ہر   مسلمان ایمان کی حفاظت اور قیامت کے خوف و غم میں رہتا ہے اور وہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ کسی طرح اسکو ایمان کی حفاظت اور قیامت کے خوف و غم سے امن مل جائے۔آج ہم ایسے ہی نیک بندوں کے متعلق بات کریں گے جن کو اللہ پاک نے خوف و غم سے امن کی بشارت دی ہے۔کیونکہ قرآن مجید ایسی نورانی کتاب ہے جو انسان کے دل کو سکون، فکر کو یقین، اور غم کو صبر میں بدلنے کا بہترین نسخہ عطا فرماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی نیک بندوں کو خوف و غم سے امن کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ وعدہ فرمایا کہ نہ ان پر خوف ہو گا، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ موضوع ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان، صبر، توکل اور ذکر، کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو خوف و غم سے امن و سکون کی خوشخبری سناتا ہے، ان کے متعلق قرآنی آیات میں بیان موجود ہے۔

(1) ہدایتِ الٰہی کے پیروکاروں کو خوف و غم سے امن کی بشارت: فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

اس آیت کریمہ میں واضح الفاظ میں ھدایت الٰہی کے پیرو کاروں کے لیے خوف وغم سے امن کی بشارت موجود ہے کہ ان نیک بندوں کو نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ یہ حضرات بے خوف وغم جنت میں داخل ہوں گے۔

(2) خوف وغم سے امن کا حقیقی معیار ایمان صحیح اور عمل صالح ہے: بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)

یہ آیت مبارکہ ہمیں جنجھوڑ کر سمجھا رہی کہ اگر کسی کو قیامت کی بڑی گھبراہٹ وغم سے امن وسلامتی چاہیے تو دو چیزیں پوری کرلو تو تمہارے لیے قیامت کی بڑی گھبراہٹ وغم سے امن وسلامتی کی بشارت ہے۔وہ دوچیزیں یہ ہیں: ایمان صحیح اور دوسرے نمبر پر عمل صالح جو بھی شخص ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھام کے رکھے گا وہ خوف وغم سے امن وسلامتی پالے گا۔

(3) خالص اللہ پاک کی رضا کے لیے اللہ پاک کے دیے ہوئے مال کو خرچ کرنے والوں کو خوف وغم سے امن کی بشارت : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)

اس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے ہمیں بتایا کہ جو نعمتیں میں نے تمہیں دی ہیں اسکو خالص میری رضا کے لیے میری راہ میں خرچ کرو تو میں تمہیں قیامت کے خوف وغم سے امن وسلامتی عطا فرماؤں گا ، مال بھی اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے اسکو اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے کہ خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔

(4) اولیاء اللہ کو خوف وغم سے امن کی بشارت : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنے اولیاء کرام کو قیامت کے خوف وغم سے امن کی بشارت دی ہے

کیونکہ اولیاء اللہ ہوتے ہی وہ ہیں جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرتے ہیں اور اولیاء کرام اللہ پاک کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں اور اِن کے دل اللہ پاک کے نور جلال کی معرفت میں مستغرق رہتے ہیں ، جب دیکھتے ہیں تو قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھتےہیں اور جب سنتے ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنتے ہیں اور جب بولتے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولتے ہیں اور جب حرکت کرتےہیں،تو اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرتےہیں کیوں نہ پھر انکا اللہ پاک حامی وناصر ہو کیوں نہ انکو خوف وغم سے امن وسلامتی کی بشارت ملے کیوں نہ انکی دعائیں مقبول ہوں۔

اللہ پاک اِن اولیاء کرام کے صدقے میں ہمیں بھی قیامت کے خوف وغم سے امن وسلامتی کا پروانہ دے۔ اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ان آیات کریمہ کو صحیح انداز میں سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین