پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح قرآن پاک میں اللہ سے ڈرنے کا حکم موجود ہے اسی طرح خوف و غم سے امن کا قرآنی بیان بھی موجود ہے ،ان میں سے چند آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں :

(1) نہ کمی کا خوف نہ زیادتی کا خوف :وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖؕ-فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی اس پر ایمان لائے تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف نہ زیادتی کا ۔(پ29، الجن:13)

وَ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰى: اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت (قرآن) کو سنا: ایمان قبول کرنے والے جِنّات نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہم نے جب اس قرآنِ پاک کوسنا جو سب سے سیدھی راہ دکھاتاہے تو ہم کسی تاخیر اور شک کے بغیر فوراًاس پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی تصدیق کر دی تو جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر اور جس قرآن کو اس نے نازل کیا اس پر ایمان لائے تو اسے نیکیوں یا ثواب کی کسی کمی کا خوف ہے اور نہ بدیوں کی کسی زیادتی کا ڈر ہے(تو اے ہمارے ساتھیو! تم بھی ہماری طرح قرآن اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آؤ)۔( روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۱۹۵، قرطبی، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۱۳، الجزء التاسع عشر، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴ / ۳۱۷، ملتقطاً)

(2) نہ ان پر خوف نہ ان کو غم :اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

(3) نہ تم پر خوف نہ تم کو غم : یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:68تا70)

(4) خوف کو امن سے تبدیل : وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۵۵) ترجمہ کنزالایمان: اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی اُن سے پہلوں کو دی اور ضرور اُن کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور اُن کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں۔(پ18،النور:55)

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین