حضور
کی مجاہدین صحابہ سے محبت از بنت فیض الحسن، جامعۃ المدینہ سراجا منیرا گجرات
نبی کریم ﷺ نے
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت فرمائی، خصوصاً ان خوش نصیب
مجاہدین سے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال، گھر بار
اور ہر محبوب چیز قربان کر دی۔ نبی کریم ﷺ بھی ان مجاہدین کے ساتھ نہایت شفقت،
محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔
ربِ کریم
قرآنِ مجید میں بھی مجاہدین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: لَا یَسْتَوِی
الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ- (پ 5، النساء:
95) ترجمہ کنز العرفان: مسلمانوں میں سے جو لوگ بغیر کسی عذر کے (جہاد سے) بیٹھ
رہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں، یہ
دونوں برابر نہیں۔
قرآنِ کریم کے
بعد احادیثِ مبارکہ میں بھی کئی مقامات پر نبی کریم ﷺ نے مجاہدین کی عظمت اور ان
سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
غزوۂ
تبوک کے مجاہدین کی فضیلت: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے
غزوۂ تبوک کے لیے بے مثال مالی مدد پیش کی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج کے
بعد عثمان جو بھی عمل کریں، یہ (عظیم خدمت) ان کے لیے کافی ہے۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:
3720)
اللہ
کی راہ میں ایک صبح یا شام کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین کی عظمت بیان
کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا اور اس کی تمام
چیزوں سے بہتر ہے۔ (بخاری، 2/251، حدیث:
2792)
حضرت
جعفر بن ابی طالب کی شہادت پر محبت کا اظہار: غزوہ مؤتہ میں
حضرت جعفر بن ابی طالب نے اسلامی لشکر کا علم سنبھالا۔ جب ایک ہاتھ کٹ گیا تو
دوسرے ہاتھ سے جھنڈا پکڑا، دوسرا بھی کٹ گیا تو بازوؤں سے تھام لیا، یہاں تک کہ
شہید ہوگئے۔
جب ان کی
شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کے بچوں کو اپنے سینے
سے لگایا، ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر
فرمایا: میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے دیکھا۔ اسی وجہ سے
انہیں جعفرِ طیار کہا جاتا ہے۔ (شرح زرقانی،3/356)
مجاہدین
پر نبی کریم ﷺ کی شفقت و محبت: غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مجاہدین
کی صفیں درست فرما رہے تھے۔ حضرت اسود بن غزیہ رضی اللہ عنہ صف سے کچھ آگے تھے۔ آپ
ﷺ نے اپنے دستِ مبارک میں موجود ایک باریک لکڑی سے نہایت نرمی کے ساتھ انہیں صف
میں برابر ہونے کا اشارہ فرمایا۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ!
آپ سے مجھے تکلیف پہنچی ہے، مجھے بدلہ لینے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فوراً اپنا
شکمِ مبارک کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ آگے بڑھے،
مگر بدلہ لینے کے بجائے آپ ﷺ کے شکمِ اقدس سے لپٹ گئے، اسے بوسہ دیا اور عرض کیا:
یارسول اللہ! جنگ کا وقت ہے، معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے، اس لیے میری خواہش تھی
کہ میرا آخری عہد آپ کے جسمِ مبارک سے ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر
فرمائی۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ ﷺ اپنے مجاہد صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم سے کس قدر محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ فرماتے تھے۔ (سیرۃ ابن ہشام،
2/626)
Dawateislami