محمد ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کا وہ پاک کلام ہے جو انسان کی ہدایت، اصلاحِ کردار اور فلاحِ آخرت کے
لیے نازل ہوا ۔ مگر قرآن کے پیغام کو
سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صرف تلاوت کافی نہیں، بلکہ اس کے معانی اور
مقاصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ اسی فہمِ
قرآن کا ذریعہ "تفسیر" ہے ۔
(1)قرآن
فہمی کے لیے تفسیر کی ضرورت:قرآن کریم کے مضامین گہرے اور معانی وسیع ہیں
۔ ہر آیت میں کئی پہلو اور حکمتیں پوشیدہ
ہیں جنہیں عام قاری بغیر رہنمائی کے سمجھ نہیں سکتا ۔ تفسیر ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر آیت کا مطلب،
مقصد اور شانِ نزول کیا ۔
(2)زبان
اور پس منظر کی وضاحت:قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اور اس کے کئی
الفاظ و محاورے عربی تہذیب سے متعلق ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے ان الفاظ کے صحیح معانی، تاریخی پس منظر اور شانِ نزول کو
سمجھنا ممکن ہوتا ہے ۔ یہ چیز قرآن کے پیغام
کو زیادہ واضح اور مؤثر بناتی ہے ۔
(3) درست
عقیدہ و عمل کی رہنمائی:تفسیرِ قرآن انسان کو صحیح عقیدہ، درست عبادت اور
بہتر اخلاق کی تعلیم دیتی ہے ۔ مفسرین
قرآن کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ کن باتوں پر ایمان لانا، کن سے اجتناب کرنا، اور
کس طرح زندگی گزارنا چاہیے ۔ اس طرح
مطالعۂ تفسیر سے عمل میں درستگی پیدا ہوتی ہے ۔
(4) صحابہ
و تابعین کی روش:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کے معانی کو سمجھنے کے لیے خود رسول اللہ ﷺ
سے سوال کرتے تھے ۔ تابعین اور بعد کے
مفسرین نے بھی قرآن کی تشریح ، وضاحت کو اپنا علمی فریضہ سمجھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفسیر کا مطالعہ دین کا
بنیادی تقاضا ہے ۔
(5) روحانی
و اخلاقی تربیت:مطالعۂ تفسیر انسان کے دل کو منور کرتا ہے، اس میں خشیتِ الٰہی، صبر، شکر،
عدل اور نرمی جیسے اوصاف پیدا کرتا ہے ۔ تفسیر کے مطالعے سے انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور زندگی کے ہر مرحلے میں
قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے ۔
تفسیرِ
قرآن کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایمانی ضرورت ہے ۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر
عمل کرتا
ہے، وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوتا ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مستند مفسرین
کی تفاسیر کا مطالعہ کرے اور قرآن کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں ۔
احمد رضا عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
فاروقاعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
تفسیر کی
اہمیت: قراٰنِ پاک کی من مانی تشریح کرنےاوراپنےنقطہ ٔنظرکومُسَلَّط کرنےیااسلام
سے مُتَصادِم (ٹکرانے والے) نَظریات کاپرچار کرنےکےلئےغلط وضاحت کرنا سخت حرام ہے،چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
پاک کلام قراٰنِ مجیدکوسمجھانےکےلئےجلیلُ القدر عُلمائے کِرام نے عظیم ُالشّان تفاسیرتحریر فرمائیں
تاکہ فیضانِ قراٰن عام ہواورغلط تشریحات
کرکے تباہی کی طرف دھکیلنے والے اِنسان نُما شیطانوں کا راستہ بھی روکا جاسکے ۔ آج بھی علم ِ دین کے شائقین تفسیرِ جلالین اور تفسیرِ
بَیضاوی شریف جیسی کتابیں ماہر عُلَمائے
کرام کی صُحبت میں سالہا سال رہ کرسمجھتے ہیں ۔ آئیے تفسیر کی اہمیت و ضرورت کے
متعلق کچھ ملاحظہ کرتے ہیں ۔
( 1 ) غور و فکر کرنا :وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ
اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور
کہیں وہ دھیان کریں ۔ (النحل:44)
تفسیر: قرآن
مجید نازل کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیتوں ( کی تفسیر ) میں غور و فکر
کریں اور ان میں موجود حقائق اور عبرت انگیز چیزوں پر مطلع ہوں ۔
( صراط
الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ : 14 ، سورہ النحل ، آیت نمبر : 44 ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 325 ، مکتبۃ المدینہ )
( 2 )
افتراء نہ باندھنا : امام حسن
بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیاکہ
ان میں سے کوئی قرآنِ مجید کی آیت پڑھتا ہےجس سلام اور وہ اس کے معانی سے جاہل
ہو تا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا
ہے ۔
( البحر المحیط، مقدمۃ المؤلف ، الترغیب فی تفسیر
القرآن ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 118-119)
( 3 ) باطنی باریکیاں جاننا :امام جلال الدین سیوطی
شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس زمانے میں قرآن مجید عربی میں نازل ہوا اس
وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ۔ وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام
کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں ۔ ( رسالہ : تاریخ حدیث و تفسیر ، صفحہ
نمبر : 27 ، مکتبۃ المدینہ )
( 4 ) قرآن
کو نہ سمجھنے کی مثال : ہمیں چاہیے تلاوت قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے
معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں : جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر
نہیں ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا
اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے
اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم
کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں
لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر قرطبی باب : ما جا فی فضل تفسیر القرآن واہلہ ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 41 )
( 5) علمی
اور عملی باتوں کا علم حاصل ہونا : مشہور تابعی
عالم حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم میں سے جو حضرات ہمیں قرآن عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ
رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں
بڑھتے تھے جب تک ہم ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں ۔ (
مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر : 15 ، صفحہ نمبر
: 436 ، حدیث
نمبر : 30549 )
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! تفسیر ایک ایسا عظیم الشان علم ہے جسے حاصل کرنے والا اپنی استطاعت
کے مطابق کلام الہی کو سمجھنے کا اعزاز
حاصل کر لیتا ہے اسی لیے ہمیں بھی چاہیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ
تفسیر کا مطالعہ بھی کریں ۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ الخاتم النبین صلی
اللہ علیہ والہ وسلم ۔
محمد شعبان (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور، پاکستان)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! تفسیر کی قراءت سے پہلے تفسیر کی اصطلاحات کی معرفت جاننا بھی ضروری
ہے اس لیے کہ انسان اس کے ساتھ ایک مکمل بصیرت پر ہو جاتا ہے قرآن مجید کی تفسیر کی
اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے انسان مکی و مدنی ،ناسخ ومنسوخ،اور شان نزول
والی آیات کو بھی جان لیتا ہے اور اس کے زریعہ وہ آیات کے معانی سمجھنے پر بھی
قادر ہو جاتا ہے ۔ قرآن مجید کی تفسیر کے مطالعہ سے انسان کو بہت
سارے احکامات سیکھنے کو ملتے ہیں ایک انسان کو قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ
ترجمہ قرآن و تفسیر قرآن بھی پرھنی چاہیے ۔
(1)
احکامات کا مجہول ہونا : علامہ سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں تفسیر کی حاجت
اس لیے بھی ضروری ہے کہ عرب کے بڑے بڑے فصحاء کے زمانے میں عربی زبان میں نازل
فرمایا تو وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو جانتے تھے بہرحال اس کی باطن کی باریکیاں
ان کے لئے ظاہر نہ تھیں مگر بہث اور غورو فکر کے بعد اور ان کا آقا ﷺ سے
سوال کرنے کے بعد اس لیے بھی ضروری ہے ۔
(تفسیر البیضاوی
المسمی انوار التنزیل واسراالتاویل ، صفحہ نمبر 15 ، مجلس المدینہ العلمیہ الدعوتہ اسلامیہ)
(2) قرآن مجید کے احکام کو صحیح طریقہ سے سمجھنا :مطالعہ
قرآن کے ساتھ تفسیر اس لیے ضروری ہے تاکہ قرآن مجید کا پیغام صحیح طریقہ سے سمجھا
جا سکے ،احکام شریعت پر درست عمل کیا جا سکے، گمراہی، و غلط فہمی اور من پسند تشریحات
سے پچاسکے ہمیں چاہیے کہ ہم معتبر تفاسیر کے زریعہ قرآن مجید سمجھے ۔
(3) اللہ
تعالیٰ پر افتراء باندھنے سے بچنا : حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پرھتا ہے اور
وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر
افتراء باندھنا شروع کردیتا ہے ۔
(البحر
المحیط، المؤلف، الترغیب فی تفسیر
القرآن،118-119 ، )
قرآن فہمی
بہت بڑی عبادت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سمجھنا اور دوسرے تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
عبید الرحمن (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ کی آخری اور مقدس کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت نور اور زندگی گزارنے کا
مکمل ضابطہ فراہم کرتی ہے یہ کتاب ہر دور اور ہر زمانے کہ انسانوں کے لیے رہنمائی
کا سرچشمہ ہے قرآن پاک کی زبان عربی ہے جو بہت ہی خوبصورت جامع اور بلیغ زبان ہے
تاہم قرآن کی آیات کے پیچھے گہرے معانی
اور مفاہم چھپے ہوئے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے محض زبان عربی کا جاننا کافی نہیں
بلکہ قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ کرنا ضروری ہے جس کی مدد سے قرآن کی آیات کا
مفہوم اور شان نزول اور احکام بہتر طور پر سمجھ آئیں گے تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنا
اس زمانے میں تو بے حد ضروری ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی اہمیت: مطالعہ تفسیر کی اہمیت مزید ان چیزوں سے اور واضح ہوگی ،قرآن کی حقیقی
سمجھ:تفسیر کے مطالعے سے قرآن کی آیات کا حقیقی مطلب معلوم ہوتا ہے جو ظاہری مفہوم
سے کئی زیادہ گہرا اور جامع ہوتا ہے اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔
دینی اور
دنیاوی رہنمائی: تفسیر کے مطالعے سے زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ملتی ہے چاہے وہ عبادات
ہوں یا معاملات یا اخلاقیات ہوں یا معاشرتی قوانین اس سے انسان اپنی زندگی کو قرآن
کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔
علم اور
حکمت میں اضافہ: قرآن کی تفسیر کا مطالعہ دین کے علوم میں اضافے کا سبب ہے اس سے مسلمان نہ
صرف قرآن کو سمجھتا ہے بلکہ اس کی حکمت اور مقاصد کو بھی جانتا ہے ۔
عملی زندگی
میں بہتری: جب تفسیر کا مطالعہ کر کے قرآن کے احکام اور تعلیمات کو سمجھ کر اپنایا
جاتا ہے توہر فرد کی زندگی بہتر ہوتی ہے
اور معاشرہ فلاح کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت: شان نزول کا علم: کہیں آیات ایسے مواقع پر نازل ہوئیں جن کا تعلق مخصوص دینی
واقعات یا مسائل سے ہے اور ہمیں اس کا علم تفسیر کے متعلق سے ہی حاصل ہوگا ۔
احکام اور
شرعی مسائل کی وضاحت:قرآن مجید میں بہت سے احکام قوانین اور اصول بیان کیے گئے ہیں جو زندگی کے
مختلف شعبوں جیسے عبادات معاملات اخلاق اور معاشرت سے متعلق ہیں ان احکام کو
سمجھنے کے لیے اور عمل کرنے کے لیے ہمیں تفسیر کے متعلق کی ضرورت پیش آئے گی ۔
گمراہی اور
غلط فہمیوں سے بچاؤ: اگر قرآن پاک کو بغیر تفسیر کے پڑھا جائے تو اس کا مطلب غلط سمجھا جا سکتا
ہے جس سے غلط عقائد اور عمل کی راہ ہموار ہوتی ہے تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنا قرآن
کو صحیح طریقے سے سمجھنے کا ذریعہ ہے جو ہمیں گمراہی اور غلط فہمی سے بچنے میں
رہنمائی کرے گا ۔
آخر میں
نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تفسیر کا
مطالعہ نہایت ضروری ہے تفسیر قرآن کی گہرائیوں میں جانے کا ذریعہ ہے جو ہمیں آیات
کے حقیقی مفاہیم احکام اور حکمتوں سے روشناس کرائے گی بغیر تفسیر کہ قرآن پاک
پڑھنا کسی بھی اعتبار سے نامکمل اور بعض اوقات خطرناک بھی ہو سکتا ہے لہذا ہمیں
تفسیر قرآن کا مطالعہ ضرور بضرور کرنا چاہیے ۔
شاہ زیب رضا (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
لفظ تفسیر
عربی زبان کے مادّہ "فَسَرَ" سے
ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو کھولنا، واضح کرنا یا بیان کرنا ۔ اصطلاحاً
تفسیر سے مراد قرآن مجید کے الفاظ، معانی، احکام اور مقاصد کی وضاحت کرنا ہے، تاکہ
بندۂ مومن قرآن کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھ کر اس پر عمل کر سکے ۔ قرآن مجید کی
تلاوت بلا شبہ باعثِ ثواب ہے، مگر محض تلاوت سے قرآن کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا
جب تک کہ اس کے معانی و مطالب پر غور نہ کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد
فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ محمد: 24)
یہ آیت ہمیں
یہ سبق دیتی ہے کہ قرآن پر تدبّر و تفکّر کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے
۔ جب تک انسان قرآن کے مفہوم میں غوطہ زن
نہیں ہوتا، اس کا دل اس نور سے منوّر نہیں ہو سکتا جو اللہ نے ہدآیت کے طور پر
نازل فرمایا ہے ۔
تفسیر کا
مطالعہ اسی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قرآن کے اسرار و معانی
ہم پر منکشف ہوتے ہیں ۔ تفسیر کا مطالعہ انسان کے لیے علم و بصیرت کے دروازے کھول
دیتا ہے ۔ یہ نہ صرف قرآن کی سمجھ بوجھ کو
آسان بناتا ہے بلکہ انسان کے عقیدہ، فکر اور عمل کو بھی درست سمت میں لے آتا ہے
۔ جب ہم مفسرینِ کرام کے اقوال اور ان کی
تفسیر پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کا ہر لفظ حکمت و معرفت کا سمندر
ہے ۔
آج کے دور
میں جب لوگ صرف ظاہری علم تک محدود ہو گئے ہیں، ہمیں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم
اپنے گھروں، مساجد اور مدارس میں درسِ تفسیر کو زندہ کریں ۔ مطالعۂ تفسیر دراصل
زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو نہ صرف دنیا میں راہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ آخرت کے
اندھیروں میں بھی روشنی بن جاتا ہے ۔
مطالعۂ تفسیر
سے قرآن پاک کو صحیح سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے
کے لیے بے حد ضروری ہے، یہ علم دین کی بنیاد ہے اور اسلامی علوم، جیسے کہ عربی
زبان، نحو، اور بلاغت کی سمجھ ضروری ہے تاکہ قرآن کو درست طور پر سمجھا جا سکے،
تفسیر کا مطالعہ غلط فہمیوں اور گمراہیوں سے بچنے اور صحیح عقائد پر قائم رہنے میں
مدد کرتا ہے ۔
جب حضور
اقدس صﷺ نے یہ ارشاد فرمایا "مَنْ نُوْقِشَ
الْحِسَابَ عُذِّبَ ترجمہ:یعنی جس سے اعمال کے حساب کے
معاملے میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا" ۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالى عنہا نے ان
آیات " فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹)" کے بارے میں حضور پر نور صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ سے دریافت کیا ۔ آپ صَلَّی اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے ۔ یعنی یہ وہ مناقشہ نہیں ہے جو حدیث میں فرمایا
گیا ہے ۔ جب میدان فصاحت و بلاغت کے
شہسواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی توہم
اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس
چیز کے محتاج ہیں کیونکہ کے ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب
معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن ، النوع السابع والسبعون؛ فصل واما
وجہ الحاجتہ الیہ الخ ج2/ ص546،547، ملخصا)
حضرت ایاس
بن معاویہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جو لوگ قرآن مجید
پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس
رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس
خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟
اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح
ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا
پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر
قرطبی؛ باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واھلہ ج1/ص41؛ الجزءالاول؛ ملخصا)
صحابہ کرام کے اتنے فصیح و بلیغ ہونے کے باجود
بھی اس طرح کی مشکلات ان کیلئے آسکتی ہیں
تو ہمارے لئے تو بہت زیادہ ہوں گی ۔
مطالعہِ
تفسیر کی ضرورت کے کچھ ضروری اور اہم پہلو:
قرآن مجید
فرقان حمید کی صحیح سمجھ،تفسیر سے قرآن پاک کے معنی اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ عمل کے لیے رہنمائی: تفسیر قرآن پر عمل کرنے کے
لیے درست رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔
تبلیغ کے لیے
ضروری :دعوتِ اسلامی کے مبلغین کے لیے یہ تفسیر کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ وہ
دوسروں تک قرآن کی صحیح تعلیم پہنچا سکیں ۔ گمراہی سے بچاؤ:یہ علم غلط تاویلات اور گمراہ کن خیالات سے بچاتا ہے، جو کہ
قرآن کی غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔
مفسر کا
کردار: مفسر (تفسیر کرنے والا) قرآن کی شرح احادیث کی روشنی میں کرتا ہے، جو اس کی
اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم کلام ہے، جو بنی نوع
انسان کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ۔ اس کے
اندر ظاہری الفاظ کے ساتھ ساتھ بے شمار معانی، حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں ۔ ان معانی کو سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت
پیش آتی ہے، کیونکہ بغیر تفسیر کے قرآن کے حقیقی مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں ۔
تفسیر کی
ضرورت:قرآن مجید کی درست تفہیم کے لیے تفسیر کی ضرورت درج ذیل وجوہات کی بنا پر
ہے:
قرآن عربی
زبان میں نازل ہوا، مگر ہر شخص عربی کے مشکل معانی نہیں جانتا ۔
بہت سی آیات
کا شانِ نزول جاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکے ۔ بعض احکام
قرآن میں اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی وضاحت تفسیر کے ذریعے ہوتی ہے ۔ تفسیر
کے بغیر غلط فہمیاں اور باطل تاویلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔
قرآن مجید
میں تفسیر کی اہمیت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى
قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہیں؟(سورۃ
محمد: 24)
اور ایک
اور مقام پر فرمایا: وَ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ
ترجمہ کنز
الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو
جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)
یہ آیات
واضح کرتی ہیں کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اور اس کی تشریح بیان کرنا عین دینی
ضرورت ہے ۔
احادیث میں
تفسیر کی اہمیت:رسولِ اکرم ﷺ سب سے پہلے مفسرِ قرآن تھے ۔ آپ ﷺ نے اپنی سنت اور ارشادات سے قرآن کے مفہوم
کو واضح فرمایا ۔
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جب نبی کریم ﷺ سے دس آیات سیکھتے تو
ان کے معانی اور ان پر عمل بھی سیکھتے تھے ۔ (جامع الترمذی، حدیث: 2905)
تفسیر کے
فوائد:قرآن کے صحیح معانی اور پیغام کی فہم حاصل ہوتی ہے ۔ عقائد و اعمال میں
درستگی آتی ہے ۔ گمراہی اور باطل تاویلات
سے نجات ملتی ہے ۔ ایمان میں اضافہ اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ بندہ اللہ کی
قربت حاصل کرتا ہے ۔
تفسیر وہ
علم ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے ۔ اس کے بغیر قرآن مجید کو مکمل
طور پر
سمجھنا ممکن نہیں ۔ اس لیے ہر مسلمان کو
چاہیے کہ معتبر مفسرین کی تفاسیر جیسے تفسیر خزائن العرفان، تفسیر روح البیان، تفسیر
ابن کثیر وغیرہ کا مطالعہ کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو صحیح طور پر سمجھ
سکے اور اس پر عمل کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے
اور اس کے نور سے اپنی زندگی منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
محمد
حسان رضا عطاری (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن مجید
کو سمجھنے ، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی
گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی
ممکن ہے، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص قرآن سمجھنے کے لیے عربی سیکھ لے ،
علوم عربیہ کا ماہر ہو جائے اور قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس
کے لیے بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں
اصل علم ، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن قرآن ہے اور یہ علم صرف اور
صرف توفیق الہی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام فصاحت
و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بار گاہ
رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ
پاتےتو پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے ۔
چنانچہ جب
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ
مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ترجمہ کنز الایمان: "اور
کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر
ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر" ۔ نازل
ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن
حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ
یہ سفید رسی کالی سے جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں
، وہ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی
صورت حال بیان کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہاں
خَیْطُ الْاَبْیَضُ یعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ
الْاَسْوَدِ یعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری جلد 1 ص 632،حدیث
،1916،دار الکتب العلمیہ)
مطالعہ تفسیر
کہ ضرورت کے لیے پانچ نکات ملاحظہ فرمائیں ۔
بغیر تفسیر
کے قرآن پڑھنے کی مثال بزرگان دین نے یوں دی ہے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی
مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے
پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں
معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے! اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر
جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا انہوں نے
چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا
لکھا ہے ۔ (تاریخ حدیث و تفسیر ص،29 مکتبۃ المدینہ)
(2)بغیر
تفسیر کے قرآن پڑھنا کبھی گمراہیت کا موجب بھی ہو سکتا ہے ۔ چناں چہ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار
خاں نعیمی علیہ الرحمہ کا سوال جواب پر مکالمہ ملاحظہ فرمائیں ۔ قرآن
سے لوگ گمراہ کیوں ہو جاتے ہیں، وہ ہادی ہے ہادی سے گرا ہی کیسی ؟ج : ایک ہی
ہارمونیم کا ایک پردہ دباؤ تو موٹی اور بھاری آواز نکلتی ہے ۔ دوسرا دباؤ تو سریلی اور باریک آواز دیتا ہے
۔ حالانکہ ہوا ایک ہی جاتی ہے ۔ انسان کے قلب و دماغ میں رحمانی پر دے بھی میں
شیطانی بھی اگر شیطانی پر دہ غالب ہے تو قرآنی ہوا سے کفر کی آواز نکالتا ہے اگر
رحمانی پردہ غالب ہے، تو اس قرآنی ہوا سے ایمان بولتا ہے ۔ یہ قرآن کا قصور نہیں ۔ اپنے پردہ کا قصور ہے ۔ بارش
سے کہیں لالہ اگتا ہے کہیں خار ۔ (اسرار الاحکام ،ص 71 ،مکتبہ اسلامیہ )
(3)تفسیر
کے ذریعے ہی بندہ قرآن کے صحیح مطالب تک پہنچ سکتا کہ قرآن مخزن علم ہے ۔ اور اس میں اپنی اٹکل پچو سے غوطہ سبب ہلاکت
بھی ہو سکتا ہے ۔
(4)ماضی کی
تاریخ گواہ ہے جس نے بھی بغیر تفسیرِ کے قرآن اپنی رائے سے بیان کیا اور حدیث کو
خاطر میں نہ لا کر عقل کو قرآن فہمی کا مدار قرار دیا وہ گمراہ ہوا ۔
(5)مطالعہ
تفسیر کی اہمیت سے آگاہ ہو جانے کے بعد یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ تفسیر فقط
علماء اہلسنت کی پڑھی جائیں اسی اہمیت کے پیش نظر امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ
نے ہمیں ایک خاص دینی کام تفسیر صراط الجنان روز تین آیات مع ترجمہ کا دینی کام
عطا فرمایا ہے ۔ (بارہ دینی کام ،ص49
،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اللہ پاک
ہمیں صحیح معنوں قرآن سمجھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
محمد
شاہ زیب سلیم عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
اسلام کی
بنیادیں جن آسمانی تعلیمات پر قائم ہیں، اُن میں سب سے عظیم اور ابدی نعمت قرآن مجید
ہے ۔ یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جو ربِّ کریم
نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر اُجالوں کی طرف لانے کے لیے نازل فرمائی ۔ مگر قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے،
غور و فکر کرنے اور اس کی روشنی میں زندگی بنانے کے لیے آیا ہے ۔ جب تک انسان قرآن کے اصل پیغام، اس کے پس منظر،
اس کے احکام، مقاصد اور اسرار و رموز کو نہ سمجھے، اُس وقت تک قرآن سے حقیقی فائدہ
حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں
مطالعۂ تفسیر کی اہمیت سامنے آتی ہے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے الفاظ کا معنی
کھولتا ہے، شانِ نزول واضح کرتا ہے، احکام کی حکمت بیان کرتا ہے، اور اللہ کے کلام
کو اُس انداز میں سمجھاتا ہے جس طرح رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
نے سمجھا ۔ موجودہ دور کے فکری انتشار،
نظریاتی یلغار اور اخلاقی زوال میں قرآن کو صحیح طور پر سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ
ضروری ہو چکا ہے ۔ اس لیے مطالعۂ تفسیر
محض ایک علمی شوق نہیں بلکہ دینی، فکری اور عملی ضرورت ہے، جو انسان کو راہِ راست
دکھاتی اور زندگی کے پیچیدہ مسائل میں روشن چراغ کا کام کرتی ہے ۔ ائیے سب سے پہلے
تفسیر کی تعریف ملاحظہ ہو:
تفسیر کی تعریف:تفسیر ایسا علم ہے جس میں قرآن مجید کے
احوال کے بارے میں بحث کی جاتی ہے یعنی اس کے نازل ہونے کی جہت سے مکی مدنی ہونے میں
اس کی سند اور اس کی ادائیگی اور اس کے الفاظ اور اس کے وہ معانی جو احکام کے ساتھ
متعلق ہیں اس کے متعلق بحث کی جاتی ہے اسے تفسیر کہتے ہیں ۔
آئیے
مطالعہ تفسیر کی ضرورت اور اہمیت ملاحظہ ہو :
(1) گمراہی
سے بچنا:مطالعہ قرآن کے ساتھ تفسیر کا مطالعہ کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ قرآن مجید
کا پیغام صحیح طریقے سے ہم سمجھ سکیں اور احکام شریعت پر عمل کر سکیں گمراہی بد دینی
اور غلط فہمی اور من پسند تشریحات سے ہم اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں اس لیے ہمیں چاہیے
کہ ہم معتبر تفاسیر کے ذریعے قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔
(2) عجمیوں
کا ہلاک ہونا:حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں عجمیوں کو اس بات نے
ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا اور وہ اس کی معانی سے جاہل ہوتا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی پر افترا باندھنا شروع
کر دیتا ہے ۔ (البحرالمحیط ،مقدمۃالمؤلف،الترغیب فی تفسیر القرآن ،119، 120)
(3) باطنی
باریکیوں کا مجھول ہونا:علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالی علیہ
فرماتے ہیں تفسیر کی حاجت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ عزوجل نے عرب کے بڑے بڑے
فصحا کے زمانے میں قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا تو وہ لوگ اس کے ظاہری
احکامات کو تو جانتے تھے بہرحال اس کے باطن کی باریکیاں ان کے لیے ظاہر نہ تھی مگر
بہت غور و فکر کے بعد اور ان کا آقا علیہ
الصلوۃ والسلام سے سوال کرنے کے بعد یہ ان کے لیے ظاہر ہوئی اس لیے بھی یہ ضروری
ہے ۔ (تفسیر البیضاوی المسمی انوار التنزیل و اسرار التاویل ،ص15،المدینۃالعلمیہ،)
وقار
حسین (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، بصیرت اور زندگی کا مکمل
دستور فراہم کرتی ہے ۔ مگر قرآن کے صحیح
مفہوم تک رسائی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اُن معانی اور مقاصد کے ساتھ سمجھا
نہ جائے جو اللہ نے نازل فرمائے اور رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ۔ یہی مقصد مطالعۂ تفسیر ہے ۔ تفسیر قرآن کی وہ علمی خدمت ہے جس کے ذریعے آیاتِ
قرآن کے معانی، احکام اور حکمتیں واضح ہوتی ہیں ۔
(1)قرآن کو
سمجھنے کا اولین تقاضا:قرآن صرف تلاوت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھ کر
عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے ۔ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز الایمان: یہ
ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں ۔
یہاں سوچنے کا حکم فرمایا ہے اور غور و تدبر کا
راستہ تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔
(2)احکامِ
شریعت کے فہم کا ذریعہ:نماز، روزہ، زکوٰۃ، معاملات اور اخلاق ۔ قرآن ہر شعبے کا بنیادی ماخذ ہے ۔ ان احکام کی تفصیل اور فہم تفسیر کے ذریعے ہی
حاصل ہوتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:
ألا إني أوتيت القرآن ومثله ترجمہ:یعنی مجھے قرآن کے ساتھ اس کی تشریح بھی عطا
کی گئی ۔
تشریحِ نبوی کو سمجھے بغیر قرآن کے احکام مکمل
طور پر سمجھ میں نہیں آتے ۔
(3)غلط فہمیوں
اور گمراہیوں سے حفاظت:ہر دور میں قرآن کے بارے میں غلط تعبیرات سامنے آتی
رہی ہیں ۔ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ انسان
کو صحیح فہم عطا کرتا ہے اور من مانی تشریحات سے بچاتا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار یعنی جو شخص قرآن کی
تفسیر اپنی رائے سے کرے، وہ آگ میں جگہ بنا لے ۔ (جامع الترمذی، جلد 2 ،صفحہ 589،حدیث 2901)
اس حدیث سے
صحیح تفسیر کی ضرورت واضح ہوتی ہے ۔
مطالعۂ
تفسیر قرآن فہم، فہم دین ، صحیح عقیدہ اور روشن عمل کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ آج کے دور میں جہاں فکری انتشار عام ہے، تفسیر
کا باقاعدہ مطالعہ ہر مسلمان کی ضرورت بن چکا ہے ۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ہی حقیقی ہدایت کا راستہ
ہے، اور تفسیر اس راستے کی روشن مشعل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے نور کو اپنی
زندگیوں میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبینﷺ ۔
محمد
عزیر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ ربّ
العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا جو دنیا و آخرت کی کامیابیوں
کا ضامن ہے قرآن ایک عظیم اور بلند کلام ہے، جس کے مفاہیم تک رسائی، اس کے احکام کی
صحیح مراد سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے تفسیر کی
ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے ۔
(1)تفسیر تعریف :قرآن مجید کے وہ احوال
بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہوسکیں ۔
اپنے عقل
سے تفسیر کرنا:قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے(تفسیر صراطِ
الجنان جلد 1ص31)
(2)اللہ پر
افترا باندھنا:حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا
کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے
تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے
۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص 32)
(3)امت تفریق
کا شکار ہوگی:تفسیر میں ضروری ہے کہ دلیل کے بنیاد پر بات کی جائے، اگر صرف خواہش، ذاتی
مفاد، گروہی مقاصد اور فرقے کی حمایت میں، بغیر دلیل کے تفسیر کی جانے تھے تو امت
تفرقہ کا شکار ہو گی ۔ امام ابن تیمیہ میلہ
نے تفسیر کے بہترین طریقے ذکر کرنے کے بعد تفسیر سے متعلق مندرجہ ذیل بعض احکام
ذکر کئے ہیں ۔ ( فی اصول تفسیر جلد1ص103)
(4)بادشاہ
کا خط:حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃلله تعالی علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید
پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے
پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں
وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا
لکھا ہوا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد
1ص35)
(5)تفسیر
کا علم رکھنے والے شخص کی مثال :وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے
اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی
روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص36)
مبشر عبد الرزاق عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن کریم
تمام جہانوں کی حقیقی رب کا نازل کردہ کلام ہے جسے اس نے مبارک ہستی نبی اخر
الزماں محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمایا یہ کثیر خیر، کثیر نفع، اور کثیر
برکت والا ہے اور رشد و ہدایت کا ایسا سرچشمہ ہے جس کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس میں
بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے میں اللہ و رسول کی رضا، عظیم ثواب اور دنیا
و آخرت میں کامیابی کا معیار ہے یاد رہے قرآن پاک کتاب ہدایت ہے لیکن ہدایت اسی
وقت نصیب ہوگی جب اس سے ہدایت لینے کے اسی طریقے کو اختیار کیا جائے جو اسلاف امت
سے رائج ہے یعنی قرآن کو پہلے خود قرآن سے سمجھا جائے جس کو"تفسیر قرآن
بالقرآن "کہتے ہیں یا پھر قرآن کو حدیث کے ذریعے سمجھا جائے جس کو" تفسیر
قرآن بالحدیث"سے تعبیر کیا جاتا ہے یا پھر قرآن کی تشریح صحابہ و تابعین کرام کے اقوال و آثار سے لی جائے گی جس
کو"تفسیر قرآن بآثار الصحابہ و تابعین"کہتے ہیں اور اگر کسی مسئلے کا حل
ان تینوں میں نہ ملے تو پھر تفسیر بالدرایہ (یعنی مستند علماء فقہاء کی بیان کردہ
تفسیر) کی طرف جایا جائے گا اسی لیے قرآن پاک کی تفسیر پڑھنا بہت اہمیت و
ضرورت کی حامل ہے،چنانچہ تفسیر قرآن کی ضرورت و اہمیت پر چند باتیں گوشے گزار ہیں ۔
(1) جس سے
حساب لیا گیا وہ عذاب دیا گیا : امام جلال
الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں
نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے وہ اس کے ظاہر اور اس
کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے
سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھی جیسے کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب
دیا گیا ،، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ
اللہ پاک نے یہ نہیں ارشاد فرمایا فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸)ترجمہ کنز الایمان: اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ۔ (پ30 انشقاق 8)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا:یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے لیکن جس سے اعمال کے حساب کے معاملے
میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا اس روایت کو نقل کرنے کے بعد
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں تو جب میدان فصاحت و بلاغت کے شاہ
سواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لیے الفاظ قرآن کی تفسیر کی حاجت ہوئی تو ہم تو
اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جن کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس
چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لوگوں کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب
معلوم نہیں ہو سکتے (بخاری شریف55/1 حدیث حدیث 103)
(2)سیاہ و
سفید دھاگہ : قرآن مجید علم و حکمت کا سمندر اور علوم و معارف کا عظیم شاہکار ہے یہی وجہ
ہے کہ صحابہ کرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن
سمجھنے کے لیے بار گاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں
از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے
۔ چنانچہ جب سورہ بقرۃکی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ
لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرترجمہ کنز
الایمان:" اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا
سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر"نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا
گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے
کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے
جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ
مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں ، وہ صبح رسول اللہ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورت حال بیان کی تو آپ نے
ارشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَضُیعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ الْاَسْوَدِ یعنی کالے
ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری شریف
1 ص 132 حدیث 1916)
یقیناً
صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات کو
قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر قرآن
کے محتاج ہیں ۔
(3)مخزن
علم: قرآن پاک علم حقیقی کا خزانہ ہے ، اس میں بیان
کی گئی باتیں اپنے اصل مفہوم کی سچائی کے ساتھ ساتھ کئی علوم کو اپنے دامن میں لی
ہوئی ہیں اس لئے قرآن پاک میں غور و فکر کرنا اور اس کی تفسیر پڑھنا بہت ضروری
ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو علم حاصل
کرنے کی خواہش رکھتا ہو اسے چاہیے قرآن میں خوب غور و خوض کرے کیونکہ قرآن میں
اگلوں اور پچھلوں کا علم موجود ہے ۔ ( شعب الایمان ،ج2 ص 332 حدیث 1960)
(4) بڑی عبادت و سعادت : قرآن فہمی بہت بڑی
عبادت و سعادت ہے، لہذا تلاوت قرآن کے
ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں
کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں
جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ
اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس
کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی
سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی ج1 ص 41)
(5)صحابہ
کرام کی سنت : قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرنا اور ان کی تفسیر پڑھنا یہ صحابہ کرام
علیہم الرضوان کا مبارک طریقہ ہے جس پر عمل دنیاو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے
چنانچہ مشہور تابعی حضرت عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ میں سے جو حضرات ہمیں قرآن
عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ہمیں
بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں
بڑھتے تھے جب تک ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں
۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج15 ص 436حدیث
30549)
پیارے
اسلامی بھائیو! قرآن مجید ایک عظیم الشان کتاب ہے جو امت مسلمہ کی عظمت، ناموری
اور کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے، لیکن یہ ناموری اور عظمت اسی صورت حاصل ہو سکتی
ہے جب اس کے احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر عمل کیا جائے مگر افسوس فی زمانہ
مسلمانوں کی ایک تعداد کو قرآن پاک کے دیے ہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی
خبر تک نہیں اے کاش ہم بھی قرآن پاک کی مستند تفاسیر کا مطالعہ کر کے اس کے
احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل کے خوگر بن جائیں اللہ پاک ہمیں قرآن
پاک کے احکامات اور تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
محمد افضل (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ
زار لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
ربّ العالمین کا وہ عظیم ترین کلام ہے جو انسانیت کی ہدایت، اصلاح اور فلاح کے لیے
نازل ہوا ۔ یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں
بلکہ سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ۔ چنانچہ قرآن کے اصل پیغام تک پہنچنے کے لیے
مطالعۂ تفسیر بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے معانی، احکام، مقاصد اور حکمتوں کو واضح کرتا
ہے، اور یہی وضاحت انسان کی فکری اور عملی زندگی کو سنوارتی ہے ۔ قرآن کا ہر لفظ اپنے
اندر ایک وسیع جہان رکھتا ہے ۔ اس کی آیات
کبھی عقائد بیان کرتی ہیں، کبھی اخلاق، کبھی احکامِ شریعت، کبھی حکمتیں، کبھی
گزشتہ امتوں کے واقعات، اور کبھی آخرت کا تذکرہ ۔ ان تمام پہلوؤں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے محض ترجمہ کافی نہیں ہوتا
۔ تفسیر قاری کے سامنے قرآن کے اصل معانی
کھولتی ہے اور اسے یہ بتاتی ہے کہ کون سی آیت کس موقع پر نازل ہوئی، اس کا پس منظر
کیا ہے اور اس سے کیا عملی رہنمائی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وضاحت کا کام
سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کو سپرد کیا، اور اسی ذمہ داری کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْترجمہ کنز
الایمان: کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف
اترا ۔
یہ آیت خود
بتا رہی ہے کہ قرآن کی صحیح تفہیم بغیر تفسیر کے ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے
اقوال، افعال اور تشریحات کے بغیر قرآن کے کئی پہلو انسان کی سمجھ سے باہر رہ جاتے
ہیں ۔ تفسیر کے مطالعے سے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ جب انسان قرآن کے گہرے معانی، اللہ تعالیٰ کی
قدرت کے جلوے، انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد اور آخرت کی حقیقت پر غور کرتا ہے تو
اس کا دل یقین و خشیت سے بھر جاتا ہے ۔ تفسیر قرآن کے ایسے لطیف نکات کھولتی ہے جو محض ترجمہ پڑھنے سے ظاہر نہیں
ہوتے، اور یہی نکات انسان کے اندر ایک روحانی بیداری پیدا کرتے ہیں ۔ اسی طرح تفسیر
انسان کو عملی زندگی کے مسائل میں قرآن کی رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن میں احکامِ حلال و حرام، معاملات، عبادات،
عائلی زندگی، معاشی اصول، عدل و مساوات کے قوانین اور معاشرتی نظم و ضبط کے اصول بیان
کیے گئے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تشریح
کرتی ہے تاکہ مسلمان صحیح طریقے سے سمجھ کر عمل کر سکے ۔ اگر کوئی شخص قرآن کو بغیر تفسیر کے سمجھنے کی
کوشش کرے تو وہ بہت سے مقامات پر غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ آج کے دور میں، جب
بے شمار باطل نظریات، بے بنیاد تاویلات اور قرآن فہمی کے نام پر گمراہ کن خیالات
پھیل چکے ہیں، مطالعۂ تفسیر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ سوشل میڈیا اور مختلف فکری گروہ قرآن کو اپنی
سوچ کے مطابق پیش کرتے ہیں، جس سے عام لوگ بھٹک جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کو معتبر تفاسیر کی
روشنی میں سمجھا جائے، جیسے تفسیر ابنِ کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی، تفسیر جلالین،
تدبرِ قرآن اور تفہیم القرآن، جو علم اور امانت دونوں میں مضبوط ہیں ۔ آخر میں
خلاصہ یہ ہے کہ تفسیر کا مطالعہ قرآن کی فہم کا حقیقی دروازہ ہے ۔ یہ علم دل کو زندہ کرتا ہے، عقل کو روشنی بخشتا
ہے، ایمان کو پختہ کرتا ہے، اور زندگی کو قرآنی رنگ میں ڈھالتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تلاوت کے ساتھ
ساتھ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرے، تاکہ وہ قرآن کی ہدآیت کو سمجھ کر اپنی
زندگی میں نافذ کر سکے اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے ۔
Dawateislami