انسانی معاشرہ باہمی اعتماد، سچائی اور امانت پر قائم ہوتا ہے۔ جب ان بنیادوں میں خیانت شامل ہو جائے تو پورا نظام بکھر جاتا ہے۔ اسلام چونکہ ایک اجتماعی دین ہے، اس لیے اس نے معاشرتی زندگی کو بچانے کے لیے خیانت سے سختی سے منع کیا ہے۔ خیانت صرف فرد کا ذاتی گناہ نہیں بلکہ اجتماعی جرم ہے۔ ایک شخص کی خیانت سینکڑوں لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی تک سے منع فرمایا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیانت کو نفاق کی علامت بتایا۔ اگر معاشرے میں خیانت عام ہو جائے تو عدل، امن اور ترقی سب ختم ہو جاتے ہیں۔

-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو ۔ (سورۃ النساء: 105)

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الأنفال: 58)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہ دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)

خیانت معاشرتی زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے نظام کو ختم کر دیتا ہے۔ جب امانت ختم ہو جائے تو انصاف باقی نہیں رہتا۔ انصاف نہ ہو تو امن ختم ہو جاتا ہے۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اسلام ہمیں ایک صاف راستہ دکھاتا ہے کہ ہم ہر حال میں امانت دار رہیں۔ خیانت وقتی فائدہ دے سکتی ہے مگر دائمی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ قیامت کے دن ہر امانت کے بارے میں سوال ہوگا۔ جو قوم خیانت چھوڑ دیتی ہے وہ سربلند ہو جاتی ہے۔ ہمیں فرد سے لے کر ریاست تک امانت داری کو عام کرنا ہوگا۔ یہی اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔


خیانت کی تعریف :خیانت یہ ہے کہ آدمی اس امانت میں جان بوجھ کر خلافِ حق تصرف کرے جسے اللہ یا بندوں نے اس کے سپرد کیا ہو، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، ذمہ داری ہو یا کوئی حق۔ہر وہ چیز جس کا حق ادا کرنا شرعاً لازم ہو اور آدمی اس میں کوتاہی یا بددیانتی کرے، وہ شرعاً خیانت ہے۔

الله و رسول سے خیانت نہ کرو:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔( پارہ 9 سورۃ انفال کی آیت نمبر 27 )

اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنا کیا ہے؟فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ َ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

آنکھوں کی خیانت:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔( پارہ 24 سورۂ مومن آیت نمبر 19 )

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں اور قیامت میں خائن کا حال:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( پارہ 4 سورۂ آل عمران آیت نمبر 161 )

نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

مذکورہ بالا تمام آیتوں میں خیانت کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے اور خیانت کرنے سے منع کیا گیا ہے آنکھوں کی خیانت اور اسکی مذمت کو بیان کیا گیا اور یہ بھی جان لیا گیا کہ نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ نبی ہر عیب سے پاک ہوتا ہے اور خیانت ایک عیب ہے ۔ان تمام آیتوں سے خیانت کی مذمت واضح ہوتی ہے۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ہر طرح کی خیانت سے بچیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی صفت امانت کو اختیار کریں ۔الله پاک ہمیں جان و مال اور عزت و راز اور ہر طرح کی خیانت سے بچائے اور امانت دار بنائے

آمین یا رب العالمین۔


اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی اخلاق کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام نے جن اخلاقی برائیوں سے سختی سے منع کیا ہے، ان میں خیانت سرفہرست ہے۔ خیانت دراصل امانت، دیانت اور سچائی کی ضد ہے۔ ایک خیانت فرد کے کردار کو داغدار کر دیتی ہے اور پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کو اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان والوں کو خصوصی طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ امانت داری نے مسلمانوں کو عروج دیا اور خیانت نے قوموں کو زوال سے دوچار کیا۔ اس لیے خیانت کی مذمت قرآن و سنت میں نہایت سخت الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الأنفال: 27)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔( سورۃ الأنفال: 58)

(3) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔( سورۃ آلِ عمران: 161)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.ترجمہ:ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل نے، وہ اپنے باپ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الإيمان،حدیث: 33)

‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ ۔ترجمہ:سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو فرماتے: ”جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں۔اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ (مشكوة المصابيح،كتاب الإيمان،حدیث: 35)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)

خیانت کوئی معمولی گناہ نہیں بلکہ یہ ایمان کی جڑوں کو کمزور کر دینے والا عمل ہے۔ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے مگر اللہ کی ناراضگی مول لے لیتا ہے۔ قرآن ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ خیانت کرنے والا قیامت کے دن رسوائی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ایسے افراد پر نہ اللہ کی مدد آتی ہے اور نہ لوگوں کا اعتماد باقی رہتا ہے۔ معاشرے کی تباہی کی بڑی وجہ خیانت ہی ہے، خواہ وہ مالی ہو، قولی ہو یا عملی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت داری ہر حال میں لازم ہے، حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی خیانت کی اجازت نہیں۔ اگر مسلمان واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں خیانت کو چھوڑ کر سچائی، دیانت اور امانت کو اپنانا ہوگا۔ یہی دنیا کی عزت اور آخرت کی نجات کا واحد راستہ ہے۔


اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ ہیں آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ کریم نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا مکی مدنی مصطفی ﷺ ان انبیائے کرام علیہم السلام سے بہت محبت فرماتے اور کثرت سے مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرماتے نیز ان کی صفات واوصاف بیان فرماتے۔

محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس سے محبت ہو اس کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقوں، سنتوں اور دعاؤں کو اپناتے اور اپنی امت کو بھی تلقین بھی فرماتے اور پیارے آقا ﷺ ان سنتوں اور دعاؤں سے محبت کا اظہار بھی فرماتے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا انبیائے کرام کی سنتوں کو اپناتے ہوئے ان سے محبت کے اظہار پر مشتمل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضور ﷺ کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ ارشاد فرمایا: یوں کہو! ترجمہ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج جیسے تو نے ابراہیم اور ال ابراہیم پر رحمتیں بھیجیں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسی برکتیں بھیج جیسی برکتیں ابراہیم اور ال ابراہیم پر اتاریں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

سبحان اللہ!نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

حضور کا انبیائے کرام کی صفات پر مشتمل احادیث: پیارے آقا ﷺ نے حضرت ابرہیم اسحاق اور یعقوب یوسف علیہم السلام کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا: بیشک کریم، کریم کے بیٹے، کریم کے فرزند اور کریم کے صاحبزادے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ ( ترمذی، 5/81، حدیث: 3127)

حضرت ایوب سے محبت فرماتے ہوئے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ایوب قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر، 66/10)

حضور ﷺ کا انبیا سے نسبت رکھنے والی چیزوں سے محبت: چنانچہ ایک مرتبہ کسی نے عرض کی یارسول اللہ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی یونس کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/67)

حضور ﷺ کا حضرت موسیٰ کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں جب حضور پر نور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کیا ہے؟یہودیوں نے عرض کی یہ نیک دن ہے وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (بخاری، 1/656، حدیث: 2004)

نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے لیے کثرت سے رحمت کی دعا فرماتے چنانچہ حضرت قتادہ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت زکریا پر رحم فرمائے انہیں مال کی وراثت سے کوئی غرض نہ تھا۔ (تاریخ ابن عساکر، 73/642)

ان روایات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

اللہ کریم ہمیں انبیائے کرام کی محبت عنایت فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین

اللہ رب العزت نے کائنات کی ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو منصب نبوت عطا فرمایا۔ یہ پاکیزہ ہستیاں انسانیت کے لیے روشنی کا چراغ بن کر آئیں،جنہوں نے توحید،صبر،عدل اور اعلی اخلاق کی وہ مثالیں رکھیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔ان تمام انبیا میں سب سے آخری اور اعلی مقام والے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے جو نہ صرف تمام انبیا کے سردار ہیں بلکہ ان کے سب سے زیادہ خیر خواہ،محسن اور محبت کرنے والے ہیں۔

حضور ﷺ کے سینے میں تمام انبیائے کرام کے لیے بہت عزت تھی وہ ان کے بارے میں کلام بہت عزت و احترام سے فرماتے، ان کی حرمت کا خاص خیال رکھتے، ان کے مقام کو واضح کرتے اور ان پر ایمان کو اسلام کی بنیاد قرار دیا۔

انبیائے کرام علیہم السلام کی محبت کو قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے قران پاک میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-(پ 3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ ایک اور مقام پر آیا ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

احادیث مبارکہ:

فرمان مصطفی ﷺ ہے: میں قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں گا۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ محبت و احترام کا ذکر ملتا ہے چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: مجھے موسی علیہ السلام پر اس طرح فضیلت نہ دو کہ ان کی شان میں کمی آئے۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411)

حضور ﷺ کی احادیث میں بہت سے واقعات انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں ملتے ہیں جن میں آپ ان کے بارے میں کلام بہت محبت عزت اور احترام سے فرماتے تھے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے علوم سے قرآن پاک اتارا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خیانت کے بارے میں بھی مواد رکھا۔

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( پارہ 5 سورہ نساء آیت نمبر 107)

(2)وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ ( پارہ 10 سورہ انفال آیت نمبر 71)

(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(پارہ 12 سورہ یوسف آیت نمبر 52)

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورہ انفال آیت نمبر27)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کے بارے میں معلومات درج ذیل ہیں:

نبی اکرم ﷺ کی تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اور انکے احترام کے بارے میں متعدد احادیث مبارکہ اور آیات مبارکہ اور واقعات موجود ہیں جو انکی عالمگیر رحمت اور بھائی چارے کے پیغام کو واضح کرتے ہیں۔

حضرت موسی علیہ السلام سے محبت: ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آقا کریم ﷺ نے فرمایا: اگر موسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (شعب الایمان،1/199، حدیث: 176)

اس سے حضرت موسی علیہ السلام کے مرتبے اور آپ ﷺ کے ان کے حق میں جذبات کا پتا چلتا ہے ایک اور موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک موسی پر رحم کرے انہیں ہم سے زیادہ تکلیف دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری، 4/186، حدیث: 6291)

میں یونس بن متی سے بہتر نہ ہوں: ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں یہ حدیث تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت اور مقام کا اعتراف ہے اور نبی کریم ﷺ کی انکے لئے محبت اور احترام کو ظاہر کرتی ہے۔

تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لانا: قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر اور تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے جو کسی ایک نبی کا بھی انکار کرے وہ کافر ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق احادیث مبارکہ: آقا علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ساتھ ہوں گے جن سے آپ محبت فرماتے ہیں: یہ حدیث عام محبت کے بارے میں ہے لیکن اس کا اطلاق انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت پر بھی ہوتا ہے ایک صحابی نے آقا کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ وہ کب آئے گی؟ تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کیلئے تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کیلئے زیادہ نماز،روزے،زکوۃ تو تیار نہیں کئے لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ- (پ 3، البقرۃ: 253)ترجمہ: یہ رسول ہم نے سن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور جسے سب پر درجوں بلند کیا۔

اس آیت مبارکہ میں انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے اور یاد رہے کہ نبی ہونے میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام برابر ہیں لیکن ان کے درجات میں فرق ہے نبوت میں کوئی فرق نہیں بلکہ خصائص و کمالات میں فرق ہے ان کے درجات مختلف ہیں بعض بعض سے ادنی ہیں کہ یہ ادب کے مطابق نہیں اس طرح نہیں کہہ سکتے بلکہ بعض بعض سے اعلی ہیں اور سب سے اعلی ہمارے آقا کریم ﷺ ہیں اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

معراج کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات: معراج کی رات آقا کریم ﷺ نے پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ اور عیسی علیہما السلام سے اور تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام سے چوتھے پر حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے پر حضرت موسی علیہ السلام سے اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات فرمائی۔ (سیرت مصطفی، ص 733)


فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک  ﷺ نے فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَیعنی جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24، حدیث:33)یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)

خیانت سے بچنا اتنا ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے قران کریم میں کئی مقامات پر اس کی مذمت کو بیان کیا ہے

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورہ الحج، آیت 38)

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورہ النساء، آیت 107)

قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خیانت وہ بدترین عیب ہے جو انسان کو اللہ کی محبوبیت سے محروم کر دیتا ہے۔ عام طور پر خیانت کا مفہوم مالی امانت کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس مال امانت رکھوایا پھر اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے خیانت کی ، یقینا ً یہ بھی خیانت ہی ہے لیکن خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان لکھتے ہیں: خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں خیانت کے کئی انداز بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے ﷺ ہے:

(1) جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔(ابوداؤد،ج3،ص449، حدیث: 3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن(یعنی خیانت کرنے والا)ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1،ص212)

ہمارے صادق وامین آقا ،مکی مدنی مصطَفٰے ﷺ دعا کیا کرتے تھے : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)

قرآن و حدیث کی روشنی میں نچوڑ یہ ہے کہ امانت داری ایمان کی جڑ ہے اور خیانت منافقت کی مہر۔ اللہ کی کتاب خیانت کو ناپسندیدگی کی انتہا قرار دیتی ہے، تو نبی ﷺ کا فرمان اسے ایمان کی نفی بتاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ جو شخص مخلوق کے ساتھ دیانت دار نہیں، وہ خالق کے سامنے بھی سرخرو نہیں ہو سکتا۔"

اللہ کریم ہمیں ان قرآنی احکامات پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


حضور ﷺ اپنے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت فرماتے تھے اس لئے آقا ﷺ نے ان کی یاد کو جاری وساری رکھنے اور ان کے افعال کو جاری کرنے کیلئے دیگر احادیث میں ارشاد فرمایا ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی محبت میں آپ ﷺ انکے اوصاف کو بھی اپنایا اور پھر ان میں سے کچھ صفات کا اپنی احادیث مبارکہ میں بھی ذکر فرمایا اور دیگر احادیث مبارکہ میں مختلف انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار بھی فرمایا اور انکی شان کو بھی بیان فرمایا۔

شانِ حضرت آدم بزبانِ شہنشاہِ بنی آدم: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایمان والے جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے کاش ہمارے رب کی بارگاہ میں کوئی ہماری سفارش کر دے پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ تمام انسانوں کے والد ہیں اللہ پاک نے خاص اپنے دست قدرت سے آپکی تخلیق فرمائی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپکو تمام چیزوں کے ناموں کا علم دیا۔ (بخاری،3/441، حدیث: 4744)

درود ابراہیمی کی تعلیم: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سیکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں ارشاد فرمایا: یوں کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّیتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

مونچھیں تراشنا سنتِ ابراہیمی ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضور ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

حضرت ابراہیم کا جنتی محل: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک جنت میں موتیوں سے بنا ہوا ایک محل ہے جس میں نہ ہی دراڑیں ہیں اور نہ ہی کوئی کمزوری اللہ پاک نے اسے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مہمانی کیلئے تیار کیا ہے۔ (مسند بزار، 15/690، حدیث:8789)

حسن یوسف علیہ السلام: آپ علیہ السلام انتہائی حسین و جمیل تھے احادیث معراج میں آقا ﷺ نے آپ علیہ السلام کے حسن کا اجمالی تذکرہ کیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: معراج کی رات میں نے تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ ایسے شخص تھے جن کے حسن نے مجھے تعجب میں ڈال دیا وہ نوجوان اور اپنے حسن کے سبب لوگوں پر فضیلت رکھنے والے تھے۔ (تاریخ ابن عساکر، 35/146، حدیث: 7136)

ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ سنت ابراہیمی کو پیارے آقا ﷺ کا جاری رکھنا اور ان کے افعال کو جاری رکھنا بھی ان سے محبت کا اظہار تھا۔

آپ علیہ السلام تمام انسانوں میں زیادہ حسین تھے کہ خود پیارے آقا نے اپنی حدیث مبارکہ میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے اور صرف ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کو ان سے بڑھ کر حسن عطا فرمایا گیا ہے چنانچہ ایک شاعر نے فارسی میں کیا خوب ارشاد فرمایا:

حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری

ان احادیث مبارکہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انبیائے کرام صرف شرعی مسائل تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اللہ پاک نے انہیں کثیر علم سے نوازا ہے۔

شانِ ایوب علیہ السلام: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر، 15/44)

دعائے سلیمان کی رعایت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھ پر ایک سرکش جن حملہ آور ہوا تاکہ وہ میری نماز منقطع کر دے پس اللہ پاک نے مجھے اس پر قدرت دی میں نے اسے قابو کر لیا پھر میں نے ارادہ کیا اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو مگر مجھے میری بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو۔ تو میں نے اس جن کو ناکام واپس کر دیا۔

اس سے بھی شانِ نبی ثابت ہوتی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے دعائے سلیمان کو اپنایا اور چونکہ حضرت ابراہیم بھی اللہ پاک کے دوست ہیں یعنی خلیل اللہ ہیں اسی لیے نمازی کو حکم دیا گیا کہ وہ تشہد میں وہی درود ابراہیمی پڑھے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا گیا اور اس درود کو تب سے آج تک اور آگے بھی قیامت تک مسلمان پڑھتے رہیں گے۔

اللہ پاک ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کرنے اور انکے فیض سے مستفیض فرمائے۔ آمین

پیارے کریم آقا ﷺ کو گزشتہ انبیائے کرام سے بہت محبت،عقیدت و احترام تھا اسکا ثبوت ہمیں قرآن کریم و احادیث طیبہ سے ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم ہر نبی و رسول پر ایمان نہ لے آئیں۔آقا ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔جبکہ بعض احادیث میں آقا ﷺ نے ایسی فضیلت دینے سے منع فرمایا یعنی کہ جس سے دیگر انبیائے کرام کی شان میں کمی آئے۔

آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت ملاحظہ فرمائیں۔

قرآن مجید فرقان حمید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 136 میں ارشاد فرمایا گیا: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس امت پر سابقہ تمام انبیائے کرام و رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔جو ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کافر ہے۔

اسی طرح پارہ 3 سورہ بقرہ کی آیت 285 میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔

یہ انبیائے کرام علیہم السلام وصف نبوت میں برابر ہیں البتہ انکی فضیلت کے اعتبار سے درجات ہیں۔ یہ عقیدہ بھی ہوکہ یہ تمام انسانوں سے افضل اور گناہوں سے معصوم ہیں۔یہ ہمارے ایمان میں شامل کردیا گیا اس سے آقا ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

اسی طرح قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں بھی انبیائے کرام کا تذکرہ اسی طرح ان کی سنتیں اس امت میں شریعت میں جاری ہیں۔ جیسا کہ مونچھیں تراشنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کریمہ ہے، یہ ہمارے آقا ﷺ کی بھی سنت مبارکہ ہے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

اسی طرح مقام ابراہیم کو مصلی بنانا، اس کے قریب نماز ادا کرنا۔ حج کے افعال میں ان کی اور حضرت ہاجرہ کی سنتوں کو باقی رکھا گیا۔ اسی طرح نماز میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے۔ اسی طرح معراج کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ جب نمازوں کی فرضیت ہوئی پہلے 50 نمازیں فرض تھیں، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آقا ﷺ نے اللہ پاک سے عرض کی اور پھر نمازیں کم ہوتے ہوتے 5 رہ گئیں اور ثواب 50 کا۔ اس سے آقا ﷺ کی حضرت موسیٰ سے محبت کا ظہور ہوتا ہے کہ ان کی رائے کا احترام بھی فرمایا۔

اسی طرح دیگر انبیائے کرام اور انکی دعاؤں کا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بھی تذکرہ ملتا ہے، سیرت الانبیاء سے اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے انبیائے کرام علیہم السلام سے حقیقی محبت عطا فرمائے۔ آمین

محترم و مکرم قارئین! آج کل ہمارے معاشرے میں کئی گناہ عام ہیں۔ ان ہی میں سے ایک خیانت ہے۔ جس کی مذمت پر قرآن و حدیث میں کئی وعیدیں آئی ہیں۔ تا کہ لوگ خیانت سے بچے اور امانت دار بنیں۔ کیونکہ خیانت فرد کے کردار کو مجروح، معاشرتی اعتماد کو ختم اور عدل و انصاف کے نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔تو آئیے پہلے خیانت کی تعریف اور حکم جان لیتے ہیں پھر خیانت کی قرآنی مذمت جانتے ہیں۔

خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات،ص:175 )

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (ایضاً،ص:176)

خیانت کی مذمت قرآن مجید کی روشنی میں (1) قیامت کے دن خائن کی پیشی :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّؕ-وَ  مَنْ  یَّغْلُلْ  یَاْتِ  بِمَا  غَلَّ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِۚ ثُمَّ  تُوَفّٰى  كُلُّ  نَفْسٍ  مَّا  كَسَبَتْ  وَ  هُمْ  لَا  یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں کتنی صراحت سے خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ کہ جو خائن ہے وہ قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ آئے گا اور یہ کتنی بڑی وعید ہے۔

(2) خائن کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(النساء،107:4)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں ہے:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔( صراط الجنان،ج،2،ص:333 )

(3) خائن اللہ پاک کا ناپسندیدہ : وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال،58:8)

اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ خیانت کتنی قبیح چیز ہے کہ ایسے بندے سے اللہ پاک بھی محبت نہیں فرماتا اور ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ پاک مجھ سے راضی ہو جائے میں اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بن جاؤ ۔ تو اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے کے لئے خیانت جیسے قبیح گناہ کو ترک کرنا پڑے گا۔

(4)امانتوں میں خیانت نہ کرو :اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،27:8)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں۔فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( صراط الجنان، ج،3،ص:543 )

اور اس آیت میں بھی اللہ پاک نے اپنی امانتوں میں خیانت کرنے سے منع فرمایا۔ اس سے انداذہ لگایئے کہ خیانت کتنا بڑا اور نقصان دہ گناہ ہے جس سے اللہ پاک نے بار بار قرآن پاک میں صراحتاً منع فرمایا۔اور یہ آج کل لوگوں میں عام ہے ۔ اس کی پرواہ ہی نہیں اللہ پاک ایک مرتبہ جس کام سے منع فرما دے بندہ مومن کےلئے وہی کافی ہوتا ہے اور خیانت سے ایک نہیں متعدد بار منع فرمایاہم پھر بھی اس باز نہیں آ رہے۔ پھر اس کے اخروی نقصانات کے علاوہ جو دنیوی نقصان ہوتے ہیں وہ الگ ہیں کہ خائن کی کوئی عزت نہیں کرتا، خائن کا کردار،داغدار ہو جاتا ہےوغیرہ وغیرہ۔اللہ پاک سے دعا گو ہوں اللہ ہم سب کو خیانت سے محفوظ فرمائے ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور نیکیوں والی اور اپنی رضا والی طویل زندگی عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔


حضورِ اقدس ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تمام انبیائے کرام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں، آپ نے ہمیشہ دوسرے انبیا کا احترام فرمایا۔ ان کی نبوت کی تصدیق کی اور انہیں اپنی امت کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا،جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت کا اظہار کیا،ان سب کی تعلیمات کو سچ مانا اور معراج میں سب کی امامت کرائی، جو آپ کے تمام انبیائے کرام کے ساتھ گہرے تعلق اور امت پر ان کے مقام و مرتبے کی گواہی ہے اور یہ محبت دراصل اللہ سے محبت کا عکس ہے۔

محبتِ انبیا کی جھلکیاں:

1۔ سرکار ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت پر کچھ احادیث ملاحظہ ہوں۔ کثیر احادیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے یہاں ان میں سے ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی سخی اور بڑے مہمان نواز تھے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک نے میرے دوست جبرائیل کو حضرت ابراہیم کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اے ابراہیم! میں نے تمہیں اس لئے خلیل نہیں بنایا کہ تم میرے سب سے زیادہ عبادت گزار بندے ہو بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ تیرا دل اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ سخی ہے۔ (ترغیب وترہیب،3/312، حدیث:4002)

اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور انکی قوم کا ذکر بھی آپ ﷺ نے اپنی احادیث میں کیا جیسا کہ حضرت جابر فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر سے گزرے تو ارشاد فرمایا:اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو،کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے معجزات کا مطالبہ کیا تو اللہ پاک نے ان کے لیے اونٹنی بھیجی جو اس گھاٹی سے باہر آتی اور اسی کے اندر چلے جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی اور لوگ اس دن اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے۔پھر انہیں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاک نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر فرد کو ہلاک کردیا سوائے ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔عرض کی گئی:یا رسول اللہ ﷺ وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔ (مسند امام احمد، 5/14، حدیث: 14162 ملتقطا)

پیارے آقا ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر خیر اپنی احادیث میں کیا ہے۔یہاں ان کے متعلق احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: جو تم میں بڑا پرہیزگار ہے ۔عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ ارشاد فرمایا: تولوگوں میں بڑے معزز یوسف ہیں کہ (خود)اللہ کے نبی ہیں اورنبی (یعقوب علیہ السلام)کے بیٹے، وہ نبی(اسحاق علیہ السلام) کے بیٹے اور وہ خلیل اللہ کے بیٹے ہیں۔ عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے، ارشاد فرمایا: تو کیا تم مجھ سے اہلِ عرب کے آباؤ اجداد کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ عرض کی: جی ہاں، ارشاد فرمایا: ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب کہ عالم ہوجائیں۔ (بخاری، 2/421، حدیث:3353)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا،جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنا چاہا تو پوچھا گیا:کون؟کہا:جبریل۔پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد ﷺ پوچھا گیا انکو بھیجا گیا ہے؟ جواب دیا۔جی ہاں! بھیجا گیا ہے۔تو ہمارے لئے دروازہ کھلا، وہاں حضرت یوسف علیہ السلام موجود تھے،انہیں خوبصورتی کا ایک حصہ دیا گیا ہے، آپ نے مرحباً کہا اور میرے لیے خیر کی دعا بھی کی۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 411)

پسندیدہ سبزی اور اس کی وجہ: ایک مرتبہ کسی نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی،5/27)

قبر میں نماز: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی اس رات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ کثیب احمر(ایک سرخ ٹیلے) کے پاس اپنے قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم، ص 994، حدیث: 6157)

بروز قیامت بارگاہِ موسیٰ میں مخلوق کی حاضری: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے:اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ پاک کے نبی ہیں،اللہ پاک نے آپ کو لوگوں پر اپنی رسالت اور کلام کے ذریعے فضیلت بخشی،آپ ہمارے لیے اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے کہ ایسا عضب نہ اس نے پہلے کیا اور نہ ہی آج کے بعد کرے گا،اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کر دیا تھا جسے کرنے کا مجھے حکم نہیں تھا،اس لیے مجھے اپنی فکر ہے،مجھے اپنی فکر ہے۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ،تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ (بخاری، 3/420، حدیث:4713)