اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی میں ہر پہلو میں حسن اخلاق، عدل صبر، محبت و
احترام کا سبق دیتا ہے۔ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اعلی اخلاق ہیں۔ انسان کا
اخلاق اس کے کردار اور اس کے گفتار میں نمایاں ہوتے ہیں۔ انسانی تعلقات کی بنیاد
احترام، محبت، توجہ، اخلاق باہمی ہمدردی پر قائم ہوتی ہے اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے
ہمیں دوسروں کے ساتھ محبت و احترام،توجہ و نرمی سے پیش انا چاہیے چھوٹا بڑا ہم عمر
ہر فرد قابل احترام ہے، لہذا ہر ایک کو اہمیت اور توجہ دی جائے۔ ہمیں دوسروں کے
ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے۔ اسلام میں دوسروں کو
اہمیت دینا اور ان کے احساسات کا خیال رکھنا اعلیٰ اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ
83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گفتگو ہمیشہ
نرمی، ادب، احترام اور توجہ کے ساتھ کی جائے۔ کسی کو نظر انداز کرنا، اس کی بات کو
اہمیت نہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لیکن آج کے اس تیز ترین دور میں ہر فرد
جلدی میں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے لوگ لوگوں کو توجہ نہیں دیتے۔ مصروفیت یا غرور
کے باعث دوسروں کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ ایسے رویوں سے دلوں میں دوری اور نفرت
پیدا ہو جاتی ہے۔ لہذا مخاطب کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اسلام میں ایک دوسرے
کو عزت، توجہ اور احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
حدیث مبارک کا
مفہوم ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا نہ
اسے حقیر سمجھتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ کا
یہ معمول تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو اس کی بات پوری توجہ کے ساتھ سنتے پورا چہرہ
مخاطب کی طرف رکھتے اور کبھی درمیان میں رخ نہ موڑتے ہمیشہ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا
کر نرمی اور توجہ کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے۔ آپ کا یہ طرز عمل ہمیں یہ
سیکھاتا ہے کے ہمیں مخاطب کو عزت دینی چاہیے اس کی بات توجہ کے ساتھ سننا اور خوش اخلاقی
سے جواب دینا ایمان کا تقاضا ہے۔
نقصانات:
انسان
کو سب سے زیادہ دکھ نظر انداز کیے جانے کا ہوتاہے۔اس سے دوستی رشتے اور اعتماد
خراب ہوتا ہے ایک دوسرے کی نظر میں اہمیت کم ہو جاتی ہے۔مخاطب سمجھتا ہے کہ اس کی
بات کی شاید کوئی اہمیت نہیں ہے اور بات کا صحیح مقصد بھی واضح نہیں ہوتا مخاطب کو
توجہ دینا اخلاق اور تہذیب کا تقاضا ہے لہذا جب کوئی بات کرے تو اس کی طرف رخ کریں
سر ہلا کر (ہمم، جی، اچھا) وغیرہ کہہ کر
یہ احساس دلائیں کہ آپ سن رہے ہیں درمیان میں بات نہ کا ٹیں بیچ میں بار بار نہ
ٹوکیں چہرے پر مثبت اثرات رکھئے کسی سے بات کرتے وقت موبائل میں دیکھنا ادھر ادھر
دیکھنا اس طرح کا انداز ہرگز نہ اپنائیں۔
ہمیں چاہیے کہ
رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر ایک سے محبت اور خلوص و احترام اور توجہ
کا مظاہرہ کریں، یہی ایک مومن کی شان ہے۔
Dawateislami