احمد رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دینی دوستی اور اللہ تعالی کی
خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے
گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو
ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور
تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا ،نعمتیں
دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں
گے۔(ابو سعود، سورت الزخرف جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 550، دارالکفر بیروت)
(1) بھلائی کی بات پر عمل کرنا: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
تفسیر: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،جلد نمبر: 1، پارہ:
1 ، سورۃ بقرہ ، آیت نمبر: 38 ، صفحہ نمبر: 119-120 مکتبۃ المدینہ)
(2) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:
274)
(3) اللہ کے ولیوں کی حرمت: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں: لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی
قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ
کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ۔ ( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، جلد نمبر:
4 ، پارہ نمبر: 11 ، آیت نمبر: 62 - 63 ، صفحہ نمبر: 344 ، مکتبۃ المدینہ )
(4) دین پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ
ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)
(5) نیک اعمال کرنا: وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ
ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ
نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر
صراط الجنان: وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ:اور
جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے: ارشاد فرمایا
کہ جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ
وعدے کے مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے
گی اور نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔( صراط الجنان فی تفسیر
القرآن ، جلد نمبر: 6 ، پارہ نمبر: 16 ، آیت نمبر: 112 ، صفحہ نمبر: 246 مکتبۃ
المدینہ )
Dawateislami