قرآن کریم میں ایمان والوں کے لیے خوف اور غم سے نجات کو ایک عظیم نعمت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر واضح فرمایا کہ جو بندے ایمان اور تقویٰ پر قائم رہتے ہیں نیک اعمال کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر نہ دنیا میں خوف طاری ہوتا ہے اور نہ آخرت میں غم چھوتا ہے یہ وعدہ ایمان کی پختگی عملِ صالح اور اللہ کی رضا کے حصول کے نتیجے میں حاصل ہونے والے حقیقی امن کی نشاندہی کرتا ۔

ایمان و تقویٰ والوں کے لیے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)

ایمان اور استقامت انسان کو خوف و غم سے نجات دلاتے ہیں۔

اولیاء اللہ کے لیے امن و سکون: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)

اللہ کے مقرب بندے دنیا و آخرت میں اطمینان و سکون پاتے ہیں۔

جنت میں خوف و غم کا خاتمہ: -اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:49)

جنتی ہمیشہ کے لیے امن و راحت میں ہوں گے۔

انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کے لیے امن: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 262)

قیامت کے دن نیکی کرنے والوں کے لیے امن: مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) ترجمہ کنز العرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔ (پ20، النمل:89)

نیک اعمال آخرت کے خوف سے حفاظت کا سبب ہیں۔

خوف و غم سے نجات کا یہ قرآنی پیغام دراصل ایمان و عملِ صالح کی طرف دعوت ہے۔ جو بندہ اللہ کے احکام پر ثابت قدم رہے اسے دنیا و آخرت میں حقیقی امن نصیب ہوتا ہے۔