احمد رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دینی دوستی اور اللہ تعالی کی
خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے
گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو
ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور
تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا ،نعمتیں
دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں
گے۔(ابو سعود، سورت الزخرف جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 550، دارالکفر بیروت)
(1) بھلائی کی بات پر عمل کرنا: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
تفسیر: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،جلد نمبر: 1، پارہ:
1 ، سورۃ بقرہ ، آیت نمبر: 38 ، صفحہ نمبر: 119-120 مکتبۃ المدینہ)
(2) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:
274)
(3) اللہ کے ولیوں کی حرمت: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں: لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی
قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ
کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ۔ ( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، جلد نمبر:
4 ، پارہ نمبر: 11 ، آیت نمبر: 62 - 63 ، صفحہ نمبر: 344 ، مکتبۃ المدینہ )
(4) دین پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ
ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)
(5) نیک اعمال کرنا: وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ
ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ
نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر
صراط الجنان: وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ:اور
جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے: ارشاد فرمایا
کہ جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ
وعدے کے مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے
گی اور نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔( صراط الجنان فی تفسیر
القرآن ، جلد نمبر: 6 ، پارہ نمبر: 16 ، آیت نمبر: 112 ، صفحہ نمبر: 246 مکتبۃ
المدینہ )
محمد زین عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں
ہو سکتا کہ مختصر سی زندگی کے ایام گزارنے کے بعد ہر ایک کو اپنے پروردگار کی
بارگاہ میں حاضر ہو کر تمام اعمال کا حساب دینا ہے جس کے بعد رحمت الٰہی عزوجل
ہمارے طرف متوجہ ہونے کی صورت میں جنت کی اعلی نعمتیں ہمارا مقدر بنیں گی یا پھر
گناہوں کی شامت کے سبب جہنم کی ہولناک سزا ہمارا نصیب ہو گی۔العیاذ باللہ
(1)نیک اعمال کی فضیلت: وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ
الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ
زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر صراط الجنان: جو کوئی
اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے
مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی اور
نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔
(2)اللہ کی خاطر دوستی: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔(پ25،
الزخرف:68، 69)
تفسیر صراط الجنان:خلاصہ یہ ہے
کہ دینی دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل
خوش کرنے کے لئے ان سے فرمایا جائے گا: اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ
تم غمگین ہوگے۔
(3)انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام
داعی الاسلام ہیں: الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ
وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور
اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرتے اور اللہ بس(کافی) ہے حساب لینے والا۔(پ22، الاحزاب:39)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف بیان فرمایا گیا کہ وہ
اللہ تعالیٰ کے پیغامات بندوں تک پہنچاتے ہیں اور اپنے ہر عمل میں اس سے ڈرتے ہیں اور
وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے۔
(4)ولیوں پر میں نہ خوف ہے نہ غم:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے ۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان: حضرت عبداللہ بن
عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے
اللہ تعالیٰ یاد آئے۔
حافظ محمد حنین قادری ( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان اوکاڑوی سولجر بازار کراچی ،پاکستان)
قیامت کے سخت و دہشت ناک دن
مختلف لوگوں کی مختلف حالتیں ہونگی،کوئی اپنے گناہوں کے باعث سخت گرمی کا شکار
ہوگا تو کوئی اپنے ہی پسینے میں غوطے کھارہا ہوگا،الغرض کوئی کسی حالت میں ہوگا تو
کوئی کسی حالت میں مگر کچھ ایسے بھی لوگ ہونگے جنہیں کوئی خوف ہوگا نہ ہی کوئی غم،یہ
وہ لوگ ہونگے جن کے بارے میں قرآن مجید فرقان حمید میں جا بجا ارشاد ہوا ہے، آئیے وہ
کون لوگ ہیں آیات قرآنیہ کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے :
(1) ہدایت الٰہی کے پیروکاروں: کیلیے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو
قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل
ہوں گے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنزالعرفان: تو جو میری
ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ1 ، البقرۃ:38)
(2) اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان
رکھنے اور نیکوکار: ان
کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ
غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ
الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنزالعرفان: جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے
دن پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1، البقرة: 62)
(3) اللہ کی بارگاہ میں سر
جھکانے والے: ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں
نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں
داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ
عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان: جس نے اپنا
چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے
پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)
(4) راہ خدا میں مال خرچ کرنے
والے : ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں
نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں
داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں
اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)
(5) نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ
ادا کرنے والے: ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں
نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں
داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا
الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز
العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی
اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ
غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)
(6) اولیاء اللہ : ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں
نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں
داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور
ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
پیارے اور محترم قارئین ! یہ قرآن
کریم سے ان لوگوں کے بارے میں (جنہیں کل بروز قیامت کوئی خوف ہوگا نہ ہی کوئی غم
بلکہ وہ خوف و غم سے امن میں ہونگے) مختصراً پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ رب کریم بروز قیامت ان
خوش نصیبوں کے صدقہ ہمیں بھی خوف و غم سے امن عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم
محمد شہزاد عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ D-3 ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
قرآن مجید میں "خوف"
اور "غم" کے الفاظ متعدد بار آئے ہیں۔ بعض مقامات پر یہ دنیاوی حالات کے
تناظر میں آئے اور بعض مقامات پر اخروی نتائج کے طور پر۔ لیکن اکثر مواقع پر اللہ
تعالیٰ نے ان مومن بندوں کی صفات بیان کی ہیں جو خوف و غم سے محفوظ رکھے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
یہ آیت ایک عظیم بشارت ہے اُن
لوگوں کے لیے جو اللہ سے تعلق جوڑتے ہیں، اُس کی بندگی کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار
کرتے ہیں۔
قرآن میں خوف کی مختلف اقسام کا
ذکر ملتا ہے:اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ
تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں
داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)
اللہ عزوجل ہمیں اللہ تبارک و
تعالی ہمیں بھی ایمان تقوی اور اپنی رضا کی طلب میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے، ہم بھی اپنی دنیا کو اللہ کی اطاعت میں بسر کریں تاکہ ہماری آخرت میں سکون
ہو، ہمیں چاہیے کہ ہم اولیاء کرام کی صفات کو اپنانے کی کوشش کریں ان کی سیرت کو
پڑھیں، ان کی صحبت کو تلاش کریں اور ان کے طریقوں پر چلنے کی جستجو کریں تاکہ ہم
بھی خوف و غم سے آزاد ہو کر اللہ رب العالمین کے محبوب بندوں میں شامل ہوسکیں ۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد مدثر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اللہ پاک نے اپنے پاک کلام میں
کائنات بنانے سے لے کر قیامت تک کا ذکر فرمایا اللہ پاک نے اپنی تمام مخلوقات کا
ذکر فرمایا اور ان مخلوقات میں اللہ پاک کے کچھ ایسے بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا نہ انہیں کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم ہوگا اب ان میں سے بعض جگہ
کافروں کو تنبیہ کی گئی اور بعض جگہ جو اللہ پاک نیک بندے ہیں اللہ پاک نے ان کے
بارے میں ذکر فرمایا کہ نہ انہیں خوف ہوگا نہ ہی غم ہوگا، آئیے ان لوگوں کے بارے میں
چند آیات مبارکہ پڑھتے ہیں جن کے بارے میں اللہ پاک نے یہ ذکر فرمایا کہ نہ انہیں
کوئی خوف ہوگا نہ غم ہوگا:
آیت نمبر 1: اگر تمہارے پاس تم میں
کے رسول آئیں: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂ کنز الایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم
میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرےاور سنورےتو اس پر نہ کچھ
خوف اور نہ کچھ غم۔ (پ8، الاعراف:35)
آیت نمبر 2: اللہ پاک کے ولی بے
خوف و غم ہوتے ہیں: اَلَاۤ
اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
آیت نمبر (3) اور جو کچھ نیک کام
کرے:وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ
الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ
زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
آیت نمبر (4) ہم نے جب ہدایت سنی
اس پر ایمان لائے: وَّ
اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖؕ-فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ
فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی اس پر ایمان
لائے تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف نہ زیادتی کا ۔(پ29،
الجن:13)
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ تعالی
ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں بروز قیامت نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی غم
۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
سید ایاز علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک نے انسانوں کی فلاح و
کامیابی کیلئے قرآن کریم کو نازل فرمایا اور جگہ جگہ زندگی کے ہر گوشے ہر لمحے ہر
وقت کیلئے انسانوں کی رہنمائی فرمائی نیکی کا حکم دیا برائی سے منع فرمایا اور نیکی
کے کام پر ثواب کی بشارت اور گناہوں پر عذاب کی وعید سنائی اور پھر کئی جگہ قیامت
کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ حج آیت نمبر2 میں فرماتا ہے :
یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تم اسے دیکھو گے ہر
دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ
اللہ کی مار کڑی ہے۔(پ17، الحج:2)
وہ ایسا دن ہے جس میں نفسی نفسی
کا عالم ہوگا ہر فرد خوف خدا سے لرز رہا ہوگا مگر اس دن بھی ایسے لوگ موجود ہونگے
جنہیں خوف وغم سے امن ہوگا اللہ پاک نے قرآن کریم میں کئی جگہوں پر ان لوگوں کو بیان
فرمایا ، آئیے ہم پہلے خوف غم کی تعریف ملاحظہ کرتے ہیں۔
خوف کی تعریف : الخَوْفُ: اِنْفِعَالٌ فِي النَّفْسِ يَحْدُثُ
لِتَوَقُّعِ مَا يَرِدُ مِنَ الْمَكْرُوْهِ أَوْ يَفُوْتُ مِنَ الْمَحْبُوْبِ(معجم الوسیط) یعنی خوف ایسا
نفسیاتی عمل ہے جو کسی ناپسندیدہ چیز کے آنے یا محبوب چیز کے ختم ہوجانے کا امکان
پر دل میں پیدا ہو۔
غم (الحُزن) کی تعریف:الحُزْنُ: ضِدُّ الْفَرْحِِ، وَهُوَ وِجْعُ الْقَلْبِ
لِوُقُوْعِ مَا يَكرَهُ (لسان
العرب، مادہ: ح ز ن)یعنی "الحُزن( غم )خوشی کی ضد ہے۔ ایسا درد ہے جو نا پسندیدہ
چیز کے واقع ہونے کی وجہ سے دل میں پیدا ہوتا ہے۔
اللہ پاک نے قرآن کریم میں کئی
مقامات پر ان لوگوں کو بیان فرمایا جو قیامت کے دن خوف وغم سے امن میں ہونگے جن میں
سے چند کی صفات درج ذیل ہیں :
(1) ہدایت کی پیروی کرنے والے : اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
اس آیت میں اللہ پاک نے بیان
فرمایا کہ جس نے اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی کی ان کو بروز قیامت کوئی خوف کوئی غم
نہ ہوگا۔
(2)اولیاء اللہ پر خوف نہ ہوگا :
اللہ پاک فرماتا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
صراط الجنان میں فرمایا کہ ولی
اللہ سے مراد وہ شخص ہے جو جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ کا قرب حاصل کرے اور اللہ
پاک کی اطاعت میں مشغول رہے ۔(تحت ھذہ الآیۃ)
(3) ایمان لانے والے نیک اعمال کرنے والے: اللہ پاک فرماتا ہے : وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں
بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ7، الانعام:48)
اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے
آخرت میں نجات کیلئے ایمان اور اعمال دونوں شرط ہیں چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں
اسی آیت کے تحت فرمایا: معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں
ضروری ہیں ،ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان
قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے ہیں، البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ِ ایمان قطعاً بے ایمان
سے بہتر ہے۔
زین العابدین (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
قرآن پاک اللہ پاک کی عظیم اور
لاریب کتاب ہے تو اس میں ہر چیز کا کھلا اور واضح بیان ہے، قرآن پاک نے جس طرح
گزشتہ قوموں کے واقعات کو بیان فرمایا اسی طرح قیامت کی ہولناکیوں کو بھی بیان
فرمایا ، قیامت ایک سخت ترین دن ہے جس دن سورج ایک یا دو کمان کے فاصلے پر گرمی برسا
رہا ہوگا نفسی نفسی کا عالم ہوگا مگر کچھ لوگ اس وقت بھی خوف و غم سے امن میں ہوں
گے اللہ پاک نے قرآن پاک میں ان کے اوصاف کو بیان فرمایا، آئیے ہم بھی ان میں سے
چند آیات پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1) ہدایت لینے والوں کو خوشخبری
: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
(2)ایمان والوں کو خوشخبری : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ
الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک ایمان والوں نیزیہودیوں اورعیسائیوں اور
ستاروں کی پوجا کرنے والوں میں سے جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان
لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف
ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1، البقرة:62)
(3) نیکوں کے لیے خوشخبری : بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ
وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا
دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ
کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)
(4) راہ خدا میں خرچ کرنے والوں
کے لئے خوشخبری :اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا
مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں
پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام
ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)
(5 )نیک لوگوں کیلئے خوشخبری : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ
جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ(اجروثواب)
ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)
اللہ پاک سے دعا ہے کے ہمیں
قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
بجاہ النبی الامین
محمد عدیل (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
قرآن کریم میں ایمان والوں کے لیے
خوف اور غم سے نجات کو ایک عظیم نعمت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے
متعدد مقامات پر واضح فرمایا کہ جو بندے ایمان اور تقویٰ پر قائم رہتے ہیں نیک
اعمال کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر نہ دنیا میں خوف طاری ہوتا ہے
اور نہ آخرت میں غم چھوتا ہے یہ وعدہ ایمان کی پختگی عملِ صالح اور اللہ کی رضا کے
حصول کے نتیجے میں حاصل ہونے والے حقیقی امن کی نشاندہی کرتا ۔
ایمان و تقویٰ والوں کے لیے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے
پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)
ایمان اور استقامت انسان کو خوف
و غم سے نجات دلاتے ہیں۔
اولیاء اللہ کے لیے امن و سکون: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
اللہ کے مقرب بندے دنیا و آخرت
میں اطمینان و سکون پاتے ہیں۔
جنت میں خوف و غم کا خاتمہ: -اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ
تم کو اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:49)
جنتی ہمیشہ کے لیے امن و راحت میں
ہوں گے۔
انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں
کے لیے امن: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اپنے
مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان
کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3،
البقرۃ: 262)
قیامت کے دن نیکی کرنے والوں کے
لیے امن: مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ
هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) ترجمہ کنز العرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر
صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔ (پ20، النمل:89)
نیک اعمال آخرت کے خوف سے حفاظت
کا سبب ہیں۔
خوف و غم سے نجات کا یہ قرآنی پیغام
دراصل ایمان و عملِ صالح کی طرف دعوت ہے۔ جو بندہ اللہ کے احکام پر ثابت قدم رہے
اسے دنیا و آخرت میں حقیقی امن نصیب ہوتا ہے۔
فیضان علی (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح قرآن
پاک میں اللہ سے ڈرنے کا حکم موجود ہے اسی طرح خوف و غم سے امن کا قرآنی بیان بھی
موجود ہے ،ان میں سے چند آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں :
(1) نہ کمی کا خوف نہ زیادتی کا
خوف :وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖؕ-فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ
بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی اس پر ایمان لائے تو
جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف نہ زیادتی کا ۔(پ29، الجن:13)
وَ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰى: اور یہ کہ ہم نے
جب ہدایت (قرآن) کو سنا: ایمان قبول کرنے والے جِنّات نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہم
نے جب اس قرآنِ پاک کوسنا جو سب سے سیدھی راہ دکھاتاہے تو ہم کسی تاخیر اور شک کے
بغیر فوراًاس پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی تصدیق کر دی تو جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ
پر اور جس قرآن کو اس نے نازل کیا اس پر ایمان لائے تو اسے نیکیوں یا ثواب کی کسی
کمی کا خوف ہے اور نہ بدیوں کی کسی زیادتی کا ڈر ہے(تو اے ہمارے ساتھیو! تم بھی
ہماری طرح قرآن اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
پر ایمان لے آؤ)۔( روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۱۹۵، قرطبی، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۱۳، الجزء التاسع عشر، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴ / ۳۱۷، ملتقطاً)
(2) نہ ان پر خوف نہ ان کو غم :اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے
ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(3) نہ تم پر خوف نہ تم کو غم : یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ
اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل
ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:68تا70)
(4) خوف کو امن سے تبدیل : وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ
الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ
اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ
بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۵۵) ترجمہ کنزالایمان: اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے
اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی اُن سے پہلوں کو دی اور
ضرور اُن کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور
اُن کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں
اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں۔(پ18،النور:55)
اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
احسن نور محمد (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے
خوش نصیب مومنین کا ذکر فرمایا ہے جنہیں دنیا اور آخرت میں خوف اور غم سے نجات کی
خوشخبری دی گئی ہے یہ ان بندوں کو حاصل ہے جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں، تقویٰ
اختیار کرتے ہیں اور اللہ کی ہدایت پر چلتے ہیں، آیئے ان میں سے چند کے متعلق آیات
کریمہ پڑھیے اور ایمان تازہ کیجیے:
ایمان اور تقویٰ والوں کے لیے
خوشخبری: اللہ تعالیٰ سورۃ یونس آیات 62
تا 63 میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایمان اور
تقویٰ انسان کو خوف و غم سے بچانے کا اصل ذریعہ ہیں جو بندہ ایمان پر قائم رہتا ہے
اور گناہوں سے بچتا ہے وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے اور اس پر دنیا اور آخرت کے خوف
اور غم کا اثر نہیں ہوتا۔
ہدایت پر چلنے والوں کے لیے امن:اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ آیت 38
میں فرماتا ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے
نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
نیک اعمال کرنے والوں کے لیے
بشارت: اللہ تعالیٰ سورۃ النحل آیت 97
میں ارشاد فرماتا ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ
ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ
اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو
تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے
میں ان کا اجر دیں گے۔(پ14، النحل:97)
قیامت کے دن اہل ایمان کی حالت: اللہ تعالیٰ سورۃ الزخرف آیات 68
تا 69 میں فرماتا ہے: یٰعِبَادِ
لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر
خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔(پ25،
الزخرف:68، 69)
قیامت کا وہ دن جب ہر شخص سخت
گھبراہٹ میں ہوگا اللہ کے فرمانبردار بندے خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ یہ مقام ایمان،
تقویٰ اور اطاعت کے نتیجے میں نصیب ہوگا۔
قرآن کی یہ آیات ہمیں یہ سبق دیتی
ہیں کہ خوف اور غم سے نجات کے لیے ایمان، تقویٰ، نیک اعمال اور اللہ کی ہدایت پر
چلنا ضروری ہے جو شخص اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارے وہ دنیا میں بھی دل
کا سکون پاتا ہے اور آخرت میں بھی امن و عافیت کا مستحق بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم
اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب
لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کے لیے اللہ نے خوف اور غم سے آزادی کا وعدہ فرمایا ہے۔
آمین
ہر مسلمان ایمان کی حفاظت اور قیامت کے خوف و غم میں
رہتا ہے اور وہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ کسی طرح اسکو ایمان
کی حفاظت اور قیامت کے خوف و غم سے امن مل جائے۔آج ہم ایسے ہی نیک بندوں کے متعلق
بات کریں گے جن کو اللہ پاک نے خوف و غم سے امن کی بشارت دی ہے۔کیونکہ قرآن مجید ایسی
نورانی کتاب ہے جو انسان کے دل کو سکون، فکر کو یقین، اور غم کو صبر میں بدلنے کا
بہترین نسخہ عطا فرماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی نیک بندوں کو خوف و غم سے امن
کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ وعدہ فرمایا کہ نہ ان پر خوف ہو گا، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ
موضوع ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان، صبر، توکل اور ذکر، کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے نیک
بندوں کو خوف و غم سے امن و سکون کی خوشخبری سناتا ہے، ان کے متعلق قرآنی آیات میں
بیان موجود ہے۔
(1) ہدایتِ الٰہی کے پیروکاروں
کو خوف و غم سے امن کی بشارت: فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی
ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ
غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
اس آیت کریمہ میں واضح الفاظ میں
ھدایت الٰہی کے پیرو کاروں کے لیے خوف وغم سے امن کی بشارت موجود ہے کہ ان نیک
بندوں کو نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ یہ
حضرات بے خوف وغم جنت میں داخل ہوں گے۔
(2) خوف وغم سے امن کا حقیقی معیار
ایمان صحیح اور عمل صالح ہے: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ
اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا
دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ
کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)
یہ آیت مبارکہ ہمیں جنجھوڑ کر
سمجھا رہی کہ اگر کسی کو قیامت کی بڑی گھبراہٹ وغم سے امن وسلامتی چاہیے تو دو چیزیں
پوری کرلو تو تمہارے لیے قیامت کی بڑی گھبراہٹ وغم سے امن وسلامتی کی بشارت ہے۔وہ
دوچیزیں یہ ہیں: ایمان صحیح اور دوسرے نمبر پر عمل صالح جو بھی شخص ان دو چیزوں کو
مضبوطی سے تھام کے رکھے گا وہ خوف وغم سے امن وسلامتی پالے گا۔
(3) خالص اللہ پاک کی رضا کے لیے
اللہ پاک کے دیے ہوئے مال کو خرچ کرنے والوں کو خوف وغم سے امن کی بشارت : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا
مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں
پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام
ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)
اس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے
ہمیں بتایا کہ جو نعمتیں میں نے تمہیں دی ہیں اسکو خالص میری رضا کے لیے میری راہ میں خرچ کرو تو میں تمہیں قیامت کے خوف وغم سے امن
وسلامتی عطا فرماؤں گا ، مال بھی اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے اسکو اللہ پاک کی راہ میں
خرچ کرنا چاہیے کہ خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔
(4) اولیاء اللہ کو خوف وغم سے
امن کی بشارت : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے
اپنے اولیاء کرام کو قیامت کے خوف وغم سے امن کی بشارت دی ہے
کیونکہ اولیاء اللہ ہوتے ہی وہ
ہیں جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرتے ہیں اور اولیاء کرام اللہ
پاک کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں اور اِن کے دل اللہ پاک کے نور جلال کی معرفت میں
مستغرق رہتے ہیں ، جب دیکھتے ہیں تو قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھتےہیں اور جب
سنتے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنتے ہیں اور جب بولتے تو اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولتے ہیں اور جب حرکت کرتےہیں،تو اطاعتِ الٰہی میں
حرکت کرتےہیں کیوں نہ پھر انکا اللہ پاک حامی
وناصر ہو کیوں نہ انکو خوف وغم سے امن وسلامتی کی بشارت ملے کیوں نہ انکی دعائیں مقبول ہوں۔
اللہ پاک اِن اولیاء کرام کے صدقے میں ہمیں بھی
قیامت کے خوف وغم سے امن وسلامتی کا پروانہ دے۔ اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ
پاک ان آیات کریمہ کو صحیح انداز میں سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
ساجد علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کراچی کورنگی کراچی
انسان فطری طور پر دنیا میں پیش
آنے والے خطرات سے خوف محسوس کرتا اور غم زدہ ہوتا ہے تو جس طرح دنیا میں انسان کو
خوف و غم کی فکر لاحق ہوتی ہے اسی طرح ایک کامل مؤمن کو آخرت میں پیش آنے والی
ہولناکیوں کے متعلق خوف و غم رہتا ہے اور بندہ مؤمن اس آخرت کے خوف و غم سےامن
پانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اس کے لیے کوششیں کرتا رہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے
کچھ ایسے مقبول بندے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام، قرآن مجید میں
آخرت کے خوف اور قیامت کی گھبراہٹ سے نجات کی نوید سنائی ہے ،یہاں چند وہ آیات مبارکہ
بیان کی جاتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل بندوں، اپنے اولیاءکرام اور ایمان
پر ثابت قدم رہنے والوں کو قیامت کی بڑی گھبراہٹوں اور آخرت کی ہولناکیوں سے نجات
کی بشارت عطا فرمائی ہے :
(1) ہدایتِ الہی کی پیروی کرنے والوں کےلیے خوف و غم سے امن کی بشارت: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنزالعرفان: تو جو میری
ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
اس آیت مبارکہ میں ہدایتِ الہٰی
کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور
نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
(2) رضائے الٰہی کی خاطر مال خرچ کرنے والوں کے لیے خوف و
غم سے امن کی بشارت: اَلَّذِیْنَ
یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ
اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں
خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں
ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں
گے۔ (پ3، البقرۃ:262)
(3) پرہیزگاروں اور نیک عمل کرنے والوں کو آخرت کے خوف و غم
سے امن ملے گا: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵)
ترجمہ کنز العرفان: اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں سے وہ
رسول تشریف لائیں جو تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت کریں تو جو پرہیزگاری اختیار
کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(پ8، الاعراف:35)
اس آیت میں اولادِ آدم سے خطاب
ہے کہ اے اولادِ آدم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو تمہیں اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اُسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور
ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے
کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و
کرم سے بہرہ وَر ہوں گے ۔(تفسیر صراط الجنان، جلد 3 ، ص310 مکتبۃ المدینہ )
(4) توحید پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے خوف و غم سے امن کی
بشارت: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ
ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)
اس آیت میں توحید پر ثابت قدم
رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت عطا فرمائی ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ تو قیامت
میں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی موت کے وقت غمگین ہوں گے ۔
(5) اولیاء کرام رحمہم اللہ کو قیامت کے دن نہ کوئی خوف
ہوگا نہ کوئی غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر
اولیاء کرام رحمہم اللہ کی شان بیان کی گئی ہے اور یہ بشارت اللہ پاک نے عطا فرمائی
ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کے دن کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی یہ غمگین ہوں گے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ
فرامین باری تعالیٰ پڑھ کر یقیناً دل میں یہ اُمنگ پیدا ہوئی ہوگی کہ کاش ہمارا بھی
ان نیک لوگوں میں شمار ہو اور ہم بھی قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے نجات پا جائیں
تو اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ پاک کے دیئے گئے احکامات پر عمل پیرا ہوں اور خوب
اعمال صالحہ کر کے ان نیک لوگوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں ۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید
کرتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان نیک لوگوں کی فہرست میں
شامل فرمائے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں اور گھبراہٹوں سے
نجات عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami