد کرو۔چنانچہ وہ شخص ایمان لایااور جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے عمل کم کیا اور اجر بہت پایا۔ (بخاری، 2/256، حدیث: 2808)

علّامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حدیث شریف میں مذکور شخص کا نام عمرو بن ثابت اشہلی ہے۔ (تفہیم البخاری،4/ 369) فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ قصہ غزوہ اُحد کا واقعہ ہے۔یہ عجیب خوش بخت انسان تھے کہ ایک سجدہ بھی نہیں کیا اور جنت میں داخل ہوگئے۔اجرِ کثیر ان کا یہ ہے کہ ہمیشہ ہمیش جنت میں رہیں گے۔ (نزہۃ القاری،4/58)

جہاد کرنے والوں کے لیے عمومی بشارتیں:

1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول االلہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جنت میں سو درجے ہیں جن کو االلہ نے راہ ِخدا میں جہادکرنےوالوں کے لئے تیار کیاہے اوردو درجوں کے درمیان آسمان وزمین جتنا فاصلہ ہے۔ (بخاری، 2/250، حدیث: 2790)

2۔ رسولِ اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: االلہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔عرض کی گئی:پھر کون سا عمل افضل ہے؟ارشاد فرمایا:راہِ خُدا میں جہاد کرنا۔ پوچھا کیا گیا:پھر کون سا؟ارشاد فرمایا:حج مبرور۔ (بخاری، 1/21، حدیث: 26)

اللہ کریم ہمیں مجاہدین کے صدقے بلاحساب مغفرت عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنے دین کے لئے کفار کے خلاف، نفس کے خلاف جان و مال اور زبان و دل سے جہاد کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین


نبی کریم ﷺ کی ذات کریمہ تمام صفات کی جامع ہے۔آپ ﷺ کی ایک صفت حب الناس بھی ہے جو کہ عظیم الشان صفت ہے، نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ اس تحریر میں بالخصوص حضور ﷺ کی مجاہدین صحابہ کرام سے محبت پر روشنی ڈالی جائے گی۔

مجاہدین صحابہ کون: مجاہدین صحابہ سے مراد وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا اور اسلام کی سربلندی،حفاظت اور تبلیغ کے لئے اپنی جان و مال کی قربانیاں پیش کیں۔یہ وہ مقدس جماعت ہے جنہوں نے تمام غزوات اور سرایا میں براہ راست حصہ لیا اور دشمنان اسلام کے خلاف شمشیر زنی کی۔

اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پ 26، الفتح: 29) ترجمہ کنز العرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت اور آپس میں نرم دل ہیں،تو انہیں رکوع کرتے ہوئے،سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کے نشان سے ہے۔

انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پر سختی کرتا ہے اور اس میں بھی جس کی محبت جتنی زیادہ ہو اس کی اپنے محبوب سے نفرت اور سختی بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور یہ چیز اس کے عشق و محبت کی علامات میں سے ایک علامت شمار کی جاتی ہیں۔

علاج و معالجہ اور حوصلہ افزائی: اگر کوئی صحابی زخمی ہوجاتا،آپ ﷺ خود ان کی عیادت کرتے اور زخموں پر مرہم پٹی فرماتے، آپ ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ صحابہ کرام آپ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو سعادت دارین سمجھتے تھے۔

مجاہدین کے لئے دعائیں: آپ ﷺ ہر غازی کے لئے دعائے خیر فرماتے اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے اللہ سے التجا فرماتے۔آپ ﷺ نے مجاہدین کی فضیلت میں کثرت سے احادیث بیان فرمائیں، جو ان کی عظمت اور نبی کریم ﷺ کی محبت کی عکاس ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے جو اس کی راہ میں نکلے اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالٰی پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو،(تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لئے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں،یا اجرو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹادوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا خوف نا ہوتا تو میں کسی بھی سریا (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نا چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کرسکوں، نا لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں اور نا ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نا جاسکیں پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں،پھر جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)

آخر میں رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب و احترام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ذوق و شوق سے ان کا ذکر خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ