حضور کی
مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت قدیر حسین، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
نبی کریم ﷺ کی
ذات کریمہ تمام صفات کی جامع ہے۔آپ ﷺ کی ایک صفت حب الناس بھی ہے جو کہ عظیم الشان
صفت ہے، نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بے پناہ محبت
فرماتے تھے۔ اس تحریر میں بالخصوص حضور ﷺ کی مجاہدین صحابہ کرام سے محبت پر روشنی
ڈالی جائے گی۔
مجاہدین
صحابہ کون: مجاہدین
صحابہ سے مراد وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی ﷺ کے
دست اقدس پر اسلام قبول کیا اور اسلام کی سربلندی،حفاظت اور تبلیغ کے لئے اپنی جان
و مال کی قربانیاں پیش کیں۔یہ وہ مقدس جماعت ہے جنہوں نے تمام غزوات اور سرایا میں
براہ راست حصہ لیا اور دشمنان اسلام کے خلاف شمشیر زنی کی۔
اللہ پاک قرآن
مجید فرقان حمید میں انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کرتے ہوئے
فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ
بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پ 26،
الفتح: 29) ترجمہ کنز العرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں
پر سخت اور آپس میں نرم دل ہیں،تو انہیں رکوع کرتے ہوئے،سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا،اللہ
کا فضل و رضا چاہتے ہیں ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کے نشان سے ہے۔
انسان کی یہ
فطرت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے نفرت کرتا اور ان پر سختی کرتا ہے اور اس
میں بھی جس کی محبت جتنی زیادہ ہو اس کی اپنے محبوب سے نفرت اور سختی بھی اتنی ہی
زیادہ ہوتی ہے اور یہ چیز اس کے عشق و محبت کی علامات میں سے ایک علامت شمار کی
جاتی ہیں۔
علاج
و معالجہ اور حوصلہ افزائی: اگر کوئی صحابی زخمی ہوجاتا،آپ ﷺ خود
ان کی عیادت کرتے اور زخموں پر مرہم پٹی فرماتے، آپ ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ
صحابہ کرام آپ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو سعادت دارین سمجھتے تھے۔
مجاہدین
کے لئے دعائیں: آپ
ﷺ ہر غازی کے لئے دعائے خیر فرماتے اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے اللہ سے التجا
فرماتے۔آپ ﷺ نے مجاہدین کی فضیلت میں کثرت سے احادیث بیان فرمائیں، جو ان کی عظمت
اور نبی کریم ﷺ کی محبت کی عکاس ہیں۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص
کے لئے جو اس کی راہ میں نکلے اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالٰی پر
ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو،(تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں
اس کے لئے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں،یا اجرو ثواب اور مال غنیمت کے
ساتھ اس منزل تک لوٹادوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات
کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا خوف نا
ہوتا تو میں کسی بھی سریا (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نا چھوڑتا،
لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کرسکوں، نا لوگوں کے پاس
اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں اور نا ہی انہیں یہ پسند ہے کہ
میں چلا جاؤں، اور وہ نا جاسکیں پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں
محمد ﷺ کی جان ہے میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں،پھر
جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں اور قتل کردیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335،
حدیث: 2753)
Dawateislami