اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ مکمل ہدایت دیتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے، اس کا طرزِ عمل کیا ہو اور ہم کن افعال و عادات کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ذیل میں قرآن کریم کی روشنی میں چند وہ اعمال ذکر کیے جا رہے ہیں جن کے سبب قیامت میں خوف و غم سے امن نجات ملے گی۔ ان شاءاللہ

(1)اللہ تعالی پر ایمان لانا: اللہ تعالی، قیامت کے دن پر ایمان لانا، اس پر قائم رہنا اور اچھے عمل کرنے کےسبب قیامت کے خوف غم سے امن کی بشارت قرآن کریم نے یوں دی ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرة:62) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

(2)اللہ تعالی کے رسولوں پر ایمان لانا: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (پ7، الانعام:48، 49)

(3) نماذ اور زکوة کی ادا کی: ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کرنے ہیں ۔جن اعمال کا دین اسلام تقاضا کرتا ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ:277)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


خوف و غم سے امن کے متعلق قرآنی آیات پڑھیے:

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:68تا70)

تفسیر: اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا : اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا نعمتیں دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے ۔

حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن منادی اعلان فرمائے گا: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) تو تمام لوگ اپنے سروں کو اٹھا لیں گے اور کہیں گے ہم اللہ کے بندے ہیں پھر دوسری بار منادی فرمائے گا: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) تو تمام کفار اپنے سروں کو جھکا لیں گے جبکہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں گے پھر تیسری بار منادی فرمائے گا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) کبیرہ گناہ کرنے والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے جبکہ متقی لوگ اسی طرح اپنے سر اٹھائے رکھیں گے اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق ان سے خوف اور غم دور کر دے گا کیونکہ وہ اکرم الاکرمین ہے وہ اپنے اولیاء کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ (صراط الجنان)

آیت مبارکہ:

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ(۵۲) یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ(۵۳) كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ(۵۴) یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ(۵۵) لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ-وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ(۵۶) فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۵۷)ترجمہ کنزالایمان: بے شک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں باغوں اور چشموں میں پہنیں گے کریب اور قنادیز آمنے سامنے یونہی ہے اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچا لیا تمہارے رب کے فضل سے یہی بڑی کامیابی ہے۔(پ25، الدخان:51تا57)

تفسیر: بے شک کفر اور گناہ کرنے میں اللہ تعالی سے ڈرنے والے ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں انہیں آفات سے امن نصیب ہوگا اور انہیں اس امن والی جگہ کے چھوٹ جانے کا کوئی خوف نہ ہوگا بلکہ یقین ہوگا کہ وہ وہیں رہیں گے وہ اس جگہ ہوں گے جہاں باغ اور بہنے والے چشمے ہوں گے وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے اور وہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس طرح ہوں گے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہوگی جنتی اسی طرح ہمیشہ دل پسند نعمتوں میں رہیں گے اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتوں سے ہم ان کی شادی کریں گے وہ جنت میں اس طرح بے خوف ہو کر اپنے جنتی خادموں کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں گے کہ انہیں کسی قسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا ، نہ میوے کم ہونے کا ، نہ ختم ہو جانے کا ، نہ نقصان پہنچانے گا نہ اور کوئی اندیشہ ہوگا۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد9)

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کا دن بڑی ہولناکیوں کا دن ہے اس دن نفسی نفسی کا عالم ہوگا ہر کوئی صرف اسی فکر میں ہوگا کہ بس کسی طرح وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ حالت یہ ہوگی کہ بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے دور بھاگے گا۔ اس قدر خوف طاری ہوگا لیکن انہی میں بعض خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز العرفان: انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

انہی خوش نصیبوں میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت کے دن بھی بے خوف اور اللہ کی طرف سے امن میں ہوں گے۔

( 1) ہدایت الٰہی کے پیروکار : اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا : قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان:ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

اس آیت مبارکہ میں بتایا گیا کہ جو لوگ ہدایت الہی کی پیروی کریں گے اور اللہ کے فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے تو ان کے لیے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بغیر غم جنت میں داخل ہوں گے۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 109 ملخصاً)

( 2) بغیر احسان جتلائے صدقہ کرنے والے : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بغیر احسان جتلائے اور بغیر تکلیف دئیے جو صدقہ کیا جائے تو اس کے سبب قیامت کے دن خوف سے امن نصیب ہوگا۔

یاد رکھیں! صدقہ دینے کے بعداحسان جتلانا اور جسے صدقہ دیا اسے تکلیف دینا ناجائز و ممنوع ہے اور اس سے صدقے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ احسان جتلانا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسرے کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور یوں اس کا دل میلا کریں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا، مفلِس تھا، مجبور تھا، نکما تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح اُس پر دباؤ ڈالیں۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 397)

( 3) اللہ کے اولیاء : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

قیامت کے دن ان ( اولیاء اللہ ) پرنہ کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ پاک نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 345)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کے ولیوں کی شان بہت بلند ہے کیونکہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرے اور اللہ پاک کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل ہر وقت اللہ پاک کی یاد میں ہو ، یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔ ( صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 344 ملخصاً)

اللہ تعالی ہم تمام کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہم تمام کو ان افراد میں شامل فرمائے کہ جو قیامت کے دن بھی خوف سے امن میں ہوں گے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔


قرآن پاک اللہ پاک کا کلام ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے بس اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا چاہیئے ۔ قرآن پاک کا موضوع انسان ہے ۔ اس میں انسان کے ظاہری و باطنی ، افعال و اقوال ، انفرادی و اجتماعی ، معاشی و معاشرتی ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی موجود ہے ۔ مندرجہ ذیل وہ آیات ہیں جن میں دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات والے اعمال بتائیں ہیں ۔

(1) ہدایت کے پیروکار: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرۃ :112)

(2) اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنا: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ :112)

(3) راہ خدا میں خرچ کرنا:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262) اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :274)

(4، 5، 6، 7)ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ :277)

(8) شہادت: فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ-وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور اپنے پیچھے(رہ جانے والے) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ4، آل عمران :177)

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے بعد والے مسلمان بھی شہید ہوکر ان کے ساتھ ملیں گے تو وہ بھی یہ نعمتیں پائیں گے اور قیامت کے دن امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ۔

(9، 10 ) تقویٰ اور پرہیز گاری اوراپنی اصلاح کرنا: فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ8، الاعراف :35)

(11) ایمان پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف :13)

(12) اللہ کے اولیاء: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

یہ خوف و غم سے نجات دلانے والے وہ اعمال ہیں جو ہمیں قرآن پاک نے ہمیں سکھائے ہیں اور ان کے فائدہ مند ہونے میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں اور ہم خود غم سے نجات بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ جبکہ ہم بیمار ہو جائیں تو ہم صحت مند ہونا صرف چاہتے نہیں ہیں بلکہ ہم کڑوی اور مہنگی دوائی کھاتے ہیں ۔ لیکن قرآن ہمیں مفت میں دنیا اور آخرت میں خوف و غم سے نجات کا راستہ بتا رہا ہے ہماری بھاری اکثریت قرآن پڑھتی سمجھتی نہیں ہے ۔ کیا ہم تفسیر سننے سنانے کے حلقے میں شرکت کرتے ہیں؟ ؟ اگر جواب نہ ہے تو یہ ہماری قرآن پاک سے محبت ہے ! جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم بھی قرآن سے محبت کرتے تھے لیکن وہ تو ساری رات قرآن پڑھتے اور سمجھتے تھے اور دنیا کی پرواہ کئے بغیر اس کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے ! تبھی تو انہوں نے عروج پایا اور ہم پستی کے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !


قرآن   ہدایت کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دلوں کے زخموں پر مرہم اور روح کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ ربِّ کریم نے قرآن میں جا بجا ایسی تعلیمات عطا فرمائی ہیں جو انسان کے دلوں کو خوف و غم سے نکال کر امن، اطمینان اور یقین کی طرف لے جاتیں ہیں۔ ان شاء اللہ اسی قرآن کی روشنی میں آج ہم جائزہ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں خوف و غم سے نجات اور امن و سکون حاصل کرنے کے کون سے راستے بتائے ہیں۔

(1): اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

تفسیر صراط الجنان: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ: بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے۔ ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اور اس کی وحدانیّت کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے،پھر وہ اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں اور انہیں یہ بشارت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم آخرت میں پیش آنے والے حالات سے نہ ڈرو اوراہل و عیال وغیرہ میں سے جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے اس کا نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مُقَدّس زبان سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔( روح البیان، حم السجدۃ، تحت الآیۃ: 30، 8 / 254-255)

(2): وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تَهِنُوْا : اور سستی نہ کرو۔ غزوۂ احد میں نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف مائل تھے۔ ان کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس کی وجہ سے غم نہ کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان کافروں نے ہمت نہ ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی اور کم ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالآخر تم ہی کامیاب ہوگے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔

(3): قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)

تفسیر صراط الجنان: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔

(4): اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)

تفسیر صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: وہ جو ایمان لائے۔اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ البتہ معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے اس لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، 2 / 451، الحدیث: 3429)


دینِ اسلام امن کا دین: بے شک دینِ اسلام وہ دین ہے کہ جو اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ خوف سے امن میں آجاتا ہے، اس حوالے سے اللہ پاک فرماتا ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گاجیسی اُن سے پہلوں کو دی اور ضرور اُن کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور اُن کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔(پ18، النور:55)

جنت امن کا مقام: بے شک جنت ایک مقام ہے جو مؤمنین کو عطا ہوگا وہ اس میں سکون و چین سے رہیں گے انہیں کسی قسم کا خوف و غم نہیں ہوگا۔ چناں نچہ اس بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے: فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ(۳۷) ترجمہ کنز الایمان: ان کے لیے دونا دون(کئی گنا)صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں۔(پ22، سبا: 37)

حشر بھی امن کا دن: حشر کا دن کہ جب ہر کسی کو صرف اپنی پڑی ہوگی اس دن بھی نیک شخص ہر خوف سے بے خوف ہوگا۔ اس بارے میں باری تعالی ارشاد فرماتا ہے: مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) ترجمہ کنز العرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔ (پ20، النمل:89)

تفسیرِ خازن میں اس آیت کے تحت ہے کہ ”آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت اور ثواب ہے اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوگی۔( خازن، النمل، تحت الآیۃ:89)

ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کے خوف وغم سے امن عطا فرمائے اور ہمیں اور ہمارے والدین و اساتذہ کو امن والے گھر جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین