زوہیر
ڈوسانی (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
اسلام کا سماجی اور اخلاقی ڈھانچہ "ایمان" اور
"ایقان" پر استوار ہے، جس میں باہمی اعتماد (Trust) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں امانت داری
کو مومن کی بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، وہیں خیانت کو بدترین اخلاقی جرم اور
گناہِ کبیرہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق خیانت محض مالی بددیانتی
کا نام نہیں، بلکہ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی
ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو واضح الفاظ
میں خیانت سے روکا ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(سورۃ
الانفال، آیت: 27)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اللہ
اور رسول ﷺ سے خیانت ہے، جبکہ لوگوں کے حقوق میں ڈنڈی مارنا باہمی امانتوں میں خیانت
ہے۔ علمی تناظر میں دیکھا جائے تو خیانت انسان کو اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم
کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کے لیے اپنی ناپسندیدگی
کا اظہار دو ٹوک الفاظ میں کیا ہے:ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء، آیت: 107)
مزید برآں، قرآن یہ بتاتا ہے کہ دھوکہ دہی اور خیانت پر
مبنی منصوبہ بندی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
سورۃ یوسف میں قانونِ الٰہی بیان کیا گیا ہے کہ: ترجمہ
کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف، آیت: 52)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کی رو سے خیانت ایک ایسا ناسور
ہے جو انفرادی کردار کو مسخ اور اجتماعی نظم کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک حقیقی مسلمان
کے لیے لازم ہے کہ وہ مالی معاملات ہو یا منصبی ذمہ داریاں، ہر سطح پر خیانت سے
اجتناب کرے، کیونکہ خیانت اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
محمد
اسحاق (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، سچائی اور دیانت پر رکھی
گئی ہے۔ جب کوئی فرد ان اصولوں کو توڑتا ہے تو نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ
بداعتمادی، فتنہ اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت ایسا ہی ایک قبیح فعل ہے جو
رشتوں، ذمہ داریوں اور امانت داری کو پامال کرتا ہے۔ چاہے خیانت کسی راز میں ہو،
کسی وعدے میں، کسی امانت میں یا کسی تعلق میں یہ ہمیشہ دل توڑنے والی، رشتے بگاڑنے
والی اور اخلاقی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا
ہے اور قرآن و حدیث میں بارہا اس کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک مؤمن کی پہچان ہی یہ ہے
کہ وہ امانت دار ہو، سچ بولے اور وفا کرے۔ خیانت دراصل ان تمام خوبیوں کی ضد ہے۔اسی
لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خیانت سے بچیں، سچائی اور دیانت کو اپنی پہچان بنائیں تاکہ
ہمارا کردار مضبوط اور ہمارے رشتے بااعتماد بن سکیں۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال:58)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت
ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ
ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک
محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن
کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی
کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ
وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان
لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو
کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی
بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں
ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس
پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور
نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت
نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے
سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت
ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس
تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا،
بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول
ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر
اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات
جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ
کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف
کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ
کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول
کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے
کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی
تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب
اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی
توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش
ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی
قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ
ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں
جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد
ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل
ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل،
تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا
کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
خیانت کی مذمت اختتامی کلمات:آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے
کہ خیانت ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے جو نہ صرف فرد کی ساکھ کو داغدار
کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اسلام نے خیانت کو نفاق
کی علامت قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں دیانت داری، سچائی اور وفا کو اپنائیں اور خیانت
جیسے گناہ سے ہمیشہ بچیں۔ کیونکہ سچا اور امانت دار انسان ہی اللہ کے نزدیک محبوب
اور دنیا میں معزز ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ رکھے اور
سچائی و دیانت کے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔
قرآنِ مجید نے انسانی معاشرے کی تعمیر و اصلاح کے لیے جن
اخلاقی اصولوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں امانت و دیانت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
امانت وہ صفت ہے جو فرد کے کردار کو معتبر اور معاشرے کو پُرامن بناتی ہے، جبکہ اس
کے برعکس خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو اعتماد کو مجروح، رشتوں کو کھوکھلا
اور اجتماعی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔ خیانت خواہ مال میں ہو، وعدے میں، منصب میں یا
راز میں قرآنِ کریم نے اسے سختی سے ناپسند فرمایا ہے اور مختلف مقامات پر اس کی شدید
مذمت بیان کی ہے۔
اللہ پاک قرآن میں
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و
رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال: 27)
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک
دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ
کنزالایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔ (سورۃ
آل عمران: 161)
-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
مذکورہ آیات کے تحت قرآنِ حکیم اس حقیقت کو کھول کر بیان
کرتا ہے کہ خیانت محض دنیاوی نقصان کا سبب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس
کی محبت سے محرومی کا موجب ہے۔ ایسا شخص اپنے جرم کے نتائج سے بچ نہیں سکتا، کیونکہ
جو کچھ اس نے چھپ کر کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے گا۔ ان
آیات کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ ایمان کی تکمیل امانت و دیانت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک
سچا مومن وہی ہے جو ظاہر و باطن میں یکساں طور پر دیانت دار ہو، کیونکہ خیانت فرد
کے کردار کو کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لیے
قرآن فرد اور معاشرے دونوں کو یہ تنبیہ کرتا ہے کہ فلاح اور نجات کا راستہ صرف
امانت داری اور راست بازی میں ہے، جبکہ خیانت زوال اور ہلاکت کا سبب ہے۔
مذکورہ تمام احادیث کریمہ خیانت کو نہ صرف ناپسندیدہ
بلکہ لعنت کا مستحق عمل قرار دیتی ہیں۔ مومن کی پہچان امانت داری اور دیانت داری
ہے، اور خیانت ایمان کے منافی عمل ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
واضح ہوتا ہے کہ خیانت ہر صورت میں ناپسندیدہ اور ایمان کے منافی عمل ہے۔ امانت و
دیانت مومن کی بنیادی صفات ہیں، جو فرد کے کردار کو معتبر اور معاشرے کو مضبوط و
پرامن بناتی ہیں۔ خیانت چاہے مال، وعدے، منصب یا راز میں ہو، نہ صرف دنیاوی نقصان
کا باعث بنتی ہے بلکہ اللہ کی ناراضی اور آخرت میں مواخذے کا سبب بھی ہے۔سچا مومن
وہ ہے جو ظاہر و باطن میں یکساں طور پر دیانت دار ہو، کیونکہ خیانت فرد کے اخلاق
اور معاشرتی اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی
ہیں کہ فلاح و نجات کا راستہ صرف امانت داری، راست بازی اور اعتماد کی پاسداری میں
ہے، جبکہ خیانت زوال اور ہلاکت کی علامت ہے۔
رضوان
شاہد (درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت محض ایک اخلاقی برائی نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی
عہد کی خلاف ورزی ہے جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان قائم ہے۔ قرآن کریم کی
روشنی میں خیانت کا تصور صرف "مال میں ہیرا پھیری" تک محدود نہیں، بلکہ یہ
امانتِ الٰہی، انسانی تعلقات، نظریات اور جذباتی وفاداریوں کے قتل کا نام ہے۔ جب
کوئی انسان خیانت کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنی اس فطرت کا انکار کرتا ہے جس پر اسے
پیدا کیا گیا تھا۔
(1) امانتِ الٰہی اور انسانی ذمہ داری:قرآن
مجید نے خیانت کو براہِ راست اللہ اور رسول ﷺ سے جوڑا ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشاد
باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال:
27)
اس آیت میں "امانت" کا دائرہ کار انتہائی وسیع
ہے۔ یہاں خیانت کا مطلب ان احکامات سے روگردانی ہے جو کائنات کے توازن کو برقرار
رکھتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنی صلاحیتوں، وقت اور منصب کا غلط استعمال کرتا ہے، تو
وہ اللہ کی دی ہوئی انفرادی امانت میں خیانت کر رہا ہوتا ہے۔
(2) خیانت: محبتِ الٰہی سے محرومی کا سبب:قرآنِ
حکیم میں خیانت کی مذمت کا سب سے سخت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خائن (خیانت کرنے
والے) سے محبت نہیں فرماتا ہے۔ سورۃالانفال ہی میں فرمایا گیا:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (الانفال:
58)
کسی بھی انسان کے لیے اس سے بڑا خسارہ کیا ہو سکتا ہے کہ
کائنات کا مالک اس سے محبت نہیں فرماتا۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی نکتہ ہے جو بتاتا ہے
کہ خیانت انسان کو روحانی طور پر کمزورکر دیتی ہے۔
(3) جذباتی اور خانگی خیانت کا قرآنی تناظر:عام
طور پر خیانت کو صرف مالی معاملات تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن قرآن نے اسے خانگی
اور جذباتی سطح پر بھی بیان کیا ہے۔ سورۃ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام اور
حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:فَخَانَتٰهُمَا ترجمہ
کنزالایمان: پھر انہوں نے ان سے دغا کی ۔(التحریم: 10)
یہاں خیانت سے مراد نظریاتی اور فکری بے وفائی ہے۔ یہ اس
بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر رشتوں میں نظریاتی ہم آہنگی اور سچائی نہ رہے، تو وہ
رشتہ "خیانت" کی زد میں آ جاتا ہے۔ یہ ایک منفرد قرآنی نکتہ ہے کہ خیانت
صرف اجنبیوں کے ساتھ نہیں، بلکہ قریبی ترین رشتوں میں بھی تباہی کا باعث بنتی ہے۔
(4)خیانت کی نفسیاتی جڑیں: "خائنۃ الاعین"قرآن
انسان کے باطن کی گہرائیوں میں اتر کر خیانت کو پکڑتا ہے۔ سورۃ المومن میں اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (المؤمن: 19)
"آنکھوں کی خیانت" کا تصور یہ ہے کہ بظاہر
انسان پاکباز نظر آئے لیکن اس کی نگاہیں کسی کی حرمت یا امانت پر بدنیتی سے لگی
ہوں۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام صرف عمل کی اصلاح نہیں چاہتا، بلکہ وہ
ارادے اور نظر کی پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ خیانت کا بیج سب سے پہلے آنکھ میں بویا
جاتا ہے اور پھر دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑتا ہے۔
(5) سماجی اثرات اور عدالتی نظام:قرآن خیانت
کو معاشرے کے لیے ایک مہلک زہر قرار دیتا ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ
کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کریں:
-وَ
لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: اور
دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ (النساء: 105)
یہ آیت آج کے عدالتی نظام کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ
واضح کرتی ہے کہ جو معاشرہ خائنوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے یا ان کا دفاع کرتا ہے،
وہاں سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔ خیانت جب نظام کا حصہ بن جائے تو وہ "حق"
کا چہرہ مسخ کر دیتی ہے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق خیانت صرف ایک گناہ نہیں بلکہ ایک
"مرض" ہے جو انسان کے اخلاقی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں امانت کی تعریف کی ہے، وہیں خیانت کو ذلت اور رسوائی کا نشان
قرار دیا ہے۔ ایک مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی زبان، اپنی نگاہ، اپنے عہد
اور اپنے منصب میں صادق ہو۔
اگر ہم آج کے معاشرے کا تجزیہ کریں، تو ہماری اکثر سماجی
اور معاشی مشکلات کی جڑ "خیانت" میں پیوست ہے۔ جب تک ہم اپنی زندگیوں میں
"امانت" کا قرآنی تصور نافذ نہیں کریں گے، تب تک ہم حقیقی فلاح حاصل نہیں
کر سکتے۔ اللہ کا فرمان ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)ترجمہ
کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (الحج: 38)
خیانت کی ہلاکت خیزی اور بقائے انسانی کا راستہ:مذکورہ
بالا قرآنی دلائل اور حقائق کے تناظر میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے
کہ "خیانت" محض ایک انفرادی فعل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا سماجی کینسر ہے
جو پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو چاٹ جاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے خیانت کی جو تصویر
کشی کی ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خائن شخص درحقیقت اپنی روح کا سودا کرتا ہے اور
اس کے بدلے میں اللہ کی ناراضگی اور دائمی رسوائی مول لیتا ہے۔
اس مطالعے سے درج ذیل کلیدی نکات نتائج کے طور پر سامنے
آتے ہیں:
روحانی انحطاط: خیانت انسان کے اندر سے
"خوفِ خدا" کو ختم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اللہ کی محبت اور اس
کی معیت سے محروم ہو کر روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔
معاشرتی عدمِ استحکام: جب کسی
معاشرے میں نگاہ، لفظ، عہد اور مال میں خیانت عام ہو جائے، تو وہاں سے
"اعتماد" (Trust) رخصت ہو جاتا ہے۔ اعتماد کے بغیر کوئی بھی
تمدن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
نظریاتی وفاداری: خیانت کا تعلق صرف پیسوں
سے نہیں بلکہ افکار و نظریات سے بھی ہے۔ قرآن نے انبیاء کی بیویوں کی مثال دے کر یہ
سمجھایا ہے کہ مقدس ترین رشتوں میں بھی اگر سچائی اور نظریاتی وفاداری نہ رہے، تو
وہ رشتہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔
انفرادی ذمہ داری: "خائنۃ
الاعین" (آنکھوں کی چوری) کا تصور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اسلام صرف بیرونی
نظم و ضبط کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن کی پہرے داری کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسانیت کی بقا اور معاشرے کی خوشحالی
صرف اور صرف "امانت و دیانت" کے قرآنی ماڈل میں پنہاں ہے۔ اگر آج کا
انسان اپنی انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک خیانت کا باب بند کر
دے اور امانت کی پاسداری کو اپنا شعار بنا لے، تو زمین کا یہ ٹکڑا دوبارہ امن و
سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
انسانی زندگی کے وقار اور معاشرتی استحکام کا دارومدار
باہمی اعتماد اور دیانت داری پر ہے۔ اسلام جو کہ امن اور سلامتی کا دین ہے، ایک ایسے
صالح معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جہاں ہر فرد کے جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ
ہوں۔ اس نظامِ عدل کی روح "امانت" ہے، جو انسانی اخلاق کا جوہر اور ایمان
کی علامت ہے۔ اس کے برعکس "خیانت" ایک ایسا اخلاقی ناسور ہے جو نہ صرف
فرد کے کردار کو مسخ کر دیتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا
ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کے ہر پہلو کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ایمان کے منافی
قرار دے کر اس کے ہولناک نتائج سے انسانیت کو خبردار کیا ہے۔ ذیل میں خیانت کی
قرآنی مذمت کو مختلف نکات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے:
(1)اللہ اور رسول ﷺ سے دغا بازی کی ممانعت:
خیانت کی شناعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن نے اسے اللہ اور اس
کے رسول ﷺ کے ساتھ بے وفائی کے مترادف قرار دیا ہے۔ جب انسان دانستہ اللہ کے
احکامات سے روگردانی کرتا ہے، تو وہ اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال:
27)
اس سے واضح ہوتا
ہے کہ امانت میں خیانت کرنا صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ براہِ راست اللہ کی
نافرمانی ہے۔
(2)اللہ کی محبت سے محرومی: قرآنِ
کریم میں واضح کیا گیا ہے کہ خیانت کرنے والا شخص اللہ کی پسندیدگی اور خاص رحمت
کا حقدار نہیں رہتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال: 58)
یہ آیت خائن کے
لیے سب سے بڑی وعید ہے، کیونکہ جس سے اللہ اپنی دوستی اور محبت چھین لے، اس کے لیے
دنیا و آخرت میں کوئی جائے پناہ نہیں۔
(3) قیامت کے دن ذلت آمیز پیشی:قرآن
مجید نے خیانت کے انجام کو قیامت کے دن کی رسوائی سے جوڑا ہے۔ جو مال یا امانت دنیا
میں چھپا کر دبائی گئی ہوگی، وہ قیامت کے دن اس شخص کی پہچان بن جائے گی۔ سورۃ آل
عمران میں ارشاد ہے: -وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ترجمہ
کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔ (سورۃ
آل عمران: 161)
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے لرزہ خیز ہے جو عہدوں یا مال میں
خورد برد کر کے اسے پوشیدہ سمجھتا ہے۔
(4)خائن کے مکر کی ناکامی: انسان
اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے خیانت کو چھپا لے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کا
قانون ہے کہ وہ دغابازوں کی چالوں کو کبھی پائے تکمیل تک نہیں پہنچنے دیتا۔ ارشادِ
ربانی ہے: وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ
دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف: 52) یعنی خیانت کی بنیاد پر کھڑی کی
گئی عمارت آخرکار منہدم ہو کر رہتی ہے۔
(5)نظروں کی خیانت پر گرفت: اللہ
تعالیٰ نہ صرف ظاہری اعمال بلکہ دلوں کے بھید اور آنکھوں کی حرکات سے بھی واقف ہے۔
بعض اوقات انسان زبان سے کچھ نہیں کہتا مگر نظروں سے خیانت کرتا ہے، اللہ اسے بھی
جانتا ہے۔ ارشاد ہے: یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃ
غافر: 19)
یہ آیت انسان کو
ہر وقت اللہ کی نگرانی میں ہونے کا احساس دلاتی ہے۔
(6)خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ممانعت:
اسلام میں خیانت اس قدر قبیح فعل ہے کہ قرآن نے خائنوں کی طرفداری کرنے سے بھی منع
فرمایا ہے۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
یہاں خیانت کو "اپنی جان کی خیانت" قرار دیا گیا
ہے کیونکہ اس کا اصل وبال خود انسان پر ہی پڑتا ہے۔
(7) کامیابی کا معیار امانت داری ہے: تمام تر وعیدوں
کے برعکس، قرآنِ کریم نے حقیقی کامیابی ان لوگوں کے لیے لکھی ہے جو اپنی امانتوں کی
حفاظت کرتے ہیں۔ سورۃ المومنون میں مومنین کی صفت بیان کی گئی: وَالَّذِينَ هُمْ
لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ترجمہ کنز الایمان: "اور وہ جو
اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں" (سورۃ المومنون: 8)۔
الغرض، قرآنِ حکیم کے ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی
ہے کہ خیانت دنیاوی زندگی میں ذلت اور آخرت میں خسارے کا باعث ہے۔ ایک مومن کی شان
یہ ہے کہ وہ ہر حال میں امانت کا پاسدار ہو، چاہے وہ مال ہو، عہد ہو یا کسی کا
راز۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کی ہر صورت سے محفوظ فرمائے اور امانت و دیانت کو
ہمارا شعار بنائے۔ آمین
قرآن میں ہر انسان کو امانت داری اور صداقت کی ہدایت دی
گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قسم کی امانتیں دی ہیں، جیسے زندگی، مال،
وقت، تعلقات، علم اور بہت کچھ۔ان امانات کی حفاظت اور درست استعمال کرنا ہر مسلمان
کا فرض ہے۔ اسلام میں امانت داری ایک عظیم اخلاقی وصف ہے، جس کا دائرہ زندگی کے
تمام پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔اس کے برعکس، خیانت کسی بھی طرح کی امانت میں بددیانتی
یا دھوکہ دہی کو کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کی روحانیت اور معاشرتی کردار کو تباہ کر دیتی
ہے، اور قرآن اس کے خلاف سختی سے منع کرتا ہے۔ خیانت کا عمل نہ صرف فرد کے ایمان
اور اخلاقی معیار کو متاثر کرتا ہے، بلکہ اس کا اثر پورے معاشرتی نظام پر بھی پڑتا
ہے لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہیئے ۔آئیے یہ جانتے ہیں کہ خیانت کسی کہتے ہیں !
خیانت کسے کہتے ہیں:خیانت
امانت کی ضد ہے خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ
اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا !اللہ تبارک وتعالی نے
قرآن مجید میں خیانت سے منع کیا ہے ۔
اللہ تبارک وتعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران:161)
تفسیر صراط
الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے
لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ:
۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق
و کردار کی تعلیم دیتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات میں دیانت داری اور امانت کو بڑی اہمیت
حاصل ہے۔ اس کے برعکس خیانت یعنی امانت میں بددیانتی یا دھوکا دہی، نہ صرف ایک
اخلاقی جرم ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی سخت گناہ ہے۔ اسطرح قرآن پاک میں بھی اسکی
مذمت آئی ہیں قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنزالایمان : اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ ال عمران آیت 161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی
خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص
کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب
کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا
اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث:
۶۳(۲۸۶۵)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(انفال:27)
خیانت
کی کئی اقسام ہیں :جیسے فرض کو ترک کرنا اللہ سے خیانت کرنا ہیں سنت کو ترک
کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنا ۔اسطرح قوم یا ادارے کی خبریں
دوسری قوم یا ادارے والوں کو بتانا یہ اپنی امانتوں میں خیانت کرنا ہے اور یہ سارے
جرم ہے ۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے ۔اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا
الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں
انھیں سپرد کرو۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 58)
قرآنِ کریم نے انسانی زندگی کی بنیاد امانت اور دیانت پررکھی
ہے اور خیانت کو ایمان، اخلاق اور معاشرت کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔خیانت صرف مال میں
بددیانتی کا نام نہیں بلکہ احکامِ شریعت سے روگردانی، فرائض میں کوتاہی، وعدہ خلافی،
اعتماد توڑنا اور نیت و نگاہ کی آلودگی بھی اسی دائرے میں شامل ہے۔اسی لیے قرآن و
حدیث میں ہر سطح پر خیانت سے بچنے اور امانت کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔قرآنِ کریم
نے خیانت کو ایک ہمہ گیر اخلاقی بیماری کے طور پر پیش کیا ہے اور انسانی زندگی کے
مختلف شعبوں میں اس کی متعدد صورتوں سے خبردار کیا ہے۔ذیل میں اس کی چند واضح اور
نمایاں مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:
(1)اللہ و رسول ﷺ سے خیانت :اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (الانفال : 27)
یعنی فرائض چھوڑ دینا اللہ کریم سے خیانت کرنا ہے اور
سنت کو ترک کرنا رسول کریم ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(2) اپنی آنکھوں کے ذریعے خیانت:اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ترجمۂ
کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(مومن:19)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(3)عدالتی خیانت:اللہ کریم ارشاد فرماتا
ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء : 107)
صراط الجنان:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا
چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن
ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے
اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے،
دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا
ہے۔(صراط الجنان، النساء ، تحت الآیت107 )
(4)اَخلاقی خیانت اور اخلاقی امانت داری :اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ
الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف :
52)
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا
اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میں
نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی
غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت
کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ کریم خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)
اس سے معلوم ہوا کہ اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے
اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک
کو اختیار کرنا چاہئے۔
(5)خیانت کا انجام:اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور
اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس
پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الانفال
: 71)
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔(صراط الجنان ، الانفال تحت الآیت 71)
اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے ذمے آنے والی
امانتوں اور ذمہ داریوں کو باخوبی ادا کرنے اور ہر قسم کی خیانت سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ
ضیاءُالمصطفیٰ
(درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى کراچی، پاکستان)
خیانت کسے کہتے ہیں خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی
پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا
یا اسلام کا یا کسی بندہ کا۔خیانت کے بارے میں پانچ قرآنی آیات کریمہ درج ذیل ہیں :
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال
،8:27)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّترجمۂ
کنزالایمان:اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔(سورۃ آلِ عمران ،3:161)
خیانت کی مذمت:پیارے اسلامی بھائیو!
اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں خیانت کی وبا بہت تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے
، امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافق کی صفت ہے ، خیانت میں
کوئی بھلائی نہیں بلکہ اس میں دنیا وآخرت کی ذِلت ورُسوائی اور تباہی وبربادی چھپی
ہوئی ہے۔ احادیث میں خیانت کی بہت شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ خیانت کی
مذمت پر چار فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ملاحظہ کیجئے :
(1) روایت ہے عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے اورجس میں ایک
عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی
جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں
بکے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:56)
(2)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا
بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر
مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ
فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان
کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے
دیکھے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث
نمبر:234 )
(3)روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور خیانت اور قرض سے پاک و صاف
ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:2921)
(4)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے
والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کیاور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781)
پیارے بھائیو!خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے جس کی
گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے
ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا ۔ کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت !خیانت اور
دھوکے کا چلن عام ہے ، مثلاً کاروباری دنیا میں تولنے ماپنے میں کمی بیشی اچھی
کوالٹی کی چیز دکھا کر گھٹیا کوالٹی کو تھما دینا نقلی دودھ، گھی ،آئل وغیرہ بیچنا
دونمبر اشیاء کو ایک نمبر بتانا مردہ جانور کا گوشت،پانی کے پریشر والا گوشت فروخت
کرنا نقلی وجعلی دوائیاں بیچناپھلوں کو اسکرین کے رنگ دار انجکشن لگا کر میٹھا
کرنا ہوٹلوں میں باسی کھانے کو خوشبو دار مصالحوں کے ذریعے تازہ کی سی شکل دے کر
گاہگوں کو کھلانا اسی طرح ملازمت میں ڈیوٹی کا وقت پورانہ کرنا مگر تنخواہ پوری لینا
ادارے کی گاڑی ،بجلی، کمپیوٹر، اے سی اور دیگر چیزوں کا ناجائز وغلط استعمال کرنا یونہی
وراثت کی تقسیم میں شرعی اصولوں کی جگہ مَن مانیاں کرنا اور حقداروں کو ان کا حق
نہ دینا، وغیرہ۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہمارے معاشرے میں مل جائیں گی ( الامان
و الحفیظ)
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خیانت اور دھوکے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ ۔
محمد
لقمان( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور
ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان
کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین
گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک ﷺ نے
فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا
حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَیعنی
جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24،
حدیث:33)یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹،
الانفال: ۲۷)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران :١٦١)
خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
محمد
عبداللہ(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان )
خیانت ایک نہایت قبیح اور قابلِ نفرت عمل ہے جو فرد،
معاشرے اور پوری قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ خیانت کا مطلب امانت میں بددیانتی،
وعدے کی خلاف ورزی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اسلام نے امانت داری کو ایمان کی
علامت قرار دیا ہے اور خیانت کو سخت گناہ بتایا ہے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ
میں خیانت کی شدید مذمت آئی ہے۔ خیانت کرنے والا نہ صرف لوگوں کا اعتماد کھو دیتا
ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا بھی مستحق بنتا ہے۔ ایک خیانت کار شخص وقتی
فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے، مگر اس کے انجام میں ذلت، رسوائی اور نقصان ہی نقصان
ہوتا ہے۔جیسا کہ رب تعالیٰ کا فرمان :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو
قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ
آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب
تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت
کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں
جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب
محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ
تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ
کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے
میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ
خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی
کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو
شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست
کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں
حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے
کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور
حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال
سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن
معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں
فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی
گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے
کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت
واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف
پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ
اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی
حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔
حضور انور ﷺ کو
جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی
دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ
عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا
یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ
کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔
تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں
نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی
قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی
ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن
کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ
اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال:58)
خیانت ایسا گناہ ہے جو انسان کے کردار کو کھوکھلا کر دیتا
ہے اور معاشرے سے اعتماد اور سکون چھین لیتا ہے۔ ایک خیانت کار نہ دنیا میں عزت
پاتا ہے اور نہ آخرت میں کامیابی۔ اگر ہم ایک بہتر، مضبوط اور پُرامن معاشرہ چاہتے
ہیں تو ہمیں خیانت سے مکمل اجتناب اور امانت داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا
ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ فرمائے، سچائی اور دیانت داری کی
توفیق عطا کرے، اور ہمیں ایسا کردار عطا فرمائے جو دوسروں کے لیے مثال بن جائے۔ آمین۔
قرآن کریم میں خیانت (بددیانتی اور دھوکہ دہی) کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدہ صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن کے
مطابق خیانت کرنے والا نہ صرف لوگوں کا مجرم ہے بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے
عہد کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔
قرآنی آیات کی روشنی میں خیانت کی مذمت کے اہم پہلو درج
ذیل ہیں:
(1)اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا:قرآن
مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں
کرتا:ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ
الانفال ،8:58)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء ،4:107)
ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو
پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج ،22:38)
(2)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت کی ممانعت:اہلِ
ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی امانتوں میں خیانت کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ
کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں:
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال ،8:27)
(3)خیانت کی سزا اور انجام:خیانت
کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں برا ہے: ترجمہ کنز العرفان: تووہ قیامت کے دن اس
چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا
پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل عمران 3:161)
رسوائی: خیانت کرنے والوں کو جہنم کے
بدترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال
دی گئی جنہوں نے خیانت کی اور آگ میں جھونکی گئیں۔
(4) خیانت کی مختلف صورتیں:قرآن و
حدیث کی روشنی میں خیانت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ اس کی دیگر اقسام بھی ہیں:معاہدوں
کی خلاف ورزی: کسی گروہ سے کیے گئے معاہدے کو دھوکے سے توڑنا خیانت ہے۔راز افشا
کرنا: کسی کے راز کو امانت نہ رکھنا اور اسے پھیلا دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا
ہے۔ناپ تول میں کمی: خرید و فروخت میں دھوکہ دہی بھی خیانت کی ایک سنگین صورت ہے۔
قرآن کے مطابق خیانت ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو اللہ
کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور اسے منافقین کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:خیانت
ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان اور معاشرے کے اعتماد کو
کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس گھناؤنے عمل کی شدید مذمت فرمائی ہے
اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیا گیا ہے اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔ اللہ
تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا
الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)
امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو
مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں
امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔
جیسے حضرت
عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا :’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم
مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت
کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام
مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)
یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ خیانت صرف دنیا کا نقصان نہیں
بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے
جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے
۔ (بخاری،کتاب
الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث ۳۳)
اللہ کریم نے فلاح حاصل
کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے :وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور
وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔(سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)
اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے
گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے
اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح
عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان،
المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹، خازن،
المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ
چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک چیز یہ ہے
کہ۔تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل بہا
الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث: ۸۱۳۰)
Dawateislami