قیامت کے سخت و دہشت ناک دن مختلف لوگوں کی مختلف حالتیں ہونگی،کوئی اپنے گناہوں کے باعث سخت گرمی کا شکار ہوگا تو کوئی اپنے ہی پسینے میں غوطے کھارہا ہوگا،الغرض کوئی کسی حالت میں ہوگا تو کوئی کسی حالت میں مگر کچھ ایسے بھی لوگ ہونگے جنہیں کوئی خوف ہوگا نہ ہی کوئی غم،یہ وہ لوگ ہونگے جن کے بارے میں قرآن مجید فرقان حمید میں جا بجا ارشاد ہوا ہے، آئیے وہ کون لوگ ہیں آیات قرآنیہ کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے :

(1) ہدایت الٰہی کے پیروکاروں: کیلیے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ1 ، البقرۃ:38)

(2) اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے اور نیکوکار: ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنزالعرفان: جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1، البقرة: 62)

(3) اللہ کی بارگاہ میں سر جھکانے والے: ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان: جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)

(4) راہ خدا میں مال خرچ کرنے والے : ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)

(5) نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے: ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)

(6) اولیاء اللہ : ان کیلیے بھی بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہونگے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

پیارے اور محترم قارئین ! یہ قرآن کریم سے ان لوگوں کے بارے میں (جنہیں کل بروز قیامت کوئی خوف ہوگا نہ ہی کوئی غم بلکہ وہ خوف و غم سے امن میں ہونگے) مختصراً پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ رب کریم بروز قیامت ان خوش نصیبوں کے صدقہ ہمیں بھی خوف و غم سے امن عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم