22، 23 اور 24 مئی 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام شعبہ مدنی چینل عام کریں کے ذمہ داران کے لیے 3 دن کا سنتوں بھرا اجتماع ہونے جا رہا ہے جوکہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقد ہوگا۔

معلومات کے مطابق ٹریننگ و رہنمائی پر مشتمل اس اجتماع میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ، نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری، رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری اور دیگر ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی حاضرین کو وعظ و نصیحت کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے درمیان سنتوں بھرے بیانات بھی کریں گے۔

اس 3 دن کے اجتماع میں سنتوں بھرے بیانات، جدید ڈیجیٹل و ٹیکنیکل سیشنز اور مدنی مذاکرے شامل ہوں گے جن کا مقصد ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو دینِ اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ 


07 مئی 2026ء بروز جمعرات مصنفِ کُتُبِ کثیرہ حضرت مولانا محمد شہزاد قادری ترابی صاحب (کراچی)، مولانا محمد حمزہ ترابی صاحب اور ادارہ غوثیہ مجددیہ رکن الاسلام ستیانہ (فیصل آباد) کے مہتمم صاحبزادہ محمد عرفان بریلوی الوری صاحب نے دعوتِ اسلامی کے تعلیمی بورڈ، کنز المدارس کے ہیڈ آفس (فیصل آباد) کا خصوصی دورہ کیا۔

اس موقع پر معزز علمائے کرام کی کنزالمدارس بورڈ کے عہدیداران سے خصوصی ملاقات ہوئی جن میں بالخصوص ناظمِ تعلیمات کنز المدارس بورڈ مولانا گل رضا عطاری مدنی، مولانا محمد صادق عطاری مدنی اور مولانا ڈاکٹر محمد فرحان اختر عطاری مدنی شامل تھے۔

اس ملاقات کے دوران تعلیمی بورڈ کے عہدیداران نے معزز علمائے کرام سے مختلف تعلیمی و تدریسی امور اور عصرِ حاضر میں دعوتِ اسلامی کی جانب سے دینِ اسلام کی خدمت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ۔


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر دینی تحریک، دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر جمعرات کی رات دنیا کے کم و بیش 200 سے زائد ممالک میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ آج بھی حسبِ روایت مؤرخہ 14 مئی 2026ء بروز جمعرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہزاروں عاشقانِ رسول ان اجتماعات میں شریک ہوں گے۔

اجتماعات کا آغاز قرآن پاک کی نورانی آیات اور بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیہ نعت پیش کر کے کیا جائےگا۔ دعوتِ اسلامی کے مبلغین قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی گزارنے کے طریقے، اخلاقیات، اور شرعی احکامات پر مدلل بیانات کریں گے۔ اجتماع کے آخری لمحات میں رقت انگیز دعا اور ذکرِ الٰہی کی محفل سجتی ہےجس میں امتِ مسلمہ کی بہتری، ملک و ملت کی سلامتی اور گناہوں سے توبہ کی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج رات تقریباً08:00 بجے جام کمال خان فٹ بال اسٹیڈیم نزد ویٹرنری ہسپتال بائی بیلہ بلوچستان سے مدنی چینل پر براہِ راست نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی فضیل عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ مدنی مرکز فیضان مدینہ اسلام آباد جی 11 میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی، جامع مسجد ممتاز قادری ہجویری سکیم لاہور میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، مدنی مرکز فیضان عطار ادیب کالونی نزد مین جی ٹی روڈ سرائے عالمگیر میں رکن شوریٰ مولانا حاجی اسد عطاری مدنی، جامع مسجد ابو حنیفہ سیالکوٹ میں رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری، جامع مسجد شاہ ابو البرکات مغلپورہ لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ انتو والی بائی پاس شکر گڑھ میں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری ، محمود خان جامع مسجد A.K خان پہاڑتلی، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری اور فیضان مدینہ مسجد 338 5th Avenue Laudium South Africa میں رکن شوریٰ حاجی خالد عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

دعوتِ اسلامی کے یہ اجتماعات نہ صرف مسلمانوں کی علمی و فکری پیاس بجھانے کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مدنی چینل پر ان اجتماعات کی براہِ راست نشریات کے ذریعے کروڑوں لوگ گھر بیٹھے بھی اس روحانی فیض سے مستفید ہو تے ہیں۔


بقیع پاک: تذکرہ و زیارت

Tue, 12 May , 2026
21 days ago

سبق:1

امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت ہے: مَاتَ بِالْمَدِينَةِ مِنَ ‌الصَّحَابَةِ ‌نَحْوُ ‌عَشَرَةِ آلَافِ نَفْسٍ۔ یعنی تقریباً 10 ہزار صحابہ کرام جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔ (ترتیب المدارک و تقریب المسالک 1/46، فتح المغیث 4/111)

مبارک قبریں

1: بی بی فاطمہ زہرا، حضر ت عباس، امام حسن مجتبیٰ ، امام زین العابدین، امام محمد باقر، امام جعفر صادق۔

2:بی بی زینب ، بی بی رقیہ، بی بی ام کلثوم(بناتِ رسول)۔

3:امہات المومنین کی:حضرت عائشہ، حضرت زینب بنتِ جحش، حضرت زینب بنتِ خزیمہ، حضرت جُویریہ، حضرتِ اُمِّ حبیبہ ، حضرت صفیہ، حضرت ام سلمہ ، حضرت مار یہ، حضرت حفصہ ۔

4:حضرت عقیل ، حضر ت جعفر طیار۔5: امام نافع ، امام مالک 6:حضرت عبدالرحمن ابن فاروق اعظم۔7: حضرت ابراہیم ابن ِرسولُ اللہ ، حضرت عبدللہ بن مسعود، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت ابوہریرہ، بی بی فاطمہ بنت اسد(والدہ ٔمولا علی) ، حضرت محمد بن حنفیہ۔8:شہدائے واقعہ حرہ، ايك يا دو شہدائے احد۔ 9:حضرت عثمان غنی۔10:بی بی حلیمہ سعدیہ اور ان کی بیٹی بی بی شیما۔11: حضرت سعد ابن معاذ، حضرت ابو سعید خدری۔ 12:بی بی صفیہ، بی بی عاتکہ(رسول اللہ کی پھوپھیاں ) اور بی بی ام البنین(زوجہ ٔمولا علی)۔ رضی اللہ عنہم اجمعین

13:وضو خانہ۔ (جستجوئے مدینہ ص609)

سبق:2

منعِ زیارت کے لیے عدمِ مزارکایقین چاہئے اورجوازِزیارت کے لیے ایک روایت واحتمال کافی ہے ۔ انہیں جہاں سے پکاروگے فیض پہنچائیں گے۔ حضرتِ فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے مزارِاطہر میں بھی دوروایتیں ہیں :

(1):بقیع شریف میں اور(2):خاص جوارِروضۂ اَقدس( یعنی گنبد خضرا کے ساتھ متصل ان کے اپنے مکان) میں۔ ایک صاحبِ دل نے مدینے شریف کے ایک عالم سے کہا:میں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں، اَنوار پاتا ہوں۔ فرمایا: یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجّہ چاہئے پھر نورِباری ان کاکام ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ج26ص432سے مختصراً)

سبق:3

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ’’بہار شریعت جلد اوّل صفحہ 1228پر لکھتے ہیں :

بقیع قبرستان میں قریب دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مدفون ہیں اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔ یہاں جب حاضر ہو پہلے تما م مدفونین مسلمین کی زیارت کا قصد کرے اور یہ پڑھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْـتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَھْلِ الْبَقِیْعِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَـنَا وَلَھُمْ .

تمام اہلِ بقیع میں افضل امیر المومنین سید نا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہیں، اُن کے مزار پر حاضر ہوکر سلام عرض کرے۔

قبہ 2:حضرت سیدنا ابراہیم ابن رسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اسی قبہ شریف میں ان حضراتِ کرام کے بھی مزارات طیبہ ہیں، حضرت رقیہ (حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صاحبزادی) حضرت عثمان بن مظعون (یہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رضاعی بھائی ہیں) عبدالرحمن بن عوف و سعد بن ابی وقاص (یہ دونوں حضرات عشرہ مبشرہ سے ہیں) عبداﷲ بن مسعود (نہایت جلیل القدر صحابی خُلفائے اربعہ کے بعد سب سے اَفقہ) خنیس بن حُذافہ سہمی واسعد بن زرارہ رضی اﷲ عنہم اجمعین۔ ان حضرات کی خدمت میں سلام عرض کرے۔

قبہ 3:حضرت سیدنا عباس رضی اﷲ عنہ، اسی قبہ میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ و سر مبارک سیدنا امام حسین و امام زین العابدین و امام محمد باقر و امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہم کے مزاراتِ طیبات ہیں، ان پر سلام عرض کرے۔

قبہ 4:اَ زواج مطہرات حضرت اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا کا مزار مکہ معظمہ میں اور میمونہ رضی اﷲ عنہا کا سرف میں ہے۔ بقیہ تمام ازواج مکرّمات اسی قبہ میں ہیں۔

قبہ 5:حضرت عقیل بن ابی طالب اس میں سفیان بن حارث بن عبدالمطلب و عبداﷲ بن جعفر طیار بھی ہیں اور

6: اس کے قریب ایک قبہ ہے جس میں حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تین اولادیں ہیں۔

قبہ 7:صفیہ رضی اﷲ عنہا حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پھوپھی۔

قبہ 8: امام مالک رضی اﷲ عنہ۔ قبہ 9:نافع مولیٰ ابن عمر رضی اﷲ عنہما۔

ان حضرات کی زیارت سے فارغ ہو کر مالک بن سِنان و ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہما و اسماعیل بن جعفر صادق و محمد بن عبداﷲ بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہم و سیّد الشہدا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کی زیارت سے مشرف ہو۔(بہار شریعت)

(تفصیلی معلومات کے لیے دیکھئے: ’ارشاد الساری الیٰ مناسک ا لملا علی قاری ، مبطوعہ: المکتبۃ الامدایۃ ، مکۃ المکرمۃ صفحہ730تا733)

سبق:4

1… بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یہ دعا کرتے :

اللهم اغْفِرْ ‌لِأَهْلِ ‌بَقِيعِ ‌الْغَرْقَدِ ۔ اے اللہ ! تواہل بقیع کی مغفرت فرما۔ (صحیح مسلم، حدیث: 974مختصراً)

2… اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالی شان ہے :

قیامت کے دن بقيع الغرقد سے 70 ہزار اَفراد ایسے اُٹھیں گے جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے اور وہ سب بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسند ابو داؤد طیالسی، ج 3 ص 206حدیث:1740)

3… رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:

تم میں سےجس سےہوسکےکہوہ مدینے میں فوت ہو، بے شک میں اُس شخصکی شَفاعت کروں گاجو مدینے میں فوت ہوگا۔

(سنن ترمذی، حدیث:3943)

4…حضرت ابن عمر رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

(جب لوگ اٹھائیں جائیں گے)سب سے پہلے میری قبر کھلے گی، پھر ابو بکر پھر عمر(رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھلیں گی پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گاتو وہ بھی اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ میرے ساتھ ہوں گے۔ (مستدرک ،حدیث:4486)

وضاحت: جب قیامت میں دوسرے نفخہ پر قبریں کھلیں گی، مردے نکلیں گے زندہ ہوکر تو اس کی ترتیب یہ ہوگی کہ سب سے پہلے حضور انور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی قبر کھلے گی اور نبیوں کی بعد میں،پھر سب سے پہلے حضرت صدیق و فاروق(رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھلیں گی دوسرے لوگوں کی بعد میں۔ (مرآت شرح مشکات ج8ص28)

5 حضرت ا بو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :بقیع کابطور قبر ستان انتخاب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود کیااور ارشاد فرمایا :

’’ مجھے اس جگہ (یعنی بقیع کے انتخاب )کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ اس قبرستان میں (مہاجرین) میں سب سے پہلے حضرت عثمان بن مظعون کی تدفین ہوئی، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے (بطورِ نشانی ) ان کے سرہانے کی جانب ایک اینٹ رکھ دی۔ (مستدرک،حدیث:4919)

سبق:5

بقیع مسجدِ نبوی شریف کے جنوب مشرقی جانب واقع ہے ۔’بقیع ‘عربی زبان میں درختوں والے کھلے میدان کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے خو درَو گھاس ، پودے ہوں۔ چونکہ اس میدان میں غرقد کے درخت تھے اسی لیے اس جگہ کو ’ بقیع الغرقد ‘کہا جاتا ہے اور جب یہ مقام بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مرقد ومدفن بنا تو اِن حضرات کو جنّتی ہونے کی بشارت ملی ہے اِس مناسبت سے یہ قبرستان عرب وعجم میں ’ جنت البقیع ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔

حاضری کا طریقہ: جنت البقیع کے مَدْفُونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہوکر سلام عرض کریں اور باہر ہی سے دعا کریں کہ اب جنت البقیع میں موجود تقریباً تمام مزارات کو شہیدکردیا گیا ہے، اگر آپ اندرگئے تو کیا معلوم آپ کا پاؤں کس صحابی یا ولی کے مزار پر پڑرہا ہے۔شرعی مسئلہ: عام مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے : (قبرِستان میں قبریں مِٹا کر) جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے۔ (فتاویٰ شامی1/612)بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختار3/183 ) (رفیق الحرمین ص235تا236سے خلاصہ)

میں ہوں سُنّی رہوں سُنّی مروں سُنّی مدینے میں // بقیعِ پاک میں بن جا ئے تُربت یارسولَ اللہ

یا اللہ! ہمیں ایمان کے ساتھ مدینے میں وفات، جنت البقیع میں تدفین اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین۔


29 اپریل 2026ء  کونماز مغرب کے بعد دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ جی 11 اسلام آباد میں عاشقانِ رسول کے مرحومین کے لئے ”ایصال ثواب اجتماع“ کا اہتمام کیا گیا جس میں اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں صوبائی ذمہ دار مولانا مزمل عطاری مدنی نے حاضرین کے درمیان ”ایصالِ ثواب“ کے موضوع پر بیان کیا اور انہیں ایصال ثواب کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں بتایا۔

اس دوران بالخصوص ایک طالب علم زاہد عطاری کے نانا ( جن کا حال ہی میں وصال ہوا ہے)سمیت دیگر عاشقانِ رسول کے مرحومین کے لئے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

اجتماع کے آخر میں صوبائی ذمہ دار نے اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع اور ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ علمِ دین سیکھ سکیں۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


26 اپریل 2026ء کو شعبہ کفن دفن کے تحت جامع مسجد غوثیہ ، مشین محلہ نمبر 3،  جہلم میں غسل میت و کفن کا ایک خصوصی کورس منعقد کیا گیا جس میں اسلامی بھائیوں نے بھرپور شرکت کی۔

اس کورس میں صوبائی ذمہ دار شعبہ کفن دفن مولانا محمد مزمل عطاری مدنی نے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کو غسلِ میت کے حوالے سے اہم باتیں بتائیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭ تختۂ غسل پر پانی کے بے تحاشہ استعمال سے گریز کیا جائے٭ پانی کو مستعمل نہ کرنے کی احتیاطی تدابیر ٭ حدیثِ پاک کی روشنی میں غسلِ میت کی فضیلت کیا ہے٭غسلِ میت کا شرعی حکم کیا ہے؟٭ غسلِ میت میں کیا کرنا فرض ہے؟۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے غسلِ میت کو سنت کے مطابق ادا کرنے کے سات مراحل کا ذکر کیا اور عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں سے بھی آگاہی کیا نیز حاضرین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے عملی طریقہ ٔکار بھی سکھایا گیا۔

اس موقع صوبائی ذمہ دار نے شرکائے کورس کو مسلم فنرل ایپلیکیشن کا تعارف بھی کروایا گیا اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دلائی۔ (رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

شعبہ رابطہ بالعلماء دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے مولانا قاری فخرالدین صدیقی صاحب (بانی و مہتمم جامعہ صدیقیہ نعیمیہ فیضان القرآن، واہ کینٹ)سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں شعبے کے صوبائی ذمہ دار مولانا شہباز عطاری مدنی نے انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی اور دنیا بھر میں ہونے والی دعوتِ اسلامی کی خدمات کے بارے میں بتایا۔

بعدازاں مولانا قاری فخرالدین صدیقی صاحب نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو دعاؤں سے نوازا اور دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی خدمات پر خوشی کا اظہار کیا۔(رپورٹ: مولانا خالد عطاری مدنی عطاری، صوبائی ذمہ دار شعبہ رابطہ بالعلماء اسلام آباد پنڈی ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


6 مئی 2026 کو، دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (DMIU) کے چانسلر مولانا حاجی محمد جنید عطاری مدنی (رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ) نے DMIU کے معروف اساتذہ کے ہمراہ ایک اہم میٹنگ کی۔

اس اہم میٹنگ میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے آلات کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے حوالے سے مشترکہ امور پر گفتگو کی گئی۔ اس دوران اساتذہ کو بتایا گیا کہ وہ عالمی معیارات کے مطابق اپنی تعلیمی خدمات انجام دیں مگر ساتھ ہی ہماری بنیادی اسلامی اقدار کو بھی برقرار رکھیں۔

اس سلسلے میں نئی اسٹریٹجک ہدف بندی کی گئی تاکہ نئی جدتیں متعارف کروائی جا سکیں، طلبہ کے تعلیمی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے اور ادارے کی ترقی کے لئے آئندہ کے اہداف طے کئے جاسکیں۔(رپورٹ: سید ذیشان حسین بخاری عطاری ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

6 مئی 2026ء کو دارالمدینہ انٹر نیشنل یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں ”فیکلٹی ٹریننگ سیشن برائے امتحانی عمل“ کی ایک اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر محمد طاہر صدیقی (ڈپٹی کنٹرولر آف امتحانات) نے خصوصی لیکچر دیا۔

اس نشست میں فیکلٹی کے ارکان نے اساتذہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے گہری مشقیں کیں تاکہ امتحانی طریقۂ کار میں مزید بہتری لائی جا سکے جبکہ معیاری تشخیص کے لئے مختلف موضوعات کا جائزہ لیا گیا جن میں موضوعاتی بنیاد پر گریڈنگ، ایمانداری سے امتحان لینے اور امتحانی پیپرز کی نگرانی شامل تھی۔

دارالمدینہ انٹر نیشنل یونیورسٹی کے اساتذہ مسلسل اپنی مہارتوں کو جدید بنانے اور ایک عالمی معیار کا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس نشست کا مقصد امتحانی نظام کو مزید بہتر اور منصفانہ بنانا تھا تاکہ طلبہ کو ایک بہتر و منصفانہ تعلیمی تجربہ فراہم کیا جا سکے۔(رپورٹ: سید ذیشان حسین بخاری عطاری ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


9 مئی 2026ء مطابق 22 ذیعقدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی۔

مذاکرہ کا آغاز تلاوت قرآن اور نعتِ رسول سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے سوالات کے جوابات دیئے اور مختلف امور پر اُن کی رہنمائی فرمائی۔ عاشقانِ رسول نے دینِ اسلام سے متعلق جو سوالات کئے اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

سوال:اسلامی تاریخ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:میں اسلامی(ہجری) تاریخ کو پسند کرتا ہوں جب بھی تاریخ لکھنی ہو تو اسلامی تاریخ لکھتا ہوں ،پھر عیسوی تاریخ بھی لکھ دیتا ہوں کیونکہ اسی کا زیادہ استعمال ہے۔ سب گواہ ہو جائیں کہ مجھے اسلامی تاریخ سے محبت ہے اور آپ بھی اس سے محبت کریں ، آپ بھی اپنے آپ پر اس کو نافذ کریں ۔

سوال:سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب:مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ عالمِ دین، مدرسِ منظرِ اسلام بریلی شریف ہند (India)، استاذُالعلماء اورصاحبِ مجازِ سلسلۂ قادریہ رضویہ تھے۔ ان کی ولادت 1334ھ مطابق 1916ء کو بریلی شریف میں ہوئی اور 16ذیقعدہ 1375ھ مطابق 26 جون 1956ء میں باعتبارِ سنِ ہجری 41 سال کی عمر میں منگل کے دن وصال فرمایا۔ آپ کامزار مبارک خاموش کالونی قبرستان، لیاقت آباد ٹاؤن( کراچی) میں ہے۔ حضرت نعمانی میاں کی عمر جب 4 سال 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو خاندانی طریقہ و رواج کے مطابق سیدی اعلیٰ حضرت نے بسم اللہ پڑھائی اور سلسلۂ قادریہ رضویہ میں بیعت بھی فرما لیا۔ آپ نے والدۂ محترمہ سے قرآنِ کریم ناظرہ اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔آپ کو تقریباً 5 سال سیدی اعلیٰ حضرت کی زیارت و صحبت حاصل رہی۔ آپ نے علمِ دین اپنےوالدِ محترم حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان سے حاصل کیا اور ان سے سبقاً سبقاً کتبِ تفاسیر و فقہ پڑھیں۔ علامہ محمد ابراہیم خُوشتر صدیقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اپنے جدِّ امجد(یعنی اعلیٰ حضرت ) کے زیرِ سایہ 5 سال تک پروان چڑھتے رہے۔ حضرت نعمانی میاں نے اپنے والدِ ماجد حجۃ الاسلام کا پورا زمانہ پایا۔ سفر و حضر میں استفادہ کرتے ر ہے۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ:” اپنے ظرف کو اتنا وسیع رکھیں کہ وہ تنقید کو جذب کر سکے اور تعریف میں بہہ نہ جائے“۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: واہ کیا بات ہے مدینے کی !بڑا پیارا قول مرتب کیا گیا ہے، بندے میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیئے ،امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دشمن کی تنقید سے سیکھنا چاہیئے کیونکہ وہ بغیر کسی خوف کے تنقید کرے گا جبکہ دوست ڈر ڈر کر تنقید کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنی تعریف سن کر بہہ نہ جائے یعنی تعریف سُن کر پُھول نہ جائے ۔

سوال: کون سی عظیم ہستیاں سوڈان سے ہیں؟

جواب: حضرت حکیم لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ ،حضرت نجاشی رحمۃُ اللہِ علیہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔

سوال: جس کی بیماری طویل ہو جائے تو اس کے ساتھ ہمارا کیا انداز ہونا چاہیئے ؟

جواب: ہمارا عزیز، رشتہ دار، دوست یا ہمسایہ بیمار ہو جائے اور بیماری طویل ہو جائے تو گاہے بگاہے(کبھی کبھار) اس سے ملتے رہیں ،پوچھتے رہیں ،کبھی واٹس ایپ کر دیا کریں تاکہ اُسے بیماری کے ساتھ جدائی کا غم نہ ہو۔ ایسوں کو یا جنہیں کوئی غم ہو جائے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ۔ میں کئی مِیل چل کر مریضوں کی عیادت کے لئے گھروں اور ہسپتال میں جایا کرتا تھا ،میں نے بہت جنازے پڑھائے ہیں ۔

سوال: مدنی مذاکرے میں دعوتِ اسلامی کے کن دو مرحومین کا ذکرِ خیر ہوا؟

جواب:مولانا گلریز عطاری مدنی (منگلا ،کشمیر)اور قاری مسرور عطاری(کراچی)ان دونوں اسلامی بھائیوں کااسی مہینے میں انتقال ہوا۔دونوں ماشآء اللہ بااخلاق،مِلنسار، دعوتِ اسلامی کا دِینی کام کرنے والے اور اپنے اپنے شعبے میں نمایاں طور پر خدمات سرانجام دینے والے تھے ۔اللہ پاک ان دونوں کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔

سوال: مدرسۃ المدینہ میں بچوں کو پانی پلانے کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا تاکید فرمائی؟

جواب: مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ میں طلبہ کوپانی پلانے کااہتمام کریں ،درجے (کلاس )میں جگ اور گلاس رکھیں تاکہ بچوں کو پانی پینے میں آسانی ہو۔بڑے بھی پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت کریں گے تو ثواب بھی ملے گا۔ ان شآء اللہ الکریم

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھ یا سُن لے،اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والابنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جی 11 اسلام آباد میں 7 مئی 2026 کو شعبہ رابطہ برائے تاجران کا ماہانہ مدنی مشورہ منعقد ہوا تاکہ شعبے کے دینی کاموں کا فالو اپ لیا جاسکے اور ذمہ داران کو نئی اپڈیٹس سے آگاہ کیا جاسکے۔

اس دوران نگرانِ شعبہ مولانا فہیم عطاری مدنی نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی تربیت کی اور تاجران میں دینی کاموں کو مزید بڑھانے کے لئے آئندہ کے اہداف مقرر کئے۔

نگرانِ شعبہ نے تاجران کو راہِ خدا میں سفر کروانے، دعوتِ اسلامی کے مدنی مراکز اور پروجیکٹس کا وزٹ کروانے نیز تاجران کی دینی ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے چند اہم باتیں بتائیں جس پر وہاں موجود تمام ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے دعوتِ اسلامی کے اصولوں کے مطابق دینی کام کرنے کی اچھی اچھی نیتیں ظاہر کیں۔

اس مدنی مشورے میں اراکینِ شعبہ، صوبائی ذمہ داران اطہر اشتیاق عطاری، محمد لیاقت عطاری اور محمد عمران عطاری بھی موجود تھے۔(رپورٹ: اطہر اشتیاق عطاری، صوبائی ذمہ دار اسلام آباد شعبہ رابطہ برائے تاجران، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

5 مئی 2026ء کو  شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت سعید آباد ٹاؤن، ڈسٹرکٹ کیماڑی کراچی کی جامع مسجد احمد رضا میں ”دعائے شفاء اجتماع“ کا اہتمام کیا گیا جس میں مقامی عاشقانِ رسول اور ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس موقع پر تلاوتِ قرآن، نعت رسول مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور مبلغ دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے بیان سے حاضرین نے استفادہ کیا جبکہ سٹی ذمہ دار طارق امان عطاری نے مختلف موضوعات پر شرکا کی رہنمائی کی۔

اسی طرح نمازِ حاجات کی ادائیگی کے بعد دعا کا سلسلہ ہوا اور پریشان حال و مصیبت زدہ اسلامی بھائیوں کا ہاتھوں ہاتھ استخارہ کرکے انہیں تعویذاتِ عطاریہ بھی دیئے گئے۔ (رپورٹ: سمیر علی عطاری، اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)