ظفر علی (دورہ حدیث جامعۃُ المدینہ فیضان
غوث اعظم ولیکا کراچی ، پاکستان)
قرآن ہدایت
کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دلوں کے زخموں پر مرہم اور روح کے سکون کا ذریعہ
بھی ہے۔ ربِّ کریم نے قرآن میں جا بجا ایسی تعلیمات عطا فرمائی ہیں جو انسان کے
دلوں کو خوف و غم سے نکال کر امن، اطمینان اور یقین کی طرف لے جاتیں ہیں۔ ان شاء
اللہ اسی قرآن کی روشنی میں آج ہم جائزہ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں
خوف و غم سے نجات اور امن و سکون حاصل کرنے کے کون سے راستے بتائے ہیں۔
(1): اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ
ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ
السجدۃ: 30)
تفسیر صراط الجنان: اِنَّ الَّذِیْنَ
قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ:
بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے۔ ،چنانچہ اس آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اور اس کی
وحدانیّت کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے،پھر وہ اس اقرار
اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں اور
انہیں یہ بشارت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم آخرت میں پیش آنے والے حالات سے نہ ڈرو
اوراہل و عیال وغیرہ میں سے جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے اس کا نہ غم کرو اور اس جنت پر
خوش ہوجاؤ جس کا تم سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی مُقَدّس زبان سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔( روح البیان، حم السجدۃ، تحت
الآیۃ: 30، 8 / 254-255)
(2): وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ
كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی
کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تَهِنُوْا : اور سستی نہ کرو۔ غزوۂ احد میں نقصان اٹھانے کے بعد
مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف مائل تھے۔ ان کی
اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس کی وجہ سے غم نہ
کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان کافروں نے ہمت نہ
ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی اور کم
ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے ہو اور اللہ
تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالآخر تم ہی کامیاب ہوگے۔ چنانچہ
مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ میں
مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔
(3): قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)
تفسیر صراط الجنان: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے
ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے
جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔
(4): اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ
مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی
آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)
تفسیر صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا: وہ جو ایمان لائے۔اس آیت میں
ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ البتہ
معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے اس
لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی
توصحابۂ کرام بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی
خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے
وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رضی اللہ
عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب
قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، 2 / 451، الحدیث: 3429)
محمد وقار یونس(دورہ حدیث جامعۃُ
المدینہ فیضان فاروق اعظم ولیکا کراچی ، پاکستان)
دینِ اسلام امن کا دین: بے شک دینِ اسلام وہ دین ہے کہ جو
اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ خوف سے امن میں آجاتا ہے، اس حوالے سے اللہ پاک فرماتا
ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ
الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ
ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے
اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گاجیسی اُن سے پہلوں کو دی اور
ضرور اُن کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور
اُن کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔(پ18، النور:55)
جنت امن کا مقام: بے شک جنت ایک مقام ہے جو
مؤمنین کو عطا ہوگا وہ اس میں سکون و چین سے رہیں گے انہیں کسی قسم کا خوف و غم
نہیں ہوگا۔ چناں نچہ اس بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے: فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی
الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ(۳۷) ترجمہ کنز الایمان: ان کے لیے
دونا دون(کئی گنا)صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں۔(پ22، سبا: 37)
حشر بھی امن کا دن: حشر کا دن کہ جب ہر کسی کو صرف
اپنی پڑی ہوگی اس دن بھی نیک شخص ہر خوف سے بے خوف ہوگا۔ اس بارے میں باری تعالی
ارشاد فرماتا ہے: مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ
فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) ترجمہ کنز العرفان: جو نیکی
لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔
(پ20، النمل:89)
تفسیرِ خازن میں اس آیت کے تحت
ہے کہ ”آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت
اور ثواب ہے اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو
عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوگی۔( خازن، النمل، تحت الآیۃ:89)
Dawateislami