محمد
عبداللہ احسن(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت امانت کی ضد ہے ۔ خیانت ایک مذموم صفت ہے ۔ خیانت
کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی،راز،عزت،مشورے سب میں ہوتی
ہے۔ خیانت بڑی ہو یاچھوٹی بروز قیامت سزا اور رسوائی کا باعث ہے۔
خیانت کی تعریف : اجازت شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاری،جلد۱صفحہ۳۲۸)
خیانت کا حکم : ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،جلد۱،صفحہ۶۵۲)
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الا نفال،الآیۃ ۲۸)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱۹۰/۲)
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الا نفال،الآیۃ ۵۸)
(3) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف،الآیۃ ۵۲)
(4) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنزالعرفان :اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی
جو سینے چھپاتے ہیں۔(الغافر،الآیۃ ۱۹)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران،الآیۃ ۱۶۱)
نبی علیہ السلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ
نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاءعلیھم الصلوۃ والسلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا
اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور
معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض
منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔
(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت گناہ کیبرہ
ہے:خواہ خیانت اپنے حق میں ہو یا اللہ عزوجل کے یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے یا اسلام کے یا کسی بندہ کے حق میں ہو۔خیانت جس شئے کے بارے میں بھی
کی جائے بری ہے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں
ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
محمد
عثمان صدیق(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی
اور امانت داری کی تعلیم دیتا ہے۔ امانت داری ایمان کی علامت ہے جبکہ خیانت ایک
سخت اخلاقی و دینی جرم ہے۔ خیانت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی کے اعتماد، مال، راز
یا ذمہ داری میں بددیانتی کرے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں خیانت کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
(1)امانت
میں خیانت سے سخت ممانعت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔( سورۃ الانفال،
آیت: 27)
(2)خیانت کرنے والا اللہ کو پسند نہیں:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ ( سورۃ الانفال، آیت: 58)
(3)خیانت آخرت کے عذاب کا سبب ہے:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا
( سورۃ آلِ عمران، آیت: 161)
(1)خیانت منافق کی علامت ہے:حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ.. وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں
ہیں… جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الايمان،
حدیث: 33صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 59)
(2)امانت نہ ہو تو ایمان کامل نہیں:حضرت انس سے روایت
ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ
لَا أَمَانَةَ لَهُترجمہ:جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان (کامل) نہیں۔(مسند احمد،
حدیث: 12567،شعب الإيمان البیہقی )
(3)خیانت
قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ غَادِرٍ
يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:ہر خیانت کرنے
والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا تاکہ وہ پہچانا جائے۔(صحیح البخاری، حدیث: 3186،صحیح مسلم، حدیث: 1738)
لہذا قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح
ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین گناہ، ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا
سبب ہے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں امانت داری اختیار کرے، چاہے
وہ مالی معاملات ہوں، عہدے کی ذمہ داریاں ہوں یا کسی کا راز۔ امانت داری نہ صرف دنیا
میں عزت و اعتماد کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات اور کامیابی کا۔
اسلام نے انسانی معاشرے کی بنیاد امانت داری اور سچائی
پر رکھی ہے اور معاشرے میں رہنے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کی
ہے اور ہر انسان کی جان اور مال کا تحفظ بھی کیا ہے قران پاک اور احادیث میں جن
اعمال کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے ایک خیانت ہے خیانت کو قرآن پاک اور
احادیث میں کسی جگہ اللہ و رسول کے خلاف عمل، کہیں منافقین کی علامت اور کہیں
ناپسندیدہ اور ملعون صفت قرار دیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آیَۃُ الُمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: أِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،
وَأِذَا وَعَدَ خَلَفَ، وَأِذَا أُؤْتُمِنَ خَانَترجمہ:
منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے
اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان،
باب علامۃ المنافقہ، حدیث 33، صفحہ 18، دار ابن کثیر)
آئیے ایسی 5 آیات ملاحظہ کیجئے جن میں خیانت کی مذمت کی
گئی ہے:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الانفال، آیت 27)
فرض کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ سے خیانت ہے اور سنت کو ترک
کرنا رسول اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ
عَلٰى سَوَآءٍؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی
طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال ، آیت 58)
اس آیت میں کہا گیا کہ اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔
(3) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج، آیت
38)
(4) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز العرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف، آیت
52)
(5) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران ،آیت
161)
ان آیات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ
عزوجل کو سخت ناپسندیدہ ہے اور اس کے علاوہ خیانت کرنے والے پر اس کے ارد گرد کے
افراد بھی اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ دیانتداری سے
کام لیں اور اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو بھی امانت داری اور سچ بولتے رہنے
کی تلقین کرتے رہیں۔آمین بجاہ النبی الامین الکریم و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
احمد
رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ، کراچی، پاکستان)
کائنات کا ہر فرد دیانت و امانتداری کو اعلیٰ اوصاف اور
عمدہ اخلاق میں سے شمار کرتا ہے جس معاشرے میں امانت کا خیال نہ رہے، وہ انتشار،
بداعتمادی اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔
خیانت کا لغوی معنی ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، چوری
چھپے کسی کا حق چھیننا، یا کسی اعتماد کو توڑنا۔اصطلاحاً : کسی کی دی ہوئی ذمہ داری
یا امانت میں جان بوجھ کر بددیانتی کرنا، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، منصب ہو یا قول
و عمل۔ دینِ اسلام، جو مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس نے بھی خیانت کی شدید مذمت اور
ممانعت فرمائی ہے۔اسلام میں خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ ایسا
عمل ہے جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ پاک نے
قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت فرمائی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الأنفال:
27)
یہاں
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ
سے خیانت کرنا ہے۔
خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(الانفال: 58)
اس آیت کریمہ سےمعلوم ہوا کہ خیانت کرنے والوں کو اللہ
پاک پسند نہیں فرماتا۔
خیانت کرنے والوں کی حمایت سے ممانعت:-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ
خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)
ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔(النساء: 105)
اس آیت میں خیانت کرنے والوں کی حمایت و طرفداری کو بھی
ناجائز قرار دے کر اس سے منع فرمایا گیا
خیانت کفار کا قدیم طریقہ:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ ترجمہ کنز الایمان:اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں۔ (الانفال: 71)
اس آیت میں کفار کی اللہ و رسول سے کی گئی خیانت کو بیان
فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ خیانت کفار کا پرانا شعار ہے ۔
اہل لوگوں کو امانتیں واپس دینے کا حکم :اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا
الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ
ترجمہ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(النساء: 58)
قیامت کے دن خیانت کا انجام:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا۔(آل عمران: 161)
نبی عَلَیْہِ
السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا
ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔بلکہ
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔
بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت
مبارکہ نازل ہوئی۔(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
معلوم ہوا نبی عَلَیْہِ السَّلَام گناہوں سے معصوم ہیں
بلکہ گناہ اور نبوت میں وہی نسبت ہے جو اندھیرے اور اجالے میں ہے۔ اس آیت میں خیانت
کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ان آیات طیبہ سے معلوم ہوا کہ خائن اللہ پاک کہ محبت سے
محروم ہوجاتا ہے، خائن بروزِ محشر خیانت کی ہوئی چیز اپنے ساتھ لے کر آئے گا ۔خیانت
ایک ایسا گناہ ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے بلکہ دنیا میں
بھی بداعتمادی، فساد اور بگاڑ کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ خیانت سے برکت چھن جاتی ہے
دل سخت ہوتا ہے محبتیں ختم ہو جاتی ہیں جبکہ دیانت اور امانت داری مسلمان کے کردار
کو نکھارتی ہیں اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں اور اس سے قلبی سکون
حاصل ہوتا ہے کامل مسلمان وہی ہے جو امانتدار ہو، قول و عمل میں سچا ہو، اور اللہ
کی دی ہوئی ہر ذمہ داری کو امانتداری کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔
محمد
مبشر عبدالرزاق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان )
معاشرے کی بہتری پرسکون زندگی، امن و امان، اور حقوق کی
بقا کے لیے اس معاشرے میں رائج برائیوں کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے موجودہ دور کی
برائیوں میں سے ایک برائی خیانت کرنا بھی ہےیہ ایسابدترین گناہ ہے کہ جسے منافق کی
علامت قرار دیا گیا ہے جبکہ جس معاشرے میں امانت داری ہوتی ہے اس کو ترقی کی جانب
بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اسی وجہ سے
قران پاک میں متعدد مقامات پر خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی خیانت
کا قرانی بیان پڑھتے ہیں :
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ، 1 / 347)
خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)
(1) ناپسندیدہ عمل : خیانت
ایسی غیر اخلاقی اور قبیح بیماری ہے جس کو اللہ پاک بالکل پسندنہیں کرتا :
-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنزالعرفان : بیشک
اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(پ 10 انفال 58)
(2)کفار کی عادت: خیانت ،عہد توڑنا اور
رسولوں کے ساتھ بدعہدی کرنا کفار ومشرکین کی قدیم عادت ہے جیسے کہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ
ترجمہ کنزالعرفان : اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت
کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں ۔(پ10انفال 71)
(3) ذلت ورسوائی : جو کوئی خیانت کرے گا
وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور ذلت ورسوائی
اٹھائے گا جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ
کنزالعرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4ال عمران 161)
(4)دیگر گناہوں کا سبب:خیانت
ایسا مذموم عمل ہے جو دیگر کئی گناہوں کے ارتکاب کا سبب ہے مثلاً جھوٹ، ظلم، دھوکہ
دہی وغیرہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنزالعرفان :بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔(پ 5
النساء107)
(5) خائن کا ساتھ نہ دینا : جس
طرح امانت میں خیانت کرنا حرام ہے اسی طرح ان کا ساتھ دینا بھی ناجائز و حرام ہے
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ
ترجمہ کنزالعرفان :اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔(پ5 النساء107)
پیارےاسلامی بھائیو! خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے
جس کی گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی
وجہ سے ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت خیانت
اور دھوکے کا چلن عام ہے حالانکہ خیانت گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے اللہ پاک ہمیں امانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے ساتھ
اخلاقیات کو لازم فرمایا، اور ساتھ ہی منہیات سے دور رہنے کے لیے ہماری فطرت میں
ان چیزوں کو شامل کیا۔ اور ایک رسالتی سلسلے سے نبی آخر الزمان ﷺ کو قرآن عظیم
بطور معجزہ عطا فرمایا۔ جس کے نور نے جہالت کے اندھیروں کو دور کیا اور نورِ ایمان
سے مومن کو منور کیا۔ اسی کلامِ ربی میں، خالق کائنات نے ایک بری صفت کو بیان کرتے
ہوئے لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین فرمائی، اور نبی آخر الزمان ﷺ نے اس بری
صفت سے اجتناب کرنے والے کو قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہونے کی خوشخبری سنائی۔وہ
بدترین صفت جو قرآن میں بیان ہوئی، اسے خیانت کہا گیا ہے۔تو آئیے قرآن عظیم پر ایک
عمیق نظر ڈالیں کہ قرآن نے کس چیز کو خیانت کہا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
خیانت کا مفہوم
اس آیت سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے
ارشادات میں خیانت نہ کرے، بلکہ انہیں ویسے ہی مانے اور عمل کرے جیسا کہ نازل ہوئے
یا زبانِ نبوی پر آئے، اور منہیات سے اپنی زندگی کو کوسوں دور رکھے۔تیسرا کلام، آیت
کریمہ سے اخذ شدہ، اخلاقی و سماجی معاملات میں خیانت کے بارے میں ہے، اور اس سے
متصف ذات کو نبی کریم ﷺ نے منافقت کا خطاب دیا:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:آیَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ترجمہ:منافق کی علامتیں تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے،
جب وعدہ کرے خلاف کرے، اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔(صحيح البخاری، كتاب
الإيمان، حدیث: 33)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعی کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاري، کتاب الإيمان، باب علامات
المنافق، تحت الباب: 24، ج1، ص328)
آپ کے پاس کوئی مال رکھوایا گیا اور آپ نے اس میں خیانت
کرتے ہوئے (بتائے بغیر) اسے استعمال کر لیا۔یا رکھوآئے ہوئے مال میں چوری کا حکم
لگا کر اسے ہڑپ کر لیا۔ایک اور صورت جسے خیانت کہا گیا وہ غیر کی عزت پے ہاتھ
ڈالنا ہے، جس کے الزام میں حضرت یوسف علیہ السلام نے قید کو ترجیح دی، اور اس عمل
قبیح سے خود کو بچاتے ہوئے خیانت سے دوری کا اعلان کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے
آنکھوں کی خیانت کے بارے میں فرمایا:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(المؤمن: 19)
آنکھوں کی خیانت سے مراد:چوری چھپے ناحرام عورت کو دیکھنا
اور ممنوعات پر نظر ڈالنا۔سینوں میں چھپی چیز سے مراد:عورت کے حسن و جمال کے بارے
میں سوچنا۔ یہ سب چیزیں اگرچہ دوسروں کو معلوم نہ ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جانتا
ہے۔(مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو
اس بدترین صفت سے بچا کر اپنی ہدایت و نصرت عطا فرمائے۔ آمین
وقار
حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان)
خیانت کی تعریف:کسی کی امانت میں بغیر
اجازت تصرف(یعنی استعمال)کرنا خیانت ہے۔ خیانت ایک قبیح فعل ہے ۔ جو کہ کبیرہ گناہ
ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے ۔ قرآن و احادیث میں متعدد جگہ اسکی مزمت بیان کی گئی
ہے ۔ آئیں خیانت کی مذمت کو قرآن کی روشنی میں جانتے ہیں۔
(1) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنزُالعِرفان:اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف ،آیت
52)
اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو
بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار
کرنا چاہئے۔ اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’گھروں میں بیٹھے رہنے والوں پر
مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے
والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس
کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت
کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ،
اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب
الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص۱۰۵۱، الحدیث: ۱۳۹(۱۸۹۷))
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء، آیت 107)
اس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ
جھگڑو۔اورفرمایا خیانت کرنے والا اللہ پاک کا نا پسندیدہ شخص ہے اور بڑا گنہگار
ہےاسی طرح احادیث میں بھی خیانت کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔
(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(سورۃ المومن،آیت19)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی
امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال،آیت 27)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی
کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے
گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا
جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران، آیت 161)
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ
شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔اور اس آیت کا شان نزول بھی یہی ہے کہ ایک جنگ
میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
اس آیت میں خیانت کی واضح مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی
خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اللہ پاک
ہمیں خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وسلم
احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،
پاکستان )
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والے نیز یعنی اس سے
وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو
معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم
کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف
سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن
کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے فرامین پر غور کریں ۔
آئیے اس کے متعلق کچھ قرآنی آیات پڑھتے ہیں ۔
(1) خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
تفسیر صراط الجنان: وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ:
اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا
کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیرالقرآن، پارہ نمبر : 5 ،
سورۃ النساء ، آیت نمبر : 107 )
(2) فرائض و واجبات میں خیانت نہ کرنا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(انفال:27)
تفسیر صراط
الجنان :لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 9 ،
سورۃالانفال ، آیت نمبر : 27 )
( 3 ) خیانت کرنے والے کا مکر نہیں چلتا : ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم
ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے
والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
(4) قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا
: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
تفسیر صراط الجنان : اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان
فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا
جائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 4 ، سورۃال عمران ، آیت
نمبر : 161 )
(5) خیانت نہ اپنائی جائے : وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمۂ
کنز العرفان:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور
اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں۔اللہ پاک ہمیں خیانت کرنے سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی
اللہ علیہ وسلم
حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت سوداگر حسین، نواں پنڈ آرائیاں سیالکوٹ
1) حضور ﷺ کی محبت تمام انبیائے کرام علیہم
السلام کے ساتھ سچی اور گہری تھی۔ آپ ہمیشہ انبیا کا احترام کرتے اور ان کے فضائل
بیان فرماتے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ
رُّسُلِهٖ۫-(پ
3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں
کرتے۔ آپ اسی تعلیم کے مطابق انبیا کا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتے۔ کسی نبی کی
شان میں کمی برداشت نہ کرتے اور امت کو بھی تعلیم دیتے کہ تمام انبیا اللہ کے
برگزیدہ بندے ہیں۔
2) نبی کریم ﷺ
نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خاص محبت کا اظہار فرمایا۔ ایک موقع پر جب ایک صحابی
نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت موسیٰ پر ترجیح دی، تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ پر ترجیح
نہ دو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) اسی طرح کی ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: اللہ
تعالیٰ کے انبیا میں آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/446، حدیث: 3414)
یعنی انبیا کے درمیان فضیلت کا مقابلہ نہ کرو۔ یہ آپ کی عاجزی اور محبت کی اعلیٰ
مثال ہے۔ آپ موسیٰ کا ذکر احترام سے کرتے اور ان کی امت کے صبر و آزمائش کو
سراہتے۔ معراج کی رات بھی موسیٰ کے ساتھ محبت بھرے مکالمے سے ان کے مقام کا اعتراف
فرمایا۔
3)آپ ﷺ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بےحد محبت فرماتے۔ جب نصرانی عیسیٰ کو خدائی صفات دیتے
تو آپ فرماتے: أنا أولى الناسِ بعیسى ابنِ مریمَ فی الدنیا والآخرةِ(بخاری2/457،
حدیث: 3442) یعنی میں دنیا و آخرت میں
عیسیٰ ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ آپ نے ان کی نبوت اور پاکیزگی کا بارہا
ذکر کیا اور ان پر ایمان لانے کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا۔ حضور عیسیٰ کے بارے
میں ہر قسم کی غلو آمیز باتوں سے امت کو روکتے اور سچی محبت و احترام کی تعلیم
دیتے۔
4)حضور ﷺ نے
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے گہری محبت فرمائی۔ قرآن مجید میں آیا: مِلَّةَ اَبِیْكُمْ
اِبْرٰهِیْمَؕ- (پ
17، الحج: 78) آپ کو حضرت ابراہیم کا روحانی وارث قرار دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: انا دَعْوَةُ
إِبْرَاهِیمَ (تاریخ
ابن عساكر ، 3 / 393) یعنی میں اپنے باپ
ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں۔ آپ حج کے مناسک میں ابراہیمی سنتوں کی پیروی کرتے،
قربانی، بیت اللہ کی تعظیم اور توحید کی دعوت کو ابراہیمی وراثت سمجھتے۔ ان کی
زندگی کو امت کے لیے عملی نمونہ قرار دیتے۔
5)تمام انبیا
سے حضور کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی تھی۔ آپ نے ان کی سنتوں کو زندہ کیا، ان
کی امتوں کے لیے دعا کی اور ان کے پیغام کو مکمل کر کے امانت ادا فرمائی۔ قرآن نے
آپ کو خاتم النبیین کہا، مگر آپ نے اس فضیلت کو تکبر نہیں بلکہ رحمت میں بدلا۔ آپ
ﷺ نے فرمایا: الأنبیاءُ إخوةٌ لِعَلَّات، امُہاتُہم شَتّی ودینُهم واحدٌ (بخاری2/458،
حدیث: 3443) یعنی تمام انبیا ایک ہی دین کے بھائی ہیں۔ اس طرح آپ نے انبیا کے
درمیان محبت، وحدت اور احترام کا کامل پیغام دنیا تک پہنچایا۔
حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت ریاض، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ پاک کے
سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ
پاک نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم السلام
کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں اور موتیوں کی طرح جگمگاتی
شخصیات ہیں۔ جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی اور حکمتوں کے سرچشمے ان کے
دلوں میں جاری فرمائے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ انبیائے کرام سے بہت محبت فرماتے اور
کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے تھے۔ محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس
سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ ور ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے
اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے طریقوں کو اپناتے اور اپنوں کو بھی تلقین
فرماتے۔ آپ ﷺ ان سنتوں کے ذریعے محبت کا اظہار بھی فرماتے۔ چنانچہ اس تعلق سے کچھ
احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔
حضور
کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک نے ہمیں آپ پر
سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: یوں کہو: ترجمہ: اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر رحمتیں بھیج جیسے تو
نے ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت بھیجی بے شک تو
تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر ایسی برکتیں بھیج
جیسے برکتیں ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر اتاریں بے شک
تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)
سبحان اللہ
نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے حدیث پاک میں ہے کہ
حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اپنے مونچھیں تراشتے تھے اور
ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔
( ترمذی، 4/349، حدیث: 2769 )
حضور
کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے
تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ
کیا ہے؟ یہودیوں نے عرض کی یہ وہ دن ہے جس میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو ان کے
دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اس دن کا روزہ
رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ( بخاری، 1/656، حدیث: 2004) سبحان اللہ! قربان جائیے
محبت رسول پر کہ آپ ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔ چنانچہ اس متعلق
ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت
موسیٰ کی رائے کا احترام: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: شب معراج اللہ
پاک نے میری امت پر 50 نمازیں فرض فرمائیں۔ میں یہ لے کر واپس ہوا اور حضرت موسی
علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے عرض کی کہ اللہ پاک نے آپ کے ذریعے آپ کی
امت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا: اس نے 50 نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے عرض کی:
اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی انہوں
نے مجھے واپس لوٹا دیا اور میں نے بارگاہ الہی میں درخواست کی تو رب تعالی نے کچھ
نمازیں معاف کر دیں تو میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہیں بتایا کہ اللہ
تعالی نے کچھ نماز معاف کر دی ہیں انہوں نے عرض کی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے
کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں پھر واپس ہوا اور
درخواست کی تو اللہ پاک نے کچھ نمازیں اور معاف فرما دی میں دوبارہ حضرت موسی علیہ
السلام کے پاس ایا تو انہوں نے پھر عرض کی آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی
امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں واپس گیا تو اللہ پاک نے ارشاد
فرمایا: نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں 50 ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں کوئی تبدیلی
نہیں کی جاتی میں پھر جناب حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر عرض کی
اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ (بخاری، 1/140،
حدیث: 349 )
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ حضور ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام سے کس قدر محبت
فرماتے تھے۔
حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت ایاز، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ کر یم نے
بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا اور ان انبیائے
کرام کو پیارے آقا ﷺ کی آمد کی خوشخبری بھی دی پیارے آقا ﷺ انبیائے کرام کا احترام
فرماتے آور ان سے محبت کا اظہار فرماتے پیارے آقا ﷺ اپنی پیاری پیاری میٹھی میٹھی
باتوں میں کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے اور ان کی تعریف فرماتے ایک حدیث
پاک میں ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں انبیا میں سے ایک ہوں اور ان کے ساتھ محبت
رکھتا ہوں۔
سبحان اللہ اس
حدیث مبارکہ میں پیارے آقا ﷺ صاف الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ میں انبیا سے محبت کرتا
ہوں۔
حضور ﷺ کی انبیائے
کرام سے محبت واحترام پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
حضور
کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں
ابراہیم کا بیٹا ہوں۔
حضور
کی حضرت یونس علیہ السلام سے محبت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یونس بن متی پر
خود کو فضیلت نہ دو۔
معراج
میں انبیائے کرام سے ملاقاتیں: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: میں آسمانوں پر
گیا ہر آسمان پر ایک نبی سے ملا؛ آدم، یحییٰ، عیسیٰ، یوسف، ادریس، ہارون، موسیٰ،
ابراہیم (سب نے) میرا استقبال کیا اور میری تعظیم کی۔ یہ ملاقاتیں حضور ﷺ کی انبیائے
کرام سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
حضور
کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے محبت: پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ
السلام پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) یہ حضور کا حضرت موسیٰ
علیہ السلام سے محبت کا کھلا اظہار ہے۔
پیارے آقا ﷺ انبیائے
کرام سے بہت محبت فرماتے اور اپنی امت کو بھی ان سے محبت رکھنے کی تلقین فرماتے
اور انبیائے کرام کی توہین سے منع فرماتے چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔ اس حدیث پاک سے انبیائے کرام کی
محبت اور عظمت صاف ظاہر ہے۔
آج جس پر فتن زمانہ میں ہم چل رہے ہیں اس زمانہ میں گناہ
کرنا ایک عام معمول بن گیا ہے لوگوں کےلیے چاہے وہ گناہ کیسا بھی ہو اور لوگوں کو
اپنے ایمان کے کمزور ہونے یا پھر ایمان کے ضائع ہونے کا بھی خوف نہیں رہا اور آج
کے زمانے میں برائیاں اتنی ہو گئی ہیں کہ برائیوں کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا ان
برائیوں میں سے ایک خیانت بھی ہے یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت
قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک
ﷺ نے فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں
ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ یعنی جب بات کرے جھوٹ
بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی
جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24، حدیث:33)
یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا
چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں
تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے ۔ (باطنی
بیماریوں کا معلومات: ۱۷۵)
خیانت کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ،9،سورةالانفال ۲۷)
خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت
کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)
خیانت کے بارے میں کچھ اہم عنوانات :امانت وہ چیز ہےجس
پر پوری دینا کا نظام منحصر ہے ۔
جیساکہ کفار
حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے تھے لیکن وہ حضور ﷺ کے پاس اپنی امانتیں
رکھواتے تھے ان کو اس بات کا یقین تھا کے حضور ﷺ امانتوں میں خیانت نہیں کرتے
باجود اس کے وہ حضور ﷺ کو اپناجانی دشمن بھی مانتے تھے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کے
انسان میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ تمام خصلتیں مسقل ہیں ۔(جہنم میں لے جانے والے
اعمال صفحہ نمبر ۷۱۸ جلد
نمبر ۲)
خیانت کے چھ اسباب : خیانت
کا پہلا سبب بدنیتی ہے ، خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے،خیانت کا تیسرا
سبب تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی کمی ہے، خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل
ہے ،خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان کادینے کی عادت ہے،خیانت کا چھٹا سبب
بری صحبت ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ۱۷۷تا۱۷۹)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے
روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان
پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر
اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ،
اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن
عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث:
۱۱۲۱۶)
خیانت کے بارے میں مذمت :سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے
شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا
مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی
الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲،
الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت
کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
Dawateislami