محمد اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قیامت کا دن انتہائی ہولناک اور
خوفناک ہو گا، جب ہر شخص کو اپنی فکر ہو گی۔جس دن اللہ عزوجل کے عرش کے سائے کے
علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا لیکن قرآن و حدیث میں کچھ خوش نصیب لوگوں کا ذکر ہے جنہیں
اس دن کوئی خوف اور غم نہیں ہو گا اور وہ سب امن کے گہوارے میں ہونگے یہ وہ لوگ ہیں
جو دنیا میں اللہ ورسول عزوجل و ﷺ کے احکام پر عمل کرتے رہے ہونگےاور اللہ عزوجل
کے خوف سے گناہوں سے بچتے رہےاور نیک اعمال کرتے رہےاور انہوں نے دنیا میں ایمان،
تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی وہ قیامت کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے۔
آئیے ایسے لوگوں کا ذکر خیر قرآن پاک کی روشنی میں پڑھتے ہیں:
(1)اللہ عزوجل کو رب ماننے والے:وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب
اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلینﷺ کی شریعت پر آخری دم
تک ثابت قدم رہے، تو اللہ عزوجل نے اپنے ایسے بندوں کی تعریف قرآن کریم میں یوں
فرمائی: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ
اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ وہ جنت والے
ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(2)پرہیز گاری اختیار کرنے والے:
ارشاد باری تعالٰی ہے: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ
عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ
کنزالایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے
تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)
تفسیر:اس آیت میں اولادِ آدم
سے خطاب ہے کہ اے اولادِ آدم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو
تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اُسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار
کرے گا اور ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت
کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں
کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے ۔ چنانچہ
ا س دن کتنے ہی لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے، جیسا
کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے جلال کی وجہ سے
آپس میں محبت کرنے والوں کیلئے (قیامت کے دن) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاءعَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہدا بھی رشک کریں گے۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء
فی الحب فی اللہ، 6/ 176، الحدیث: 2397)
(3)نیک اعمال کرنے والے: ایمان کی حالت میں نیک اعمال
کرنے والے خوف و غم سے محفوظ ہوکر امن کے گہوارے میں ہونگے جیسا کہ ارشاد باری
تعالٰی ہے : وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ
فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ
زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
(4)اولیاء اللہ: وہ لوگ ہے جو فرائض کی ادائیگی
سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور
ان کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی
کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں
حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ تو ان
کے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
(5)دینی دوستی اور اللہ کی خاطر
محبت رکھنے والے : دینی
دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے
کے لئے ان سے فرمایا جائے گا: اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا
الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ
تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا
مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ
تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: گہرے دوست اس
دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل
ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:67تا70)
اللہ عزوجل سے دعا ہے ہمیں اپنے
مقبول بندوں میں قبول فرما کر ہم سب کی بے حساب مغفرت وبخشش فرمائے ۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین۔
Dawateislami