سید ایاز علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک نے انسانوں کی فلاح و
کامیابی کیلئے قرآن کریم کو نازل فرمایا اور جگہ جگہ زندگی کے ہر گوشے ہر لمحے ہر
وقت کیلئے انسانوں کی رہنمائی فرمائی نیکی کا حکم دیا برائی سے منع فرمایا اور نیکی
کے کام پر ثواب کی بشارت اور گناہوں پر عذاب کی وعید سنائی اور پھر کئی جگہ قیامت
کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ حج آیت نمبر2 میں فرماتا ہے :
یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تم اسے دیکھو گے ہر
دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ
اللہ کی مار کڑی ہے۔(پ17، الحج:2)
وہ ایسا دن ہے جس میں نفسی نفسی
کا عالم ہوگا ہر فرد خوف خدا سے لرز رہا ہوگا مگر اس دن بھی ایسے لوگ موجود ہونگے
جنہیں خوف وغم سے امن ہوگا اللہ پاک نے قرآن کریم میں کئی جگہوں پر ان لوگوں کو بیان
فرمایا ، آئیے ہم پہلے خوف غم کی تعریف ملاحظہ کرتے ہیں۔
خوف کی تعریف : الخَوْفُ: اِنْفِعَالٌ فِي النَّفْسِ يَحْدُثُ
لِتَوَقُّعِ مَا يَرِدُ مِنَ الْمَكْرُوْهِ أَوْ يَفُوْتُ مِنَ الْمَحْبُوْبِ(معجم الوسیط) یعنی خوف ایسا
نفسیاتی عمل ہے جو کسی ناپسندیدہ چیز کے آنے یا محبوب چیز کے ختم ہوجانے کا امکان
پر دل میں پیدا ہو۔
غم (الحُزن) کی تعریف:الحُزْنُ: ضِدُّ الْفَرْحِِ، وَهُوَ وِجْعُ الْقَلْبِ
لِوُقُوْعِ مَا يَكرَهُ (لسان
العرب، مادہ: ح ز ن)یعنی "الحُزن( غم )خوشی کی ضد ہے۔ ایسا درد ہے جو نا پسندیدہ
چیز کے واقع ہونے کی وجہ سے دل میں پیدا ہوتا ہے۔
اللہ پاک نے قرآن کریم میں کئی
مقامات پر ان لوگوں کو بیان فرمایا جو قیامت کے دن خوف وغم سے امن میں ہونگے جن میں
سے چند کی صفات درج ذیل ہیں :
(1) ہدایت کی پیروی کرنے والے : اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
اس آیت میں اللہ پاک نے بیان
فرمایا کہ جس نے اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی کی ان کو بروز قیامت کوئی خوف کوئی غم
نہ ہوگا۔
(2)اولیاء اللہ پر خوف نہ ہوگا :
اللہ پاک فرماتا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
صراط الجنان میں فرمایا کہ ولی
اللہ سے مراد وہ شخص ہے جو جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ کا قرب حاصل کرے اور اللہ
پاک کی اطاعت میں مشغول رہے ۔(تحت ھذہ الآیۃ)
(3) ایمان لانے والے نیک اعمال کرنے والے: اللہ پاک فرماتا ہے : وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں
بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ7، الانعام:48)
اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے
آخرت میں نجات کیلئے ایمان اور اعمال دونوں شرط ہیں چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں
اسی آیت کے تحت فرمایا: معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں
ضروری ہیں ،ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان
قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے ہیں، البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ِ ایمان قطعاً بے ایمان
سے بہتر ہے۔
Dawateislami