آخرت کے خوف و غم کی پریشانی ہر مسلمان کو ہوتی ہے  کچھ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ایسے بھی ہے جن کو روز قیامت میں کوئی خوف اور غم نہیں ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے اپنی لاریب کتاب میں فرمایا: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

تفسیر صراط الجنان: وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔

( آیات کریمہ سے چند اہم نکات )

(1)حضور ﷺ پر نبوت ختم ہوئی ہے ولایت ختم نہیں ہوئی۔

(2)ہر زمانہ میں ایک دو ولی نہیں بلکہ بہت سارے ولی رہیں گے۔ ولایت بر حق ہے قیامت تک ولی رہیں گے۔

(3)ولی اللہ کبھی عمداًبرا کام نہیں کرتے جس سے انہیں آگے چل کر غم ہو۔

(4)کوئی مشرک ، کافر ، بد مذہب ، ولی اللہ نہیں بن سکتا۔

(5)خبردار کوئی فاسق و فاجر بے نمازی بھنگی چرسی اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔

آخرت کا خوف و غم کیسے دور کرے :

رب تعالٰی نے خود فرمایا میرے نیک بندے پر نہ خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوگا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ ایسے ہو گا ،جب ہم اللہ ورسول کی اطاعت اور فرمابراری والے کاموں میں اپنی زندگی گزاریں۔ ہر وقت اللہ تعالٰی کی یاد میں گزاریں۔ںکثرت سے قرآن مجید کی تلاقت کریں۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ حضور علیہ اسلام سے پکی سچی محبت اور حضور علیہ اسلام کی سنتیں پر عمل کریں۔ نیک لوگوں سے محبت کریں اورحقوق اللہ اور حقوق العباد بھی پورے کریں۔ حسد، تکبر، غیبت، چغل خوری اور اپنے آپ کو گناہ کے کاموں سے بچائیں، نیکی کا حکم دیں اور نیک اعمال پرعمل کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف عطا فرمائے اور آخرت کے خوف وغم سے محفوظ فرمائے، آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔