احمد افتخار عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قرآن پاک کے اندر اللہ پاک نے
بہت سے کاموں کی بہت وعیدیں بیان فرمائی ہیں اور برے اعمال کرنے والوں کے لیے بھی
وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں، اسی طرح اللہ پاک نے اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کے لیے
بشارتیں بھی نازل فرمائی ہیں، آئیے میں آپ کے سامنے چند آیات ذکر کرنے کی سعادت
حاصل کرتا ہوں :
(1) ھدایت کا پیروکار : قُلْنَا اهْبِطُوْا
مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ
هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
(2) نیک کام کا ثواب : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ
الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ
لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور
نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں
اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ
کچھ غم۔ (پ1، البقرة: 62)
(3) اپنا منہ جھکانا : بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ
مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ
یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالایمان: ہاں کیوں نہیں
جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لیے اور وہ نیکو کار ہے تو اس کانیگ (بدلہ) اس کے
رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم ۔ (پ1، البقرۃ:112)
جنت میں داخلے کا حقیقی معیار ایمانِ
صحیح اور عملِ صالح ہے اور کسی بھی زمانے اور کسی بھی نسل و قوم کا آدمی اگر صحیح
ایمان و عمل رکھتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ کے
اعلانِ نبوت کے بعد آپ کی نبوت نہ ماننے والے کا ایمان قطعاً صحیح نہیں ہوسکتا
اور کوئی بھی عمل ایمان کے بغیر صالح نہیں ہوسکتا،گویا جو حضور پرنور ﷺ پر ایمان
رکھے اور عملِ صالح کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔
(4) مال خرچ کرنا : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے
مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے
ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
(5) اچھے کام کا صلہ : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے
کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ (اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے
اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)
Dawateislami