محمد
عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،
پاکستان)
بلا اجازت شرعی کسی کی امانت میں نا جائز تصرف کرنا خیانت
کہلاتا ہے کسی بھی مسلمان کو ہاتھ زبان وغیرہ سے بلا اجازت شرعی تکلیف نہیں دینی
چاہیے قیامت کے دن خیانت کرنے والے کو ذلت و رسوائی کا سامنا ہو گا۔
(1) امانت میں خیانت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔(سورۃ الانفال:27)
صراط الجنان:فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا
ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(2)آنکھوں کی خیانت:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ(۱۹)ترجمہ
کنز العرفان:اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(
سورۃ المؤمن:19)
صراط الجنان:آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔
(3)خود کو خیانت میں ڈالنے والوں سے پرہیز:ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے
ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
(سورۃ النساء:107)
صراط الجنان:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا
چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن
ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے ۔
(4)انبیاء سے خیانت ہونا نا ممکن:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران:161)
(5)اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو جانتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)ترجمہ
کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور
اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃ الانفال:71)
پیارے اسلامی بھائیو! کسی بھی مسلمان بھائی کی امانت میں
خیانت کرنا ناجائز و گناہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے۔
حاجی
محمد فیضان (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور، پاکستان)
اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے انبیاء
کرام اور رسل عظام کو بھیجا اور ان کے ساتھ آسمانی کتابوں کو اتارا ان میں انسان کی
رہنمائی اتاری اور ان کتب کے ذریعے انسان کی باطنی اور خارجی تربیت کی باطنی امراض
میں سے ایک مرض خیانت بھی ہےاس کی مذمت کی گئی چنانچہ ارشاد فرمایا :
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(2) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت
کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر
شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
۔(آل عمران:۱۶۱)
تفسیر صراط
الجنان : اور حضور پر نور ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ
کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی
طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث: ۲۷۱۶)
(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی
طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت
میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔
محمد
فصیح اللہ عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی ، لاہور،
پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو
اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں "امانت داری"
کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، "خیانت" ایک ایسا گھناؤنا عمل
اور اخلاقی برائی ہے جس سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ خیانت کا مطلب ہے کسی
کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی امانت میں بددیانتی کرنا۔ قرآن مجید میں خیانت
کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا
گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں اہل ایمان
کو خیانت سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ برائی ایمان کی ضد اور منافقت کی جڑ ہے۔
(1) اللہ و
رسول اور امانتوں سے دغا:اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو
متنبہ فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امانتوں میں خیانت کا ارتکاب نہ کریں۔ سورۃ
الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
اس آیت سے واضح ہے کہ خیانت صرف مالی نہیں، بلکہ اللہ کے
احکامات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے روگردانی بھی بہت بڑی خیانت ہے۔
(2) اللہ کی
ناپسندیدگی کا سبب:جو شخص دھوکہ دہی، خیانت اور بددیانتی کا راستہ اپناتا
ہے، وہ اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سورۃ الحج میں ایسے شخص کی
مذمت اس طرح بیان کی گئی ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورۃ الحج:
38)
یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت اور ناشکری کا گناہ ایک دوسرے
سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایسے لوگوں سے اللہ کی محبت اُٹھ جاتی ہے۔
(3)خیانت
کاروں کی فریب کاری نہیں چلتی:خیانت کار کتنا ہی فریب کیوں نہ
دے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ حق کا
ساتھ دیتا ہے اور خیانت کاروں کی مکاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سورۃ یوسف میں حضرت یوسف
علیہ السلام کے واقعہ سے ایک اہم اصول بیان ہوا ہے:
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ
الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف: 52)
خیانت کی مختلف صورتیں:قرآنی
تعلیمات کی روشنی میں خیانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں مادی اور روحانی دونوں
صورتیں شامل ہیں:مالی و مادی امانتیں: کسی کا مال، راز، یا وعدہ جو آپ کے پاس بطور
امانت ہو۔فرائض کی امانت: اللہ کے حقوق (جیسے نماز و روزہ) اور بندوں کے حقوق (جیسے
ملازمت یا عہدے کے فرائض) کو پوری ایمانداری سے ادا نہ کرنا۔
خیانت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور معاشرتی بے چینی
کا سبب ہے۔ قرآن مجید نے سختی سے اس کی مذمت کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ خیانت کرنے
والا شخص اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اور وہ آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔
بحیثیت مسلمان، ہمیں امانت داری کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ ہم
دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔
محمد
عمیر جاوید (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
مذہب اور دین (عقائد ، اخلاقیات ،اور معاملات)کا مجموعہ
ہوتا ہے۔اور کامل دین وہی ہے جس میں ان تینوں کے متعلق مکمل رہنمائی ہو۔یقیناً دین
اسلام ایک مسلمان کی عقائد و معاملات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاقیات کے حوالے سے
بھی مکمل تربیت فرماتا ہے۔انہی اخلاقیات میں سے ایک امانتداری اختیار کرنا اور خیانت
سے بچنا بھی ہے۔
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)
قرآن و حدیث میں خیانت کی شدید مذمت آئی ہے اور مسلمانوں
کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ۔چناچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ انفال
: آیت27)
خیانت کرنے والوں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ انفال:آیت
58)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔(آل عمران:161)
بلکہ خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے سے بھی منع فرمایا
چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورہ نساء: آیت 107)
چونکہ قرآن و حدیث میں خیانت کی شدید مذمت ہے لہذا
مسلمان کو چاہیے کہ اس بری خصلت سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ وہ بیان کردہ وعیدات کا
مستحق نہ بنے۔
محمد
بلال یوسف عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،اوکاڑہ ، پاکستان)
معزز قارئین! دین اسلام ایسا واحد دین ہے جو زندگی کے ہر
اچھے اور برے کاموں کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ چاہے ان امور کا تعلق دین
سے ہو، چاہے ان امور کا تعلق دنیا سے ہو، چاہے ان امور کا تعلق اچھے کاموں سے ہو،
چاہے ان امور کا تعلق برے کاموں سے ہو، الغرض دین اسلام کی رہنمائی ہر جگہ موجود
ہے۔ اگر وہ کام اچھا ہے تو دین اسلام میں اس کی ترغیبات اور فضائل موجود ہیں۔ اور
اگر وہ کام بُرا ہے تو دین اسلام میں اُس سے بچنے کی ترغیب اور نہ بچنے کی صورت میں
وعید موجود ہے۔ کوئی بھی امر ایسا نہیں کہ جس کے بارے میں دین اسلام میں رہنمائی
موجود نہ ہو۔ اس مضمون میں ہم انسانی زندگی میں کثرت سے پیش آنے والے ایک نہایت
مذموم امر خیانت کے بارے میں پڑھیں گے کہ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر
موجود ہے۔
خیانت کی تعریف:خیانت
خو ن سے بنا ہے۔ جس کا معنی کمی کرنا ہے۔ چاہے وہ کمی اللہ پاک کے مقرر کیے ہوئے
اُن احکامات میں ہو کہ جن کا کرنا بندے پر فرض ہے، چاہے وہ کمی رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال پر عمل کو ترک کرنے کی صورت میں ہو، چاہے وہ کمی
کسی کا مال ناحق لینے کی صورت میں ہو۔ الغرض ہر وہ کام جس کے کرنے پر بندے کو امین
بنایا گیا ہے اُس میں کمی کرنا خیانت کہلاتا ہے۔
خیانت
سے بچنے کا حکم: قرآن پاک میں ہمیں ہر طرح کی خیانت سے بچنے کا حکم دیا
گیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اور امانتوں میں خیانت
کی ممانعت کے تعلق سے ارشاد فرمایا گیا۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ انفال آیت نمبر 27)
اللہ اور رسول کی
خیانت سے مراد:اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو تو اللہ اور رسول کی خیانت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق تفسیر خازن میں ہے: مَعْنَاہُ لَا تَخُوْنُوْا اللّٰهَ بِتَرْكِ
فَرَائِضِهٖ، وَلَا تَخُوْنُ الرَّسُوْلَ بِتَرْكِ سُنَّتِہٖترجمہ:
اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک سے اس کے فرائض کو ترک کر کے خیانت نہ کرو۔ اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنتوں کو ترک کر کے آپ سے خیانت نہ کرو۔ ( تفسیر
خازن، سورۃ الانفال، تحت الآیۃ 27، جلد 2، صفحہ 306، دار الکتب العلمیہ، بیروت )
اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے مقرر کیے ہوئے
فرائض کو چھوڑنا اللہ پاک سے خیانت کرنا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کے اقوال و افعال پر عمل پیرا نہ ہونا آپ سے خیانت کرنا ہے۔
امانتوں
میں خیانت سے بچنے کا حکم :اس آیت مبارکہ میں یہ بھی فرمایا
گیا ہے کہ اے ایمان والو! جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔
اللہ اور رسول سے
خیانت کرنے والے کا انجام :مذکورہ آیت مبارکہ میں فرمایا گیا
کہ اللہ اور رسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرو۔ تو اب اس منع کے
باوجود جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کرے گا اس کا انجام کیا ہوگا اس کو بیان
فرماتے ہوئے اللہ پاک نے قران پاک میں ارشاد فرمایا۔
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔ (پارہ 17 سورۃ الحج، آیت نمبر 38)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق تفسیر جلالین میں ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ فِيْ
أَمَانَتِهٖ، كُفُوْرٌ لِنِعْمَتِهٖ، اَلْمَعْنٰى أَنَّهٗ يُعَاقِبُهُمْیعنی
اللہ عزوجل ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت کرتے ہیں، اور خدا کی نعمتوں کی
ناشکری کرتے ہیں، اللہ تعالی انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(تفسیر جلالین، پارہ 17،
سورۃ الحج، تحت الآیۃ 38)
امانت میں خیانت
کرنے والے کا انجام :مذکورہ آیت مبارکہ میں امانت میں خیانت سے بچنے کا حکم
بھی دیا گیا۔ تو اب جو امانت میں خیانت کرے گا اس کا انجام کیا ہوگا اس کے متعلق
اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت
کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر
شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔(پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت
نمبر 161)
اس آیت کریمہ کے متعلق ہے کہ اس آیت میں خیانت کی مذمت
بیان فرمائی گئی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے
ساتھ پیش کیا جائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان، پارہ 4، سورۃ آل عمران، تحت الآیۃ
161)
مفتی دعوت اسلامی مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ
اس آیت کریمہ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اس آیت
سے معلوم ہوا کہ اخلاقی خیانت انتہائی مضمون وصف ہے اور اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔(
تفسیر صراط الجنان، سورۃ یوسف، تحت الآیۃ 32)
معزز قارئین !! اس مضمون میں ہم نے خیانت کی قرآنی مذمت
کے تعلق سے کچھ پڑھا کہ اللہ پاک نے خیانت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز یہ بھی پڑھا
کہ خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا۔ اور یہ بھی پڑھا کہ خیانت
انتہائی مذموم صفت ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس مذموم صفت کو اپنانے سے خود بھی بچیں
اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دلائیں۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ
والہ وسلم۔
محمد
ہارون عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کو اعلیٰ
اخلاق، امانت، سچائی اور اعتماد کی تعلیم دی ہے۔ امانت داری اور دیانتداری انسان
کے انفرادی اور اجتماعی تعلقات کی بنیاد ہیں۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی، جسے ہم عام
زبان میں خیانت کہتے ہیں، اسلام میں نہ صرف گناہ عظیم قرار دی گئی ہے بلکہ اسے
معاشرتی بگاڑ، فرد کی بدنامی اور خدائی ناراضگی کا سبب بھی بتایا گیا ہے۔ قرآن و
حدیث کی روشنی میں خیانت کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے لیے
دنیا و آخرت میں عبرت ناک نتائج بیان فرمائے گئے ہیں۔
(1) اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور
کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے
دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی
اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)
صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے
لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ:
۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵))
حضرت انس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار
نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند
امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)
حضرت ابو
امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند
امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اسلام
میں تو خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے میں بھی مذمت ہے تو پھر خود خیانت کرنا کتنا
برا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء : 107)
مفتی قاسم عطاری فرماتے ہیں اس سے وکالت کا پیشہ کرنے
والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا
موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو
مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے،
جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا
مُرْتَکِب ہوتا ہے۔(صراط الجنان سورة النساء ، آیت 107)
(3)خیانت کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا:خیانت
کے برے ہونے اور اس سے بچنے کےلیے یہی بات کافی ہونی چاہئے کہ اللہ پاک خیانت کرنے
والے کو پسند نہیں کرتا۔ فرمان باری تعالی ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔ (النساء 107)
(4)اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً
فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا
عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت کرنے سے
محفوظ فرمائے،اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محمد
عادل(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جو فرد، معاشرہ اور ریاست،
تینوں کی اصلاح کرتا ہے۔ اس دین کی بنیادی اقدار میں امانت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے
جبکہ خیانت کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ خیانت محض مالی بددیانتی کا نام نہیں
بلکہ ہر وہ عمل جو اعتماد کو ٹھیس پہنچائے خیانت کے دائرے میں آتا ہے۔ قرآنِ مجید
نے خیانت کی شدید مذمت فرمائی ہے کیونکہ یہ انسان کے اخلاق، معاشرے کے امن اور ریاست
کے استحکام کو تباہ کر دیتی ہے۔
خیانت کا مفہوم:خیانت کے لغوی معنی ہیں:
امانت میں بددیانتی کرنا۔شرعی اصطلاح میں خیانت ہر اس قول و فعل کو کہتے ہیں جو
اللہ عزوجل، رسول اللہ ﷺ یا بندوں کے ساتھ کیے گئے عہد کے خلاف ہو۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(الانفال:27)
اللہ پاک خیانت
کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اس بارے میں سورۃ النساء میں ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک
اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)
اور حدیث پاک میں خیانت کرنے والے کو منافق کہا گیا ہے،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس کے اندر
ان میں سے کوئی ایک ہو تو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے (1)جب
اسے امانت سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔(2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(3) جب وعدہ کرے
تو خلاف ورزی کرے۔(4)جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔(بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ
المنافق، ج1 ص201 حدیث: 34 )
آیت مبارکہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ خیانت اللہ عزوجل
کی ناراضی کا سبب ہے اور حدیث مبارکہ خیانت کی اخلاقی قباحت کو بیان کرتی ہے حتیٰ
کہ خیانت کرنے والے کو منافق کہہ گیا۔لیکن افسوس آج ایک بڑی تعداد ہے جو اس برے
کام میں مبتلا نظر آتی ہے۔ کرپشن، رشوت، ٹیکس میں چوری، امتحانات میں نقل، جعلی
ڈگریاں اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا وغیرہ کتنے ہی ایسے کام ہیں جن میں
خیانت کی جارہی ہے۔ایک مسلمان کے لیے امین ہونا اس کے اخلاقی فرائض کا حصہ ہے اور
اگر ہم ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خیانت سے مکمل اجتناب
اور امانت داری کو شعار بنانا ہوگا۔
محمد
احمد محسنی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان )
خیانت آسان الفاظ میں جب کسی پر بھروسا کیا جائے اور وہ
اس بھروسے کو ٹھیس پہنچائے، تو اسے خیانت کہتے ہیں خیانت بہت بڑا گناہ ہے خیانت سے
مراد ہر وہ عمل ہے جس میں انسان اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے،
امانت یا ذمہ داری کو توڑ دے۔
(1) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل
عمرآن آیت ،161)
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃالنساء آیت 107)
(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت 27)
(4)
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورہ الحج آیت
38 )
اس آیت مبارکہ میں بھی خیانت کی مُذمت کی گئی ہے کہ اللہ
پاک خیانت کرنے والے کو ہر گز پسند نہیں فرماتا ۔ان آیات میں اللہ پاک نے خیانت کی
مذمت کا بیان کیاہے اور قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس سے بچنے کا حُکم ارشاد
فرمایا ہے۔
زوہیر
ڈوسانی (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
اسلام کا سماجی اور اخلاقی ڈھانچہ "ایمان" اور
"ایقان" پر استوار ہے، جس میں باہمی اعتماد (Trust) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں امانت داری
کو مومن کی بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، وہیں خیانت کو بدترین اخلاقی جرم اور
گناہِ کبیرہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق خیانت محض مالی بددیانتی
کا نام نہیں، بلکہ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی
ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو واضح الفاظ
میں خیانت سے روکا ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(سورۃ
الانفال، آیت: 27)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اللہ
اور رسول ﷺ سے خیانت ہے، جبکہ لوگوں کے حقوق میں ڈنڈی مارنا باہمی امانتوں میں خیانت
ہے۔ علمی تناظر میں دیکھا جائے تو خیانت انسان کو اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم
کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کے لیے اپنی ناپسندیدگی
کا اظہار دو ٹوک الفاظ میں کیا ہے:ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء، آیت: 107)
مزید برآں، قرآن یہ بتاتا ہے کہ دھوکہ دہی اور خیانت پر
مبنی منصوبہ بندی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
سورۃ یوسف میں قانونِ الٰہی بیان کیا گیا ہے کہ: ترجمہ
کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف، آیت: 52)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کی رو سے خیانت ایک ایسا ناسور
ہے جو انفرادی کردار کو مسخ اور اجتماعی نظم کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک حقیقی مسلمان
کے لیے لازم ہے کہ وہ مالی معاملات ہو یا منصبی ذمہ داریاں، ہر سطح پر خیانت سے
اجتناب کرے، کیونکہ خیانت اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
محمد
اسحاق (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، سچائی اور دیانت پر رکھی
گئی ہے۔ جب کوئی فرد ان اصولوں کو توڑتا ہے تو نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ
بداعتمادی، فتنہ اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت ایسا ہی ایک قبیح فعل ہے جو
رشتوں، ذمہ داریوں اور امانت داری کو پامال کرتا ہے۔ چاہے خیانت کسی راز میں ہو،
کسی وعدے میں، کسی امانت میں یا کسی تعلق میں یہ ہمیشہ دل توڑنے والی، رشتے بگاڑنے
والی اور اخلاقی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا
ہے اور قرآن و حدیث میں بارہا اس کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک مؤمن کی پہچان ہی یہ ہے
کہ وہ امانت دار ہو، سچ بولے اور وفا کرے۔ خیانت دراصل ان تمام خوبیوں کی ضد ہے۔اسی
لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خیانت سے بچیں، سچائی اور دیانت کو اپنی پہچان بنائیں تاکہ
ہمارا کردار مضبوط اور ہمارے رشتے بااعتماد بن سکیں۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال:58)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت
ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ
ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک
محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن
کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی
کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ
وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان
لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو
کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی
بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں
ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس
پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور
نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت
نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے
سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت
ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس
تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا،
بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول
ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر
اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات
جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ
کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف
کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ
کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول
کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے
کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی
تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب
اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی
توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش
ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی
قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ
ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں
جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد
ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل
ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل،
تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا
کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
خیانت کی مذمت اختتامی کلمات:آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے
کہ خیانت ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے جو نہ صرف فرد کی ساکھ کو داغدار
کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اسلام نے خیانت کو نفاق
کی علامت قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں دیانت داری، سچائی اور وفا کو اپنائیں اور خیانت
جیسے گناہ سے ہمیشہ بچیں۔ کیونکہ سچا اور امانت دار انسان ہی اللہ کے نزدیک محبوب
اور دنیا میں معزز ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ رکھے اور
سچائی و دیانت کے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔
قرآنِ مجید نے انسانی معاشرے کی تعمیر و اصلاح کے لیے جن
اخلاقی اصولوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں امانت و دیانت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
امانت وہ صفت ہے جو فرد کے کردار کو معتبر اور معاشرے کو پُرامن بناتی ہے، جبکہ اس
کے برعکس خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو اعتماد کو مجروح، رشتوں کو کھوکھلا
اور اجتماعی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔ خیانت خواہ مال میں ہو، وعدے میں، منصب میں یا
راز میں قرآنِ کریم نے اسے سختی سے ناپسند فرمایا ہے اور مختلف مقامات پر اس کی شدید
مذمت بیان کی ہے۔
اللہ پاک قرآن میں
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و
رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال: 27)
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک
دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ
کنزالایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔ (سورۃ
آل عمران: 161)
-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
مذکورہ آیات کے تحت قرآنِ حکیم اس حقیقت کو کھول کر بیان
کرتا ہے کہ خیانت محض دنیاوی نقصان کا سبب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس
کی محبت سے محرومی کا موجب ہے۔ ایسا شخص اپنے جرم کے نتائج سے بچ نہیں سکتا، کیونکہ
جو کچھ اس نے چھپ کر کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے گا۔ ان
آیات کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ ایمان کی تکمیل امانت و دیانت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک
سچا مومن وہی ہے جو ظاہر و باطن میں یکساں طور پر دیانت دار ہو، کیونکہ خیانت فرد
کے کردار کو کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لیے
قرآن فرد اور معاشرے دونوں کو یہ تنبیہ کرتا ہے کہ فلاح اور نجات کا راستہ صرف
امانت داری اور راست بازی میں ہے، جبکہ خیانت زوال اور ہلاکت کا سبب ہے۔
مذکورہ تمام احادیث کریمہ خیانت کو نہ صرف ناپسندیدہ
بلکہ لعنت کا مستحق عمل قرار دیتی ہیں۔ مومن کی پہچان امانت داری اور دیانت داری
ہے، اور خیانت ایمان کے منافی عمل ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
واضح ہوتا ہے کہ خیانت ہر صورت میں ناپسندیدہ اور ایمان کے منافی عمل ہے۔ امانت و
دیانت مومن کی بنیادی صفات ہیں، جو فرد کے کردار کو معتبر اور معاشرے کو مضبوط و
پرامن بناتی ہیں۔ خیانت چاہے مال، وعدے، منصب یا راز میں ہو، نہ صرف دنیاوی نقصان
کا باعث بنتی ہے بلکہ اللہ کی ناراضی اور آخرت میں مواخذے کا سبب بھی ہے۔سچا مومن
وہ ہے جو ظاہر و باطن میں یکساں طور پر دیانت دار ہو، کیونکہ خیانت فرد کے اخلاق
اور معاشرتی اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی
ہیں کہ فلاح و نجات کا راستہ صرف امانت داری، راست بازی اور اعتماد کی پاسداری میں
ہے، جبکہ خیانت زوال اور ہلاکت کی علامت ہے۔
رضوان
شاہد (درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت محض ایک اخلاقی برائی نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی
عہد کی خلاف ورزی ہے جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان قائم ہے۔ قرآن کریم کی
روشنی میں خیانت کا تصور صرف "مال میں ہیرا پھیری" تک محدود نہیں، بلکہ یہ
امانتِ الٰہی، انسانی تعلقات، نظریات اور جذباتی وفاداریوں کے قتل کا نام ہے۔ جب
کوئی انسان خیانت کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنی اس فطرت کا انکار کرتا ہے جس پر اسے
پیدا کیا گیا تھا۔
(1) امانتِ الٰہی اور انسانی ذمہ داری:قرآن
مجید نے خیانت کو براہِ راست اللہ اور رسول ﷺ سے جوڑا ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشاد
باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال:
27)
اس آیت میں "امانت" کا دائرہ کار انتہائی وسیع
ہے۔ یہاں خیانت کا مطلب ان احکامات سے روگردانی ہے جو کائنات کے توازن کو برقرار
رکھتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنی صلاحیتوں، وقت اور منصب کا غلط استعمال کرتا ہے، تو
وہ اللہ کی دی ہوئی انفرادی امانت میں خیانت کر رہا ہوتا ہے۔
(2) خیانت: محبتِ الٰہی سے محرومی کا سبب:قرآنِ
حکیم میں خیانت کی مذمت کا سب سے سخت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خائن (خیانت کرنے
والے) سے محبت نہیں فرماتا ہے۔ سورۃالانفال ہی میں فرمایا گیا:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (الانفال:
58)
کسی بھی انسان کے لیے اس سے بڑا خسارہ کیا ہو سکتا ہے کہ
کائنات کا مالک اس سے محبت نہیں فرماتا۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی نکتہ ہے جو بتاتا ہے
کہ خیانت انسان کو روحانی طور پر کمزورکر دیتی ہے۔
(3) جذباتی اور خانگی خیانت کا قرآنی تناظر:عام
طور پر خیانت کو صرف مالی معاملات تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن قرآن نے اسے خانگی
اور جذباتی سطح پر بھی بیان کیا ہے۔ سورۃ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام اور
حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:فَخَانَتٰهُمَا ترجمہ
کنزالایمان: پھر انہوں نے ان سے دغا کی ۔(التحریم: 10)
یہاں خیانت سے مراد نظریاتی اور فکری بے وفائی ہے۔ یہ اس
بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر رشتوں میں نظریاتی ہم آہنگی اور سچائی نہ رہے، تو وہ
رشتہ "خیانت" کی زد میں آ جاتا ہے۔ یہ ایک منفرد قرآنی نکتہ ہے کہ خیانت
صرف اجنبیوں کے ساتھ نہیں، بلکہ قریبی ترین رشتوں میں بھی تباہی کا باعث بنتی ہے۔
(4)خیانت کی نفسیاتی جڑیں: "خائنۃ الاعین"قرآن
انسان کے باطن کی گہرائیوں میں اتر کر خیانت کو پکڑتا ہے۔ سورۃ المومن میں اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (المؤمن: 19)
"آنکھوں کی خیانت" کا تصور یہ ہے کہ بظاہر
انسان پاکباز نظر آئے لیکن اس کی نگاہیں کسی کی حرمت یا امانت پر بدنیتی سے لگی
ہوں۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام صرف عمل کی اصلاح نہیں چاہتا، بلکہ وہ
ارادے اور نظر کی پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ خیانت کا بیج سب سے پہلے آنکھ میں بویا
جاتا ہے اور پھر دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑتا ہے۔
(5) سماجی اثرات اور عدالتی نظام:قرآن خیانت
کو معاشرے کے لیے ایک مہلک زہر قرار دیتا ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ
کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کریں:
-وَ
لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: اور
دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ (النساء: 105)
یہ آیت آج کے عدالتی نظام کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ
واضح کرتی ہے کہ جو معاشرہ خائنوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے یا ان کا دفاع کرتا ہے،
وہاں سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔ خیانت جب نظام کا حصہ بن جائے تو وہ "حق"
کا چہرہ مسخ کر دیتی ہے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق خیانت صرف ایک گناہ نہیں بلکہ ایک
"مرض" ہے جو انسان کے اخلاقی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں امانت کی تعریف کی ہے، وہیں خیانت کو ذلت اور رسوائی کا نشان
قرار دیا ہے۔ ایک مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی زبان، اپنی نگاہ، اپنے عہد
اور اپنے منصب میں صادق ہو۔
اگر ہم آج کے معاشرے کا تجزیہ کریں، تو ہماری اکثر سماجی
اور معاشی مشکلات کی جڑ "خیانت" میں پیوست ہے۔ جب تک ہم اپنی زندگیوں میں
"امانت" کا قرآنی تصور نافذ نہیں کریں گے، تب تک ہم حقیقی فلاح حاصل نہیں
کر سکتے۔ اللہ کا فرمان ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)ترجمہ
کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (الحج: 38)
خیانت کی ہلاکت خیزی اور بقائے انسانی کا راستہ:مذکورہ
بالا قرآنی دلائل اور حقائق کے تناظر میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے
کہ "خیانت" محض ایک انفرادی فعل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا سماجی کینسر ہے
جو پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو چاٹ جاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے خیانت کی جو تصویر
کشی کی ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خائن شخص درحقیقت اپنی روح کا سودا کرتا ہے اور
اس کے بدلے میں اللہ کی ناراضگی اور دائمی رسوائی مول لیتا ہے۔
اس مطالعے سے درج ذیل کلیدی نکات نتائج کے طور پر سامنے
آتے ہیں:
روحانی انحطاط: خیانت انسان کے اندر سے
"خوفِ خدا" کو ختم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی محبت اور اس
کی معیت سے محروم ہو کر روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔
معاشرتی عدمِ استحکام: جب کسی
معاشرے میں نگاہ، لفظ، عہد اور مال میں خیانت عام ہو جائے، تو وہاں سے
"اعتماد" (Trust) رخصت ہو جاتا ہے۔ اعتماد کے بغیر کوئی بھی
تمدن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
نظریاتی وفاداری: خیانت کا تعلق صرف پیسوں
سے نہیں بلکہ افکار و نظریات سے بھی ہے۔ قرآن نے انبیاء کی بیویوں کی مثال دے کر یہ
سمجھایا ہے کہ مقدس ترین رشتوں میں بھی اگر سچائی اور نظریاتی وفاداری نہ رہے، تو
وہ رشتہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔
انفرادی ذمہ داری: "خائنۃ
الاعین" (آنکھوں کی چوری) کا تصور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اسلام صرف بیرونی
نظم و ضبط کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن کی پہرے داری کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسانیت کی بقا اور معاشرے کی خوشحالی
صرف اور صرف "امانت و دیانت" کے قرآنی ماڈل میں پنہاں ہے۔ اگر آج کا
انسان اپنی انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک خیانت کا باب بند کر
دے اور امانت کی پاسداری کو اپنا شعار بنا لے، تو زمین کا یہ ٹکڑا دوبارہ امن و
سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
Dawateislami