بروز قیامت خوف و غم سے امن والا کون ہے ، اس کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے ، چند آیات ملاحظہ کیجیے:

قرآنی بیان نمبر1: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)

قرآنی بیان نمبر:2 فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ کنزالایمان: جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)

"تقوی" کا ایک معنی ڈرنا(خوف) بھی ہے۔(علم القرآن،صفحہ:46، مكتبۃ المدينہ) تو معنی یہ ہوا کہ جس نے خوفِ خدا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اُس پر آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔

قرآنی بیان نمبر:3 اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)

الله تعالی نے حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا:میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو غم جمع نہیں کروں گا: اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں قیامت کے دن اسے امن میں رکھوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہے(بے خوف) رہے تو میں بروزِ قیامت اسے خوف میں مبتلا رکھوں گا۔ (شعب الایمان ،باب فی الخوف من الله تعالی،جلد:1،صفحہ:483، حدیث:حدیث:777، دار الکتب العلمیہ بیروت )