اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے خوش نصیب مومنین کا ذکر فرمایا ہے جنہیں دنیا اور آخرت میں خوف اور غم سے نجات کی خوشخبری دی گئی ہے یہ ان بندوں کو حاصل ہے جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں، تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اللہ کی ہدایت پر چلتے ہیں، آیئے ان میں سے چند کے متعلق آیات کریمہ پڑھیے اور ایمان تازہ کیجیے:

ایمان اور تقویٰ والوں کے لیے خوشخبری: اللہ تعالیٰ سورۃ یونس آیات 62 تا 63 میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)

یہ آیت بتاتی ہے کہ ایمان اور تقویٰ انسان کو خوف و غم سے بچانے کا اصل ذریعہ ہیں جو بندہ ایمان پر قائم رہتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے اور اس پر دنیا اور آخرت کے خوف اور غم کا اثر نہیں ہوتا۔

ہدایت پر چلنے والوں کے لیے امن:اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ آیت 38 میں فرماتا ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)

نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بشارت: اللہ تعالیٰ سورۃ النحل آیت 97 میں ارشاد فرماتا ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر دیں گے۔(پ14، النحل:97)

قیامت کے دن اہل ایمان کی حالت: اللہ تعالیٰ سورۃ الزخرف آیات 68 تا 69 میں فرماتا ہے: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔(پ25، الزخرف:68، 69)

قیامت کا وہ دن جب ہر شخص سخت گھبراہٹ میں ہوگا اللہ کے فرمانبردار بندے خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ یہ مقام ایمان، تقویٰ اور اطاعت کے نتیجے میں نصیب ہوگا۔

قرآن کی یہ آیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ خوف اور غم سے نجات کے لیے ایمان، تقویٰ، نیک اعمال اور اللہ کی ہدایت پر چلنا ضروری ہے جو شخص اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارے وہ دنیا میں بھی دل کا سکون پاتا ہے اور آخرت میں بھی امن و عافیت کا مستحق بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کے لیے اللہ نے خوف اور غم سے آزادی کا وعدہ فرمایا ہے۔ آمین