خیانت اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی امانت، بھروسہ، وعدہ یا
ذمہ داری کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے یا اس کے خلاف عمل کیا جائے، چاہے وہ مال میں
ہو، بات میں ہو، راز میں ہو یا کسی کام میں۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)یہ آیت صاف بتا
رہی ہے کہ امانت میں خیانت کرنا اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے ۔
(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)خیانت کرنے
والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔
(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)خیانت
کا انجام آخرت میں رسوائی اور حساب ہے۔
(1)رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ
خَانَكَ ترجمہ:جو تمہیں امانت دے، اس کی امانت ادا کرو، اور جو
تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن ابوداؤد، حدیث: 3534)یہ حدیث بتاتی ہے
کہ مسلمان کا کام ہر حال میں امانت داری ہے، چاہے سامنے والا خیانت کرے، تب بھی ہمیں
خیانت کی اجازت نہیں۔
(2)حضور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:لَا
إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُجس میں امانت داری نہیں، اس کا (کامل) ایمان
نہیں۔خیانت کرنا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، سچا مومن وہی ہے جو امانت دار ہو۔
(مسند احمد، حدیث: 12567)
(3)نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَترجمہ
:منافق کی تین نشانیاں ہیں… اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح
بخاری، حدیث: 33،صحیح مسلم، حدیث: 59)خیانت منافقت کی علامت ہے، اس لیے مسلمان کو
اس بری عادت سے بچنا لازم ہے۔
رُوِيَ أَنَّ رَجُلًا
كَانَ مُوَكَّلًا بِشَيْءٍ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي زَمَنِ أَمِيرِ
الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ
شَيْئًا لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
هٰذِهِ خِيَانَةٌ، وَإِنَّ الْخَائِنَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا خَانَ،
ثُمَّ أَمَرَ بِرَدِّهِ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ وَنَبَّهَهُ تَنْبِيهًا شَدِيدًا
روایت ہے کہ امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ کے زمانے میں ایک شخص بیتُ المال کے ایک کام پر مقرر تھا۔ اس نے اس میں سے کوئی
چیز اپنے لیے لے لی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:“یہ
خیانت ہے، اور بے شک خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کو ساتھ لے کر آئے
گا۔”پھر آپ نے وہ چیز بیتُ المال میں واپس کرنے کا حکم دیا اور اسے سخت تنبیہ
فرمائی۔
(فیضانِ سنت،باب: امانت داری اور خیانت کی مذمت، ناشر:
مکتبۃُ المدینہ، دعوتِ اسلامی)
مرزا
عزیر بیگ (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد، کر اچی ، پاکستان)
دین اسلام ایک کامل دین ہے جس کے ہر ہر پہلوں میں ایک
قسم کی خوشبوں کا احساس ہے۔دین اسلام ایسا کامل دین ہے کہ یہ انسان کے لئے زندگی
کے ہر ہر گوشے میں رہنمائی کرتا ہے عبادت سے لے کر معاملات تک ہر ہر رہنمائی موجود
ہے۔دین اسلام بندے کو ہر ہر بڑائی سے دوڑ رکھتا ہے۔انہی بڑائی میں سے ایک قسم خیانت
کی بھی ہے۔حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق ایسے بندے کو منافق عملی قرار دیا گیا ہے
جیسا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے منافق کی علامتیں تین ہیں: جب
بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت
کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الايمان،حدیث: 33)
قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے جیساکہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ
قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ
جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
اسی طرح اللہ
تعالیٰ نے ایک اور مقام پر اپنے نبیوں ذریعے امت کی رہنمائی فرمائی ارشاد باری
تعالیٰ ہے :
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ
قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس
کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
ان آیتوں سے ہمیں پتا چلا کہ خیانت ایک بہت ہی ناپسندیدہ
عمل ہے۔جس سے ہمیں ہر حال میں بچنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین۔
محبوب
عالم (درجہِ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ، کراچی، پاکستان )
اسلام میں خیانت کو ایک سنگین گناہ اور منافقت کی علامت
قرار دیا گیا ہے۔ خیانت کا مطلب صرف مال میں ہیرا پھیری کرنا نہیں، بلکہ کسی کے
بھروسے کو توڑنا، وعدہ خلافی کرنا اور اپنی ذمہ داریوں میں چوری کرنا بھی خیانت
ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اہل ایمان کو صاف طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا
ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال، آیت نمبر 27)
قیامت کا دن انصاف کا دن ہوگا اور وہاں خیانت کرنے والوں
کو پوری مخلوق کے سامنے ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل
ہیں:
خیانت کی چیز کا بوجھ:قرآنِ
مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس چیز کو
اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے لائے گا۔ (سورہ آل عمران: 161)
ذرا سوچئے! جس
نے کسی کی زمین، مال یا کوئی بھی چیز ناحق لی ہوگی، وہ میدانِ محشر میں سب کے
سامنے اسے اٹھائے پھر رہا ہوگا جو اس کی رسوائی کا سبب بنے گا۔
منافق کی نشانی خیانت:نبی کریم
(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے،
جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت
کرے۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر 33 (کتاب الایمان)صحیح مسلم: حدیث نمبر 59 (کتاب الایمان)
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: "ہر خیانت کرنے والے (عہد
توڑنے والے) کے لیے قیامت کے دن اس کی پیٹھ کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا جس
سے وہ پہچانا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی خیانت (غداری) ہے۔(صحیح
مسلم: حدیث نمبر 1735 (کتاب الجہاد والسیر)صحیح بخاری: حدیث نمبر 6178 (کتاب
الادب)
ایک اور مقام پر خیانت کی اتنی سخت مذمت آئی ہے کہ:
"جس میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے(ان میں سے ایک یہ کہ) جب اسے امین
بنایا جائے (امانت دی جائے) تو وہ خیانت کرے۔ اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا
ہو اور گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 58 ، کتاب الایمان)
یہ تمام حوالے مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں۔ ان سے واضح
ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایمان کی جڑیں کاٹ دینے والا گناہ
ہے جس کی پکڑ قیامت کے دن بہت سخت ہوگی۔
محمد
وقار احمد (درجہ ثالثہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘خیانت کا معنی ہے بددیانتی، بے ایمانی،
دھوکا، یا کسی کے اعتماد کو توڑنا، خاص طور پر جب کسی امانت میں چوری یا ناجائز
تصرف کیا جائے یا کسی راز کو فاش کیا جائے۔یہ اللہ، رسول، یا کسی بندے کے حقوق ادا
نہ کرنے کا عمل ہے جس سے اعتماد مجروح ہوتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے:
(1)یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)
(1) نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد
ہے: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا
پابند ہی کیوں نہ ہو: (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے
(3)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔( مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان خصال
المنافق، ص 50، حدیث: 107)
(2) روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ
اللہ ﷺ نے کہ نہ بغیر پاکی کے نماز قبول اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ و خیرات قبول
ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 1 حدیث : 301)
(3) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولُ اللہ ﷺ عرض کرتے
تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت
سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ
المصابیح جلد 4 ،حدیث: 2469)
(4) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم شخص کو پاؤ کہ وہ اللہ
پاک کی راہ میں خیانت کرے تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو۔( مراۃ المناجیح شرح
مشکوۃ المصابیح، حدیث : 3633)
(5) فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا
کیا جا سکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد،
6 حدیث : 48)
خیانت کے بارے میں چند سبق آموز اقوال:خیانت
وہ زخم ہے، جو جسم پر نہیں، اعتماد پر لگتا ہے،ایمان اور خیانت ایک دل میں جمع نہیں
ہو سکے۔ ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا ہی چاہئے کیونکہ ہر مسلمان پر
امانتداری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت کے
خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام کبیرہ
و صغیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد
اسلم (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت انسانی معاشرے کی ان برائیوں میں سے ایک ہے جو
اعتماد، محبت اور عدل کی بنیادوں کو کمزورخیانت کر دیتی ہے۔ جب امانت میں بددیانتی،
وعدوں کی خلاف ورزی اور حقوق کی پامالی عام ہو جائے تو فرد کا کردار اور معاشرے کا
سکون دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اسلام نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور
امانت و دیانت کو ایمان کا حصہ بتایا ہے۔ اسی لیے خیانت کے اسباب، اس کے نقصانات
اور اس سے بچنے کی اہمیت کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵)
خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی
معلومات،صفحہ۱۷۶)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(پ۹،
الانفال: ۲۷)
(اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجَمۂ کنزُ الایمان:بیشک اللہ تمہیں
حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ
کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی
طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد
ہے: ’’تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا
پابند ہی کیوں نہ ہو: (۱)جب بات
کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب
وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (۳)جب
امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)
الغرض، خیانت ایک ایسا مہلک اخلاقی مرض ہے جو فرد کے ایمان،
معاشرے کے امن اور باہمی اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت نے خیانت کو
سخت ناپسندیدہ قرار دے کر امانت، دیانت اور وفاداری کو مومن کی پہچان بنایا ہے۔ جو
شخص امانت کی حفاظت کرتا ہے وہ اللہ کی رضا اور لوگوں کے اعتماد کا حق دار بنتا
ہے، جبکہ خیانت کرنے والا دنیا و آخرت میں رسوائی کا سامنا کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہر حال میں امانت کی پاسداری کریں، وعدوں کو نبھائیں اور اپنے کردار کو
صداقت و دیانت سے آراستہ کریں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت اور سچائی ہی
پر قائم ہوتی ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور
اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت داری
کو بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس خیانت کو سخت گناہ اور ایمان
کے منافی عمل بتایا گیا ہے۔ خیانت سے مراد کسی کے اعتماد کو توڑنا، امانت میں بددیانتی
کرنا، وعدہ خلافی کرنا یا حق تلفی کرنا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں خیانت
کی شدید مذمت آئی ہے، کیونکہ یہ عمل معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی زوال کا سبب بنتا ہے۔
خیانت کی
تعریف:لغوی اعتبار سے خیانت کے
معنی ہیں: بددیانتی کرنا یا اعتماد کے خلاف عمل کرنا۔ اصطلاحِ شریعت میں خیانت ہر
اس قول و فعل کو کہا جاتا ہے جس میں امانت، وعدے یا ذمہ داری کی خلاف ورزی ہو،
خواہ وہ مالی ہو، قولی ہو یا عملی۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور
رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ
الانفال: 27)
- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں
۔(سورۃ الانفال: 58)
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ
کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔(سورۃ آلِ عمران: 161)
احادیثِ
نبوی ﷺ کی روشنی میں خیانت 4 احادیث:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: جس شخص میں امانت نہیں، اس کا ایمان نہیں۔(مسند احمد: 12567)
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو
خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح بخاری: 33، صحیح مسلم: 59)
نبی
اکرم ﷺ نے فرمایا: امانت اس کو ادا کرو جو تمہیں امانت دے، اور جو تم سے خیانت کرے
تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن
ابوداؤد: 3534، جامع ترمذی: 1264)
خیانت
کے معاشرتی نقصانات :خیانت کی وجہ سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے،
تعلقات خراب
ہوتے ہیں، انصاف کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور اجتماعی
اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایک خیانت کرنے والا فرد پورے معاشرے کے لیے
نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسلام
نے امانت داری کو اعلیٰ ترین اخلاقی وصف قرار دیا ہے اور خیانت کو سخت گناہ بتایا
ہے۔ قرآن و سنت کی واضح تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر
حال میں امانت دار ہو۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خیانت سے بچتے
ہوئے دیانت داری اور سچائی کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔اللہ
تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے گناہوں سے محفوظ رکھے اور امانت داری کی صفت اختیار کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خیانت ایک ایسا سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے جسے اسلام
نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ خیانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس میں اللہ
تعالیٰ کے احکامات، رسول اللہ ﷺ کی سنت، لوگوں کے حقوق، وعدے، ذمہ داریاں اور
امانتیں سب شامل ہیں۔ خیانت اعتماد کو ختم کر دیتی ہے اور فرد و معاشرہ دونوں کو
تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
خیانت کا مفہوم:خیانت کے لغوی معنی ہیں:
امانت میں بددیانتی کرنا، وعدہ خلافی کرنا اور حق کو ضائع کرنا۔
شرعی اصطلاح میں خیانت سے مراد ہر وہ عمل ہے جس میں
اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے حقوق میں دانستہ کمی یا کوتاہی کی جائے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ
الانفال: آیت 27)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ اللہ
اور رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی بھی خیانت ہے، اور لوگوں کی امانتوں میں بددیانتی
بھی بڑا گناہ ہے۔
(1)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے، اور ان میں سے ایک
ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"(صحیح بخاری،
حدیث: 34 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 58)
(2)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"امانت
کو ضائع کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔"(صحیح بخاری، حدیث: 59)
خیانت کے نقصانات:اللہ تعالیٰ کی ناراضی،ایمان
کی کمزوری،معاشرتی اعتماد کا خاتمہ،دنیا و آخرت میں رسوائی۔
خیانت اسلام میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآن و سنت کی
روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ خیانت اللہ، رسول ﷺ اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنے کا
نام ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو دیانت داری سے ادا کرے اور ہر قسم کی
خیانت سے بچے۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو امن، اعتماد اور عدل قائم ہو
سکتا ہے۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں نہ صرف فرد واحد
بلکہ معاشرے میں رہن سہن کی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلامی معاشرہ اخلاقی ستونوں پر
قائم ہوتا ہے، ان میں امانت اور دیانت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جب یہ ستون متزلزل
ہو جائیں تو بظاہر ترقی یافتہ معاشرہ بھی اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ خیانت اسی
اخلاقی زوال کی ایک ایسی صورت ہے جو خاموشی سے اعتماد کو کھا جاتی ہے اور انسان کو
اپنے ضمیر سے دور کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس عمل کو محض سماجی کمزوری نہیں بلکہ
ایک اخلاقی جرم قرار دیا ہے، جس کے اثرات فرد سے لے کر پورے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔
خیانت کی تعریف:الْخِيَانَة:
وَهُوَ التَّصَرُّف فِي الْأَمَانَة على خلاف الشَّرْعترجمہ:
اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عینی، بدر الدین
العینی، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، دار إحياء التراث العربي، بيروت جلد1،
ص220)
خیانت کی مذمت قرآن کریم کی روشنی میں:قرآن
پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (الانفال8: 27)
تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت درج ہے کہ:قال ابن عباس: معناه لا تخونوا الله بترك فرائضه ولا
تخونوا الرسول بترك سنته ولا تخونوا أماناتكم"ترجمہ:
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ فرائض چھوڑ کر اللہ
تعالیٰ سے خیانت نہ کرو اور سنت کو ترک کر کے رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ
ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(خازن، جلد2، ص306، دار الکتب العلمیہ )
اس تفسیر کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرائض
چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت
کرنا ہے۔
اسی سورت کی آیت نمبر 58 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمۂ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال8: 58)
ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ خائن شخص اللہ پاک کی بارگاہ
میں ہرگز پسندیدہ نہیں ہے خیانت اسے وقتی دنیوی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر آخرکار
فائدہ خسارے میں بدل جاتا ہے۔ قرآن کی رہنمائی ہمیں بتاتی ہے کہ امانت داری ہی ایمان
کی پہچان اور معاشرتی اعتماد کی بنیاد ہے۔ اگر ہم فرداً فرداً اپنی ذمہ داریوں کو
امانت سمجھ لیں تو بہت سی اصلاحات خود بخود ممکن ہو جاتی ہیں۔ ایک صالح معاشرہ اسی
وقت وجود میں آتا ہے جب خیانت کی جگہ دیانت کو اختیار کیا جائے۔اللہ پاک میں خیانت
کی نحوست سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ النبی الامین۔
محمّد
حذیفہ عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اخلاق، کردار
اور معاملات میں پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جن اخلاقی برائیوں کی
مذمت کی گئی ہے، ان میں سے ایک خیانت بھی ہے خیانت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کی
امانت، اعتماد یا ذمہ داری کو پورا نہ کرے اور جان بوجھ کر بددیانتی کا ارتکاب کرے
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایمان والوں کو خیانت سے منع فرمایا ہے۔
ارشاد فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ انفال آیت58)
اس آیت کی تفسیر میں امام ابو جعفر طبری لکھتے ہیں:اللہ
تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں سے اپنی ناراضی کا اعلان فرما رہا ہے جو عہد و پیمان میں
خیانت کرتے ہیں کیونکہ خیانت اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔
(جامع البیان عن تأویل آیۃ القرآن، جلد 10، صفحہ 54،دار
ہجر)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل
عمران، 161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی
خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص
کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب
کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا
اہل
الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں
عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ،
مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)
حضرت ابو امامہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر
عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں
ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت امتیاز
حسین،جامعۃ المدینہ جوہرآباد خوشاب
اللہ تعالی نے
انسان کو زبان کی نعمت عطا فرمائی تاکہ وہ دوسروں سے بات چیت کر سکے اور ایک دوسرے
کے دکھ درد سمجھ سکے اپنے جذبات کا اظہار کر سکے۔ گفتگو ایک ایسا ہنر ہے جو صرف
الفاظ سے نہیں بلکہ توجہ، خلوص، احساس اور احترام سے مکمل ہوتا ہے۔ کسی بھی گفتگو میں
مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف برے اخلاق کی علامت ہے بلکہ اس سے سامنے والے کی
دل آزادی بھی ہوتی ہے۔
نظر
انداز کرنے کا مطلب: مخاطب کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی
آپ سے بات کر رہا ہو تو آپ اس کی بات کو توجہ سے سننے کے بجائے لا پروائی، بے تو
وجہی یا بےاعتنائی کا مظاہرہ کریں اپنے رخسار کو ٹیڑھا کریں۔
مخاطب
کو نظر انداز کرنے کی مثالیں: توجہ سے بات سننے کے بجائے اس کی طرف
سے منہ موڑ لینا، درمیان میں بات کاٹ دینا، موبائل استعمال کرتے رہنا، بیزاری
کا مظاہرہ کرنا، یا بات کا جواب نہ دینا، یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات کی کوئی
اہمیت نہیں۔
پارہ 21 سورۂ
لقمان آیت نمبر 18 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات
کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر
اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدین مراد آبادی اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا،جیسا متکبرین کا طریقہ ہے۔ (خزائن
العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ روح البیان میں لکھتے ہیں: متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ
لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراء و مساکین کو غصے سے
دیکھتے ہیں بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔
عقلمند
کون؟ حضرت
شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک دانشور کے بارے میں یہ سنا کہ وہ
کہا کرتے تھے کہ کوئی شخص بھی اپنی جہالت کا اقرار نہیں کرتا سوائے اس شخص کے کہ
جب کوئی دوسرا بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بیچ میں اپنی
بات شروع کر دیتا ہے سمجھدار آدمی اس وقت تک اپنی بات شروع نہیں کرتا جب تک دوسرے
کی بات ختم نہ ہو جائے۔
ایک بات یاد
رہے کہ دوسروں کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کر دینا اور نظر انداز کرنا اس کی بات
کو توجہ نہ دینا اسلامی آداب گفتگو کے خلاف ہے مکتبۃ المدینہ کے رسالے احترام مسلم
میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ کسی کے بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے
تجاوز کرنے لگتا تو اس کو منع فرماتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔(شمائل ترمذی، ص 200
ملخصاً)
احترام مسلم
کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے کسی بھی
مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے دل شکنی کی وجہ سے دوبارہ انسان بات کرنے میں جھجک
محسوس کرتا ہے ہمارے میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا نہ
کسی پر طنز کیا،نہ کسی کو نظر انداز کیا،نہ کبھی کسی کا مذاق اڑایا،نہ کسی کو
دھتکارا نہ کبھی کسی کی بےعزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا اس کی بات کو
اہمیت دی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اس میٹھی میٹھی سنت
پر عمل کریں۔
لگاتےہیں
اس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں
منہ لگانے کے قابل
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت 16 جون
2026ء کو شیخو پورہ ڈویژن، ضلع قصور میں مدنی
مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈویژن، ڈسٹرکٹ و تحصیل ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں نے
شرکت کی۔
اس موقع پر صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے یوسی
سطح پر ہدف کی تقرری، گلی گلی مدرسۃ المدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات، ہفتہ وار
اجتماعات میں اضافہ کرنے، عشر کے اہداف ، فیضانِ صحابیات، رہائشی کورسز میں داخلوں
کا ہدف، ایک ماہ اور تین دن کے قافلوں کا ہدف نیز ہر ماہ دو محارم حلقے کے حوالے سے گفتگو
کی۔ (رپورٹ: محمد علی عطاری شعبہ
معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب
آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت 10 جون
2026ء کو بہاولپور ڈویژن، ضلع رحیم یار خان میں ایک اہم میٹنگ
کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈویژن، ڈسٹرکٹ و
تحصیل ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے یوسی
سطح پر ہدف کی تقرری، گلی گلی مدرسۃ المدینہ، مدرسۃالمدینہ بالغات، ہفتہ وار
اجتماعات میں اضافہ کرنے، عشر کے اہداف ، فیضانِ صحابیات، رہائشی کورسز میں داخلوں
کا ہدف، ایک ماہ اور تین دن کے قافلوں کا ہدف نیز ہر ماہ دو محارم حلقے کے حوالے سے گفتگو
کی۔ (رپورٹ: محمد علی عطاری شعبہ
معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب
آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
Dawateislami