انسانی دل کی اہم ترین خواہش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کو سمجھے اس کی بات توجہ سے سنے یہ تبھی ہوگا جب متکلم خود مخاطب کی بات بغور سنے، یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ہم خواہش رکھیں کہ دوسرے تو ہماری باتیں توجہ سے سنیں لیکن ہم ان کی باتیں سنتے وقت بے توجہی کا مظاہرہ کریں لوگ اس وقت تک اپنا راز کسی کے سامنے نہیں کھولتے جب تک انہیں حقیقی توجہ اور پیار نہ ملے۔ اگر انہیں یہ چیزیں مل جائیں تو وہ توقع سے زیادہ باتیں بتانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اگر کوئی شخص ہماری بات سننے یا سمجھنے کی بالکل کوشش نہیں کرتا تو ہم ا س پر کبھی اپناراز نہیں کھولیں گے۔

دوسرے کی بات کبھی کاٹیں نہیں۔ بہترین گفتگو کرنے والے کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ پہلے دوسرے کی بات بہ غور سنتا ہے مخاطب کو ہمہ تن گوش ہو کر سنا جائے، یہ سننا انہیں محض جواب دینے، قائل کرنے، اپنی بات منوانے یا ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ انہیں سمجھنے کے لئے سنیں کہ وہ حقیقت میں کہنا کیا چاہتا ہے! ہم عموماً دوسرے کی پوری بات سنے بغیرکہ وہ اصل میں کہناکیا چاہتا ہے فوراً ہی اپنے نکتہ نظرسے معاملے کو دیکھتے ہوئے کوئی حل تجویز کر دیتے ہیں دراصل ہم میں چیزوں پر جھپٹ پڑنے کی اور انہیں نصیحت سے درست کر دینے کی بہت تیزی ہوتی ہے ہم مسئلے کو پہلے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے محض سرسری انداز میں بات کو سنتے ہوئے یا کسی مسئلے کا سطحی ساجائزہ لیتے ہوئے بغیر غوروفکر کے فوری طور پر اپنی رائے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ چیز ہماری اثر انگیزی کو بہت محدود کر دیتی ہے اور دوسروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے!

مخاطب کی بات نہایت توجہ سے سننی چاہئے اسی طرح اگر کسی کو بولنے میں کوئی مشکل ہو یا وہ صحیح طرح نہ بول سکے تو اس پر ہنسنا نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کی نقل اتارنی چاہئے، یہ بہت بری بات ہے۔جب بھی بات کرو شائستہ اور مہذب گفتگو کرو اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں دوران گفتگو دوسرے کو بات کرنے کا زیادہ موقع دیا جائے۔ اس طرح وہ اپنی اہمیت کو محسوس کرے گا۔ آپ کو ہمہ تن گوش پاکر خوش ہوگا اور آپ کی بات بھی توجہ سے سنے گا۔ اگر داعی ہی بولتا جائے اور مخاطب کو موقع نہ دے تو سننے والا بوریت محسوس کرے گا اس طرح اچھی بات کی قبولیت کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔آداب گفتگو کا یہ تقاضہ ہے کہ بندہ عمدہ اور بہترین الفاظ کا انتخاب کرے، شیریں بیانی اور حلاوت لسانی کا اہتمام کرے۔ واضح رہے کہ الفاظ کے انتخاب میں حد درجہ احتیاط کرنا چاہئے، کیوں کہ یہ بڑا ہی نازک اور حساس معاملہ ہوتا ہے، زبان و بیان کی ذرا سی غلطی، تعبیر کی خامی، الفاظ کا سوئے انتخاب مخاطب کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں، بسا اوقات انسان اندازہ نہیں لگا پاتا اور اس کی زبان سے نکلنے والا کوئی کلمہ یا جملہ مدتوں مخاطب کو بیقرار رکھتا ہے۔

الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتیں کیونکہ الفاظ بے جان نہیں ہوتے ہیں ان میں روح اور زندگی ہوتی ہے۔ گفتگو کے آداب کو اپنا کر شخصیت کو سنواریں اور پروقار شخصیت کے مالک بنیں!


گفتگو کے آداب میں سے ایک اہم ادب مخاطب کی گفتگو کو توجہ سے سننا ہے، یاد رکھیں! انسان کی فطری خواہش میں سے ہے کہ لوگوں کی بات کو اہمیت دی جائے، اسے توجہ سے سنا جائے، گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، اور یہ مخاطب کی حق تلفی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

قرآن پاک کی تعلیمات اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی آیات اور احادیث میں انسان کو گفتگو کے آداب سکھائے گئے ہیں جن میں سے ایک ادب مخاطب کو نظر انداز نہ کرنا بھی ہے۔ جیساکہ پارہ21 سورۃ لقمان آیت 18 میں ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔

حضرت علامہ سید نعیم الدّین مرا د آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا متکبّرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علّامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام اور ملاقات کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصّہ چھپائیے، متکبّرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقرا و مساکین کو غصّے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)

اسی طرح اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث پاک میں بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)

ترغیب کے لئے یہاں لوگوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سیّد المرسلین ﷺ کی سیرت کے چند پہلو ملاحظہ ہوں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تاجدار رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے اور ان سے نفرت نہ کرتے تھے۔آپ ہر قوم کے با اخلاق فرد کی عزت فرماتے اور اسے اس کی قوم پر حاکم مقرر کر دیتے تھے۔ (بداخلاق) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے،ان سے احتراز فرماتے، نہ یہ کہ ان سے منہ پھیر لیں اور بد اخلاقی سے پیش آئیں۔آپ کی بارگاہ میں حاضر کوئی شخص یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی اور بھی اس سے بڑھ کرآپ کے نزدیک عزت والا ہے۔جو شخص بھی آپ کےپاس بیٹھتا یا کسی ضرورت سے زیادہ قریب ہو تا تو آپ صبر فرماتے یہاں تک کہ وہ شخص خود ہی اٹھ کر چلا جاتا۔جو شخص بھی اپنی حاجت کے لئے آپ سے سوال کرتا تو اسے دے کر بھیجتے یا اس سے نرم بات کرتے۔غرض یہ کہ آپ کا اخلاق اس قدر وسیع تھا کہ وہ تمام لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ (الشفا، 1/120)

نیز سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ جب سیّد العالمین ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے تواپنے دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف تو جہ فرماتے اور سب کی درخواستوں کو سن کر ان کی حاجت روائی فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے اوراس دوران تمام حاضرین کمال ادب سے سر جھکائے رہتے تھے۔آپ کے دربار میں آنے والوں کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی، امیر و فقیر، شہری اور دیہاتی سب قسم کے لوگ حاضر دربار ہوتے اور اپنے اپنے لہجوں میں سوال و جواب کرتے۔کوئی شخص اگر بولتا تو خواہ وہ کتنا ہی غریب و مسکین کیوں نہ ہو مگر دوسرا شخص اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا امیر کبیر ہو اس کی بات کاٹ کر بول نہیں سکتا تھا۔جو لوگ سوال و جواب میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے تو آپ کمال حلم سے برداشت فرماتے اور سب کو مسائل اور اسلامی احکام کی تعلیم و تلقین اوروعظ ونصیحت فرماتے رہتے۔حضور پرنور ﷺ قبائل سے آنے والے وفدوں کے استقبال، اوران کی ملاقات کا خاص طورپر اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ

ہر وفد کے آنے پر آپ نہایت ہی عمدہ پوشاک زیب تن فرما کر کاشانۂ اقدس سے نکلتے اور اپنے خصوصی اصحاب رضی اللہ عنہم کو بھی حکم دیتے تھے کہ بہترین لباس پہن کر آئیں،پھر ان مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے اور ان لوگوں کی مہمان نوازی اور خاطر مدارات کا خاص طورپرخیال فرماتے تھے اور ان مہمانوں سے ملاقات کے لئے مسجد نبوی میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے،پھر ہر ایک وفد سے نہایت ہی خوش روئی اور خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے اور پھر ان کو ضروری عقائد و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے اور ہر وفد کو ان کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ نقد یا سامان بھی تحائف اور انعامات کے طور پر عطا فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کو حقیر جاننے اور ان سے حقارت آمیز سلوک کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نظر انداز کرنے کی وجوہات: کوئی بھی عیب یا مرض اپنے اندر سے دور کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی وجہ جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس کی وجہ جان کر اس کا احسن انداز میں علاج کیا جاسکے۔

نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے جس سے بچنا ہر انسان کے لیے نہایت ضروری ہے، قرآن کریم اور کئی احادیث مبارکہ میں خود پسندی اور تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہیں جیساکہ اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا اللہ کی ناراضی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)

متکبرین کے متعلق رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

اسی طرح حدیث پاک میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (ترمذی، 2/221، حدیث:2500)

تکبر کی ایک صورت: تکبر کی اقسام میں سے ایک قسم بندوں کے مقابلہ میں تکبر ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تکبر کرنا، وہ اس طرح کہ اہنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اور اور مساوات یعنی باہم برابری کو ناپسند کرنا یہ صورت حرام ہے اور اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہ حقیقی ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجز اور کمزور بندے کے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 278)

عجب و تکبّر اور بچا حب جاہ سے آئے نہ پاس تک ریا یا رب مصطفٰے

نظر انداز کرنے کے دینی و دنیاوی نقصانات:

1)کسی کو نظر انداز کرنا اللہ پاک کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔

2) اپنے کسی مسلمان بھائی کو نظر انداز کرنا اس کی حق تلفی کا سبب ہے اور مسلمان کی حق تلفی کرنا گناہ کا کام ہے۔

3) مخاطب کی طرف توجہ نہ دینا اسے نظر انداز کرنا دنیا اور آخرت کی ناکامی کا ذریعہ ہے۔

4)نظر انداز کرنے سے آپس میں دشمنی ہوجاتی ہے۔

5) اس سے بعض اوقات رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔

6) لوگوں سے سیدھے منہ بات نہ کرنا لوگوں کی نظروں میں اس کی اہمیت کو گرا دیتا ہے اور یوں یہ انسان کے لیے ذلت کاباعث ہے۔

7) ایسے شخص کو معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی اور یہ اس کے لیے انتہائی افسوس ناک بات ہے۔

پیارےآقا ﷺ کی گفتگو کا مبارک انداز: پیارے آقا ﷺ بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے آپ کا کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا کہ سننے والا اسے سمجھ کر یاد کرلیتا تھا آپ ہر ایک کی بات نہایت توجہ کے ساتھ سنتے کسی کو نظر انداز نہیں کرتے اور نہ ہی منہ موڑتے اگر کوئی اہم بات ہوتی تو اس بات کو تین تین بار دہراتے۔

خواب میں آکرکے کچھ شیریں کلام میٹھے میٹھے مصطفیٰ فرمائیے

اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ کی گفتگو کا انداز اپنانے، گفتگو کے آداب سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لوگوں کو اہمیت دینے ان کی بات توجہ سے سننے کا سلیقہ اور نظر انداز جیسی بری آفت سے ہماری حفاظت فرمائے۔

ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام کی تعلیمات بہترین تعلیمات ہیں۔ دین اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب ہم کسی سے بات کریں تو مکمل توجہ سے کریں۔ حضور ﷺ بھی جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ مخاطب یا سامع کی طرف مبذول فرماتے تھے۔ معاشرے کی خوبصورتی حسن سلوک میں ہے اور یہ حسن سلوک ہی کی ایک صورت ہے کہ مخاطب آپ کے سامنے خود کو اہم سمجھے۔ لہٰذا یہی اچھے اخلاق کا تقاضہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ 5، النساء:86) ترجمہ کنز الایمان: اور جب تمہیں کوئی کسی طرح سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو یا وہی لوٹا دو۔

اگر مخاطب سننے کے دوران اکتاہٹ کا شکار لگے تو بہترین جملے بھی اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ دوسروں کی بات توجہ سے سننے سے تعلقات میں محبت، اعتماد اور احترام پیدا ہوتا ہے، جبکہ نظرانداز کرنے سے بدگمانی اور غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، اور تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔

عصر حاضر میں موبائل اور سوشل میڈیا کے کثرت استعمال کی وجہ سے لوگ عموماً دوسرے کی بات موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر نہیں سنتے۔ دوسرے کی بات توجہ سے سننا، مخاطب اور سامع دونوں کی سننے اور بولنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ کوئی شخص جتنی توجہ سے کسی کی بات سنے گا، اگلی مرتبہ مخاطب اس سے پہلے سے بہتر اور اچھی گفتگو کرنے کا خواہش مند خود کو پائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک بادشاہ کامیابی کے راز کی تلاش میں تھا، اور اس کے نزدیک کامیابی کا راز ان تین سوالوں میں پوشیدہ تھا: سب سے اہم وقت کون سا ہے؟ سب سے اہم کام کون سا ہے؟ اور سب سے اہم انسان کون ہے؟ بادشاہ نے اپنے تمام وزیروں، درباریوں اور ملک کے فاضل و دانشمند لوگوں کو بلا کر یہ سوال پوچھا، مگر کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ اس نے پانچ ہزار سونے کے سکوں کے انعام کا اعلان بھی کیا، لیکن پھر بھی اطمینان بخش جواب نہ ملا۔

بادشاہ نے سنا تھا کہ دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر ایک صوفی درویش رہتا ہے جو ہر سوال کا جواب جانتا ہے، مگر وہ دولت مند لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ بہت سوچ بچار کے بعد بادشاہ نے ایک غریب کے لبادے میں خود کو چھپایا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے اپنے ملازمین کو پیچھے رہنے کا حکم دیا اور اکیلا درویش کی جھونپڑی کی طرف جا پہنچا۔

درویش اس وقت جھونپڑی کے باہر زمین کھود رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کے سامنے حاضری دی اور اپنے تینوں سوالات پیش کیے، مگر درویش نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے زمین کھودنے میں مصروف رہا۔ شام ہو گئی، اور درویش کی سانس پھول چکی تھی۔ بادشاہ کے اصرار پر درویش نے پھاوڑا بادشاہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ بادشاہ زمین کھودنے لگا اور ساتھ ہی اپنے سوالات دہراتا رہا، لیکن درویش خاموش رہا۔

اسی دوران درویش نے ایک سمت اشارہ کیا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ ایک زخمی شخص خنجر لیے اس کی طرف دوڑتا آ رہا ہے، مگر قریب پہنچ کر گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا۔ بادشاہ فوراً اسے اٹھا کر جھونپڑی میں لے آیا، زخموں پر پٹیاں کیں، اور وہ شخص سو گیا۔ درویش کے کہنے پر بادشاہ نے رات وہیں گزاری۔

صبح ہوئی تو بادشاہ نے زخمی شخص کی حالت دریافت کی۔ اس نے کہا: میں اب ٹھیک ہوں، اور مجھے معاف کر دیں۔ میں آپ کو قتل کرنے آیا تھا کیونکہ آپ نے میرے بھائی کو مروا دیا تھا۔ میں آپ کی تاک میں تھا، مگر جب آپ کے ٹھکانے کا پتہ چلا تو یہاں آیا۔ آپ کے ملازمین نے مجھے زخمی کیا، لیکن میں کسی طرح بچ نکلا۔ اگر آپ نے میری مرہم پٹی نہ کی ہوتی تو میں مر چکا ہوتا۔ اب میں آپ کا شکر گزار ہوں، اور چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے وفادار غلاموں میں شامل کر لیں۔

اس کے جانے کے بعد بادشاہ نے درویش سے دوبارہ سوال کیا کہ میرے سوالوں کے جوابات کیا ہیں؟

درویش نے مسکرا کر کہا: تمہارے سوالوں کے جوابات تو تمہیں مل چکے ہیں۔ سب سے اہم وقت وہ تھا جب تم میری مدد کر رہے تھے۔ سب سے اہم انسان وہ زخمی آدمی تھا، اور سب سے اہم کام اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرنا تھا۔ اگر تم ایسا نہ کرتے تو ایک دشمن کو دوست بنانے کا موقع کھو دیتے۔

یعنی؛ سب سے اہم وقت حال کا لمحہ ہے، سب سے اہم کام وہ ہے جو ہم اس وقت کر رہے ہیں اور سب سے اہم انسان وہ ہے جو اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مخاطب کو نظرانداز کرکے ہم ان اہمیتوں سے محروم نہ ہوں، کیونکہ کامیابی، محبت اور تعلقات کی اصل بنیاد توجہ اور حسن سلوک ہی ہے جو انسان کو صاحب کردار بنانے کے راستوں کی طرف گامزن کرتی ہے۔

اکثر اوقات دل ایک لمحہ کی توجہ سے جیتے جاتے ہیں! متكلمين وسامعين! یاد رکھئے کہ گفتگو صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ دلوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ مخاطب کو اہمیت دینا اسکی بات کو توجہ سے سننا اور اسکے احساسات کا احترام کرنا اسلامی اخلاق کا روشن نمونہ ہے کہ انسان جب خود کو قابل توجہ محسوس کرتا ہے تو دل کھلتا ہے، محبت بڑھتی ہے، اور تعلق مضبوط ہوتا ہے اسيطرح مخاطب بھی ان تمام حسين احساسات کا امیدوار ہوتا ہے کہ اگر مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین کی اشاعت وتبليغ و تدریج کس طرح ممكن ہوگی ؟ جو کہ سنت انبيا و صحابہ واولیاء الله ہے۔

لہذا متکلم ومبلغ کو چاہیے کہ وہ مخاطب کے فکری، علمی اور ذہنی پس منظر کو سمجھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں اس اصول کی کامل مثال فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے ہر فرد، قوم یا قبیلے کو اس کے مزاج، علمی درجے اور ذہنی افق کے مطابق دعوت دی۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں حکمت عملی کی بےشمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر زنا کی اجازت طلب کرتا ہے۔ صحابۂ کرام اسے جھڑکنے لگے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا، نرمی سے سوالات کیے:کیا تو یہ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے لیے پسند کرے گا؟ نوجوان نے ہر بار نہیں کہا، تو آپ نے فرمایا:تو بھی دوسروں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (2)

یہ اسلوب نفسیاتی اور ذہنی درجہ فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔ (3)

مبلغ کا شخصی کردار مدعو کے ذہنی رویوں کو بدلنے میں اہم رول ادا کرتا ہے، کیونکہ دعوت دین یا دعوت عمل دونوں ہی گویا کردار سازی کرنا ہے؛ مبلغ کا کردار ہی مدعو کےلیے نمونہ نہیں ہوگا تو اس کی دعوت بے فیض اور رسمی ہوکر رہ جائے گی۔

مخاطب کو حق پر لانے میں، داعی کا یہ خیال ہونا چاہئے کہ مخاطب کو کمتر نہ سمجھے بلکہ عاجزی اور احترام کے ساتھ معاملہ کرے، کیونکہ تکبر دعوتی کام میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لہذا ہمیں ان تمام ظاہری و باطنی اسباب جیسے تکبر حسد ریاکاری، حب جاہ ومدح و خود پسندی جیسی سنگین بیماریوں کی طرف غور کرنا چاہیے کہ کہیں یہ سب اسباب کسی کو نظر انداز کرنے اور توجہ نہ دینے اور دین کی تبلیغ میں رکاوٹ کا سبب تو نہیں بن رہے اگر ایسا ہے تو ہمیں ان اسباب سے خلاصی حاصل کرنے کیلئے ہمیں چاہیے کہ خوب علم دین حاصل کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں اور خوب دعائیں کریں۔

الله كريم سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی تبلیغ و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاه خاتم النبیین ﷺ

حوالہ جات:

(1) پ14،النحل: 125

(2)مسند امام احمد،8/285، حدیث:22274

(3) ماہنامہ فیضان مدینہ، اکتوبر 2025، تبلیغ دین میں رسول اللهﷺ کی حکمت عملیاں

انسان کی فطری خواہش میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنا جائے، گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے قرآن کریم میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو فرمائی چنانچہ فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت مبار کہ سے گفتگو کرنے کا انداز صاف جھلک رہا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو حقیر جانتے ہوئے اس کی طرف سے رخ پھیرنا متکبرین کا طریقہ ہے لہذا گفتگو کے آداب میں سے ہے کہ مخاطب کی بات کو خوب توجہ سے سنے اور صرف اپنی ہی نہ کہتا چلا جائے زبان سامنے والے کے منہ میں بھی ہے، یہ پیش نظر رکھئے اور اس کی بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔

نظر انداز کرنے کی مثالیں: بات توجہ سے نہ سننا، بات کاٹ کر اپنی بات شروع کردینا، ا چھا کام کرنے پر سراہنے کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا، درست مشورہ قبول نہ کرنا، اپنی غلط رائے کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔

نظر انداز کرنے کی وجوہات اور ان کا حل: نظر انداز کر نے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی ہے لہذا خود پسندی تکبر اور دوسروں کو حقیر جاننے جیسی بری صفات سے بچے اور حدیث مبارکہ میں موجود ان کی مذمت کو پیش نظر رکھے، چنانچہ الله کے محبوب ﷺ کا فرمان ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا الله کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا الله کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔(شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)

سیرت کے پہلوؤں کو بھی پیش نظر رکھے اور دوسروں کو خود کمتر خیال کرنے سے بچنے کا ذہن بنائے۔ ترغیب کے لئے یہاں لوگوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سید المرسلین ﷺ کی سیرت کے چند پہلو ملاحظہ ہوں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: تاجدار رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے اور ان سے نفرت نہ کرتے تھے۔ آپ ہر قوم کے با اخلاق فرد کی عزت فرماتے اور اسے اس کی قوم پر حاکم مقرر کر دیتے تھے۔ (بداخلاق) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے، ان سے احتراز فرماتے، نہ یہ کہ ان سے منہ پھیر لیں اور بد اخلاقی سے پیش آئیں۔ آپ کی بارگاہ میں حاضر کوئی شخص یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی اور بھی اس سے بڑھ کر آپ کے نزدیک عزت والا ہے۔ جو شخص بھی آپ کے پاس بیٹھتا یا کسی ضرورت سے زیادہ قریب ہوتا تو آپ صبر فرماتے یہاں تک کہ وہ شخص خود ہی اٹھ کر چلا جاتا۔ جو شخص بھی اپنی حاجت کے لئے آپ سے سوال کرتا تو اسے دے کر بھیجتے یا اس سے نرم بات کرتے۔ غرض یہ کہ آپ کا اخلاق اس قدر وسیع تھا کہ وہ تمام لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ (الشفا، 1/120)

نظر انداز کرنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات: اپنے دلی حسد یا تکبر کی بنا پر اپنے سے کم درجہ شخص کی بات کو اہمیت نہ دینا اللہ اور اس کےرسول کی ناراضگی کا باعث ہے اور جب دوسروں کو ترجیح نہیں دی جائیگی تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس کی بھی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہوگا اور لوگوں کی نظر میں اس کی کوئی عزت نہ ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مخاطب کی بات توجہ سے سننا حقوق العباد میں سے ہے لہذا حق عبد ضائع کر نے اور مسلمان کی دل آزاری کرنے کا وبال لازم آئے گا۔

اگر کوئی ہمیں نظر انداز کرے تو کیا کریں؟ جس جگہ آپ کی عزت نہ ہو بات کو اہمیت نہ دی جائے وہاں سے اٹھ جائیں وہ آپ کا مقام ہی نہیں اور دوبارہ اس جگہ نہیں جانا چاہیے۔

ہاں اگر کوئی نیکی کی دعوت دیتے ہوئے نظر انداز کیا جائے اور اس کی دعوت کو قبول نہ کرے تو مبلغ کو چاہیے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے اور اللہ پاک پر توکل کرے اور یہ یاد رکھے کہ وہ کس نبی ﷺ کا امتی ہے انہوں نے نیکی کی دعوت کو پھیلانے کیلئے کس قدر تکالیف کا سامنا کیا لیکن پھر بھی مد مقابل سے ہمیشہ درگزر فرمایا۔

اللہ پاک ہمیں حضور ﷺ کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


انسان کی فطری خواہشات میں سےہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اسکی بات کو توجہ سے سنا جائے بات کرنے والےکو نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے یہ بات اسلامی تعلیمات کے خلاف ہےہمیں اس طرح مخاطب کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے نظر انداز کرنا صرف یہ ہی نہیں کہ اس کی بات کو اہمیت نہ دینا بلکہ اس کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

کسی کی بات کو اچھی طرح نہ سننا، اچھےکام پر حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرناہے، اگر وہ کسی بھی قسم کا مشورہ دے تو قبول نہ کرنا، اسکی عزت نفس کاخیال نہ رکھنا

خودپسندی کی وجہ سے بات نہ سننا وغیرہ۔

کسی کونظرانداز کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص خودپسندی کا شکار ہے لہذا تکبر،انا،حسد،وغیرہ کی وجہ سے بھی دوسروں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

نظر انداز کرنے کےبارے میں مذمت:

قران پاک میں سورت لقمان میں ارشاد ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر) یہاں سے حضرت لقمان کی وہ نصیحت ذکر کی گئی ہے کہ جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالےسے فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے! جب آدمی بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کران کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا بے شک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والاکوئی بھی شخص اللہ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/ 471ملتقطا)

اکڑ کی وجہ سے نظر انداز کرنے کی مذمت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑ کر چلتا ہے وہ اللہ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (مسند امام احمد، 2/461، حدیث:6002)

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہویا غریب اسےحقیر نہیں جاننا چاہیے اور اچھے انداز میں اس سے بات کرنی چاہیے کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا تکبر کی علامت ہے ان وجوہات کی بنا پر اسے نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے۔

ذاتی کمال پر فخر کرنے وعید: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہےجیسے حسن،خوش آوازی،نسب اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال ہے جیسےنوکر،مال وغیرہ۔

ان تمام چیزوں کی وجہ سےکسی کم درجے والے کو نظرانداز کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ چیزیں رب کی عطا کی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہے لے لے، تاجدارِ رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے ان سے نفرت نہ کرتے۔

خودپسندی کی وجہ سے لوگوں کو نظرانداز کرنے کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) (پ 27، النجم: 32) ترجمہ: تو اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔

حدیث پاک میں ہے: گناہوں پرنادم ہونےوالا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خودپسندی کرنے والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)

اللہ سے اس بری عادت سے بچنے کی کوشش کے لیے دعا گو رہنا چاہیے۔

مخاطب سے گفتگو کرنا ایک فن ہے جو کہ ہر کسی کو آتا نہیں ہے۔ اگر آپ مخاطب سے صحیح طریقے سے گفتگو کریں گے تو آپ مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں لیکن جب آپ مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ اسے اہمیت نہیں دے رہے۔ قرآن شریف میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

مخاطب کو نظر انداز کرنے کے نقصانات:

1۔ بےعزتی: جب آپ مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کی عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔

2۔ تعلقات میں بگاڑ: مخاطب کو نظر انداز کرنے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ مخاطب آپ سے دور ہو جاتا ہے اور آپ کے ساتھ بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔

3۔ حوصلہ شکنی: مخاطب کو نظر انداز کرنے سے اس کی خود اعتمادی کم ہوتی ہے۔ مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی قابل نہیں ہے۔

4۔ قلبی بیزاری: مخاطب کو نظر انداز کرنے سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مخاطب آپ سے نفرت کرنے لگتا ہے اور آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔

مخاطب کو نظر انداز نہ کرنے کے طریقے: مخاطب کی بات کو سننے کی کوشش کریں اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔مخاطب کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اس کی عزت کریں۔ مخاطب کی بات کو رد نہ کریں بلکہ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس پر اپنی رائے دیں۔ مخاطب کے ساتھ گفتگو میں صبر کریں اور اس کی بات کو سننے کی کوشش کریں۔


انسان کی سب سے حساس جگہ دل ہے اور دل کو زخمی کرنے کے ہزار طریقوں میں سے

سب سے خاموش مگر سب سے تیز وار کسی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اکثر اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی برا لفظ نہیں کہا کوئی سخت جملہ نہیں بولا لہٰذا ہم نے کسی کا دل نہیں توڑا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی بار لفظوں سے زیادہ خاموشی نقصان کرتی ہے۔ کسی کو مفہوم دے دینا کہ وہ اہم نہیں اس کی بات کی قدر نہیں اس کی موجودگی معنی نہیں رکھتی یہ بھی دل آزاری کی شدید شکلوں میں سے ایک ہے۔ اسی لئے دین اسلام میں انسان کے احترام، اس کی عزت، اس کے احساسات اور اس کی توجہ کی قیمت مقرر ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں مسلمان کے ساتھ حسن سلوک، نرم روی اور عزت دینے پر بار بار تاکید ملتی ہے۔

اسی بنیاد پر مخاطب کو نظر انداز کرنا صرف اخلاقی غلطی نہیں بلکہ ایک ایمان related چیز ہے۔ اور اسی حقیقت کو مضبوط کرنے کیلئے ہمارے سامنے ایک حدیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)

کسی کو نظر انداز کرنا لفظوں کی چوٹ سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے، کسی کی کسی کی گفتگو، درد، پیغام، احساس یا موجودگی کو ignore کرنا اسے یہ feel کروانا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ عزت احساس اور توجہ کے ساتھ پیش آئے۔ لہذا مخاطب کو اگنور کرنا بھی اس کے دل کی تکلیف میں شامل ہے اور یہ بھی ایذا کی ایک شکل ہے اس لیے جب کوئی آپ سے بات کرے تو present رہیں، توجہ دیں، آگے سے جواب دیں اور اسے یہ احساس ضرور دیں کہ وہ اہم ہے، کیونکہ کبھی کسی کا صرف سنجیدہ جواب اس کے اندر ٹوٹنے کو روک دیتا ہے۔


کلام کرنے والے کو مخاطب کہتے ہیں۔ مخاطب کی بات کو مکمل توجہ سے سننا، سمجھنا اور مثبت انداز میں جواب دینا اچھے اخلاق میں شامل ہے جبکہ مخاطب کو نظر انداز کر نا منہ موڑ لینا انسان کی عظمت کے خلاف اور مکروہ کام ہے شریعت میں بلاوجہ ایسا کرنے کو سخت ناپسندیدہ کیا گیا ہے قرآن واحادیث میں ایسا کرنے والے کی وعید بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔

اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے کہ کسی کو حقیر جان کر اس کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ احتیار نہ کرنا یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا۔

نیز یہ کام سنت کے بھی خلاف ہے کہ کلام کرنے والے کو نظر انداز کیا جائے اس کی طرف سے رخ پھیر لیا جائے۔

صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوری طرح متوجہ ہو کر بات سنتے تھے۔ (ابن ماجہ، 4/210، حدیث: 3716)

نیز صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سے مصافحہ یا گفتگو کرتے تو پورے جسم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔

آج کل ہمارے معاشرے میں اس طریقے کو بہت فروغ دیا جا رہا ہے بعض اوقات محض انا تکبر کی وجہ سے لوگ ایسا کرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے سنت پر عمل کرتے ہوئے معاشرے سے اس چیز کو ختم کیا جانا چاہیے یہ ایک انتہائی مذموم فعل ہے۔

اللہ کریم سے دعا ہے ہمیں بلاوجہ شریعت نظر انداز کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جسے دوسروں کے ساتھ تعلقات میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں باہمی ربط و ضبط، حسن سلوک، گفتگو کا سلیقہ، اور مخاطب کا احترام وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک خوشحال اور مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔

لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں ہم ایک ایسی روش کو اختیار کر چکے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے سراسر متصادم ہے۔ ہم نہ صرف دوسروں کو سننے سے کتراتے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جو سامنے والے کے وجود کو ہی نظر انداز کر دیتا ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے۔ یہ محض ایک سماجی آداب کی بات نہیں، بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانیت پر مبنی اصول ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں:

1۔ حسن گفتار اور دوسروں کو اہمیت دینا: وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ 5، النساء:86) ترجمہ کنز الایمان: اور جب تمہیں کوئی کسی طرح سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو یا وہی لوٹا دو۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ نہ صرف سلام کا جواب دینا لازم ہے، بلکہ بہتر طریقے سے دینا بہتر ہے۔ اگر سلام کا جواب نہ دیا جائے، یا مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے، تو یہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔

2۔ ملنے والے کی طرف چہرہ رکھئے: پارہ 21سورۃ لقمٰن آیت18میں ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔حضرت علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو غصے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

شربت نہ دیں نہ دیں وہ کریں بات لطف سے یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے

مخاطب کو نظر انداز کرنا بعض اوقات غرور اور تکبر کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جو کہ اسلامی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔

معاشرتی پہلو:

1۔ تعلقات میں دراڑ: جب ہم کسی کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس شخص کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ باہمی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ خاندان، دوست، ہمسائے، یا دفتری ساتھی سب ہماری توجہ اور احترام کے مستحق ہیں۔

2۔ ذہنی صحت پر اثرات: کسی کو مسلسل نظر انداز کرنا اس کی ذہنی صحت پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے لوگ خود کو غیر اہم، ناپسندیدہ اور تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں، جو کہ ڈپریشن اور اضطراب کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

3۔ نفرت اور بدگمانی: نظر انداز کیا جانا اکثر نفرت اور بدگمانی کو جنم دیتا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات یا رویہ بڑے فتنے کا سبب بن سکتا ہے، جسے قرآن نے بارہا منع کیا ہے۔

انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے سنا جائے اور اہمیت دی جائے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کسی کو سننا محبت کی ایک قسم ہے۔ جب ہم کسی کو سننے سے انکار کرتے ہیں یا مسلسل اسے نظر انداز کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کی شخصیت کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔

مخاطب کو اہمیت دینے کے عملی طریقے: جب کوئی بات کر رہا ہو تو اس کی طرف متوجہ ہو کر دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اس کی بات سن رہے ہیں۔ بات کاٹنے سے گریز کریں، مخاطب کی بات مکمل ہونے دیں، چاہے آپ کو اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جواب ضرور دیں، کسی کی بات کا جواب نہ دینا، یا صرف خاموش رہنا اس کی توہین کے مترادف ہے۔ کم از کم سر ہلا کر یا مختصر لفظوں میں جواب دینا ضروری ہے۔ موبائل یا دیگر مشغلے چھوڑ دیں، جب کوئی بات کر رہا ہو، تو موبائل یا دیگر کاموں میں مشغول رہنا نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک تر وہ لوگ ہو ں گے جو تم میں سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔ اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے ہیں، جو زیادہ باتیں کرنے والے منہ پھٹ، باچھیں کھول کر اور منہ بھر کر باتیں کرنے والے ہیں۔ (شعب الایمان، 6/234، حدیث: 7989)

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو عزت، احترام اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر اسلامی بھی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چاہے جتنے بھی مصروف ہوں، جتنے بھی تھکے ہوں، کسی کو نظر انداز کرنا ایک منفی عمل ہے، جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے، دوسروں کو اہمیت دینے، اور حسن سلوک اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

گفتگومیں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) (پ 4، آل عمران: 104) ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچّھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اوریہی لوگ مراد کو پہنچے۔

سارے مسلمان مبلغ ہیں، سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)

حضرت قبلہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نعیمی میں بخاری شریف کی یہ حدیث پاک نقل کی ہے کہ محسن انسانیّت ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف سے پہنچا دو اگر چہ ایک ہی آیت ہو۔ (بخاری، 2/462، حدیث: 3461)

مفسّر شہیر حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مزید فرماتے ہیں: اسلام میں تبلیغ بڑی ا ہم عبادت ہے کہ تمام عبادتوں کا فائدہ خود اپنے کو(یعنی اپنی ذات کو) ہوتا ہے مگر تبلیغ کا فائدہ دوسروں کو بھی۔ لازم (یعنی صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والے عمل)سے متعدی(ایسا عمل جو دوسروں کو بھی فائدہ دے وہ) افضل ہے۔

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو اچّھی باتوں کا حکم دے،برائیوں سے روکے وہ اللہ تعالی کا بھی خلیفہ ہے، اس کے رسول کا بھی اوراس کی کتاب (یعنی قرآن کریم)کا بھی۔

امیرالمومنین حضرت مولائے کائنات علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تبلیغ بہترین جہاد ہے۔ (تفسیر کبیر، 3/316) جیسے تبلیغ کرنا بہترین عباد ت ہے ایسے ہی تبلیغ چھوڑ دینا بدترین جرم اور چھوڑنے والا ذلیل وخوار۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

کسی شخص کو حقیر نہیں جاننا چاہئے کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث پاک میں بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)


اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرمائی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن میں ہمارے لیے گناہوں اور برائیوں کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے مکمل روشنی اور نور موجود ہے ۔

اسی نور کی ایک کرن یہ بھی ہے کہ خیانت جیسی برائی کی مذمت بیان فرما کر مومنوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا چنانچہ رب کریم ارشاد فرماتا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت انفال پارہ 9آیت 27 )

اللہ پاک نے اس آیت مبارکہ میں بطورِ خاص ایمان والوں کو مخاطب کرکے تین طرح کی خیانتوں سے منع فرمایا :(1)اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ہم پر فرض کی ہیں ان کو چھوڑنے کے ذریعے خیانت نہ کرو۔(2)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو چھوڑ کر خیانت نہ کرو۔(3)اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔

ایک شخص کے لیے اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ہوسکتی ہے کہ اسکا رب ہی اسکو ناپسند کرتا ہواور خیانت کرنے والے کو رب تعالیٰ کو پسند نہیں فرماتا ۔جیسا کہ ارشاد فرمایا :-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ النساء آیت 107)

یاد رکھیں!مکار کا انجام خراب ہی  ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں ہے:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)

تو غور کریں خیانت کرنے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کی شان یہ نہیں ہوسکتی کہ کسی سے خیانت کرےکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سوائے جھوٹ اور خیانت کے۔(تفسیر در منثور جلد 4صفحہ 318)

اللہ پاک ہمیں اس بری خصلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔