گزشتہ روز دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، جہلم، پنجاب میں سرپرست اعلیٰ سنی علما
کونسل و پرنسپل مرکزی دار العلوم جہلم صاحبزادہ مولانا برکات احمد نقشبندی صاحب،
مہتمم و ناظمِ اعلیٰ ادارہ تعلیمات اسلامیہ جہلم حضرت مولانا قاری ظفر اقبال
نقشبندی صاحب اور مرکزی دارالعلوم جہلم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی حسن رضا یلدرم
صاحب کی تشریف آوری ہوئی۔
اس موقع
پر وہاں موجود ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نے
انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کا استقبال کیا نیز اسی دوران علمائے کرام کی مرکزی
مجلس شوریٰ کے رکن حاجی وقار المدینہ عطاری ملاقات سےبھی ہوئی ۔
اس ملاقات کے دوران رکنِ شوریٰ نے علمائے کرام
سے مختلف دینی امور پر تبادلہ خیال کیا جس
میں انہوں نے دعوتِ اسلامی کی دینِ اسلام
اور اس کے ماننے والوں کے لئے کی جانے والی خدمات کے بارے میں بتایا۔
آخر میں رکنِ شوریٰ نے تمام علمائے کرام کی بارگاہ میں دعوتِ اسلامی
کے مکتبۃالمدینہ سے شائع ہونے والے کُتُب و رسائل تحفتاً پیش کئے جس پر علمائے کرام نے خوشی کا اظہاکیا اور بڑی محبتوں سے نوازا۔
جامعۃ المدینہ بوائز دھورا
جی کالونی، کراچی میں طلبۂ کرام کے لئے ”اجتماع تقسیم انعامات“
کراچی (24 اپریل 2026ء):
کنزالمدارس بورڈ (دعوتِ اسلامی) کے زیر اہتمام پوزیشن ہولڈر طلبۂ کرام کے
اعزاز میں24 اپریل 2026ء کو ایک خصوصی تقریب بنام ”اجتماع تقسیم انعامات “منعقد
ہوئی جس کا مقصد طلبۂ کرام کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہنا اور اُن
میں محبتِ علم و عمل کو فروغ دینا تھا۔
مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ
اجتماع جامعۃ المدینہ بوائز نزدجامع مسجد
حبیبیہ، دھوراجی کالونی، کراچی میں منعقد ہوا جہاں پوزیشن ہولڈر طلبۂ کرام کی
حوصلہ افزائی کے لئے اُن کےدرمیان انعامات تقسیم کئے گئے ۔
انعامات کی تقسیم سے قبل شیخ الحدیث مولانا مفتی
محمد حسان عطاری سلمہ الباری کا خصوصی بیان ہوا جس میں انہوں نے قرآن و حدیث
کی روشنی میں طلبہ کی رہنمائی ہوئے بتایا کہ نبیِ پاکصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کا جو حوضِ کوثر ہے، قیامت کے میدان کے
اندر یہ واحد مقام ہوگا اس امت کے لئے کہ جہاں
اُن کی پیاسیں بجھیں گی ۔
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ Rentis کے سنتوں بھرے اجتماع میں خلیفۂ امیرِ اہلسنت کا
بیان
26 اپریل 2026 کو یورپین ملک Greece کے دارالحکومت Athens میں واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ
Rentis میں ایک روحانی اور سنتوں بھرا
اجتماع کا انعقاد ہوا جس کا مقصد لوگوں میں محبتِ رسول اور سنتِ رسول کی پیروی کو
فروغ دینا تھا۔
اس اجتماعِ
پاک کی خاص بات یہ رہی کہ خلیفۂ امیر اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے تقریباً 5 بجے بیان کیا جبکہ اجتماع کا آغاز 4 بجے
قرآن پاک کی تلاوت اور نعت خوانی سے کیا گیا۔
خلیفۂ امیر اہلسنت نے اپنے بیان کے دوران حاضرین کی تربیت و
رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے نوازا اور بتایا کہ دنیاوی طور پر آنے
والی پریشانی و آزمائش جہنم کے سب سے ہلکے عذاب کے برابر نہیں ہوسکتی۔
اس کے علاوہ خلیفۂ امیر اہلسنت نے وہاں موجود تمام اسلامی بھائیوں کو دعوتِ
اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کے حوالے سے بتایا اور انہیں بھی اس میں حصہ لینے کی
ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔
اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے
والی شخصیات شریک ہوئیں جنہوں نے اس بابرکت اجتماع سے فیض حاصل کیا اور سنتوں کی
اہمیت کو اجاگر کیا۔
محمد سلمان (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن پاک میں
اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ،
چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے
میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار
ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی
رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو
حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست
چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س
عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ
دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا
مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے
کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ
کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب
غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری
کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں
تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان
کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے
ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ
عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا،
اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)
فاحد علی عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
پیارے پیارے
اسلامی بھایوں جو شخص مشکل وقت میں قرض دار کے ساتھ رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے
گادوسروں کے دکھ میں ساتھ دینا انسانیت کی علامت ہے، قرض دار کے ساتھ نرمی بھی یہی
ہے ۔ قرض دار کی مشکلات کو سمجھنا اور ان
کے مطابق رویہ اختیار کرنا عقل مند کی نشانی ہے آئیے قرض دار پر نرمی کے متعلق کچھ
احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1) قرضوں
میں آسانی کرو:عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ سَهْلَ
عَلَى مُسْلِمٍ فِي دَيْنِهِ سَهْلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ترجمہ:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روزیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو کسی مسلمان کے قرض
میں آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے
گا( سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3098)
2) بلاؤں
سے نجات :عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
ﷺ:مَنْ أَعْطَى الْمُدِينَ مُهْلَةً أَوْ سَهْلَ عَلَيْهِ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَاءِترجمہ :حضرت
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو قرض دار
کو مہلت دے یا اس پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اسے بلاؤں سے نجات دے گا ۔ ( سنن
الترمذى كتاب البيوع، حدیث نمبر 1322)
(3) قیامت
کے دن مہلت عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ أخَّرَ دَيْنَ مُسْلِمٍ لَهُ أَخَّرَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ:حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض کی
ادائیگی میں مہلت دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے مہلت دے گا ۔ "
(سنن ابی
داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3147 )
(4) قرض معاف
کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللَّهُ تعالیٰ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي
ظِلَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
ترجمہ:جو
کسی قرضدار کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے آپنے عرش کے سائے
میں سایہ دے گا، اس دن جب عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ " (جامع الترمذي کتاب البیوع،باب ما جاء في إنظار
المعسر ، جلد:3 حدیث نمبر: 1306)
(5) قرضدار
پر آسانی کرنے کی فضیلت:عَنْ سَلْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،
عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ:
مَن أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةٌ، فَإِنْ
أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلَّهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَاهَا صَدَقَةٌ،"
ترجمہ:حضرت بریده بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دیتا ہے، اس کے لیے
ہر دن کے بدلے ایک صدقے کا ثواب ہے ۔ اور
اگر وہ ادائیگی کی مدت گزرنے کے بعد بھی مہلت دیتا رہے،تو ہر دن کے بدلے دو صدقوں
کا ثواب ہے ۔
(کتاب سنن
ابن ماجہ ٫ جلد نمبر: 2 حدیث نمبر: 2419)
پیارے پیارے
اسلامی بھایوں یہ حدیثیں ہمیں سکھاتی ہے کہ مالی معاملات میں سختی نہیں بلکہ نرمی
اور ہمدردی ہونی چاہیے ۔ آج کے دور میں
جہاں لوگ معمولی مالی جھگڑوں پر دلوں میں نفرت بھر لیتے ہیں، وہاں یہ تعلیم ہمیں
انسانیت بردباری اور سماجی سکون کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اگر ہم قرض داروں کے ساتھ نرمی مہلت اور خیر
خواہی کا برتاؤ کریں تو نہ صرف ہمارے دلوں میں سکون آئے گا بلکہ معاشرہ بھی محبت
تعاون اور عدل سے بھر جائے گا ۔ اللہ
پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
تنویر احمد (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلام میں
قرض کے حوالے سے بے شمار ہدایات دی گئی ہیں، اور خاص طور پر مقروض پر نرمی کی تعلیمات
پر زور دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور اس
کے پیغمبر ﷺ نے ہمیں قرض دار کے ساتھ حسن سلوک، مہلت دینے
اور قرض معاف کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں ثواب حاصل کرسکیں
۔ یہ تعلیمات نہ صرف انسانیت کی خدمت کرتی
ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور مدد کے اصولوں کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ: اور اگر
مقروض تنگدست ہو:یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو ۔
اور تمہارا
تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم یہ بات جان لو، کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے
اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1/ 218)
قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے
فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا
یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔
احادیث میں
بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ۔ جو درجِ ذیل ہیں:
(1) لین دین
میں نرمی پر رحمت:حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے
اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث:
2076)
(2) معاف
کرنے والے کے لیے مغفرت:اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)
حضور ﷺ کا
طرزِ عمل:علامہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں جب حضور
اقدس ص ﷺ کسی محتاج کو ملاحظہ فرماتے تو اپنا
کھاناپینا تک اٹھا کر عنایت فرما دیتے حالانکہ ا س کی آپ کو بھی ضرورت ہوتی،آپ کی
عطا مختلف قسم کی ہوتی جیسے کسی کو تحفہ دیتے، کسی کو کوئی حق عطا فرماتے،کسی سے
قرض کا بوجھ ا تار دیتے،کسی کو صدقہ عنایت فرماتے، کبھی کپڑ اخریدتے اور ا س کی قیمت
ادا کر کے اس کپڑے والے کو وہی کپڑ ابخش دیتے،کبھی قرض لیتے اور (اپنی طرف سے) اس
کی مقدار سے زیادہ عطا فرما دیتے،کبھی کپڑ اخرید کراس کی قیمت سے زیادہ رقم عنایت
فرما دیتے اور کبھی ہدیہ قبول فرماتے اور اس سے کئی گُنا زیادہ انعام میں عطا فرما دیتے ۔ ( مدارج النبوہ، باب دوم در بیان
اخلاق وصفا، وصل در جود وسخاوت، 1 / 49)
قرآن و حدیث
میں مسلمانوں کو جو احکام دیے گئے ہیں ان میں ثواب کے اعتبار سے فرق ہے ۔ تنگدست
مقروض کو مہلت دینا اور قرض معاف کرنا دونوں بہتر ہیں،لیکن قرض معاف کر دینا مہلت
دینے سے زیادہ بہتر ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
آج کل دیکھا گیا ہے کہ لوگ تنگدست قرض دار کے ساتھ سختی
کرتے ہیں،حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
(1)جو دنیا میں تنگدست کو آسانی فراہم کرے گا، اللہ دنیا
و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔(فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث
250)
(2)جس نے تنگدست کو مہلت دی یا قرض میں کمی کی، اللہ قیامت
کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث 250)
(3) جس نے تنگدست کو مہلت دی، اسے روزانہ قرض کی مثل
صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث 250)
اسلام میں قرضدار پر نرمی کرنے، قرض کو معاف کرنے، اور
تنگدست کو مہلت دینے کی بہت اہمیت ہے ۔ حضور ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، یہ عمل نہ صرف دنیا میں
لوگوں کی دعاؤں کا باعث بنتا ہے بلکہ قیامت کے دن بھی اس کا انعام عظیم ہو گا
۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی
تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
بجاہِ النبی الامین ﷺ
بابر شہزاد عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ اسلام جیسے معتدل اور متوازن دین عطاء
فرمایا ایسا دین جو ہر قسم کی افراط و تفریط
سے پاک، انسان کی فطرت کے عین مطابق اور زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل ضابطۂ حیات
ہے ۔ اسلام نے ہمیں نہ صرف عبادات کے اصول سکھائے بلکہ معاشرتی، معاملات اور مالی
لین دین کے آداب بھی سکھائے ہیں ۔ جب کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب جائے تو اسلام
ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایسے مقروض کے ساتھ سختی نہیں بلکہ نرمی، ہمدردی اور آسانی
کا معاملہ کیا جائے ۔
قرآن کریم
میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلٰى مَيْسَرَةٍ
ترجمہ
کنزالایمان:اگر قرضدار تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو ۔ (سورۃ البقرۃ: 280)
یہ آیت
مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی مالی تنگی میں مبتلا ہے تو اسے وقت دیا
جائے، دباؤ نہ ڈالا جائے، بلکہ ممکن ہو تو معافی اور رعآیت سے کام لیا جائے ۔ اسی
نرمی کی تعلیم ہمیں نبیِ آخرالزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بھی ملتی ہے ۔
حضرت ابو
قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے کسی
مقروض کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا،تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آپنے
عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مسند احمد: جلد دوم، صفحہ 359)
اسی طرح
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس
کا قرض معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا ۔ (الدر
المنثور: جلد 1، صفحہ 389)
ان احادیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ قرضدار کے ساتھ نرمی کرنا محض اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ایمان
داروں کے لیے جنت کا ذریعہ اور جہنم کی آگ سے حفاظت کا سبب ہے ۔
نبی پاک صلی
اللّہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اسلام رحم، عدل اور ہمدردی جیسی خوبصورت صفات
پر قائم ہے ۔ جو شخص تنگ دست مقروض کے ساتھ نرمی اور مہلت کا
برتاؤ کرتا ہے، دراصل وہ اللہ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے ۔ ایسا شخص دنیا میں سکون
پاتا ہے اور آخرت میں عرشِ الٰہی کے سایہ میں جگہ پاتا ہے ۔
پس ہمیں
چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص تنگی میں ہو، تو اس کے ساتھ نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق آسانی، فراخ دلی
اور خیرخواہی کا سلوک کریں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جنہیں
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
شہباز رفیق (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو انسانیت ،رحم،ہمدردی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہےنبی کریم ﷺ کی
تعلیمات میں کمزور اورحاجت مند افراد کے ساتھ نرمی و شفقت کا خاص حکم دیا گیا ہے
جن میں مقروض یعنی قرض دار بھی شامل ہے ۔ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو جو احکام دئیے گئے ہیں ان میں ثواب کے اعتبار سے فرق ہے ، یوں بعض اعمال بعض سے بہتر ہیں ،جیسے تنگدست مقروض کو آسانی آنے تک مہلت دینا
اور قرض معاف کر دینا دونوں بہتر ہیں لیکن قرض معاف کردینا مہلت دینے سے زیادہ بہتر
ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ
یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ اسی طرح پیارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیم بھی ہمیں مقروض کے ساتھ نیکی
کرنے کا درس دیتی ہے ۔
چنانچہ عمرة بنت عبد الرحمن فرماتی ہے میں نے
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو فرماتے سنا کہ حضور نبی
کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے
قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی
کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں
کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن
کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا
ہے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ (صحيح مسلم ،كتاب:المساقاة
،باب:استحباب الوضع من الدين،647/1،حديث:3983 )
نیک کام سے
کیا مراد ہے؟دلیل الفالحین میں ہے : ’’ اِن میں سے ایک شخص دوسرے سے قرض میں کچھ کمی
کرنے اور اس سے اس معاملے میں نرمی اختیار کرنےکا کہہ رہا تھاتو دوسرے شخص نے کہا
کہ خدا کی قسم! میں کوئی کمی نہیں کروں گا ۔ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ بات تین دفعہ کہی تو رسولُ اللہ ﷺ اُن کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لائے اور استفسار فرمایا : “ کہاں
ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیک کام نہیں کروں
گا؟ “ نیک کام سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا
۔ (دليل الفالحين لعلان صديق،باب:اصلاح بین
الناس 49/3،حديث2503:المطبوعہ، دار المعرفۃ للطباعۃ،والنشر و التوزيع بيروت-
لبنان)
قرض دار کے
ساتھ نرمی کرنے کا حکم:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ
نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (شرح صحیح بخاری لابن بطال،کتاب الشہادت،باب هل
يشير الأمام بالصلح، دار النشر: مکتبہ الرشد ـالسعودیہ 98/8حديث14)
تنگ دست
قرض دار کو مہلت دینے کی فضیلت:پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل
لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی ناجائز سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ
نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے
رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے
ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے
چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب
دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں ایک
فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
حضرت حذیفہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی کا انتقال
ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے پوچھا گیا تو کونسا عمل کیا کرتا تھا؟اسے یاد آیا،
یا یاد کرایا گیا تو اس نے کہا میں لوگوں کو مال فروخت کرتا تھا اور تنگ دست کو مہلت
دیتا اور سکوں کے پر کھنے یا نقد میں درگزر کرتا تھا تو اس کی مغفرت کردی گئی حضرت
ابومسعود نے فرمایا میں نے بھی یہ رسول
اللہ ﷺ سے سنا ۔ (صحيح مسلم كتاب:المساقاة،باب، استحباب الوضع من الدین ،فصل انظار
المعسر :650/1،حديث:3995 المطبوعة: دار
الكتاب العربي بيروت لبنان )
پیارے آقا
علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات میں ہمیں نہ صرف مقروض کی مدد کرنے کی ترغیب
ملتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ قرض میں نرمی، مہلت اور درگزر کرنے کے بے شمار مدنی پھول
ملتے ہیں ۔ یہ رحمت للعالمین ﷺ کا
سچا پیغام ہے جو آج کے مالیاتی نظام میں بھی انسانیت، عدل اور شفقت کی مثال بن
سکتا ہے ۔
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انسان کے خالق سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے، بلکہ
لوگوں کے درمیان معاملات میں بھی اخلاقیات
اور حسنِ سلوک کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کرتا ہے ۔ مالی معاملات اور قرض کے لین دین کے حوالے سے
بھی ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ نے ایسی روشن اور خوبصورت تعلیمات دی ہیں جو
دلوں میں نرمی پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کو محبت و بھائی چارے کا گہوارہ بناتی ہیں
۔ آئیے، آج ہم انہی نبوی تعلیمات کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں جن کا بنیادی مقصد
مقروض (قرض لینے والے) پر سختی کرنے کے بجائے نرمی، آسانی اور ہمدردی کا رویہ اپنانا
ہے ۔
(1)نادار
قرضدار کو مہلت دینا یا معاف کر دینا:اسلام میں قرض کی ادائیگی کو بہت زیادہ اہمیت دی
گئی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی نبی کریم ﷺ نے مقروض کے ساتھ نرمی اور رحم
دلی کا حکم فرمایا ہے ۔
قرآن مجید
کی ایک واضح آیت اس اصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے: ترجمہ کنز الایمان:اور اگر
قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا
تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (سورۃ
البقرہ، آیت ۲۸۰)
اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی
قرضدار تنگ دست یا نادار ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مہلت دینا، یا پھر قرض کا کچھ
حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے اجر کا سبب ہے ۔
احادیث کی
روشنی میں فضائل:نبی اکرم ﷺ نے قرضدار پر آسانی کرنے کے جو فضائل بیان
فرمائے ہیں، وہ صاحبِ ثروت لوگوں کو دل کھول کر نیک کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں:
قیامت کی سختیوں سے نجات: حضور
اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی تکلیفوں سے
نجات دے، وہ کسی نادار کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔
(مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
عرش کا سایہ: ایک اور جگہ آپ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: "جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ " (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
اللہ کی رحمت: آپ ﷺ نے
دعا فرمائی: "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور اپنا حق
تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ " (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی
الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
اللہ کی درگزر: ایک سبق آموز واقعہ
ہے کہ گزشتہ زمانے کے ایک تاجر کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے اس کے نیک
عمل کے بارے میں پوچھا گیا ۔ تاجر نے کہا
کہ اسے صرف اتنا یاد ہے کہ وہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور مالی اعتبار
سے تنگ دست لوگوں کو مہلت دیتا تھا اور ناداروں سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے) فرمایا: تم بھی اس
سے درگزر کرو ۔
(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)
(2)قرض کا
مطالبہ نرمی اور اچھے طریقے سے کرنا (حسنِ تقاضا):اسلام صرف مقروض کو ہی
ذمہ دار نہیں ٹھہراتا بلکہ قرض دینے والے کو بھی یہ سکھاتا ہے کہ جب وہ اپنا حق
مانگے تو بہترین اخلاق اور نرمی کے ساتھ مانگے ۔ نبی ﷺ نے سختی اور تلخ لہجے میں مطالبہ کرنے سے منع
فرمایا ہے ۔
نبوی تعلیم: حضور اکرم ﷺ خود
بھی ہمیشہ معاملات میں نرمی فرماتے تھے ۔ آپ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنا حق ادا کرتے وقت بھی نرمی برتتے ہیں
اور اپنا حق طلب کرتے وقت بھی نرمی سے کام لیتے ہیں ۔
اخلاقی ذمہ داری: اس کا مطلب یہ ہے کہ
اگرچہ آپ کا مال واپس لینا آپ کا حق ہے، لیکن مقروض کی غربت، پریشانی اور مجبوری
کا خیال رکھنا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ نرم اور دھیمے لہجے میں بات کرنا دلوں کو جیتنے کا سبب بنتا ہے ۔
انسانیت کا
درس:نبی اکرم ﷺ کی یہ تعلیمات دراصل انسانیت، ایثار اور ہمدردی
کا درس ہیں ۔ یہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمارا
معاشرہ لالچ اور خود غرضی کی بجائے محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر کھڑا ہو ۔ اگر
ہم ان تعلیمات پر عمل کریں، تو ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا ہو گی،
غربت و افلاس کی وجہ سے قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو سہارا ملے گا، اور ہمیں دنیا
میں بھی سکون میسر آئے گا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں جگہ
نصیب ہو گی ۔
عملی ہدایات
نبوی ﷺ کی روشنی میں:
مہلت دیں: اگر مقروض ادائیگی کی صلاحیت نہ
رکھتا ہو تو اسے وقت دیں ۔
سختی نہ کریں: قرض کی واپسی کے لیے دباؤ، دھمکی
یا ذلت آمیز رویہ اختیار کرنا اخلاقی طور پر سخت ناپسندیدہ ہے ۔
معاف کریں: جہاں ممکن ہو، خاص طور پر غریب یا
مجبور قرضداروں کو معاف کر دیں ۔
آئیے! ہم
عہد کریں کہ جب بھی ہم کسی مالی معاملے میں ہوں گے، ہم اپنے نبی ﷺ کی
سنت پر عمل کرتے ہوئے مقروض پر سختی کی بجائے نرمی، آسانی اور محبت کا برتاؤ کریں
گے ۔ یہ بہترین صدقہ اور ایمان کا تقاضا
ہے ۔
اسلام ایک
ایسا کامل دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں عدل، رحم دلی اور آسانی کی تعلیم دیتا
ہے ۔ انسانوں کے باہمی تعلقات میں سب سے
اہم پہلو مالی لین دین ہے، اور اسی سے متعلق ایک اہم مسئلہ قرض کا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مقروض کے ساتھ نرمی، درگزر اور
مہلت دینے کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ اسے جنت اور مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ۔ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت
فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی
رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو
حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست
چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س
عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ
دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا
مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے
کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
سفیان رضا (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اس سے مراد وہ ہے جس میں قرض دار کو قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دی جاتی ہے ۔ یہ اصطلاح عام طور پر مالی لین دین سے متعلق
مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جہاں ایک فریق (قرض خواہ) دوسرے فریق (مقروض) کو کچھ
وقت کا اضافی موقع دیتا ہے تاکہ وہ آپنا قرض ادا کر سکے ۔
جیساکہ
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض
کوصدقہ کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو ۔ یعنی تمہارے قرض داروں
میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو ۔ اور تمہارا تنگدست پر اپنا
قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو، کیونکہ
اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم
ثواب ملے گا ۔
(خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1 / 218)
قرض دار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار اگر تنگدست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔
احادیث میں
بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ اس کے پانچ فضائل درج ذیل ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم،
کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32 (1563)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے:نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا، جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3)حضرت
جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے:حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع،
2 / 12، الحدیث: 2076)
(4)حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے
ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے
میں ایک
شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے پوچھا: کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد
ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ۔ کہا گیا: غور کر کے بتا ۔ اس نے
کہا: میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو دے دیتا، اور
تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‘تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند
احمد، حدیث حذیفہ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث: 23413 ۔ مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، ص 843، الحدیث:
26 (1560)
(5)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف
کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں
تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔
(مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، ص 844، الحدیث: 29 (1560)
(تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم
الدین، 1 / 204)
قرض کی
ادائیگی کے لیے دعا:حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم سے روایت ہے:ایک
مکاتب غلام آپ کے پاس آیا اور عرض کی: میں اپنی کتابت (کا مال) ادا کرنے سے عاجز
آگیا ہوں، میری مدد فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو
مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر پہاڑ
برابر قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے گا ۔ تم یہ دعا پڑھا کرو:"اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ
عَمَّنْ سِوَاكَ"یعنی: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے کفایت دے، اور
اپنی مہربانی سے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے ۔
(ترمذی،
احادیث شتّی، باب 110، 5 / 329، الحدیث: 3574)
احمد رضا بن محمد شریف (مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلامی
معاشرت کا حسن باہمی تعاون، ہمدردی اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے میں پنہاں ہے
۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کی تعلیم
ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ نے دی، اور انہی میں سے ایک اہم پہلو مقروض پر
نرمی کا معاملہ ہے ۔ قرض لینا ایک انسانی
مجبوری ہو سکتی ہے اور اسلام نے قرض دینے والے کو جہاں اجر کی بشارت دی ہے، وہیں
وصولی کے وقت مقروض کی حالت کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ یہ ایک ایسا علمی انداز ہے جو عام فہم ہونے کے
ساتھ ساتھ انسانیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا
ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے
اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت سے
پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی انسان تنگدست ونادار وغریب ہےتو اسکو کچھ قرض معاف
کرنا یا اس کو مہلت دینا یا پورا قرض ھی معاف کر دینا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے ۔
احادیث
میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو
مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ
دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے
میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء
فی انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ َ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی
الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’
گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا
کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں
ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳،
مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی
پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے
کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ
کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر
آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس
مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی
اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے
آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام
ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی
بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا
ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
مقروض پر
نرمی کا نبوی حکم:تحریر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مقروض کے ساتھ نرمی
برتنا اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول اور دین کا تقاضا ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں نے
اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قرض لینے والا واقعی تنگدست اور پریشان ہو تو قرض دینے
والا اسے مہلت دے یا قرض معاف کردے ۔
نبی
اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، مقروض پر نرمی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن
عرش کا سایہ عطا فرمائےگا ، اور یہ عمل گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے ۔ یہاں تک کہ مہلت دینے پر ہر دن صدقے کا ثواب بھی
ملتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں تقاضا کرتے وقت ہمیشہ آسانی،
شائستگی اور شفقت کا راستہ اپنانا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت بھی اسی شخص پر ہوتی
ہے جو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ۔
Dawateislami