خیانت ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو فرد کے باطن کو کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسلام نے جس طرح امانت کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے، اسی طرح خیانت کو صریح گناہ اور اجتماعی بگاڑ کی جڑ بتایا ہے۔ خیانت صرف مال میں ہی نہیں ہوتی بلکہ راز، ذمہ داری، قول و فعل حتیٰ کہ نیت کی سطح پر بھی واقع ہو سکتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر نہایت وضاحت کے ساتھ خیانت کی مذمت فرمائی ہے تاکہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزگی اور دیانت کے اصولوں پر استوار کرے۔

امانت میں خیانت کی ممانعت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)

اس آیت میں خیانت کو محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا گیا ہے، جو اس کے سنگین روحانی انجام کی طرف واضح اشارہ ہے۔

نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آلِ عمران: 161)

اس آیت میں خیانت کے اخروی انجام کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان دنیا کی وقتی منفعت کے مقابلے میں قیامت کی رسوائی کو محسوس کر لے۔

قرآنِ کریم کی یہ روشن ہدایات واضح کرتی ہیں کہ خیانت ایمان کے منافی، عدل کے خلاف اور معاشرتی زوال کا سبب ہے۔ جو فرد یا قوم خیانت کو معمول بنا لے، اس کے ہاتھ سے اعتماد، برکت اور عزت چھن جاتی ہے، جبکہ امانت و دیانت وہ اوصاف ہیں جو انسان کو اللہ کے قرب اور مخلوق کے اعتماد دونوں سے ہمکنار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ بصیرت خیانت سے بچنے کو محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ نجاتِ دنیا و آخرت کا راستہ سمجھتے ہیں۔


قرآن مجید میں خیانت کو ایک انتہائی ناپسندیدہ اور قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں امانتوں کی پاسداری، وعدوں کی تکمیل، اور انسانی و الٰہی حقوق کی پامالی بھی شامل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ :(1) - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت ایک ایسا فعل ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت اور محبت سے دور کر دیتا ہے۔ جس شخص سے اللہ ناراض ہو جائے، اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

خیانت کے معاشرتی اثرات:خیانت صرف انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایک سماجی زہر ہے۔ جب کسی معاشرے میں خیانت عام ہو جاتی ہے توباہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ معاشی بدحالی کرپشن اور بددیانتی سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ عدل و انصاف کا قتل: جب گواہیوں اور فیصلوں میں خیانت ہوتی ہے تو مظلوم کو انصاف نہیں ملتا۔خیانت ایک بدترین اخلاقی برائی ہے جو انسان کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ایک مومن وہی ہے جو قول و فعل میں سچا اور امانت دار ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے (چاہے وہ گھر ہو، ملازمت ہو یا عبادات) میں امانت داری کو اپنائیں اور ہر قسم کی چھوٹی بڑی خیانت سے بچیں تاکہ اللہ کی رضا اور معاشرتی امن حاصل ہو سکے۔


اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا ۔ ( عمدۃ القاری)

اللہ اور اسکے رسول سے خیانت نہ کرو: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)

وضاحت : فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے خیانت کرنا ہے۔

خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 107)

وضاحت: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں آپ ان کی طرف سے نہ جھگڑیں۔

اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے

پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12 سورۃ یوسف آیت نمبر 52)

وضاحت : بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصَّلوةُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا ہے ، اس پر حضرت یوسف علیہ الصَّلوة والسلام نے فرمایا" میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔

وضاحت: اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ (صراط الجنان تحت ھذہ الآیۃ)

کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (پارہ 3 سورۃ ال عمران آیۃنمبر161)

وضاحت: نبی علیہ السَّلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شان نبوت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہذا اُن سے ایسا ممکن نہیں ۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے بڑے گناہ سے بچنے اور امانت دار بننے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔


خیانت ایک ایسا اخلاقی مرض ہے جو فرد کی شخصیت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے یہ امانت کے برعکس صفت ہے جب انسان کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے وعدہ توڑتا ہے یا دی گئی ذمہ داری میں بددیانتی کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کے ساتھ نہیں بلکہ پورے نظامِ اعتماد کے ساتھ خیانت کرتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں میں خیانت عام ہو گئی وہاں عدل امن اور ترقی دم توڑ گئی اسی لیے اسلام نے خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اور امانت داری کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا ایک صالح اور مضبوط معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب اس کی بنیاد سچائی دیانت اور امانت پر رکھی جائے نہ کہ خیانت اور دھوکے پر آئیے خیانت کی مذمت کے متعلق کچھ آیت مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں۔

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5،سورۃ النساء،آیت107)

(2) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12،سورۃ یوسف ،آیت 52)

(3) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10،سورۃ الانفال ، آیت71)

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 10،سورۃ الانفال،آیۃ نمبر27)

خیانت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک سنگین اخلاقی جرم اور ایمان کے منافی عمل ہے جو فرد کے کردار اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے اسلام انسان کو امانت دیانت اور عدل کا پابند بناتا ہے اور ہر قسم کی خیانت سے سختی سے روکتا ہے کامیابی اسی میں ہے کہ مسلمان ہر حال میں امانت دار رہے حق کا ساتھ دے اور خیانت کے ہر راستے سے خود کو محفوظ رکھے اللہ پاک ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


حضرت فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات جیسے نان نفقہ وغیرہ پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، ۳ / ۱۸، الحدیث: ۴)

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورت النساء آیات نمبر 107 پارہ 5 )

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورت الانفال آیات نمبر 27 پارہ 8)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت الانفال آیات نمبر 71 پارہ 8)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صَلی اللہُ تعالی علیہ والہ وسلم سے خیانت کرنا ہے (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورت المؤمن آیات نمبر 19 پارہ 24)

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خیانت یہ ایک بہت بری بیماری ہے اور یہ انسان کے اچھے اخلاق کو برا بنادیتی ہے خیانت کی قرآن وحدیث میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے یہ ایک باطنی امراض میں سے ایک برا مرض ہے خیانت کرنے سے انسان سے بہت سے لوگ دور ہو جاتے ہیں اور اس پر کیا ہوا اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے خیانت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا ۔ہمیں خیانت سے بچنے اور بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔

( 1)امانت میں خیانت نہ کرنا : وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)

  اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات  ﷺ  نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(صراط الجنان فی تفسیر القرآن، پارہ نمبر 4، سورہ آل عمران، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 63)

(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہ دینا : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں۔ (صراط الجنان فی تفسیر القرآن، پارہ نمبر 5 ، سورہ النساء ،جلد نمبر 2 ، صفحہ نمبر 333)

(3) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)

جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کی مذمت بیان فرمائی ہے ہمیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے خیانت کرنے سے بچنا چاہیے اور دیگر لوگوں کو اس سے بچنے کی ترغیب دلانی چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم


خیانت ایک ایسا قبیح فعل ہے جو نہ صرف انسان کے کردار کو داغدار کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے، امانت داری ایک مؤمن کی پہچان اور ایمان کا اہم حصہ ہے، جبکہ خیانت ایمان کی ضد ہے، اسلام نے جہاں عدل، صداقت اور دیانت کی تعلیم دی ہے، وہیں خیانت کو سخت گناہ اور نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ایک صالح اور بااعتماد معاشرہ کی تشکیل کے لیے خیانت سے بچنا اور امانت کی پاسداری لازم ہے۔

قرآن کریم و احادیث طیبہ میں خیانت کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اسے منافقین کی علامت قرار دیا گیا ہے،خیانت خواہ مال میں ہو، راز میں ہو یا امانت میں ،لھذا ہر صورت میں مذموم ہے ۔

(1)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، پ 8،تحت الآیۃ 27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( تفسیرِ خازن)

(2)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان:بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(سورۃ النساء ،پ 5،آیت 107)

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت : اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں :

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، 3 / 93، الحدیث: 2716)یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے۔

(3)اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(سورۃ آل عمران ،پ 3،آیت 161)

نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔

شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 161،1 / 505)

خیانت کی مذمت : اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، ص1532، الحدیث: 63(2765)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر،4 / 271، الحدیث: 12386)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، 8 / 276، الحدیث: 22232)

خیانت ایک سنگین اخلاقی و دینی جرم ہے جسے قرآن مجید میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بار بار تاکید فرمائی ہے کہ وہ امانتوں میں خیانت نہ کریں، کیونکہ خیانت نہ صرف دنیا میں اعتماد کو ختم کرتی ہے بلکہ آخرت میں سخت گرفت کا باعث بنتی ہے۔ جو قومیں خیانت کو معمولی سمجھتی ہیں، وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ امانت و دیانت کو اپنی زندگی کا اصول بنائے اور ہر قسم کی خیانت سے بچتا رہے۔


اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے جن  برائیوں کی سختی سے مذمت کی ہے، ان میں خیانت کو خاص طور پر بیان کیا خیانت سے مراد امانت میں بددیانتی، وعدہ خلافی، دھوکا دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ صراط الجنان کے مطابق خیانت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ دین، ذمہ داری، عہدہ، راز اور وقت تک میں خیانت شامل ہے۔قرآن پاک میں کئی مقامات پر خیانت کرنے والوں کی مذمت اور اس کی وعیدے بیان کی ہے - ان میں سے چند آیتیں ملاحظہ فرمائیں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ انفال:27)

صراط الجنان :اس آیت میں  اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت کا مطلب احکامِ الٰہی کی نافرمانی اور سنتِ نبوی سے روگردانی ہے، جبکہ لوگوں کی امانتوں میں خیانت معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔( سورۃ الانفال آیت 58 )

صراط الجنان :یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی ناراضی سب سے بڑا خسارہ ہے۔

(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز العرفان : اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی ۔(سورۃ آل عمران آیت 161)

صراط الجنان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا میں امانت میں خیانت کرتا ہے، قیامت کے دن وہی خیانت اس کے لیے باعثِ عذاب بنے گی۔

خیانت کے دینی و معاشرتی نقصانات:

(1)ایمان کی کمزوری اور دل کی سختی (2)معاشرتی اعتماد کا خاتمہ (3)ظلم اور ناانصافی کا فروغ

(4)آخرت میں سخت عذاب اور رسوائی۔قرآنِ کریم کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے۔ اللہ ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔


خیانت ایسا فعل ہے جو کسی بھی فرد، معاشرے یا قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ انسان کے کردار کی کمزوری اور اخلاقی پستی کی علامت ہے۔ دینِ اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے اور اسے منافقین کی علامت قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ امانت داری ایمان کا حصہ ہے، اور جو شخص خیانت کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا خیانت نہ صرف ایک اخلاقی جرم ہے بلکہ معاشرتی تباہی کا سبب بھی بنتی ہے۔

خیانت کی تعریف:خیانت وہ عمل ہے جس میں کوئی شخص اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے یا امانت میں بددیانتی کرے۔ مثلا راز فاش کرے، وعدہ پورا نہ کرے، یا کسی کی دی ہوئی چیز کو غلط

طریقے سے استعمال کرے۔

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( آل عمران :3 آیت 161)

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ -وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)

ترجمہ کنز العرفان:اے حبیب !بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری تا کہ لوگوں میں اس (حق)کے ساتھ فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا اور تم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرنا۔ (النساء3آیت :105)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ ( الانفال:8 آیت 27)

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الانفال:8 آیت58)

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الانفال: 8 آیت71)

خیانت ایک انتہائی قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے، جو نہ صرف فرد کے اخلاق کو گراتی ہے بلکہ معاشرے کے اعتماد اور امن کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ دینِ اسلام نے امانت داری کو ایمان کا حصہ اور خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا ہے۔ ایک پرامن، دیانت دار اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم خیانت سے مکمل اجتناب کریں اور امانت و دیانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔


اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں امانت میں خیانت کر نےوالوں کی مذمت بیان فرمائی اور اس آیت مبارکہ میں جواللہ عزوجل اور اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کا ذکر ہوا اس سے مراد یہ ہے کہ" فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے"۔(تفسیر خازن جلد نمبر 2 صفحہ نمبر190)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان ۔ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر58)

حکم فرمایا کہ اپنی امانتوں کو ادا کرو

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے اسکے تحت ساری خیانتیں مراد ہے چاہے مال میں ہو یا اس کے علاوہ ہو ۔

حدیث پاک کے اندر بھی خیانت کی مذمت بیان ہوئی ہے اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔ (1)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے (4) اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:34، ج۱، ص25)

اس حدیث پاک کے اندر بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے امانت کی مذمت کو بیان کرتے ہوئے اور منافق کی علامت کو نفاق کی علامت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جسے امین بنایا جائے وہ امانت میں خیانت کرے یہ نفاق کی ایک خوبصورت اس کو حدیث پاک میں شمار کیا گیا یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے اس سے ثابت ہوا اس سے ثابت ہوا کسی شخص کو امین بنایا جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔


امانت کا تصور ہمارے معاشرے میں عام طور پر صرف مال و دولت یا رکھی ہوئی چیزوں تک محدود ہے، حالانکہ اسلام کی روشن تعلیمات کی رو سے امانت کا مفہوم انتہائی وسیع ہے۔ مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ دادا جی اینٹیں خریدنے بھٹے پر گئے اور بھٹے والے سے کہا کہ "آپ کے پاس میری ایک امانت ہے۔" بھٹے والا حیران ہوا تو دادا جی نے فرمایا کہ "کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی تو امانت ہے!" یہ بات بالکل درست ہے، کیونکہ اگر کوئی مشورہ لینے آئے تو اسے درست مشورہ دینا واجب ہے۔ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔" (ابوداؤد، جلد 3، صفحہ 449، حدیث: 3657)۔

جس طرح مال و دولت میں خیانت حرام ہے، اسی طرح باتوں اور مشوروں میں بھی خیانت حرام ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙترجَمۂ کنزُ الایمان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔ (پارہ 5، سورۃ النسآء: آیت 58)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق امانت داری ہر چیز میں لازم ہے، چاہے وہ نماز، روزہ، غسلِ جنابت ہو یا لوگوں کے ساتھ ناپ تول کا معاملہ۔ علمائے کرام نے امانت کی تین اقسام بیان کی ہیں:

اللہ پاک کی امانتیں: ہمارے جسم کے اعضاء (آنکھ، کان، ہاتھ وغیرہ) اللہ کی امانت ہیں، ان سے نیکی کرنا امانت داری اور گناہ کرنا خیانت ہے۔

اپنے نفس کی امانت: اپنے آپ کو جائز آرام دینا امانت ہے جبکہ بھوکا رہ کر ہلاک کرنا خیانت ہے۔

بندوں کی امانتیں: لوگوں کے حقوق ادا کرنا، ناپ تول پورا کرنا اور راز کی حفاظت کرنا۔ (تفسیرِ کبیر، جلد 4، صفحہ 109)

راز کی حفاظت بھی ایک اہم امانت ہے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: "اَلْحَدِیْثُ بَیْنَکُمْ اَمَانَۃٌ" یعنی تمہاری باہمی گفتگو امانت ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، جلد 7، صفحہ 244، حدیث: 406)۔

اگر کوئی شخص بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھے کہ کوئی سن تو نہیں رہا، تو یہ قرینہ ہے کہ وہ بات امانت ہے۔اسی طرح عہدہ اور منصب بھی بہت بڑی امانت ہے۔ جو شخص کسی منصب کی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے اسے وہ عہدہ لینا ہی نہیں چاہیے کیونکہ قیامت کے دن یہ رسوائی کا سبب ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی حاکم کسی جماعت پر کسی شخص کو مقرر کرے حالانکہ وہاں اس سے بہتر اور اللہ کا پسندیدہ شخص موجود ہو، تو اس نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ (مستدرک للحاکم، جلد 5، صفحہ 126، حدیث: 7105)۔

یہاں تک کہ مسجد کا امام اور مؤذن بھی امین ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: "اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤتَمَنٌ" یعنی امام ذمہ دار اور مؤذن امانت دار ہے۔ (ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 218، حدیث: 517)۔

کاروباری شراکت (Partnership) میں بھی امانت داری برکت کا سبب ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک وہ خیانت نہ کریں، جب خیانت کرتے ہیں تو میں نکل جاتا ہوں اور شیطان آ جاتا ہے۔ (ابو داؤد، جلد 3، صفحہ 350، حدیث: 3383)۔

میاں بیوی کے نجی راز بھی ایک دوسرے کے پاس امانت ہیں اور انہیں فاش کرنا بدترین خیانت ہے۔ (مسلم، صفحہ 579، حدیث: 3543)۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس ڈاکیہ کی طرح ہے جو سب کی امانتیں درست تقسیم کر کے کامیاب لوٹتا ہے، اسی طرح کامیاب مسلمان وہ ہے جو تمام حقوق ادا کر کے اپنی قبر میں جائے۔ (تفسیرِ نعیمی، جلد 5، صفحہ 160)۔

اللہ پاک ہمیں امانتوں کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے۔


دعوتِ اسلامی کے تحت اسپیشل پرسنز کے لئے”سنتوں بھرااجتماع“

نگرانِ شوریٰ حاجی عمران عطاری کا خصوصی بیان ہوگا

دعوتِ اسلامی کے ”اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ“ کے زیرِ اہتمام کراچی سطح پر گونگے، بہرے، نابینا اور دیگر معذور افراد کے لیے ایک عظیم الشان ”سنتوں بھرے اجتماع“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ منفرد اجتماع معاشرے کے خصوصی افراد کی مذہبی و اخلاقی تربیت اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔

اجتماع کا شیڈول اور مقام:

تاریخ اور دن: 28 جون 2026ء، بروز اتوار

وقت: اجتماع کا آغاز دن 2:00 بجے ہوگا، جبکہ مرکزی بیان دوپہر 3:00 بجے شروع کیا جائے گا۔

مقام: عالمی مدنی مرکز، فیضانِ مدینہ، کراچی

خصوصی بیان:

اس اجتماع میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی خصوصی بیان فرمائیں گے اور شرکا کی شرعی و اخلاقی رہنمائی کریں گے۔

نوٹ:

ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، وہ اسپیشل پرسنز (خواہ وہ اسلامی بھائی ہوں یا اسلامی بہنیں) جو پاکستان یا بیرونِ ملک سے کراچی کے اس اجتماع شریک نہیں ہو سکتے، ان کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ وہ اس پورے اجتماع کو دعوتِ اسلامی کے آفیشل ”مدنی چینل“پر براہِ راست (Live) دیکھ اور سن سکیں گے۔