اسلام ہمیں حسن اخلاق، عاجزی، تواضع اور ایک دوسرے سے احترام کا درس دیتا ہے ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ کسی کی بات کو نظر انداز کرنا، یا توجہ نہ دینا، نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ یہ دل آزاری کا باعث بھی بنتی ہے۔

اللہ کریم سورہ لقمان آیت 18 میں فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (1)

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایاں ہو اخلاقی اور اسلامی دونوں لحاظ سے قبیح ہے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے۔ خود پسند اور متکبر شخص سمجھتا ہے کہ وہی بہتر ہے، دوسروں کی بات اہم نہیں،بس میری ہی بات درست اور اہم ہوتی ہے۔ ان دونوں کی احادیث مبارکہ میں سخت مذمت آئی ہے۔ چنانچہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔ (2)

اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (3)

نظر انداز کرنا کئی طرح سے ہوسکتا ہے،جیسے بات کو دھیان سے نہ سننا، بات کو کاٹتے رہنا، اچھے کام پر تعریف کی بجائے خاموشی یا تنقید کرنا، درست مشورہ کو بھی نظر انداز کر دینا، دوران گفتگو موبائل یا کسی اور چیز میں مصروف رہنا، بات کو اہمیت نہ دینا، سلام یا بات کا جواب نہ دینا وغیرہ۔

مخاطب کو نظر انداز کرنے کے بے شمار دینی و دنیوی نقصانات بھی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں: دل آزاری اور گناہ کا باعث، رشتوں میں قطع تعلقی، اللہ کی ناراضی، غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا باعث، معاشرتی تعلقات میں کمزوری کا سبب ہے۔

لہٰذا احترام مسلم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چھوٹے ہوں یا بڑے، سب سے عزت و محبت سے گفتگو کیجیے،سامنے والے کی بات سے متفق نہ ہونے کے باوجود اس کو بات مکمل کرنے دیں پھر اپنا موقف بیان کریں۔

جب آپ کسی کو اہمیت دیتے ہیں تو دراصل اپنے اخلاق کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے سامنے والے کو خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنے کے بھی کیا کہنے ہیں۔ چنانچہ فرمان مصطفےﷺ ہے: فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ کو زیادہ پیارا، مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔ (4)

اسی طرح کوئی آپ کو نظر انداز کرے تو بد گمان ہونے کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنا اخلاق برقرار رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ اس کے دل میں نرمی پیدا کرے اور اسے ہدایت عطا فرمائے۔

اللہ کریم ہمیں آقا کریم ﷺ کے اخلاق کریمہ کا صدقہ نصیب فرمائے۔ (آمین)

حوالہ جات:

(1) مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً

(2) مسند امام احمد، 9/120، حدیث: 23517

(3) بخاری، 4/117، حدیث: 6065

(4) معجم کبیر، 11/59، حدیث: 11079