قرآن مجید میں "خوف" اور "غم" کے الفاظ متعدد بار آئے ہیں۔ بعض مقامات پر یہ دنیاوی حالات کے تناظر میں آئے اور بعض مقامات پر اخروی نتائج کے طور پر۔ لیکن اکثر مواقع پر اللہ تعالیٰ نے ان مومن بندوں کی صفات بیان کی ہیں جو خوف و غم سے محفوظ رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

یہ آیت ایک عظیم بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ سے تعلق جوڑتے ہیں، اُس کی بندگی کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

قرآن میں خوف کی مختلف اقسام کا ذکر ملتا ہے:اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)

اللہ عزوجل ہمیں اللہ تبارک و تعالی ہمیں بھی ایمان تقوی اور اپنی رضا کی طلب میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، ہم بھی اپنی دنیا کو اللہ کی اطاعت میں بسر کریں تاکہ ہماری آخرت میں سکون ہو، ہمیں چاہیے کہ ہم اولیاء کرام کی صفات کو اپنانے کی کوشش کریں ان کی سیرت کو پڑھیں، ان کی صحبت کو تلاش کریں اور ان کے طریقوں پر چلنے کی جستجو کریں تاکہ ہم بھی خوف و غم سے آزاد ہو کر اللہ رب العالمین کے محبوب بندوں میں شامل ہوسکیں ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ