قرآن مجید میں روز قیامت کے خوف (ڈر) اور غم
(پریشانی) سے امن کی بشارت بار بار دی گئی ہے۔ یہ تصور بنیادی طور پر ایمان، صبر
اور اللہ پر توکل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چند اہم نکات اور آیات درج ذیل ہیں:
(1) اہلِ ایمان کے لیے خوف و حزن
سے نجات :اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
(2) اللہ کی مدد ساتھ ہونا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ
اَنْ یَّطْغٰى(۴۵) قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ
اَرٰى(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان:
دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب بےشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت
سے پیش آئے۔فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا(پ16، طٰہٰ:45،
46)
قرآن کا پیغام یہ ہے کہ ایمان،
تقویٰ، صبر، اور اللہ پر بھروسہ انسان کو دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات دلاتا
ہے۔ جو شخص اللہ کا ولی اور دوست بن جاتا ہے، اس کے لیے اللہ کی طرف سے سکون، اطمینان
اور امن کی ضمانت ہے۔
Dawateislami