دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز (اسلامی بہنیں) نے تمام اسلامی بہنوں کے لئے خصوصی ون ڈے سیشن عید،عبادت اور قربانی “ کا انعقاد کیا ہے۔ اس ایک دن کے سیشن کا دورانیہ ایک گھنٹہ (60 منٹ) ہوگا جوکہ 7 مئی 2026ء کو منعقد کیا جائے گا۔

کورس کی خصوصیات:

اس سیشن میں ماہِ ذوالحجہ کے فضائل، یومِ عرفہ کی اہمیت، قربانی کا تاریخی پس منظر، وجوب کے مسائل اور حج کے مقاصد،نیز اس مبارک مہینے میں کی جانے والی مخصوص عبادات و وظائف،ان ایامِ بابرکت کو اطاعتِ الٰہی میں گزارنے کا مکمل عملی طریقہ بتایا جائے گا اس کے علاوہ اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا ۔ان شاء اللہ الکریم

داخلہ کی معلومات:یہ سیشن تمام اسلامی بہنوں کے لئے ہے تو جلدی کریں کہیں دیر نہ ہوجائے!

داخلہ لینے کے لئے اسلامی بہنیں اپنی ٹاؤن، ڈسٹرکٹ یا ڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں سے رابطہ کریں۔ مزید معلومات کے لئے آپ اس ای میل ایڈریس پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں:

Ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net


دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز (اسلامی بہنیں) نے 7 سے 9 سال کے بچوں اور 7 سے 12 سال کی بچیوں کے لئے خصوصی ون ڈے سیشن Eid of Sacrifice کا انعقاد کیا ہے۔ اس ایک دن کے دلچسپ و تعلیمی سیشن کا دورانیہ ایک گھنٹہ (60 منٹ) ہوگا جوکہ 7 مئی 2026ء کو منعقد کیا جائے گا۔

کورس کی خصوصیات:

اس سیشن میں عید کی تیاری، واقعات مثلاً پیاری بکری(معجزہ)،قیمتی گائے، اونٹ بچوں کا دوست، گوشت کے بارے میں اہم معلومات،علی اوراحرام(فرضی کہانی)،حج کا طریقہ (مختصراً)، مدینہ منورہ حاضری کا انداز،قربانی و حج سے متعلق ویڈیوز ، دلچسپ ایکٹیویٹیز مثلاً رنگ بھریں، تصویر مکمل کریں، اس کے علاوہ اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جن سے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا جائے گا۔ان شاء اللہ الکریم

داخلہ کی معلومات:

اس سیشن میں شرکت کے لئے عمر کی حد 7 سے 9 سال کے بچوں اور 7 سے 12 سال کی بچیوں کے لئے ہے۔ جلدی کریں کیونکہ جگہ محدود ہے!

داخلہ لینے کے لئے اپنی ٹاؤن، ڈسٹرکٹ یا ڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں سے رابطہ کریں۔ مزید معلومات کے لئے آپ اس ای میل ایڈریس پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں:

Ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net

اس اہم تعلیمی موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں۔ ان شاء اللہ، یہ سیشن بچوں کے لئے نہایت مفید اور یادگار ثابت ہوگا۔

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام آج مؤرخہ 07 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں اراکین شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔ اجتماعات میں اصلاحِ معاشرہ، خوفِ خدا و عشق رسول، دینی تعلیمات اور مختلف موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔بیان کے بعد حلقہ درود شریف و ذکر اللہ منعقد ہوگا جس میں شرکا والہانہ انداز میں بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں درود شریف اور اللہ پاک کا ذکر کریں گے۔ اجتماع کے اختتام پر رقت انگیز دعا مانگی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آج رات تقریباً08:00 بجے مدنی مرکزفیضان مدینہ نیو سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا سے مدنی چینل پر براہِ راست نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ جامع مسجد بابری تاج پورہ لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، جامع مسجد ابو حنیفہ سیالکوٹ میں رکن شوریٰ عبدالوہاب عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ اوکاڑہ میں رکن شوریٰ حاجی محمد رفیع عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ محلہ کشمیر نگر جلالپور جٹاں میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد اسد عطاری مدنی، مین بازار شیرانوالہ چوک حدوکے مریدکے میں رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری، جامع مسجد اقصیٰ شیرانوالہ گیٹ لاہور میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، بہزاد لکھنوی مسجد نارتھ ناظم آباد کراچی میں رکن شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری اور جامع مسجد حاجی سید عطاء الرحمٰن عالم نگر کالونی وارڈ نمبر 27، رنگپور سٹی کارپوریشن رنگپور بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔


قرآن کریم وہ آسمانی کتاب ہے جو انسانیت کے لیےہدایت رحمت اور نورِ بصیرت ہےاس کے فہم و تفسیرکامطالعہ دلوں کو منور کرتا اور بندے کو قربِ الٰہی کے رازوں سے آشنا کرتا ہےصحابہ کرام تلاوت کے ساتھ ہر آیت پر رک کر اس کے معنی و مقصد پر غور کرتے تھے یہی ان کے ایمان کی پختگی کا راز تھاائمہ و مفسرین نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کی تفسیر پڑھے بغیر دین سمجھنے کا دعویٰ کرے وہ دراصل ہدایت کے دروازے سے دور ہےمطالعۂ تفسیر صرف علم نہیں بلکہ عبادت ہےجو انسان کے ظاہر و باطن کو نُورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے ۔

(1) قرآن پر غور و فکر کی فضیلت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین عبادت یہ ہے کہ انسان قرآن کو غور و فکر کے ساتھ پڑھے کیونکہ تدبر و تفسیر سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور دلوں میں معرفتِ الٰہی کی روشنی پیدا ہوتی ہےجو شخص بغیر سمجھ کے قرآن پڑھے وہ صرف زبان ہلاتا ہے مگر روحانی فیض سے محروم رہتا ہے ۔ (الدر المنثور، جلد 1، صفحہ 22، حدیث نمبر 43، باب: فضلِ تلاوتِ قرآن، فصل: فی التدبر والتفک)

(2)قرآن پر غور کیے بغیر پڑھنے والے کی مذمت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن خود ان پر لعنت کرتا ہے وہ تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن کے معانی اور مقاصد پر غور نہیں کرتےجو شخص قرآن کو صرف تلاوت کے طور پر پڑھے مگر سمجھنے کی کوشش نہ کرے اس کی تلاوت اس کے خلاف حجت بنے گی ۔ (کنز العمال، جلد 2، صفحہ 524، حدیث نمبر 24294، باب: فضلُ القرآن، فصل: فی قراءتہ بترتیل وفہم)

(3) قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی تاکید:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن ختم کرے وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتاکیونکہ قرآن غور و تدبر کے لیے نازل ہوا ہے جو شخص ٹھہر ٹھہر کر معنی کے ساتھ قرآن پڑھےوہی اس کے حقیقی فیض کو حاصل کرتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 298، حدیث نمبر 1394، باب: فی کم یقرأ القرآن، فصل: فی التدبر والتفکر)

(4)مومن قرآن میں غور و فکر کرتا ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب قرآن پڑھتا ہے تو اس میں غور و فکر کرتا ہےاس کی آیتوں سے نصیحت حاصل کرتا ہےاس کے نور سے ہدایت لیتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہےجو شخص تلاوت کے وقت دل و دماغ حاضر رکھےوہی سچا قاری ہے ۔ (شعب الایمان، جلد 2، صفحہ 364، حدیث نمبر 1974، باب: فی تلاوة القرآن، فصل: فی التدبر والتفکر)

(5)قرآن کے معنی میں تدبر نہ کرنے والا غافل ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو قرآن پڑھے مگر اس کے معنی و مفہوم پر غور نہ کرےوہ اس اندھے کی طرح ہے جو روشنی میں بھی کچھ نہیں دیکھتاقرآن ہدایت کی کتاب ہے اور جو شخص اس کی آیات میں تدبر نہیں کرتا وہ ہدآیت سے محروم رہتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان، جلد 1، صفحہ 43، باب: تفسیر سورۃ البقرہ، فصل: فی الحث علی تدبر القرآن)

مطالعۂ تفسیر انسان کو قرآن کریم کے حقیقی مفہوم مقاصدِ الٰہی اور انبیاء کی تعلیمات سے روشناس کراتا ہےیہ

دل و دماغ کو نورِ ایمان سے منور کر کے عملِ صالح کی راہ دکھاتا ہےیوں تفسیر کا مطالعہ محض علم نہیں بلکہ بندگی معرفت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنتا ہے ۔


قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کے لیے مطالعہ تفسیر ایک بہترین ذریعہ ہے  ۔ ذیل میں اس سے متعلق تفصیلات بیان کی جارہی ہیں ۔

(1)مطالعہ تفسیر کی ضرورت و حاجت:قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی ممکن ہے ؛علومِ عربیہ کا ماہر ہوجائے اور قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس کے لیے بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں؛ اصل علم، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن قرآن ہے اور یہ علم صرف اور صرف توفیقِ الٰہی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کِرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتےتھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سُوال کرتے تھے ۔ چنانچہ جب سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 187 (وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (8 پ 2، البقرۃ: 187) ترجمہ کنز العرفان:”اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر سے سفیدی(صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہو جائے ۔ “ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابیِ رسول حضرت عَدِی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے جدا ہوجائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہوئیں؛ وہ صبح رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور رات کی صورتِ حال بیان کی تو آپ نے اِرشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَض یعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اورخَیْطُ الْاَسْوَدیعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری،،جلد1/صفحہ 632،کتاب الصوم حدیث:1916 ۔ )

وضاحت:یقیناً صحابۂ کِرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیرِ قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیرِ قرآن کے محتاج ہیں ۔

(2)مطالعہ تفسیر کے فوائد:ویسے تو تفسیر پڑھنے کے بہت سارے فوائد ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل میں ہے ۔

(1)احکامِ شرعیہ کا ادراک: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے حلال و حرام، فرائض و واجبات اور دیگر احکامات بیان فرمائے ہیں ۔ تفسیر ان احکام کی تفصیلی وضاحت پیش کرتی ہے، جس سے ان پر صحیح طریقے سے عمل کرنا آسان ہوتا ہے ۔

(2)شانِ نزول کا علم:بہت سی آیات مخصوص حالات یا واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئیں ۔ تفسیر ہمیں ان "شانِ نزول" سے آگاہ کرتی ہے، جس سے آیت کا سیاق و سباق اور اس کا اصل مقصد سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

(3)عقائد و نظریات کی درستگی: تفسیر کے مطالعہ سے قرآن کے بنیادی عقائد، توحید، رسالت، آخرت اور دیگر ایمانیات کی صحیح فہم حاصل ہوتی ہے، جو غلط نظریات اور بدعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے ۔

(4)سیرتِ نبوی سے آگاہی: قرآن کی بہت سی آیات کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی سیرت، غزوات اور دعوت سے ہے ۔ تفسیر ان واقعات کو واضح کرتی ہے، جس سے سیرت النبی ﷺ کا گہرا مطالعہ ممکن ہوتا ہے ۔

(5)باہمی اختلافات کا حل:بعض اوقات قرآنی آیات کو سمجھنے میں مختلف آراء پیدا ہو جاتی ہیں ۔ تفسیر کا گہرا مطالعہ ان اختلافات کو دلائل کی روشنی میں حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔

(6)روحانیت اور قربِ الٰہی:جب انسان اللہ کے کلام کے معانی کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت بڑھتی ہے ۔ یہ روحانیت حاصل کرنے کا ذریعہ اور اللہ کے قرب کا باعث بنتا ہے ۔

(7)دعوۃ و تبلیغ: قرآن کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کی صحیح فہم ضروری ہے ۔ مفسرین کے اقوال اور تفسیری نکات دعوۃ و تبلیغ میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں تفسیری مطالعہ کرنے اور اس کے ذریعے قرآن کے درست معانی و مفہوم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صحیح معنیٰ میں قرآن وسنت کا پابند بنائے آمین ۔ 


آجکل مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو قرآن پاک سے اتنی دور ہے کے درست قرآن پاک نہیں پڑھنا آتا  ۔ ایسے حالات میں تفسیر کا مطالعہ جو کرتے ہوں گے ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ تفسیر کے مطالعہ کی پہلے کے مقابلے میں آجکل بہت ضرورت ہے ۔ قرآن پاک کا سمجھنا صرف عربی سمجھنے پر موقوف نہیں ہے جو عام عربی سمجھنے والا بھی آسانی سے نہیں سمجھ سکتا ہے صحابہ اکرام جو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کو سمجھتے تھے ان کے بھی واقعات ملتے ہیں کے قرآن پاک کے معانی و مطلب سمجھنے کے لیے حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے ۔

تفسیر کی تعریف : قرآن مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو ۔ (تفسیر صراط الجنان ، ، جلد 1 ، صفحہ 30 ) عنوان کے مطابق نہیں

حکم : قرآنِ مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے اور آپنے علم ومعرفت سے قرآن کی جائز تاویل بیان کرنا اہل علم کے لئے جائز اور باعث ثواب ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ، ، جلد 1 ، صفحہ 30) ۔

(1)مطالعہ تفسیر کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں :

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 82 )

یہاں قرآن پاک میں لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ قرآن پاک میں غور فکر کرنا عبادت ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 2 صفحہ 258 )

(2) قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت :حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصدچراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوآپڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، 1/ 41، الجزء الاول، خُلاصہ ) ۔ 


مورخہ 3 مئی 2026ء کو جرمنی کے شہر Offenbach میں واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، SCHLOSS STRASSE 20 میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ایک دینی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے بڑے ذوق و محبت کے ساتھ شرکت کی۔

تقریب کا آغاز نمازِ ظہر کے فوراً بعد تقریباً 2:30 بجے ہوا جس میں حاضرین نے قرآنِ مجید کی تلاوت اور نعت رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنی جبکہ تقریباً 3:30 بجے ایک خصوصی بیان شروع ہوا۔

اس خصوصی بیان میں یورپ شیڈول پر آئے ہوئےخلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وہاں موجود تمام عاشقانِ رسول کی رہنمائی کی اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔

دورانِ بیان خلیفۂ امیرِ اہلسنت نے اسلامی تعلیمات کے اہم نکات پر روشنی ڈالی تاکہ مسلمان اپنی دینی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو سنوارتے رہیں۔

مطالعہ تفسیر قرآن مجید کی تفسیر اور تشریح کا مطالعہ کرنے کو کہتے ہیں ۔  یہ علم قرآن کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کے احکام و ہدایات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لئے نہایت اہم اور بہت ضروری ہے ۔

مطالعہ تفسیر کی ضرورت

(1)قرآن کی سمجھ: قرآن مجید کی تفسیر کرنے سے ہمیں اللہ تعالیٰ کے کلام کی صحیح سمجھ حاصل ہوتی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 10)

(2)دینی بصیرت: مطالعہ تفسیر سے ہمیں دینی بصیرت حاصل ہوتی ہے اور ہم اپنے عقائد و اعمال کو درست کر سکتے ہیں ۔ (تفسیر قرطبی، جلد 1، صفحہ 5)

(3) زندگی کے مسائل کا حل: قرآن کی تفسیر سے ہمیں زندگی کے مختلف مسائل کا حل ملتا ہے ۔ (تفسیر جلالین، صفحہ 20)

مطالعہ تفسیر کی اہمیت

(1) علم کی وسعت: مطالعہ تفسیر سے ہمارا علم وسیع ہوتا ہے اور ہم قرآن کی گہرائیوں کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 15)

(2)ایمان کی مضبوطی: قرآن کی تفسیر پڑھنے سے ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 10)

(3)امت مسلمہ کی رہنمائی: مطالعہ تفسیر سے امت مسلمہ کے رہنماؤں اور علماء کو قرآن و سنت کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے (تفسیر جلالین، صفحہ 30)

مطالعہ تفسیر ایک ضروری عمل ہے جو ہمیں قرآن مجید کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے ۔ ہمیں اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کرنا چاہئے ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 20)


مورخہ 2 مئی 2026ء کو یورپین ملک ڈنمارک کے علاقے GLOSTRUP میں موجود SMEDELAND 7, 2600 میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ایک پروگرام بنام FEMILY EVENT کا انعقاد کیا گیا۔

معلومات کے مطابق اس پروگرام میں مقامی عاشقانِ رسول، ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز شام 4:30 بجے قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا جس کے فوراً بعد نعت خواں اسلامی بھائی نے بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت شریف پیش کی ۔

تلاوت اور نعت کے بعد تقریباً شام 5:30 بجے ایک خصوصی بیان شروع ہوا جس میں پاکستان سے یورپ شیڈول پر آئے ہوئے خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے حاضرین کی دینی، اخلاقی، تنظیمی اور شرعی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف مدنی پھولوں سے نوازا۔

خلیفۂ امیرِ اہلسنت نے شرکا کی رہنمائی کے دوران انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول بارے میں بتایا اور انہیں بھی دینی ماحول سے وابستہ رہنے کی ترغیب دلائی۔

علاوہ ازیں خلیفۂ امیرِ اہلسنت نے اختتامی دعا کروائی جبکہ پروگرام میں شریک عاشقانِ رسول نے اُن سے ملاقات کرنے کی سعادت حاصل کی۔


ایک بہترین اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے انسان کی پدائش سے لے کر مرنے تک اور اس کے بعد کے تمام احوال جیسے قیامت، حشر و نشر، اعمال پر جزا و سزا ، جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان قرآن پاک میں کہیں صراحتاً تو کہیں پوشیدہ الفاظ میں موجود ہے  ۔

(1) قرآن پاک کی صرف تلاوت کرنا ہی کافی نہیں:قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے صرف قرآن پاک کی تلاوت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنا اس کے سمجھنے پر موقوف ہے ۔

تفسیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:تفسیر ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے قرآن پاک کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کرسکتے ۔ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر بہت ضروری اور اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر قرآن پاک کی تفسیر کو نظرانداز کردیا جائے اور فقط ترجمہ پڑھ کر قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بسااوقات بندہ گمراہی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے یا العیاذ باللہ کفر کے اندھیرے میں جا پہنچتا ہے۔

قرآن پاک میں غور و فکر:قرآن پاک کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی آیات میں غور و فکر بھی لازمی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمہ کنزالعرفان : تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔ (سورہ محمد آیت نمبر 24)

امام غزالی رحمۃ اللہ الوَالی فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قراٰن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء العلوم،ج5،ص170)

اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں قرآن پاک میں غور و فکر کرکے اس کے معنی و مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ


قرآن کریم اللہ ربّ العزت کا وہ معجزاتی کلام ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے مگر یہ ایسا کلام جس میں ہر لفظ کے پیچھے حکمت ہے، جس میں ہر آیت کے اندر ایک جہان پوشیدہ ہے ۔  اللہ پاک سورہ نحل آیت نمبر 44 میں ارشاد فرماتا ہے ۔ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ۔

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔

یاد رہے قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن قرآن میں غوروفکر کرنا اور احکامات وغیرہ بیان کرنا مفسرین کا ہی کام ہے ۔ لہذا ہم عوام کو کہ مستند صحیح العقیدہ علماء کی تفاسیر کا مطالعہ کریں ۔ اسی بناء پر مطالعۂ تفسیر کی اہمیت کو سمجھنا، اس کا ذوق پیدا کرنا اور اس سے استفادہ کرنا ہر مسلمان کی علمی و عملی ضرورت ہے ۔

قرآن میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی تو اس کے پیچھے ہمارے لیے دین و دنیا کے کے بہت فوائد موجود ہیں جیسے چند بیان کیے جاتے ہیں ۔

(1) خشیت الٰہی کا ذریعہ:مطالعہ تفسیر انسان کو دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کا ذہن دیتی ہے نیز عذاب و وعید والی آیات کے معانی کا فہم دیتی ہے ان وجوہات کی بنا پر دل میں خشیت الٰہی اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی تلاوت قرآن کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔

ترجمہ کنزالعرفان: اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں ۔ (پارہ 23 سورة الزمر آیت 23)

(2)عقائد کی درستگی کا ذریعہ:صحیح العقیدہ سنی علماء کی تفاسیر کے مطالعے سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق ابو صالح مفتی محمد قاسم عطاری تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں ۔ دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء ، فُقہاء،محدثین ومفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے ۔ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں ۔ (صراط الجنان جلد 2 ص 258،259)

لہذا مطالعہ تفسیر سے درست عقائد کا علم ہوتا ہے جیسے علم غیب مصطفیٰ، اختیارات مصطفیٰ، اور نورانیت مصطفیٰ ﷺ وغیرہ ۔

(3)احکام شریعت کی وضاحت کا ذریعہ:قرآن مجید شریعت کا اصل ماخذ ہے اور اس کی تفہیم کے بغیر کئی احکامات پر عمل بظاہر ممکن نہیں نظر آتا جیسے قرآن کریم میں نماز، روزہ ، زکوة ،حج ، نکاح ، طلاق وغیرہ کئی احکامات اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں ان کی تفصیل، اور شرائط و قیودات صرف تفسیر وسنت کے مطالعے سے ممکن ہےکیونکہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے ۔

اللہ پاک سے دعا اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر درست انداز سے چلنے اور تفاسیر کا مطالعہ کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


مطالعۂ تفسیر کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ قرآن پاک کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے ۔ 

امام جلال الدین سیوطی شافعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ، وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں جیسے جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ تو صحابہ کرام رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنْہم نے رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا ۔ نبی کریم صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَالِہ وَسَلَّمَ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور اس پر اس آیت ” اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ“ سے استدلال فرمایا ۔ جب میدانِ فصاحت و بلاغت کے شہسواروں کو قرآن کے معانی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی ) تو ہم تو اُس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار ورموز اور اس کے مراتب معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن النوع السابع والسبعون، فصل واما وجہ الحاجۃ اليہ الخ، ٢ / ٥٤٦-٥٤٧ ، ملخصاً)

مطالعۂ تفسیر کی چند اہم پہلو:

(1) قرآن پاک کو صحیح سمجھنے کے لیے: قرآن پاک کی تلاوت سے ہر آیت کا مکمل مفہوم سمجھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ تفسیر کے مطالعے سے آیات کے چھپے ہوئے معانی ان کا تاریخی پس منظر اور ان کی گہری حکمت سامنے آتی ہے جس سے قرآن کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

(2) احکامِ شرعیہ پر عمل کے لیے: تفسیر کے ذریعے قرآن پاک میں بیان کردہ احکام، فرائض اور واجبات کو درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکم کس وقت، کس تناظر میں اور کس مقصد کے لیے نازل ہوا ۔

(3) غلط فہمیوں سے بچاؤ کے لیے:تفسیر کا مطالعہ قرآن کی آیات کی غلط تشریح اور تاویل سے بچاتا ہے ۔ جب تک قرآن کی گہرائیوں کو نہ سمجھا جائے اس کی آیات کی غلط تشریح سے گمراہی اور ایمان سے دھو بیٹھنے کا خطرہ رہتا ہے ۔

(3) دینی دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے: دعوتِ اسلامی کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا ہے ۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ مبلغین قرآن پاک کے پیغام کو مکمل علم کے ساتھ پیش کریں ۔ تفسیر کا مطالعہ دعوت کے کام کو زیادہ جامع اور مضبوط بناتا ہے ۔

(4) ایمان کی مضبوطی کے لیے: قرآن کے کلام الٰہی ہونے کو سمجھنے سے ایمان اور اللہ عزوجل سبحانہ و تعالیٰ سے تعلق مزید گہرا ہوتا ہے ۔ جب بندہ تفسیر قرآن پاک کے ذریعے اللہ کے کلام میں غور و فکر کرتا ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے ۔

(5) دعوتِ اسلامی کے کاموں میں شامل ہونا: دعوتِ اسلامی اپنے مبلغین اور واعظین کو تفسیر کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کے لیے وہ مختلف تعلیمی اور تنظیمی طریقۂ کار بھی پیش کرتے ہیں ۔