دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت 17 جون 2026ء کو ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے   ملتان میں سابقہ ڈویژنل آفیسر اسپیشل ایجوکیشن میاں محمد ماجد اور سجاد حیدر سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران ملتان ڈویژن کے ذمہ دار مولانا محمد جمال عطاری مدنی اور سٹی ذمہ دار قاری اشفاق عطاری نے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہونے والی دینی، اصلاحی اور فلاحی سرگرمیوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا ۔ اس کے علاوہ، اسپیشل پرسنز میں دینی ماحول کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔

اس موقع پر ذمہ داران نے میاں محمد ماجد اور سجاد حیدر کو 28 جون 2026ءبروز اتوار منعقد ہونے والے اسپیشل پرسنز کے خصوصی اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی جس میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری بیان کریں گے۔(رپورٹ: طاہر اقبال عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے تحت شانِ صحابہ و اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان کے سلسلے میں ہونے والے 6 مدنی مذاکرے کا اہتمام 20 جون 2026ء بمطابق 5 محرم الحرام 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں کیا گیا ۔

تفصیلی معلومات کے مطابق یہ مدنی مذاکرہ مدنی چینل کے ذریعے مختلف زبانوں میں دنیا کے کئی ممالک میں براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے عاشقانِ رسول نے فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس میں مدنی مذاکرے میں بالخصوص پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد ہوئی۔

اس دوران امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے مختلف سوالات کے علمِ و حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔

بعض سوال وجواب

سوال: کیا فضول باتیں نقصان دہ ہیں ؟

جواب:جی ہاں! فضول باتیں نقصان دہ ہیں او رگناہ بھری باتیں اس سے زیادہ نقصان دہ ہیں ۔بندہ فضول باتیں شروع کرتاہے تو پھر گناہ والی باتوں میں مصروف ہو جاتاہے ،اس لیے فضول باتوں کا دروازہ بند کردیا جائے یعنی فضول باتیں کی ہی نہ جائیں ۔ علمِ دِین ہوگا تو فضول اورگناہ بھری باتوں سے بچ پائیں گے، اس کے لیے دِینی کتابوں، رسائل کا مطالعہ کریں، مدنی مذاکرے دیکھیں، سُنیں۔مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ’’خاموش شہزادہ‘‘پڑھنابھی مفیدہے۔(نوٹ: مکتبۃ المدینہ سے یہ کتابیں اور رسائل بھی حاصل کرکے پڑھنے سے بہت ساری معلومات میں اضافہ ہوگا۔ گفتگو کے آداب، فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت زبان کی حفاظت کی اہمیت اچھی گفتگو کیجئے محتاط گفتگو کیجئے)

سوال: کیا بندے کے اعضا کا بھی اس پر حق ہے ؟

جواب: ہرعُضْو (Part of the Body)کا بندےپرحق ہے ،جس کادرست استعمال کرنا ضروری ہے ۔سونا کھانا سب کی ضرورت ہے۔اپنےعُضْوکوگناہوں میں مبتلا کرکے جہنم کی طرف نہ جھونکاجائے ۔زبان کے درست استعمال سے دیگراعضا کی حفاظت ہوگی۔اعضا کے درست استعمال سے زندگی بھر فائدہ ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمروْ بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ! کیا میری یہ اطلاع صحیح ہے کہ تم دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم )! نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور بغیر روزہ بھی رہو۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ (صحيح البخاري،كتاب النكاح،حدیث: 5199)

سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے لوگوں کو تکلیف نہ دینے سےکن الفاظ سے منع فرمایا ؟

جواب: اپنی ذات سے کسی کوراحت(آرام/سکون) نہیں پہنچاسکتے توتکلیف بھی نہ دو۔

سوال: کیا نیکی کبھی پرُانی نہیں ہوتی ؟

جواب: جی ہاں،اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: اَلْبِرُّ لَا یَبْلَی وَالْاِ ثْمُ لَا یُنْسَی وَالدَّیَّانُ لَا یَمُوتُ فَکُنْ کَمَا شِئْتَ کَمَا تَدِینُ تُدَانُ یعنی نیکی کبھی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بُھلایا نہیں جاتا ، جزا دینے والا (یعنی اللہ پاک)کبھی فنانہیں ہوگا، جو چاہو بنو!(یعنی نیک یا گنہگار)جیسا کروگے ویسا بھروگے۔

سوال:امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کربلاکے کس شہیدکا خصوصیت کے ساتھ ذکرفرمایا؟

جواب: مجھے بچپن سےہی کربلا کے ننھے منے شہیدحضر ت علی اصغر رحمۃ اللہ علیہ سے بہت محبت ہے، شہادت کے وقت ان کی عمر قریباً صرف 6ماہ تھی۔

سوال: حضرت عباس علمبردار رحمۃ اللہ علیہ کو ”علمبردار“ کیوں کہاجاتاہے ؟

جواب: عَلَم جھنڈےکو کہتے ہیں ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے کربلاوالے قافلے میں جس کے پاس اس قافلے کا جھنڈاتھا وہ حضرت عباس علمبردار رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھا۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضائلِ اہل بیت ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربَّ الحسنین! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ فضائلِ اہل بیتپڑھ یا سُن لے، اُسے فیضانِ اہل بیت سے مالا مال فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

14 جون 2026ءمدنی مرکز فیضان مدینہ حیدرآباد میں شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت ایک اہم مدنی مشورہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈویژن ، سٹی ، ڈسٹرکٹ ذمہ داران و صوبائی ذمہ داران اور صوبائی معاون اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر نگران شعبہ ڈاکٹر غلام الیاس عطاری نے بیان کیا جس میں انہوں نے فیضانِ صحابیات کے قیام اور آبادکاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز فیضان صحابیات کو سولر پر کرنے کی ترغیب دلائی نیز روحانی علاج کے بستوں میں اضافے کے لیے بھی تبادلۂ خیال کیا۔

اس کے علاوہ نگرانِ شعبہ نے شعبہ رابطہ برائے شخصیات للبنات کی ذمہ داراسلامی بہن کی ایس پی اسلامی بہن سے ملاقات کے حوالے سے مشاورت کی جبکہ دیگر شعبوں کے کاموں پر کلام کیا اور خالی یوسیز میں کورسز کروانےپر مشاورت کی۔(رپورٹ: طاہر اقبال عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہیں میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے یہ سب قراٰن پاک میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے اسی طرح امانت داری کا اطلاق سیاسی و انتظامی، دینی اور دنیاوی امور میں بھی ہے، ہر چھوٹا بڑا عہدہ امانت ہے ،لہذا ہر شخص کا اپنے عہدہ و منصب کے مطابق امانت داری کا خیال کرنا ضروری ہے ۔

‎‎خیانت کسے کہتے ہیں؟ خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا  اسلام کا یا کسی بندہ کا۔(مرآۃ المناجیح جلد 4 صفحہ 62)

خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ176)

قران کریم میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت اور خیانت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،انفال:27)

‎‎اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4 ، آل عمران :161)

‎‎اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔

زیادہ تر ہم خیانت مال کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس مال رکھتے ہیں وہ دوسرے کو دے دیں تو ہم اس کو خیانت کرنے والا کہتے ہیں يقينًا یہ بھی خیانت ہے اور اس کے علاوہ راز کی باتوں ، عزت ، مشورہ وغیرہ میں بھی خیانت ہوتی ہے ۔خیانت کی مختلف صورتیں ہیں جو کہ حدیث پاک میں واضح طور پر بیان کی گئی ہیں :

(1)رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال (غنیمت ) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ۔ (ابو داؤد، حدیث: 2713)

(2) حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا تو وہ گناہگار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔ (مشکاة المصابیح ص 3917)

(3) حضور ﷺ نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری شریف، کتاب الایمان، مجلس برکات، ص 10)

یادرہے کہ جس طرح روپیوں، پیسوں اور مال و سامان کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح باتوں، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت حرام ہے۔بلکہ ہر قسم کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک قراٰنِ کریم میں فرماتا ہے:

‎‎ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ کنزُ الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(پ 5 سورۃ النساء آیت 58)

لہذا ایک کامل مؤمن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیانت پیدا کرنے والے اسباب پر غور کرے اور اس کی درستگی کے لئے کوششیں کرتا رہے۔ جیسے بد نیّتی دھوکہ دہی بری صحبت نفسانی خواہشات کی تکمیل وغیرہ اور ان سب سے بچنے کے لئے ان کُتُبِ اَحادیث کا مطالعہ کرے جن میں ان تمام چیزوں سے متعلق مذمّتیں بیان ہوئی ہیں جیسے باطنی بیماریوں کے بارے میں معلومات، 76 کبیرہ گناہ وغیرہ۔

‎‎الله پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ


اسلام ہمیں حسن اخلاق، عاجزی، تواضع اور ایک دوسرے سے احترام کا درس دیتا ہے ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ کسی کی بات کو نظر انداز کرنا، یا توجہ نہ دینا، نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ یہ دل آزاری کا باعث بھی بنتی ہے۔

اللہ کریم سورہ لقمان آیت 18 میں فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (1)

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایاں ہو اخلاقی اور اسلامی دونوں لحاظ سے قبیح ہے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے۔ خود پسند اور متکبر شخص سمجھتا ہے کہ وہی بہتر ہے، دوسروں کی بات اہم نہیں،بس میری ہی بات درست اور اہم ہوتی ہے۔ ان دونوں کی احادیث مبارکہ میں سخت مذمت آئی ہے۔ چنانچہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔ (2)

اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (3)

نظر انداز کرنا کئی طرح سے ہوسکتا ہے،جیسے بات کو دھیان سے نہ سننا، بات کو کاٹتے رہنا، اچھے کام پر تعریف کی بجائے خاموشی یا تنقید کرنا، درست مشورہ کو بھی نظر انداز کر دینا، دوران گفتگو موبائل یا کسی اور چیز میں مصروف رہنا، بات کو اہمیت نہ دینا، سلام یا بات کا جواب نہ دینا وغیرہ۔

مخاطب کو نظر انداز کرنے کے بے شمار دینی و دنیوی نقصانات بھی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں: دل آزاری اور گناہ کا باعث، رشتوں میں قطع تعلقی، اللہ کی ناراضی، غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا باعث، معاشرتی تعلقات میں کمزوری کا سبب ہے۔

لہٰذا احترام مسلم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چھوٹے ہوں یا بڑے، سب سے عزت و محبت سے گفتگو کیجیے،سامنے والے کی بات سے متفق نہ ہونے کے باوجود اس کو بات مکمل کرنے دیں پھر اپنا موقف بیان کریں۔

جب آپ کسی کو اہمیت دیتے ہیں تو دراصل اپنے اخلاق کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے سامنے والے کو خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنے کے بھی کیا کہنے ہیں۔ چنانچہ فرمان مصطفےﷺ ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ کو زیادہ پیارا، مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔ (4)

اسی طرح کوئی آپ کو نظر انداز کرے تو بد گمان ہونے کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنا اخلاق برقرار رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ اس کے دل میں نرمی پیدا کرے اور اسے ہدایت عطا فرمائے۔

اللہ کریم ہمیں آقا کریم ﷺ کے اخلاق کریمہ کا صدقہ نصیب فرمائے۔ (آمین)

حوالہ جات:

(1) مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً

(2) مسند امام احمد، 9/120، حدیث: 23517

(3) بخاری، 4/117، حدیث: 6065

(4) معجم کبیر، 11/59، حدیث: 11079


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی میں ہر پہلو میں حسن اخلاق، عدل صبر، محبت و احترام کا سبق دیتا ہے۔ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اعلی اخلاق ہیں۔ انسان کا اخلاق اس کے کردار اور اس کے گفتار میں نمایاں ہوتے ہیں۔ انسانی تعلقات کی بنیاد احترام، محبت، توجہ، اخلاق باہمی ہمدردی پر قائم ہوتی ہے اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے ہمیں دوسروں کے ساتھ محبت و احترام،توجہ و نرمی سے پیش انا چاہیے چھوٹا بڑا ہم عمر ہر فرد قابل احترام ہے، لہذا ہر ایک کو اہمیت اور توجہ دی جائے۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے۔ اسلام میں دوسروں کو اہمیت دینا اور ان کے احساسات کا خیال رکھنا اعلیٰ اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گفتگو ہمیشہ نرمی، ادب، احترام اور توجہ کے ساتھ کی جائے۔ کسی کو نظر انداز کرنا، اس کی بات کو اہمیت نہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن آج کے اس تیز ترین دور میں ہر فرد جلدی میں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے لوگ لوگوں کو توجہ نہیں دیتے۔ مصروفیت یا غرور کے باعث دوسروں کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ ایسے رویوں سے دلوں میں دوری اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ لہذا مخاطب کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اسلام میں ایک دوسرے کو عزت، توجہ اور احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

حدیث مبارک کا مفہوم ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو اس کی بات پوری توجہ کے ساتھ سنتے پورا چہرہ مخاطب کی طرف رکھتے اور کبھی درمیان میں رخ نہ موڑتے ہمیشہ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر نرمی اور توجہ کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے۔ آپ کا یہ طرز عمل ہمیں یہ سیکھاتا ہے کے ہمیں مخاطب کو عزت دینی چاہیے اس کی بات توجہ کے ساتھ سننا اور خوش اخلاقی سے جواب دینا ایمان کا تقاضا ہے۔

نقصانات: انسان کو سب سے زیادہ دکھ نظر انداز کیے جانے کا ہوتاہے۔اس سے دوستی رشتے اور اعتماد خراب ہوتا ہے ایک دوسرے کی نظر میں اہمیت کم ہو جاتی ہے۔مخاطب سمجھتا ہے کہ اس کی بات کی شاید کوئی اہمیت نہیں ہے اور بات کا صحیح مقصد بھی واضح نہیں ہوتا مخاطب کو توجہ دینا اخلاق اور تہذیب کا تقاضا ہے لہذا جب کوئی بات کرے تو اس کی طرف رخ کریں سر ہلا کر (ہمم، جی، اچھا) وغیرہ کہہ کر یہ احساس دلائیں کہ آپ سن رہے ہیں درمیان میں بات نہ کا ٹیں بیچ میں بار بار نہ ٹوکیں چہرے پر مثبت اثرات رکھئے کسی سے بات کرتے وقت موبائل میں دیکھنا ادھر ادھر دیکھنا اس طرح کا انداز ہرگز نہ اپنائیں۔

ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر ایک سے محبت اور خلوص و احترام اور توجہ کا مظاہرہ کریں، یہی ایک مومن کی شان ہے۔


خیانت کی تعریف:خیانت امانت کی متضاد ہے۔ خیانت یعنی پوشیدہ طور پر کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

عموماً خیانت کا لفظ مالی امانت میں تصرف پر استعمال ہوتا ہے یعنی کسی شخص نے کسی دوسرے کے پاس امانت کے طور پر مالی چیزیں رکھوائیں اور پھر اس امانت میں اس شخص نے تصرف کیا یا پھر وہ امانت واپس کرنے سے ہی انکار کر دیا تو اسے خیانت کہتے ہیں یقیناً یہ بھی خیانت ہے لیکن شریعت میں امانت کے معنی و مفہوم بہت وسیع ہیں اس حوالے سے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1، ص212)

خیانت کی مختلف صورتیں: احادیث مبارکہ میں خیانت کے کئی انداز بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے ﷺ ہے:

(1) جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔(ابوداؤد،ج3،ص449، حدیث: 3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن(یعنی خیانت کرنے والا)ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1،ص212)

(2)ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا۔(مسلم، ص787، حدیث:4743)

یعنی خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رُسوائی کا باعث ہے خصوصًا جو خیانت زکوۃ وغیرہ میں کی جائے کیونکہ یہ عبادت میں خیانت ہے اور اس میں اللہ کا حق مارنا ہے اور فقیر وں کو ان کے حق سے محروم کرنا۔(مراۃ المناجیح،ج3،ص15)

خیانت سے پناہ:(5) ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہ : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات ص 176)

خیانت کے دو اسباب اور ان کا علاج:(1) خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے۔جس طرح اچھی نیت اخلاق و کردار کے لیےشفاء اور اکسیر کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد کردیتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری حسن نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا میں کامیابی عطافرما نے پر قادر ہےلہٰذا خیانت کرکے دنیوی و اُخروی نقصان کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘

(2) خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیش نظر رکھے کہ دھوکہ دینا ایک نہایت ہی قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے، دھوکہ دینا مومن کی صفت نہیں ہے، دھوکے سے جہاں وقار مجروح ہوتا ہے وہیں لوگوں کا اعتماد بھی ختم ہوجاتا ہےلہٰذا احترامِ مسلم کا ہردم خیال رکھے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ وقتی نفع حاصل کرنے کے لیےدائمی نقصان مول لینا یقیناً عقل مندی نہیں ہے؟


اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاقیات میں بھی انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں عدل، امانت، دیانت، وفا اور صداقت کو سراہا ہے، وہیں خیانت، جھوٹ، ظلم اور بددیانتی جیسے افعال کی سخت مذمت بھی کی ہے۔ خیانت، انسان کے کردار کی پستی اور معاشرتی بگاڑ کی علامت ہے۔

جب ایک معاشرہ خیانت میں مبتلا ہو جائے تو اعتماد، امن اور انصاف جیسی اقدار ختم ہو جاتی ہیں، اور نتیجہ تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں خیانت کو نہ صرف ایک قبیح عمل قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کے مرتکب افراد کو سخت تنبیہ بھی کی گئی ہے۔

ذیل میں خیانت کے حوالہ سے قرآن پاک کی چند آیات پیش خدمت ہیں ۔

(1) خیانت سے ایمان والوں کو روکا گیا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ ( سورۃانفال آیت نمبر 27)

(2) خیانت کرنے والوں کی حمایت سے منع فرمایا: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)‏ترجمہ کنز العرفان:‏اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء آیت نمبر107)

(3) خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلتا :وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)ترجمہ کنز الایمان: اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 52)

(4)خیانت اور ناشکری اللہ کو ناپسند ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)‏ترجمہ کنز العرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔(سورت الحج آیت نمبر 38)

جیسا کہ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ امانتوں کی حفاظت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ خیانت ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خود اس کرنے والے کے لیے عذاب کا باعث بھی بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امانتوں کو اپنی اصل رکھنے والوں کو واپس کرو اور خیانت نہ کرو۔ یہ نصیحت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہر قسم کی بے ایمانی، دھوکہ دہی اور فریب سے دور رہنا چاہیے۔ خیانت سے بچنا انسان کی کردار سازی کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ایک دیانت دار اور امانت دار فرد بن سکے۔ دنیا میں امانت داری سے ہی عزت ملتی ہے اور آخرت میں کامیابی بھی اسی سے جڑی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے افعال پر غور کریں، دل کو صاف رکھیں اور ہمیشہ سچائی اور انصاف کے راستے پر چلیں۔ خیانت نہ صرف معاشرتی زوال کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کی اپنی عزت کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اس لیے قرآن کی تعلیمات کو اپنا کر، ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچتے ہوئے دوسروں کے ساتھ امانت داری و سچائی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم


خیانت کا مطلب ہےامانت، اعتماد یا وعدے کو توڑ دینا، یا کسی پر کیے گئے بھروسے کو دھوکہ دینااسلامی اصطلاح میں خیانت ہر اُس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں کسی کی دی گئی ذمہ داری، امانت، یا اعتماد کو جان بوجھ کر ضائع کیا جائے، چھپایا جائے، یا اس سے انحراف کیا جائےیہ عمل صرف مال یا امانت میں نہیں، بلکہ رشتوں، وعدوں، تعلقات، اعتماد، حتیٰ کہ دین میں بھی ہو سکتا ہے۔مثلاً کسی کی امانت واپس نہ کرنا  ازدواجی تعلق میں بے وفائی کرنا ،وعدہ خلافی کرنا ،جھوٹ بول کر دھوکہ دینا ۔قرآن و حدیث میں خیانت کو منافق کی علامت اور اللہ و رسول سے دشمنی قرار دیا گیا ہے قران پاک میں بھی اللہ پاک نے خیانت کی مذمت فرمائی ہے حدیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنزُ الایمان: اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو اپنے جی سے خیانت کرتے ہیں، بے شک اللہ کو پسند نہیں جو بڑا خیانت کرنے والا، بڑا گناہ گار ہو ۔(النساء:107)

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ترجمہ کنزُ الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(النساء:58)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں

خیانت کرو۔ (انفال:27)

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ خیانت اللہ اور رسول کے ساتھ دغا بازی کے مترادف ہے، اور مومن کو اس سے بچنا لازم ہے ۔حدیث پاک میں بھی خیانت کے بارے میں مذمت ملتی ہیں :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری: حدیث نمبر33 ، صحیح مسلم: حدیث نمبر 59)

یہ حدیث خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیتی ہے، جو کہ نہایت سنگین گناہ ہے۔

ایک اور حدیث خیانت کے بارے میں پیش ہےکہ :لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ترجمہ:"جس شخص میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں؛ اور جو وعدے کا پاس نہیں رکھتا، اس کا کوئی دین نہیں۔( سنن احمد بن حنبل: حدیث نمبر 12567 ، صحیح الجامع الصغیر حدیث نمبر 7179)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ ایمان اور دین کے منافی عمل ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے یقینا حضور کی باتوں پر عمل کرتے ہیں حضور نے خیانت کے بارے میں ہمیں منع فرمایا لہذا ہمیں چاہیے کہ خیانت کرنے سے بچے اور اللہ پاک کی رضا حاصل کرے خیانت کے بارے میں ہمارے بزرگان دین کے بھی واقعات ملتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ:

ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (خلیفہ راشد) کا ایک مشہور واقعہ پیش ہے، جو خیانت سے بچنے، دیانت داری اور امانت کے احترام کی روشن مثال ہے:بیت المال کے چراغ کا قصہ ایک رات حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ حکومتی امور میں مصروف تھے اور بیت المال (سرکاری خزانے) کا چراغ جل رہا تھا۔ اتنے میں اُن کا بیٹا آیا اور کچھ ذاتی بات کرنی چاہی۔آپ نے فوراً چراغ بجھا دیابیٹے نے حیرانی سے پوچھا: ابا جان، آپ نے چراغ کیوں بجھا دیا؟ حضرت عمر نے فرمایا: "یہ چراغ بیت المال کے پیسے سے جل رہا ہے۔ جب میں ذاتی بات کروں گا تو سرکاری مال استعمال کرنا خیانت ہے۔( سیراعلام النبلاء از امام ذہبی، جلد 5، صفحہ 120 ،تاریخ الخلفاء از امام سیوطی، صفحہ 208 )

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سچے اللہ والے خیانت سے کس قدر بچتے تھے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی چیز کیوں ہو یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خیانت صرف بڑی رقم یا مال میں نہیں، چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی ہو سکتی ہے اور اہلِ تقویٰ اس سے کس قدر بچتے تھے آج کا معاشرہ مالی، اخلاقی اور سماجی خیانت کا شکار ہے۔ حکومتی سطح سے لے کر ذاتی تعلقات تک، خیانت نے بگاڑ پیدا کیا ہے۔ اگر اسلامی اصولِ امانت داری کو اپنایا جائے تو معاشرہ عدل، سکون اور بھروسے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔خیانت نہ صرف ایک انفرادی گناہ ہے بلکہ اجتماعی جرم بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر سطح پر دیانت دار ہو۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، اور اس میں خیانت کرنا نہ صرف ایمان کی کمزوری بلکہ اللہ اور رسول سے دغا ہے۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں دیانت، صداقت اور امانت کو اپنائیں تاکہ ہم دنیا میں بااعتماد اور آخرت میں سرخرو ہوسکیں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور سیدھی راہ پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔


دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں "امانت داری" کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، "خیانت" ایک ایسا مذموم عمل اور اخلاقی برائی ہے جس سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ خیانت کا مطلب ہے کسی کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی امانت میں بددیانتی کرنا۔ قرآن مجید میں خیانت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

(1) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنزُالعِرفان:اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(پارہ نمبر 24،سورۃ المئومن،آیت نمبر 19)

(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پارہ نمبر 4،سورۃ ال عمران،آیت نمبر 161)

(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ نمبر 5،سورۃ النساء،آیت نمبر 107)

(4) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

(پارہ نمبر 10،سورۃ الانفال ،آیت نمبر 71)

(5) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔

(پارہ نمبر 12،سورۃیوسف،آیت نمبر 52)

خیانت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک سنگین اخلاقی جرم اور ایمان کے منافی عمل ہے جو فرد کے کردار اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے اسلام انسان کو امانت دیانت اور عدل کا پابند بناتا ہے اور ہر قسم کی خیانت سے سختی سے روکتا ہے کامیابی اسی میں ہے کہ مسلمان ہر حال میں امانت دار رہے حق کا ساتھ دے اور خیانت کے ہر راستے سے خود کو محفوظ رکھے۔


حضورِ اکرم ﷺ کی سیرت کا ایک حسین پہلو یہ ہے کہ آپ نے اللہ کے تمام انبیائے کرام سے بے حد محبت اور احترام فرمایا۔ آپ ﷺ ان کے مقام کو عزت دیتے، ان کا ذکر ادب سے کرتے اور امت کو بھی یہی سکھاتے کہ سارے انبیا اللہ کے نورِ ہدایت کے چراغ ہیں۔

نبی پاک ﷺ نے فرمایا:جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں نہ ستا پھر بھی اگر وہ واپس آئے تو اسے مار دو۔ (ترمذی، 3/157، حدیث:1490)

یہ حضور کی ان ہستیوں سے چاہت اور دل لگی ہی ہے جو دوسروں کو انہیں یاد کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔

اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ہم پر اور عاد کے ہم قوم (حضرت ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ (ابن ماجہ، 4/274، حدیث:3852) یہ حضور کی ان پاکیزہ شخصیات سے خلوص و محبت ہی ہے جو اپنے پیاروں کے لیے دعا کی صورت میں پھوٹتی ہے۔

اسی طرح نبی پاک ﷺ نے فرمایا: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے یہ دعا مانگی: لا الہ الَّا انت سبحانک انی کنتُ من الظالمین اور جب مسلمان اس کے ذریعے اللہ پاک سے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (تاریخ ابن عساکر، 38/45)

یہ حضور کی ان نیک بندوں سے انس و الفت ہی ہے کہ ان کی اداؤں کو اپنانے پر بشارت عطا فرما رہے ہیں۔

ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/27) یہ دلی لگاؤ کی ہی وجہ سے ان کی پسند کو اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید مثالیں:

شب معراج حضور ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کی رائے کے احترام پر بار بار رب سے نماز کم کروانے کے لیے جانا، مناسک حج (سعی اور قربانی) اور دیگر عبادات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد کو جاری و ساری رکھنا، جیسے صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ (ابن ماجہ، 3/531، حدیث:3127)

کچھ مشترکہ صفات یہ ہیں جیسے صوم داؤدی، صوم عاشورہ، درود ابراہیم۔

یوں حضور ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت ہمیں سکھاتی ہے کہ سچے پیار میں ادب، احترام اور یکجہتی ہوتی ہے۔ انبیا کے مقام کا احترام دراصل دین کا احترم ہے۔

اسلام ایک ایسا خوبصورت اور پیارا دین ہے جو ہماری دنیا کے ہر موڑ پر رہنمائی فرماتا ہے اور انسان کو اعلیٰ اخلاق دیانت اور امانت داری کی تعلیم بھی دیتا ہے چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔خیانت بہت بری چیز ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے کیونکہ خیانت کو اختیار کرنا قرآنی فیصلے کے برخلاف ہے اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔

تو آئیے جانتے ہیں کہ قرآن پاک ہماری اس بارے میں کیا رہنمائی فرماتا ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان : بے شک دغا والے اللہ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کا عمل اللہ کی ناراضی کا باعث بنتا ہے ۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ انفال آیت نمبر 27)

اگر ہم ایک پرامن بااعتماد اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں فرداً فرداً خیانت سے توبہ کرتے ہوئے امانت سچائی اور دیانت کو اپنانا ہوگا قرآن اور سنت ہمیں امانت دار بننے کا حکم دیتے ہیں اور یہی فلاح کی راستہ اور مذکورہ تمام آیات بھی اسی بات پر دلیل ییں کہ تم امانت کے میں خیانت نہ کرو اور بیشک وہ شخص کامیاب ہے جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور خیانت کو ترک کرنے امانت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔