محمد وقار یونس(دورہ حدیث جامعۃُ
المدینہ فیضان فاروق اعظم ولیکا کراچی ، پاکستان)
دینِ اسلام امن کا دین: بے شک دینِ اسلام وہ دین ہے کہ جو
اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ خوف سے امن میں آجاتا ہے، اس حوالے سے اللہ پاک فرماتا
ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ
الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ
ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے
اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گاجیسی اُن سے پہلوں کو دی اور
ضرور اُن کے لیے جمادے گا اُن کا وہ دین جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور
اُن کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔(پ18، النور:55)
جنت امن کا مقام: بے شک جنت ایک مقام ہے جو
مؤمنین کو عطا ہوگا وہ اس میں سکون و چین سے رہیں گے انہیں کسی قسم کا خوف و غم
نہیں ہوگا۔ چناں نچہ اس بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے: فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی
الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ(۳۷) ترجمہ کنز الایمان: ان کے لیے
دونا دون(کئی گنا)صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں۔(پ22، سبا: 37)
حشر بھی امن کا دن: حشر کا دن کہ جب ہر کسی کو صرف
اپنی پڑی ہوگی اس دن بھی نیک شخص ہر خوف سے بے خوف ہوگا۔ اس بارے میں باری تعالی
ارشاد فرماتا ہے: مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ
فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) ترجمہ کنز العرفان: جو نیکی
لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔
(پ20، النمل:89)
تفسیرِ خازن میں اس آیت کے تحت
ہے کہ ”آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت
اور ثواب ہے اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو
عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوگی۔( خازن، النمل، تحت الآیۃ:89)
Dawateislami