حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت فیض الحسن، جامعۃ المدینہ سراجا منیرا گجرات
نبی کریم ﷺ نے
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت فرمائی، خصوصاً ان خوش نصیب
مجاہدین سے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال، گھر بار
اور ہر محبوب چیز قربان کر دی۔ نبی کریم ﷺ بھی ان مجاہدین کے ساتھ نہایت شفقت،
محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔
ربِ کریم
قرآنِ مجید میں بھی مجاہدین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: لَا یَسْتَوِی
الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ- (پ 5، النساء:
95) ترجمہ کنز العرفان: مسلمانوں میں سے جو لوگ بغیر کسی عذر کے (جہاد سے) بیٹھ
رہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں، یہ
دونوں برابر نہیں۔
قرآنِ کریم کے
بعد احادیثِ مبارکہ میں بھی کئی مقامات پر نبی کریم ﷺ نے مجاہدین کی عظمت اور ان
سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
غزوۂ
تبوک کے مجاہدین کی فضیلت: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے
غزوۂ تبوک کے لیے بے مثال مالی مدد پیش کی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج کے
بعد عثمان جو بھی عمل کریں، یہ (عظیم خدمت) ان کے لیے کافی ہے۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:
3720)
اللہ
کی راہ میں ایک صبح یا شام کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین کی عظمت بیان
کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا اور اس کی تمام
چیزوں سے بہتر ہے۔ (بخاری، 2/251، حدیث:
2792)
حضرت
جعفر بن ابی طالب کی شہادت پر محبت کا اظہار: غزوہ مؤتہ میں
حضرت جعفر بن ابی طالب نے اسلامی لشکر کا علم سنبھالا۔ جب ایک ہاتھ کٹ گیا تو
دوسرے ہاتھ سے جھنڈا پکڑا، دوسرا بھی کٹ گیا تو بازوؤں سے تھام لیا، یہاں تک کہ
شہید ہوگئے۔
جب ان کی
شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کے بچوں کو اپنے سینے
سے لگایا، ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر
فرمایا: میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے دیکھا۔ اسی وجہ سے
انہیں جعفرِ طیار کہا جاتا ہے۔ (شرح زرقانی،3/356)
مجاہدین
پر نبی کریم ﷺ کی شفقت و محبت: غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مجاہدین
کی صفیں درست فرما رہے تھے۔ حضرت اسود بن غزیہ رضی اللہ عنہ صف سے کچھ آگے تھے۔ آپ
ﷺ نے اپنے دستِ مبارک میں موجود ایک باریک لکڑی سے نہایت نرمی کے ساتھ انہیں صف
میں برابر ہونے کا اشارہ فرمایا۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ!
آپ سے مجھے تکلیف پہنچی ہے، مجھے بدلہ لینے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فوراً اپنا
شکمِ مبارک کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ آگے بڑھے،
مگر بدلہ لینے کے بجائے آپ ﷺ کے شکمِ اقدس سے لپٹ گئے، اسے بوسہ دیا اور عرض کیا:
یارسول اللہ! جنگ کا وقت ہے، معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے، اس لیے میری خواہش تھی
کہ میرا آخری عہد آپ کے جسمِ مبارک سے ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر
فرمائی۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ ﷺ اپنے مجاہد صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم سے کس قدر محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ فرماتے تھے۔ (سیرۃ ابن ہشام،
2/626)
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت افضال،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اللہ تعالی نے
اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی
مبارک زندگی محبت اور شفقت کا بہترین نمونہ ہے آپ ﷺ جس طرح بچوں سے عورتوں کمزوروں
اور بزرگوں سے محبت فرماتے اسی طرح اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی
محبت فرماتے ہیں ان کی قربانی کی قدر فرماتے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ان کی
خدمت کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کرتے حضور ﷺ کی مجاہدین سے محبت آپ کی
مبارک ارشادات عملی زندگی ہی سے ظاہر نہیں بلکہ اللہ تعالی نے بھی قران کریم میں
اپنی راہ میں جان و مال کو قربان کرنے والے اہل ایمان کا عظیم مقام بیان فرمایا ہے۔
ارشاد باری
تعالی ہے: اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پ
11، التوبۃ: 111) ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے
مال جنت کے بدلے خرید لی ہے۔
اس آیت مبارکہ
میں اللہ تعالی نے مجاہدین کی عظیم شان بیان فرمائی کہ اس فرمان سے ہمیں یہ بھی
پتہ چلا کہ جو لوگ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اپنی جان اور مال کی قربانی
دیتے ہیں وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں اللہ تعالی نے ان کو جنت کی خوشخبری سنائی یہی
وہ عظیم لوگ تھے جن سے ہمارے مکے مدنی مصطفی ﷺ بے حد محبت فرماتے تھے آپ ان کی ہمت
بڑھاتے ہیں خوشی اور غمی میں ان کا ساتھ دیتے مجاہدین کا مقام رسول پاک ﷺ کے نزدیک
بہت بلند ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: اگر میری امت پر دشواری نہ ہوتی تو میں اس لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ
کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے لیکن میرے پاس اتنی سواریاں نہیں کہ ان کو مہیا
کر سکوں اور نہ ان کے پاس ہیں مجھے یہ بات ناگوار گزرتی کہ میں ان سے پیچھے رہ
جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)
اس سے ثابت
ہوا کہ حضور ﷺ مجاہدین سے کتنی محبت فرماتے ان سے جدا رہنا پسند نہ فرماتے الغرض
حضور ﷺ کی حیات طیبہ مجاہدین سے محبت شفقت اور حوصلہ افزائی کا روشن نمونہ ہے آپ نے
نہ صرف اللہ کی راہ میں نکلنے والوں کے لیے دل جوائی فرمائی بلکہ امت کو بھی ان کی
عزت مدد اور قدر کرنے کی تعلیم دی آج ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ اسلام کی سربلندی
کے لیے اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے والوں کی قدر کریں ان کے لیے دعا کریں اور
اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالی
ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا
مرمائے۔ آمین
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت محمد شاہد، جامعۃ المدینہ فیض مدینہ نارتھ کراچی
جن خوش نصیبوں
نے ایمان کی حالت میں حضور ﷺ سے ملاقات کی اور ایمان پر ہی ان کا خاتمہ ہوا ان خوش
نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔ (نخبۃ الفکر، ص 11)
صحابی رسول ہونا
اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی کسی صحابی کے درجے کو نہیں
پہنچ سکتا۔
آیت مبارکہ
ہے: لَا یَسْتَوِیْ
مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً
مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ
الْحُسْنٰىؕ- (پ
27، الحدید: 10) ترجمہ کنز الایمان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے
قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور
جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا ہے۔
اس آیت مبارکہ
میں اللہ پاک نے تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔
حضور
ﷺ کی مجاہدین صحابہ سے محبت: نبی کریم ﷺ اپنے تمام صحابہ کرام سے
محبت فرماتے تھے چنانچہ حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر جب کفار مدینہ کا محاصرہ
کیے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھا تین بار ارشاد فرمایا کہ
کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن عوام نے جو حضور ﷺ کی
پھوپھی کے فرزند ہیں یہ کہا کہ میں یا رسول اللہ ﷺ خبر لاؤں گا حضرت زبیر کی جان
نثاری سے خوش ہوکر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لیے حواری ہوتے ہیں اور میرا
حواری زبیر ہے اسی طرح حضرت زبیر کو بارگاہ رسالت سے حواری کا خطاب ملا جو کسی
دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔ (بخاری، 3/54، حدیث: 4113)
اسی طرح حضرت
سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یوم احد میں میرے لئے اپنے والدین کو
جمع فرمایا یعنی فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان اسی طرح اسی طرح جو صحابہ کرام
جنگ بدر کے جہاد میں شریک ہو گئے اور تمام صحابہ میں ایک خصوصی شرف کے ساتھ ممتاز
ہیں اور ان خوش نصیبوں کے فضائل میں ایک بہت ہی عظیم الشان فضیلت یہ ہے کہ ان
سعادت مندوں کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی اہل بدرسے واقف ہے
اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنت واجب ہو چکی
ہے یا یہ فرمایا کہ میں نے تمہیں بخش دیا۔ (بخاری، 3/12، حدیث: 3983)
حضرت ہلال بن
انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید و جعفر اور ابن رواحہ کے وصال کی خبر آنے
سے پہلے ہی ان کی وفات کی خبر دی اور فرمایا: زید نے جھنڈا لیا وہ شہید ہو گئے پھر
جعفر نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہوگئے پھر ابن رواحہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہو
گئے اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے یہاں تک کہ جھنڈا اس شخص نے لیا جو اللہ
کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اور اللہ پاک نے انہیں فتح عطا فرمائی یعنی خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ۔ (بخاری، 2/548، حدیث: 3757)
جنگ احد کے
موقع پر ایک شخص ابو عامر واحب کفار کی طرف سے لڑ رہا تھا اگر اس کے بیٹے حضرت
حنظلہ پرچم اسلام کے نیچے جہاد کر رہے تھے حضرت حنظلہ نے حضور ﷺ عرض کی رسول اللہ ﷺ
مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی تلوار سے اپنے باپ ابو عامر کا سر کاٹ لوں مگر حضور ﷺ
کی رحمت نہیں گوارا نہ فرمایا کہ بیٹے کی تلوار باپ کا سر کاٹے حضرت حنظلہ اس قدر
جوش میں بھرے تھے کہ سر ہتھیلی پر رکھ کر انتہائی جانبازی کے ساتھ لڑتے ہوئے قلب
لشکر تک پہنچ گئے اور کفار کے سپہ سالار ابو سفیان پر حملہ کردیا قریب تھا کہ حضرت
حنظلہ کی تلوار ابو سفیان کا فیصلہ کر دے کہ اچانک پیچھے سے شداد بن اسود نے جھپٹ
کر وار کو روکا اور حضرت حنظلہ کو شہید کر دیا حضرت حنظلہ کے بارے میں حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا کہ فرشتے حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ان کی زوجہ سے دریافت کیا تو اس نے
کہا کہ جنگ احد کی کی رات وہ اپنی بیوی کے ساتھ سوئےغسل کی حاجت تھی مگر جب دعوت
جنگ کی آواز کان میں پڑی تو وہ اسی حالت میں شریک جنگ ہو گئے یہ سن کر حضور ﷺ نے
فرمایا: یہی وجہ ہے جو فرشتوں نے انہیں غسل دیا اسی واقعہ کی بنا پر حضرت حنظلہ کو
غسیل الملائکہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ (سیرت مصطفی، ص 263)
ان واقعات سے
معلوم ہوا کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام سے محبت فرماتے ہیں اور اسی محبت کی بنا پر
انہیں مختلف خطابات سے نوازتے۔
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت محمد ابدال، جامعۃ المدینہ گہوگا سیالکوٹ
اسلام کی
تاریخ قربانیوں کی تاریخ ہے اور اس تاریخ کے روشن ترین باب مجاہدین کے نام ہیں
مجاہدین وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنا مال جان گھربار سب اللہ کی راہ میں قربان کیا
اور دین اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی تلواروں سے جہاد کیا اور کفر کو خاک میں ملایا
اسلام نے بھی ان مجاہدین کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اگر ہم تاریخ اسلام کو پڑھیں تو
ہمیں ایسی بہت سی احادیث کریمہ ملیں گی جن میں مجاہدین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے
اور ان کو بشارتوں سے نوازا گیا ہے۔
پیارے آقا ﷺ جب
بھی کسی لشکر کو کسی علاقے کی طرف بھیجتے تو پہلے ان کے امیر کو بلاتے اور اسے
وصیت فرماتے، جیسا کہ حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے
ہوئے فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریّہ کا امیر بناتے
تو آپ ﷺ اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ مسلمان (مجاہدین) ہوں ان
کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے۔ (مسلم،ص 738، حدیث: 4522)
حضرت ابو تیمی
رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس
تھے کہ ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں آقا علیہ السلام کا زمانہ پا لیتا تو آپ ﷺ کے
ساتھ جہاد کرتا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا کرتے۔ تحقیق ہم آقا ﷺ کے
ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں، پیارے آقا نے ارشاد
فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے؟ اللہ
اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے، پیارے آقا نے تین مرتبہ یوں ہی ارشاد
فرمایا: ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی پیارے آقا کو جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ ﷺ نے
میرا نام لیا تو میرے لیے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہیں تھا، آقا نے فرمایا: جاؤ
اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ جب میں پیارے آقا کی
طرف پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے محسوس ہوا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں
فرماتے ہیں میں خبر لے کر واپس آیا اور پیارے آقا کو خبر دی جب میں خبر دے کرفارغ
ہو گیا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو پیارے آقا ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا
دی جسے آپ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا پس جب صبح ہو
گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بہت سونے والے!اٹھ جاؤ۔ (مسلم، ص 763، حدیث: 4640)
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن پیارے آقا ﷺ سات
انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب پیارے آقا کو کفار نے
گھیر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت
میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو
گیا پھر بھی کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے رکھا تو پیارے آقا الصلٰوۃ والسلام نے دوبارہ
وہی الفاظ ارشاد فرمائے پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ
شہید ہو گیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے
تو پیارے آقا نے اپنے قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں
کیا۔ (مسلم، ص 764، حدیث: 4641)
غزوہ خندق کے
دن پیارے آقا ﷺ نے لوگوں کو جہاد کے لیے بلایا اور اس کی ترغیب دی، تین بار پیارے آقا
نے پکارا تینوں مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور لبیک
کہا تو پیارے آقا نے ارشاد فرمایا:ہر نبی کے کچھ خاص حواری ہوتے ہیں اور میرے
حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ (بخاری، 3/54، حدیث: 4113)
حضرت سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا علیہ السلام نے احد کے روز میرے
لیے اپنے والدین کو جمع فرما دیا (یعنی فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان
ہوں)۔ (مسلم، ص 1009، حدیث: 6235)
حضرت سہل بن
سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور حال یہ کہ
ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے تو پیارے آقا ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے بس تو مہاجرین اور انصار کی
مغفرت فرما۔ (بخاری،2/264، حدیث: 2835)
صحابہ کرام
علیہم الرضوان وہ ہستی ہیں کہ ان کی نیکیاں رب تعالی کی بارگاہ میں قبول ہیں ان کے
جہاد رب تعالی کی بارگاہ میں قبول ہیں اللہ پاک ہمیں بھی مجاہدین والا ایمان اور
جذبہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے۔ آمین
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت عمران محمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
کریم ﷺ اپنے
ساتھیوں (صحابہ کرام) سے بے پناہ پیار کرتے تھےآپﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے محبت کرتا
ہے اسے میرے صحابہ سے بھی محبت کرنی چاہیے۔ اسلام کی حفاظت کے لیے لڑنے والے
مجاہدینِ صحابہ کے لیے آپ کے دل میں خاص شفقت، قدرومنزلت اور محبت تھی۔
یہ محبت چند
عملی اور تاریخی مثالوں سے واضح ہوتی ہے:
خصوصی
القابات: آپ
ﷺ نے بہادر مجاہدین کو اللہ کی تلوار (جیسے حضرت خالد بن ولید) اور امت کا امین (جیسے
حضرت ابوعبیدہ بن جراح) جیسے القابات سے نوازا۔
دعا
اور تشویش: غزوات
اور جنگوں کے دوران آپ ﷺ مجاہدین کی حفاظت کے لیے راتوں کو اٹھ کر دعائیں مانگتے۔
جنگِ بدر کے دن آپ ﷺ نے سجدے میں گڑگڑا کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
فوجیوں
کی ذاتی دیکھ بھال: آپ ﷺ جنگوں میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی خود مرہم
پٹی کرتے، ان کے اہل خانہ کا حال پوچھتے اور شہدا کے خاندانوں کی مالی معاونت
فرماتے۔نبیِ کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ کبھی مجاہدینِ صحابہ کی توہین نہ
کریں کیونکہ ان کا مقام و مرتبہ عام لوگوں سے بہت بلند ہے۔ ان کی قدر اور ان سے
عقیدت ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
نبیِ کریم ﷺ
کی کئی صفات ہیں،آپ کی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔آقا ﷺ بچوں اور
تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت فرماتے تھے۔ آئیے! آقا ﷺ کی صحابہ سے محبت
کے چند واقعات پڑھتی ہیں۔
حضرت عبد اللہ
بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے
متعلق اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو۔میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے
ڈرو،اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو
میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ
سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا
اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک
اسے پکڑے۔ (ترمذی، 5 /302،حدیث:3864)
حضرت علامہ
مولانا سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو
چاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے،دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے،ان کی
محبت حضور ﷺ کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کرام کی شان میں بےادبی کے ساتھ زبان
کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ﷺ ہیں۔ مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھیں۔(سوانحِ
کربلا، ص 31)
اعلیٰ حضرت
امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اہلِ سنت کا
ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم
ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
اسی طرح سرکار
نے دیگر صحابہ کے فضائل بھی بیان فرمائے۔ ہمیں بھی تمام صحابہ سے پیار ہے ان
شاءاللہ ان کے صدقے اپنا بیڑا پار ہے۔
اللہ پاک ہمیں
ان نفوسِ قدسیہ کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
حضور کی
مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت علی احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مجاہد صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے دین کے لیے اپنی جان، مال، گھربار سب
کچھ قربان کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو ایسے جانبازوں سے بے پناہ محبت تھی۔ آج ہم اسی
محبت کی ایک جھلک سنتی ہیں۔
ایک صحابی
حضرت سعد رضی اللہ عنہ تھے، رنگ کالا تھا، ایک دن بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر
عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا میرے کالے رنگ کی وجہ سے مجھے جنت میں جانے سے روک
دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ عرض کیا:
جی ہاں! میں 8 ماہ پہلے ہی مسلمان ہوا ہوں، فرمایا: خدا کی قسم! پھر تمہارا رنگ
تمہیں جنت سے نہیں روکے گا۔ پھر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! جب بات ایسی ہے تو پھر
مجھے کوئی رشتہ کیوں نہیں دیتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم فلاں صحابی کے ہاں جاؤ اور کہو
کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہاری بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے۔
وہ صحابی
فوراً راضی ہو گئے اور نکاح کر دیا۔ آپ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے گھر کا
سامان بھی خریدوایا۔ شادی کے فوراً بعد جہاد کا اعلان ہوا، حضرت سعد سب چھوڑ کر
میدان میں پہنچ گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب آپ ﷺ کو خبر ملی تو
خود تشریف لے گئے، ان کا سر اپنی گود میں رکھا، چہرہ صاف کیا اور فرمایا: اے سعد!
تمہاری خوشبو کتنی پیاری ہے، تم اللہ و رسول کے کتنے پیارے ہو۔
اللہ اکبر!
کیسا نرالا نصیب ہے۔ زمانہ جن کو دیکھنے کے لیے ترستا ہے وہ اپنے غلاموں پر کیسی
شفقت فرما رہے ہیں۔ اللہ بھی جہاد کرنے والوں سے بہت محبت فرماتا ہے۔
فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ
اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ
قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ
حُسْنُ الثَّوَابِ(۱۹۵) (پ 4، آل عمران: 195) ترجمہ کنز العرفان: پس جنہوں
نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور
انہوں نے جہاد کیا اور قتل کر دیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا
اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہ اللہ
کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔
پیاری بہنو!
اس واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ صحابہ کرام نے اپنی خواہشات کو دین پر قربان کر
دیا اس لیے اللہ نے انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ
ہم اپنی زندگی دین کے مطابق گزاریں، نماز کی پابندی کریں، پردے کا اہتمام کریں اور
دین کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔ اگر ہم سچے دل سے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت
کریں گے تو ان شاء اللہ ہمیں بھی جنت کا بہترین اجر ملے گا۔
اللہ ہمیں بھی
صحابہ جیسا ایمان اور قربانی کا جذبہ عطا فرمائے۔
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت خالد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مجاہد کسے
کہتے ہیں؟ مجاهد (عربی لفظ جہد سے مشتق) اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی رضا کے
لیے،حق کی سربلندی یا مظلومین کی مدد کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دے کر
جدوجہد یا کوشش کرتا ہے۔ اصطلاحی طور پر مجاہد اس اسلامی جنگجو یا سپاہی کو کہتے
ہیں جو اسلام اور مسلمان کے دفاع کی خاطر میدان جنگ میں برسر پیکار ہو۔
اللہ کی راہ
میں جہاد کرنے والوں کا مقام انتہائی بلند اور عظیم ہے مجاہدین وہ لوگ ہیں جو حق
کی سربلندی مظلوموں کی مدد اور دین اسلام کے دفاع کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی
دیتے ہیں۔
اللہ تعالی نے
مجاہدین کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت بلند رکھا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: فَضَّلَ اللّٰهُ
الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ- (پ 5،
النساء: 95) ترجمہ: اللہ نے بیٹھنے والوں پر جہاد کرنے والوں کو مال اور جان کے
ساتھ بہت بڑا درجہ دیا ہے۔
احادیث
مبارکہ:
تمام
نیکیوں کا خلاصہ: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: مجھے کوئی
ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ثواب دے آپ نے فرمایا: تم میں اس کی طاقت نہیں
ہے۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا،پھر تیسری بار بھی،آپ نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس
شخص جیسی ہے جو دن رات روزے رکھتا ہو، عبادت میں کھڑا رہتا ہو اور اللہ کی آیات کی
پابندی کرتا ہو،یہاں تک کہ مجاہد جہاد سے واپس لوٹ آئے۔(مسلم، ص 804، حدیث: 4869)
صحابہ کرام کے
جہاد کے جذبہ اور میدان جنگ میں ان کی ثابت قدمیوں کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں
یوں سراہا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ
بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پ 26،
الفتح: 29) ترجمہ کنز العرفان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں
پر سخت اور آپس میں نرم دل ہیں،تو انہیں رکوع کرتے ہوئے،سجدے کرتے ہوئے دیکھے
گا،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کے نشان سے ہے۔
صحابہ کرام کی
شان اور مقام کے حوالے سے آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا مت کہو،میرے صحابہ کو
برا مت کہو! قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص
احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے،تو وہ ان کے ایک مد (تقریبا آدھا
کلو) یا آدھے مد صدقہ کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، 2/ 522، حدیث: 3673)
جہاد
اور مجاہدین کا درجہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہترین لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ مومن جو
اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے۔
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت ایاز خان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مجاہدین صحابہ
سے مراد وہ جلیل القدر صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں جنہوں نے دین اسلام کی
سربلندی کی خاطر اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کیا نبی کریم ﷺ مجاہدین
صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بہت محبت فرماتے تھے نبی کریم ﷺ کی مجاہدین صحابہ
کرام سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺ مجاہدین صحابہ
کرام کا ادب واحترام فرماتے،ان کی دلجوئی فرماتے اور ان سے مشورہ فرماتے تھے،زخمی
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عیادت کو جایا کرتے اور ان کا خاص خیال رکھتے،مجاہدین
صحابہ کرام علیہم الرضوان جب جہاد کے لیے نکلتے تو ان کے پیچھے ان کے گھروں کو
جایا کرتے اور ان کے گھر والوں کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے اور ان کے لئے عزت و
احترام کا اظہار فرماتے۔
تاریخ اسلام
میں حضور کی مجاہدین صحابہ کرام سے محبت کے کئی واقعات ملتے ہیں چنانچہ اسی طرح کا
ایک واقعہ غزوہ بدر ہےغزوہ بدر کے موقع پر آپ ﷺ کے پاس جنگی وسائل کم تھے آپ ﷺ کے
پاس صرف ستر اونٹ،دو گھوڑے اور تین سو آٹھ مجاہدین تھے تین تین مجاہدین کے لئے ایک
ایک اونٹ تھا چنانچہ حضور ﷺ،حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت مرثد غنوی رضی اللہ
عنہ کو ایک اونٹ پر باری باری سوار ہونا تھا جب نبی کریم ﷺ کے اترنے کی باری آتی
تو دونوں مجاہدین عرض کرتے یارسول اللہ ﷺ آپ سوار رہیں ہم پیدل چل لیں گے تو آپ ﷺ فرماتے
کہ تم مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور میں تمہاری نسبت اجر و ثواب سے زیادہ بے نیاز
نہیں ہوں۔ (سیرت رسول عربی، ص 126)
اس واقعے سے
یہ صاف صاف جھلک رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ مجاہدین صحابہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ
ان کے ساتھ ساتھ خود بھی پیدل چلنے کی مشقت کو برداشت کیا اور اپنے صحابہ کرام سے
برابری کا معاملہ فرمایا ان کو زیادہ مشقت اٹھانے نہیں دی، نبی کریم ﷺ مجاہدین
صحابہ سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ کہ آپ نے مجاھدین صحابہ کرام کو امت کے بہترین
لوگ قرار دیا نبی کریم ﷺ نہ صرف خود مجاہدین صحابہ سے محبت فرماتے،ان کے لیے
آسانیاں فرماتے بلکہ اپنے اصحاب کو بھی ان سے محبت کرنے،ان کے لیے جنگی ساز و
سامان کی تیاری کرنے اوران کے اہل و عیال کی نگہبانی کرنے کا حکم ارشاد فرماتے نبی
کریم ﷺ مجاہدین کی محبت میں جہاد کرنے والوں کو جہاد نہ کرنے والوں کے برابر درجہ
نہ دیتے تھے چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا کہ کوئی ہڈی یا تختی وغیرہ لاؤ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس پرلکھا جائے کہ
جہاد میں شریک نہ ہونے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔
اس حدیث پاک
میں نبی کریم ﷺ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی قربانیوں اور جذبوں کو سراہتے
ہوئے فرما رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے اور جہاد نہ کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔
آخر میں اللہ
رب العزت سے یہ دعا ہے ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مجاہدین صحابہ
کرام سے محبت کرنے اور اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از اخت فیصل خان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مجاہدین صحابہ
سے مراد وہ صحابہ کرام ہے جنہوں نے اللہ کے رستے، دین کی سربلندی اور حق کی خاطر
جہاد کیا۔
پیارے آقا ﷺ کی
مجاہدین صحابہ کرام سے بے مثال محبت تھی آپ ﷺ غازیوں اور مجاہدین کی بے حد قدر
فرماتے انکی خدمات کو سراہتے تھے آپ ﷺ نے مجاہدین کو اللہ کی راہ کا ضامن اور
بہترین انسان قرار دیا حضور دو عالم ﷺ مجاہدین صحابہ کی صفات بیان کرتے ہوئے ان سے
محبت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کچھ مومن مرد ایسے ہیں کہ مجھ سے بچھڑ
جانا انکے دلوں کو اچھا نہیں لگتا اور میں اتنی سواریاں نہیں پاتا کہ انکو سوار
کرا دوں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کبھی کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہ جاتا جو
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے جا رہا ہے اور مجھے اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں
میری جان ہے کہ یقیناً میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر
زندہ کیا جاؤ پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا
جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)
سبحان اللہ اس
حدیث مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ کس قدر محبت سے صحابہ کرام کی خوبیاں بیان فرما رہے
ہیں اسی طرح کئی اور روایات اور احادیث مبارکہ بھی ہے جس میں مجاہدین صحابہ سے
محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے پیارے آقا ﷺ جنگ میں شہید ہو جانے والے مجاہدین کے
گھر والوں کے پاس جاتے ان سے حالات دریافت فرماتے جنگ میں صحابہ کرام کا خوب خیال
رکھتے۔
اور ان کا خوب
احترام فرماتے پیارے آقا ﷺ ان کی تعریف اور مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار اور رات کو
آیات الہی کی تلاوت کرنے والا ہونہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حالانکہ اللہ کی راہ
کا مجاہد لوٹ آئے۔ (مسلم، ص 804، حدیث: 4869)
اسی طرح کئی
اور روایات اور احادیث میں پیارے آقا ﷺ انکی تعریف اور ان سے محبت کا اظہار فرماتے
ہیں۔
اللہ کریم
ہمیں صحابہ کرام کی محبت عطا فرمائے اور ان کا فیضان عطا فرمائے۔ آمین
حضور کی
مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت محمد سلیم، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مجاہد
کی تعریف: لفظ
مجاہد عربی زبان کے لفظ جہد سے نکلا ہے،جس کے معنی کوشش اور مشقت کے ہیں۔ اصطلاح
میں مجاہد اس کو کہتے ہیں جو اللہ پاک کی راہ میں حق کی سربلندی،سچائی کے فروغ یا
اپنے وطن اور مظلوموں کی حفاظت کے لیے جدو جہد اور جہاد کرے۔
قرآن مجید میں
اللہ پاک نے مجاہدین کی فضیلت اور محبت کو بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ
الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ
مَّرْصُوْصٌ(۴) (پ
28، الصف: 4) ترجمہ: بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (یوں)
صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک ایسسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی
مجاہدین اسلام سے محبت بے مثال اور لازوال تھی۔ آپ ﷺ نے مجاہدین کو اللہ کی راہ
میں امت کا بہترین طبقہ قرار دیا اور انکو دنیا و آخرت کی کامیابی کی خوشخبری
سنائی۔
مجاہدین
کے لئے دعا اور رشک کا اظہار: آپ مجاہدین کے مقام پر اس حد تک رشک
فرماتے تھے کہ خود بار بار جام شہادت نوش کرنے کی تمنا کرتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس
کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ شہید کیا جاؤں،پھر زندہ
کیا جاؤں،پھر کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث: 2753)
مجاہدین
کے اہل و عیال کی کفالت اور محبت: آپﷺ نے مجاہدین کے پیچھے ان کے گھر
والوں کا خیال رکھنے کو خود جہاد کے برابر قرار دیتے تھے اور اس میں کوتاہی کرنے
والوں کو سخت تنبیہ فرماتے تھے۔ جس نے کسی
مجاہد کو جہاد کا سامان تیار کر کے دیا اس نے بھی جہاد کیا، اور جو کسی مجاہد کے
پیچھے اس کے گھر والوں کی خیر خواہی کے ساتھ دیکھ بھال کرے،اس نے جہاد کیا ۔ (بخاری،
2/267، حدیث: 2843)
غزوہ
احد کے شہدا اور زخمیوں سے محبت: غزوہ احد کے موقع پر حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوئے تو آپ ﷺ نے انکی تسلی کے لیے فرمایا:جابر
کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ نے تمہارے والد سے کسی طرح بات کی؟ اللہ نے جب بھی
کسی سے بات کی تو پردے کے پیچھے سے کی لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی اور
فرمایا، اے میرے بندے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا، (ابن ماجہ،3/361، حدیث: 2800)آپ ﷺ نے فرمایا: دو
آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ جو اللہ پاک کے خوف سے روئے اور دوسری
جو اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارے۔ (ترمذی، 3/239،حدیث:1645)
آقا جان ﷺ مجاہدین
سے بے پناہ محبت فرماتے تھے غزوات کے دوران انکے حال و احوال دریافت فرماتے انکی
تیمارداری کرتے تھے ان سے نہایت محبت و الفت کا اظہار فرمایا کرتے تھے ہم پر بھی
لازم ہے کہ مجاہدین سے محبت کریں ان کے خون کے ہر ہر قطرے کی قدر دانی کریں انکی
سیرت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔
حضور کی
مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت محمد ارشد، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضورِ اکرم ﷺ
کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو انسانیت کے لیے رہنمائی اور محبت کا شاہکار ہے۔ آپ ﷺ
نے جہاں عام انسانوں، یتیموں اور کمزوروں پر شفقت فرمائی، وہاں دینِ اسلام کی
حفاظت اور سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مجاہدین سے بھی بے
پناہ محبت اور خصوصی شفقت کا اظہار فرمایا۔ حضور ﷺ مجاہدین کی نہ صرف حوصلہ افزائی
فرماتے، بلکہ ان کے جذبے کو سراہتے اور ان کے اہل و عیال (خاندان) کا خیال رکھنے
کی بھی سخت تاکید فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی ان سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ ﷺ
نے کئی مواقع پر خود میدانِ جنگ میں ان کی قیادت فرمائی چنانچہ:
1۔
جنگِ بدر کے موقع پر مجاہدین کے لیے دعا: حضور علیہ الصلوۃ والسلام چھپر
تلے تشریف لے گئے اور مصروفِ دعا ہو گئے۔ کبھی عجز و انکسار کی تصویر بن کر دعائیں
کرتے اور کبھی ناز بھرے انداز میں فتح یابی کی دعائیں مانگتے، کبھی نیاز بھرے
انداز میں رب کی رحمت طلب کرتے اور کبھی سجدہ کناں ہو کر اسمائے حسنیٰ کی تکرار
کرتے۔ یہ سجدے اور ان میں کی گئی دعائیں، یہ اشک باریاں اور ناز و نیاز کی سر
گوشیاں دیر تک جاری رہیں، ان میں آپ ایسے محو ہوئے کہ مبارک چادر شانوں سے ڈھلک
گئی مگر آپ کے معمول میں کوئی فرق نہ آیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ منظر
دیکھ کر تڑپ اٹھے، آگے بڑھے، چادر مبارک شانوں پر درست کی، پشت انور سے چمٹ گئے
اور نہایت غمگسارانہ انداز میں عرض کرنے لگے: یانبی اللهﷺ! آپ کو اپنے پروردگار سے
اتنی ہی درخواست کافی ہے، اللہ پاک تمام وعدے پورے فرمائے گا، فتح عطا فرما کر آپ کے
چہرے کو اور روشن فرمائے گا۔ آپ کی دعائیں رنگ لائیں، رب کی مدد بھی شامل حال رہی،
پانچ ہزار فرشتے زرد اور سفید رنگ کے عمامے باندھے شریک ہوئے اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔مجاہدین
کے لیے دعا اور رشک کا اظہار:حضورِ اکرم ﷺ کو مجاہدین کے اس جذبے سے
اتنی محبت تھی کہ آپ ﷺ نے خود اس راستے میں بار بار جان پیش کرنے کی خواہش کا
اظہار فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!
میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر
شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں۔ (ابن ماجہ،3/335، حدیث:
2753)
3۔
مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرنے والے کے لیے خوشخبری: آپ ﷺ
نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کیا (یا اس کی
مالی مدد کی) تو یقیناً اس نے بھی جہاد کیا، اور جس نے کسی مجاہد کے پیچھے اس کے
گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی، تو یقیناً اس نے بھی جہاد کیا۔ (بخاری،
2/267، حدیث: 2843)
4۔
مجاہد کی ایک رات کی پہرے داری کی فضیلت: اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے
والے مجاہدین کی محبت میں آپ ﷺ نے ان کی راتوں کے جاگنے کو جہنم کی آگ سے نجات کا
ذریعہ بتایا۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا: دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ
کے خوف سے رو پڑی، اور ایک وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں (سرحد پر) پہرہ دیتے
ہوئے رات گزاری۔ (ترمذی، 3/239،حدیث:1645)
5۔
اللہ کی راہ میں نکلنے والے کا مقام: حضور ﷺ نے مجاہدین کی ہر چھوٹی بڑی
کوشش کو دنیا کی تمام نعمتوں سے افضل قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں
ایک صبح یا ایک شام گزارنا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ان سب سے بہتر ہے۔ (بخاری،
2/251، حدیث: 2792)
یہ احادیثِ
مبارکہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ حضور ﷺ کے دل میں ان لوگوں کے لیے کتنا
اعلیٰ مقام اور محبت تھی جو اپنا گھر بار چھوڑ کر دین کی سر بلندی کے لیے نکلتے
تھے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ امت کو بھی ان کے حقوق اور
احترام کی تاکید کی ہے۔
حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت احمد رضا، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مجاہد صحابی
وہ خوش نصیب لوگ تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی حفاظت کی۔
مجاہد اسے کہتے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے ہر مشکل برداشت کرے۔
اللہ پاک نے
قرآن مجید میں مجاہدین کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ
الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ
مَّرْصُوْصٌ(۴) (پ
28، الصف: 4) ترجمہ: بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں (یوں)
صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک ایسسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
نبی کریم ﷺ مجاہدین
صحابہ سے بہت محبت فرماتے تھے اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ صحابہ ہر غم اور خوشی
میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنا گھر، مال اور جان سب کچھ دین کے لیے
قربان کر دیا۔ آپ ﷺ ان کی قربانی دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور ان کے حق میں دعائیں
فرماتے تھے۔
غزوہ
بدر کی دعا: غزوہ
بدر میں مسلمان صرف 313 تھے اور دشمن ہزار سے زیادہ تھے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے
سجدے میں رو کر دعا کی: یا اللہ! یہ تیرے چند مجاہد ہیں۔اگر آج یہ شہید ہو گئے تو
زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا۔ یہ دعا ثابت کرتی ہے کہ آقا علیہ
السلام مجاہدین صحابہ سے کتنا پیار کرتے تھے۔
حضرت
سعد بن ابی وقاص:
غزوہ احد کے دن جب دشمن بہت قریب آگیا تو آپ ﷺ نے حضرت سعد کو اپنا تیر کا ترکش
دیا اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر قربان۔ (بخاری، 3/37، حدیث:
4055)
احادیث
میں مجاہدین کا مقام: آقا علیہ السلام نے مجاہدین صحابہ کے مرتبے کے بارے
میں بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں: آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے کا مجاہد اس بندے
کی طرح ہے جو روزہ رکھے اور رات بھر نماز پڑھے۔ (مسلم، ص 804، حدیث: 4869)
آپ ﷺ نے
فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس
کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔اس کا رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو کستوری کی ہوگی۔ (بخاری،
2/254، حدیث: 2803)
ان تمام دلائل
سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دل میں مجاہدین صحابہ کے لیے بہت عزت محبت اور
شفقت تھی۔ مجاہد امت کا محافظ اور دین کا ستون ہے۔ آج ہم میدان جنگ نہیں جا سکتے،لیکن
ہم علم کا جہاد، نفس کا جہاد اور برائی کے خلاف آواز اٹھانے کا جہاد کر سکتے ہیں۔اللہ
پاک ہمیں صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami