محمد زین عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں
ہو سکتا کہ مختصر سی زندگی کے ایام گزارنے کے بعد ہر ایک کو اپنے پروردگار کی
بارگاہ میں حاضر ہو کر تمام اعمال کا حساب دینا ہے جس کے بعد رحمت الٰہی عزوجل
ہمارے طرف متوجہ ہونے کی صورت میں جنت کی اعلی نعمتیں ہمارا مقدر بنیں گی یا پھر
گناہوں کی شامت کے سبب جہنم کی ہولناک سزا ہمارا نصیب ہو گی۔العیاذ باللہ
(1)نیک اعمال کی فضیلت: وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ
الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ
زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر صراط الجنان: جو کوئی
اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے
مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی اور
نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔
(2)اللہ کی خاطر دوستی: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔(پ25،
الزخرف:68، 69)
تفسیر صراط الجنان:خلاصہ یہ ہے
کہ دینی دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل
خوش کرنے کے لئے ان سے فرمایا جائے گا: اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ
تم غمگین ہوگے۔
(3)انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام
داعی الاسلام ہیں: الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ
وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور
اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرتے اور اللہ بس(کافی) ہے حساب لینے والا۔(پ22، الاحزاب:39)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف بیان فرمایا گیا کہ وہ
اللہ تعالیٰ کے پیغامات بندوں تک پہنچاتے ہیں اور اپنے ہر عمل میں اس سے ڈرتے ہیں اور
وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے۔
(4)ولیوں پر میں نہ خوف ہے نہ غم:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے ۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان: حضرت عبداللہ بن
عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے
اللہ تعالیٰ یاد آئے۔
Dawateislami