خوف اور غم سے چھٹکارا: اس ضمن میں ایک آیت کریمہ میں بتایا جاتا ہے کہ قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ- هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38، 39)

اس آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

ایمان پرامن: ایمان پر امن کے حوالے سے ایک آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)

اس آیت کے ضمن میں ایک واقعے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)

ان آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کا اصل سکون اور امن صرف اپنے رب پر کامل یقین، اس کی یاد، اور اس کی طرف رجوع میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کے خوف، غم، تکلیفیں اور آزمائشیں انسان کو وقتی طور پر کمزور کر سکتی ہیں، مگر قرآن اسے ایک ایسی روشنی فراہم کرتا ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔

جب انسان اپنے رب کی طرف پوری توجہ کے ساتھ رجوع کرتا ہے، تو دل مطمئن ہو جاتا ہے، اور ذہن کو وہ امن نصیب ہوتا ہے جو دنیا کی کسی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ خوف و غم کی کیفیت میں قرآن انسان کو ثابت قدمی، امید، اور یقین عطا کرتا ہے، اور اسے سکھاتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے، اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی۔