قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جسے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ۔  یہ کتابِ مقدس قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے راہِ زندگی ہے ۔ تاہم قرآن کریم کے گہرے مفہوم، حکمتوں اور عملی رہنمائی کو سمجھنے کے لیے محض ظاہری تلاوت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ضروری ہے کہ انسان قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے مفاہیم، اسبابِ نزول، احکام، اصولِ زندگی اور اللہ و رسول ﷺ کے مطلوب طریقے کو واضح کرتا ہے ۔ اسی لیے امت کے ہر دور میں علماء نے تفسیر کو بنیادی اور ضروری علم قرار دیا ۔

قرآن پاک میں مطالعۂ تفسیر (فہمِ قرآن) کی اہمیت:

(1)قرآن سمجھ کر پڑھنے کا حکم:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ النساء: 82)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ قرآن کو سمجھے اور اس پر غور کرے، اور یہ تدبر تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

(2) قرآنی احکامات کی تفصیل تفسیر سے معلوم ہوتی ہے:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ

ترجمۂ کنز الایمان:کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ قرآن کی وضاحت نبی ﷺ نے فرمائی، اور یہی وضاحت آگے چل کر تفاسیر میں محفوظ ہوئی ۔

مطالعۂ تفسیر کی چند بنیادی وجوہات

1، قرآن کے اصل مقاصد اور احکام سمجھنے کے لیے ۔

2، غلط فہمیاں اور خودساختہ معانی سے بچنے کے لیے ۔

3، قرآن کے اسلوب، شانِ نزول اور حکمتوں کو جاننے کے لیے ۔

4، زندگی کے مسائل میں قرآن کو عملی رہنما بنانے کے لیے ۔

5، نیکی، عبادات، اخلاق اور معاملات کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے ۔ مطالعۂ تفسیر ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ قرآن بغیر فہم کے وہ اثر نہیں دیتا جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے ۔ تفسیر انسان کو قرآن کے قریب کرتی ہے، اس کے دل میں نور پیدا کرتی ہے، اور زندگی کے ہر گوشے میں روشنی بخشتی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی معتبر تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کرے ۔ 


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مطالعۂ تفسیر ہی وہ  راستہ ہے جو لوگوں کوقرآن کو سمجھاتا ہےصحیح عقیدہ دیتا ہے

شریعت کے احکام واضح کرتا ہےعمل کی راہیں کھولتا ہے تفسیر پڑھنے سے اللہ کی عظمت دل میں اترتی

ہےعقیدہ مضبوط ہوتا ہےآخرت کا یقین بڑھتا ہےانسان گناہوں سے بچنے لگتا ہےآئے تفسیر کی اہمیت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں ۔

(1)علوم دین کی اصل:تفسیر کا علم دین کے علوم کی اصل ہے اور اسی کے ذریعے قرآن کے حقائق کھلتے ہیں ۔ قرآن عظیم کو بغیر تفسیر و تشریح کے سمجھنا عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ۔

( 2)اپنی رائے سے تفسیر نہ کرنا:قرآن کے معنی وہی معتبر ہیں جو علماے محققین نے تفسیر کے ذریعے بیان کیے، اپنی رائے سے معنی لینا غلطی اور گمراہی ہےقرآن کو صحیح معانی کے ساتھ سمجھنا فرضِ کفایہ ہے ۔

(3)تفسیر کا علم:بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہےتفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی ۔

(4) خاموش رہنا بہتر ہے:قرآن کریم کے معانی تب ہی کھلتے ہیں جب انسان اس کی تفسیر اور احادیثِ نبویہ کی روشنی لےقرآن کے معانی میں وہی شخص بات کرے جو لغت، نحو، حدیث اور اصولِ فقہ میں مضبوط ہو، ورنہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے ۔

(5)گمراہی اختیار کرنا :قرآن کی آیات پر اپنی رائے سے گفتگو کرنا دین کے لیے نقصان دہ ہے اس کا علاج صرف تفسیر کے ذریعے صحیح علم حاصل کرنا ہےجس نے قرآن کو بغیر علمِ تفسیر کے سمجھنے کی کوشش کی، اس نے گمراہی اختیار کی ۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بے تفسیر قرآن پڑھنا غلط فہمی کا سبب بن سکتا ہے ۔ تفسیر کا علم علما کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی ضرورت بھی اگر انسان قرآن کو اپنی مرضی سے سمجھنے لگے تو بہت سی گمراہیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ باقاعدگی سے تفسیرِ قرآن کا مطالعہ کرے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ 


قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل ترین کتاب ہے، جو تمام انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور رشد و نجاة کا ذریعہ ہے ۔  مگر قرآن پاک کے صحیح فہم اور اس کے اصل پیغام تک رسائی اُس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک اس کی تفسیر کا مطالعہ نہ کیا جائے ۔ تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعے قرآن کے معنی، احکام، شانِ نزول، مقاصد، الفاظ کی وضاحت اور گہرائیوں کو سمجھا جاتا ہے ۔

(1) قرآن کے صحیح مفہوم تک رسائی:قرآن حکیم میں بے شمار حکمتیں اور معانی پوشیدہ ہیں ۔ محض ترجمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سے احکام، مسائل اور آیات کے پس منظر کو جانے بغیر انسان غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ تفسیر ان تمام پہلوؤں کو واضح کرتی ہے اور قاری تک اصل پیغام پہنچاتی ہے ۔

(2) دینی بصیرت اور فہمِ دین میں اضافہ:مطالعۂ تفسیر انسان کو گہرائی والا دینی شعور عطا کرتا ہے ۔ یہی علم ہمیں بتاتا ہے کہ کن احکام کا کیا مقصد ہے، کن آیات سے کون سے اصول اخذ کیے جاتے ہیں، اور قرآن زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں کیا رہنمائی دیتا ہے ۔

(3) عقائد و اعمال کی درستگی:بہت سے لوگ قرآن کی غلط یا ناقص تشریح کی وجہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں ۔

صحیح تفسیر کا مطالعہ عقائد کو مضبوط اور عبادات کو درست کرتا ہے ۔ زندگی کے ہر میدان اخلاق، معاملات، معاشرت، عبادات میں قرآن کی حقیقی رہنمائی تفسیر ہی سے ملتی ہے ۔

(4) عشقِ قرآن میں اضافہ:تفسیر کا مطالعہ انسان کو قرآن سے گہری محبت عطا کرتا ہے ۔ جب بندہ آیتوں کے پس منظر، ان کے نزول کے واقعات اور ان کے اندر چھپی حکمتوں کو جان لیتا ہے تو اس کا دل اللہ کے کلام سے اور زیادہ جڑ جاتا ہے ۔

(5) دعوت و تبلیغ کے لیے ضروری:ایک مبلغ یا داعی کے لیے تفسیر کا علم بنیادی ضرورت ہے ۔ دعوتِ دین دیتے ہوئے قرآن کی آیات پیش کرنا، ان کے معنی سمجھانا، لوگوں کے ذہنوں کی اصلاح اور مسائل کا حل قرآن کے ذریعے بتانایہ سب اسی وقت ممکن ہے جب تفسیر پڑھی ہوئی ہو ۔

(6)زمانے کے فتنوں کا مقابلہ:آج کل بے شمار باطل نظریات، غلط تاویلات اور گمراہ کن فرقے قرآن کی غلط تشریح کرتے ہیں ۔ ان فتنوں سے خود کو اور دوسروں کو بچانے کے لیے صحیح عقائد اور معتبر تفاسیر کا مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔

(7) سلفِ صالحین کا طریقہ:صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ تفسیر نے قرآن کے ہر لفظ، ہر حکم اور ہر معنی کو پڑھا، سمجھا اور پھر آگے امت تک پہنچایا ۔ ان کے طریقے پر چلتے ہوئے ہم بھی قرآن کی حقیقی دولت اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں ۔

مطالعۂ تفسیر ایمان کی مضبوطی، زندگی کی رہنمائی، فہمِ دین، دعوتِ دین اور باطن کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ جو شخص قرآن سے قریب ہونا چاہے، اس کے نور سے دل روشن کرنا چاہے، اور اسے زندگی کے ہر شعبے میں رہنما بنانا چاہے، اسے لازماً تفسیرِ قرآن کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ 


قرآن کو سمجھنے اور اس کے احکام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت پیش آتی ہے ۔  تفسیر دراصل وہ علم ہے جو قرآن کے الفاظ، معانی، احکام، اسبابِ نزول اور مرادِ الٰہی کو واضح کرتا ہے ۔ اگرچہ قرآن مجید خود نور ہے، لیکن اس کے اسرار و معانی کو سمجھنے کے لیے مفسرینِ کرام نے اپنی زندگیاں صرف کیں ۔

تفسیر کی ضرورت و اہمیت: قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ بہت ساری وجوہات کی بناء پر اہم اور ضروری ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔

(1) قرآن کے فہم کے لیے:قرآن کا اصل مقصد ہدایت ہے، لیکن یہ ہدایت اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب انسان قرآن کے معانی اور مقاصد سے واقف ہو ۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اور عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت میں بے مثال ہے ۔ لہٰذا عام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ مفسرین کی مدد سے قرآن کے مفاہیم کو سمجھیں ۔

( 2) احکامِ شریعت کو سمجھنے کے لیے:قرآن میں عبادات، معاملات، اخلاق اور حدود کے احکام موجود ہیں ان کی وضاحت کے لیے تفسیر ضروری ہے تاکہ احکام کی صحیح نوعیت، موقع و محل اور حکمت سمجھ میں آسکے ۔

(3) تحریف و غلط فہمی سے بچاؤ کے لیے:بغیر تفسیر کے قرآن کو سمجھنے کی کوشش بعض اوقات غلط تعبیرات کا باعث بنتی ہے ۔ مفسرین نے قرآن کی تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں کی تاکہ امت گمراہی سے محفوظ رہے ۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے بات کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔ (سنن ترمذی/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ/حدیث: 2950)

(4)زندگی میں عملی رہنمائی کے لیے:قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ عمل کا دستور ہے ۔ اس کے احکام کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اس کی صحیح تشریح ضروری ہے ۔

علامہ محمود آلوسی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: تفسیر ہی وہ علم ہے جو لوگوں کے لیے مرادِ الٰہی پر عمل کا دروازہ کھولتا ہے ۔ ( روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، جلد 1، صفحہ22)

قرآن کی معنوی حفاظت تفسیر کے ذریعے ہوئی ۔ مفسرین نے احادیث، اقوالِ صحابہ کرام علیھم الرضوان اور لغتِ عرب کے ذریعے قرآن کی مراد کو واضح کر کے اس کی تعلیمات کو بگاڑ سے محفوظ رکھا ۔

(5) دینی علوم کی بنیاد جاننے کے لیے:تمام دینی علوم (فقہ، عقیدہ، اخلاقیات) کی جڑ قرآن ہے، اور ان علوم کی تفہیم تفسیر کے ذریعے ممکن ہے ۔

(6) روحانی و اخلاقی تزکیہ کرنے کے لیے:تفسیر محض انسان کے ظاہر کو بہتر نہیں بناتا بلکہ باطن کو بھی بہتر بناتا ہے اور اسکی روحانی ترقی کا سبب بنتا ہے ۔ جب انسان قرآن کی تفسیر کے ذریعے مرادِ الٰہی کو سمجھتا ہے تو اس کا دل منور ہوتا ہے، ایمان پختہ ہوتا ہے، اور عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے ۔

(7) امت کی فکری و علمی وحدت کے لیے:مفسرین کی محنت نے امت کو ایک منہج پر قائم رکھا ۔ اگر تفسیر نہ ہوتی تو قرآن کے معانی میں اختلاف اور انتشار بڑھ جاتا ۔ اہلِ سنت مفسرین نے قرآن کی تعبیر کو سنت اور اجماعِ امت کے اصولوں سے جوڑا، جس سے امت کی فکری وحدت قائم رہی ۔

علمِ تفسیر قرآن سمجھنے کی بنیاد ہے ۔ یہ وہ علم ہے جس نے امت کو قرآن کی صحیح مراد سمجھنے، اس کے احکام پر عمل کرنے، اور فکری گمراہیوں سے بچنے کی طاقت دی ۔ مفسرینِ اہلِ سنت نے اپنی زندگیاں قرآن کے اسرار کھولنے میں گزاری ہیں ۔ لہٰذا قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ بھی ضروری ہے تاکہ ہم قرآن کے علمی خزانوں کو حاصل کر سکیں اور قرآن ہمارے لیے بالفعل ہدایت بن جائے ۔ 


قارئین کرام! تفسیر کا لغوی معنی ہے "واضح کرنا"، "کھول کر بیان کرنا" ۔  اور اس کی تعریف یہ ہے کہ "وہ علم جس میں احوال قرآن سے بحث کی جائے یعنی نزول قرآن، الفاظ قرآن، معانی قرآن، ناسخ و منسوخ وغیرہ"، علّامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ تفسیر کی غرض یہ ہے کہ"معانی قرآن کو سمجھنا اور اللہ کی رسّی کو تھام کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا" (الاتقان فی علوم القرآن) ۔

علم تفسیر تمام علوم سے افضل ہے کیونکہ علم تفسیر کا موضوع قرآن پاک ہے ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)

قرآن میں غور و فکر کا حکم اللہ ﷻ نے دیا ہے اور تفسیر اسی کا ذریعہ ہے ۔

تفسیر قرآن کی حاجت: جب سورہ بقرہ کی آیت 187 ﴿وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر ۔ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید ڈوری اپنے تکیے کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید ڈوری کالی سے جدا ہوجائےگی ۔ جب ڈوریاں جدا نہ ہوئیں تو وہ صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورتحال بیان کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہاں سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور کالے دوڑے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (صحیح بُخاری، باب قَوْل اللَّهِ تَعَالَىوَكُلُوا وَاشْرَبُواالایۃ﴾، کتاب الصوم، حدیث 1916، صفحہ 461، مکتبہ دار ابن کثیر)

یقیناً صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و سمجھ میں ہم سے بڑھ کر تھے تو جب ان حضرات کو قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت ہے تو یقیناً ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر کے محتاج ہیں ۔

موجودہ دور میں تفسیر کی ضرورت:علماء حق کا طریقہ کار یہ تھا اور یہ ہے کہ ترجمہ قرآن اور تفسیر کے لیے تقریباً اکیس (21) علوم میں محنت کرتے تھے مثلاً نحو، بیان، بدیع، لغت، حدیث، فقہ، ادب وغیرہ ۔ مگر آج کے پر فتن دور میں کچھ لوگوں کا یہ طریقہ کار نہ رہا بلکہ جو سمجھ آیا اور جیسا سمجھ آیا اسی کے مطابق ترجمہ اور تفسیر کردی ۔ جس کی وجہ سے گمراہیت اور بدمذہبیت کا راستہ کھل گیا ۔ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ جب پڑھیں کسی صحیح العقیدہ عالم دین کا ترجمہ پڑھیں جیسے کنز الایمان، کنز العرفان وغیرہ اور صرف ترجمہ پڑھ کر اپنی عقل سے قرآن سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تفسیر قرآن کی طرف رجوع کرے اور اس سے افادہ حاصل کرے جیسے خزائن العرفان، صراط الجنان وغیرہ ۔

قرآن سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے:قرآن کریم کو سمجھنا بڑی عبادت اور سعادت ہے ۔ قرآن سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے کے درمیان فرق کرتے ہوئے حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے اُن کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت اُن کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے" ۔ (تاریخ حدیث و تفسیر، مکتبۃ المدینہ)

مطالعہ تفسیر کی فضیلت:ویسے تو قرآن پاک کی تلاوت کے بیشمار فضائل ہیں لیکن سمجھ کر قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کیے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے" ۔ (احیاء العلوم الدین)

ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ وہ اپنے رب کا کلام پڑھے اور اسے سمجھے ۔ پیارے اسلامی بھائیو! یہ نیت کر لیجئے کہ روزانہ کم از کم تین آیات تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھے گے ۔ ان شاءاللہ عزوجل ۔ 


قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کو  اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ۔  یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو کے لیے کامل ہدایت ہے ۔ لیکن اس ہدایت سے حقیقی فائدہ تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب قرآن کریم کو صحیح معانی، شانِ نزول، احکام اور حکمتوں کے ساتھ سمجھا جائے ۔ مطالعہ تفسیر کے بغیر قرآن کے حقیقی پیغام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔

‎‎قرآن پاک میں تفسیر کا حکم: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔

( اَلنِّسَآء :4، آیت 82)

‎‎ یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں ۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا رسول ہے ۔

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا مقصد صرف تلاوت نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھنا تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵ / ۱۷۰)‎‎

‎‎صحابۂ کرام کی قرآن سمجھنے کی کوشش:حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:"کُنَّا نَتَعَلَّمُ العَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا نَتَجَاوَزُهَا حَتّى نَعْلَمَ مَا فِيهِنَّ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ"ترجمہ:ہم دس آیات سیکھتے، ان کو سمجھتے، ان پر عمل کرتے، پھر اگلی آیات کی طرف جاتے ۔ (مسند احمد، حدیث 22971)

مطالعۂ تفسیر کی کتب :تفسیر ابن کثیر،تفسیر طبری،‎‎تفسیر قرطبی،‎‎تفسیر جلالین،‎‎معارف القرآن،‎‎ضیاء القرآن

‎‎مطالعہ تفسیر مقصد :مطالعہ تفسیر قرآن کریم کی صحیح فہم کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سمجھنے کا حکم دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دی ہے ۔ آج کے دور میں جب فتنوں کا طوفان ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ معتبر تفسیر کے ذریعے قرآن کو سمجھے، اس پر عمل کرے اور دوسروں تک صحیح پیغام پہنچائے ۔


قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اندھیروں ‏سے نکال کر روشنی کی طرف ہدایت عطا کی ۔  یہ صرف تلاوت کے لیے نازل نہیں ‏ہوا، بلکہ سمجھ کر عمل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے ۔ جب تک مسلمان قرآن کے ‏معنی اور اس کا پیغام نہیں سمجھیں گے، اُن کے دلوں میں اس کی حقیقی تاثیر اور نور ‏پیدا نہیں ہوسکتا ۔ قرآن کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف تلاوت تک ‏محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ ‏

ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕترجمہ کنز العرفان:تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔

(پ 5، النساء: 82)‏

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر ‏کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام غزالیرحمۃ اللہ علیہ احیاء العُلوم‎ ‎میں فرماتے ‏ہیں: کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن ‏پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، 5/170)‏

تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کا معنی، مقصد، شانِ نزول، احکام، حکمتیں اور عملی پیغام ‏ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔ بغیر تفسیر کے قرآن کو پڑھنا ویسے ہی ہے ‏جیسے کوئی شخص نقشہ دیکھے لیکن اس کے نشانات کا مطلب نہ سمجھے ۔ ‏

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا حکم:

ارشاد باری تعالیٰ ہے : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تدبر کرنا مقصدِ نزول ہے اور تدبر تفسیر کے بغیر ‏ممکن نہیں ۔

تفسیر قرطبی میں ہے :‏حضرت اِیاس بن معاویہ‎ ‎رحمۃ اللہ علیہ ‏فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید‎ ‎پڑھتے ہیں اور وہ تفسیر‎ ‎نہیں جانتے ان ‏کی مثال‎ ‎ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے ‏بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو ‏پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ‏ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال ‏اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے ‏چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں ‏کیا لکھاہے ۔ ‎ ‎

مطالعہ تفسیر کی ضرورت کیوں ہے؟تفسیر دل میں ایمان کی تازگی، خشوع اور اللہ سے قرب پیدا کرتی ہے ۔ قرآن ‏کے پیغام کو سمجھ کر پڑھنے سے دل نرم ہوتا ہے اور عبادت میں لذت بڑھ ‏جاتی ہے ۔ تفسیر انسان کی سوچ کو درست کرتی ہے ۔ احکام، حکمتیں اور معانی واضح ہوتے ‏ہیں، جس سے قرآن کی آیات نئے دروازے کھولتی ہیں اور بصیرت ‏بڑھتی ہے ۔ قرآن کے احکام اور اخلاقی اصول سمجھ آتے ہیں ۔ تفسیر پڑھنے والا حلال و حرام ‏کی پہچان حاصل کرتا ہے، اپنے معاملات، اخلاق اور عبادات کو بہتر بناتا ‏ہے ۔ تفسیر قرآن کے گہرے مفہوم تک رسائی کا دروازہ ہے ۔ اس کے بغیر آیت کا ‏اصل پیغام ادھورا رہتا ہے ۔ تفسیر انسان کو قرآن سے عملی ربط سکھاتی ہے،آیات صرف پڑھی نہیں ‏جاتیں بلکہ زندگی میں اترتی ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے انسان گمراہی، غلط فہمی اور من گھڑت تاویلات سے محفوظ رہتا ‏ہے ۔ تفسیر دل میں یقین پیدا کرتی ہے کہ قرآن ہر دور کی ضرورت اور ہر مسئلے کا حل ‏رکھتا ہے ۔ مطالعۂ تفسیر انسان کو اخلاق، معاملات، عبادات اور کردار میں مضبوط اور باشعور ‏بناتا ہے ۔ تفسیر پڑھنے سے قرآن کے معجزاتی اسلوب، اس کی حکمتوں اور روحانی اثرات ‏کی گہرائی سمجھ آتی ہے ۔ قرآن کے مسلسل مطالعہ اور تفسیر کے ذریعے اللہ کی معرفت بڑھتی ہے اور ‏بندے میں عاجزی اور شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ تفسیر کا مطالعہ دراصل قرآن کی اصل روح کو پانے کا ذریعہ ہے ۔ تلاوت نور ہے، ‏مگر تفسیر اُس نور کو سمجھنے کا راستہ ہے ۔ جو مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اُس کی ‏زندگی میں فکر کی پختگی، دل کی نرمی، اعمال میں مضبوطی اور اللہ سے قرب پیدا ہوتا ‏ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں، بلکہ سمجھ کر عمل ‏کرنے کی نیت سے اس کی تفاسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں ۔ یہی حقیقی ‏کامیابی اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا راستہ ہے ۔ 


قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، علم، اخلاق اور زندگی کے تمام شعبوں میں روشنی کا سرچشمہ ہے ۔  مگر قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے محض عربی جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کے مفاہیم و معانی میں گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہی ضرورت تفسیر کہلاتی ہے، یعنی قرآن کی وضاحت، تشریح اور مفہوم کو سمجھنا ۔

تفسیر کی تعریف:لفظ "تفسیر" عربی لفظ فسّرَ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں "کسی بات کو واضح کرنا یا کھول کر بیان کرنا" ۔ اصطلاحی طور پر:"قرآن مجید کے ،معانی، احکام اور مقاصد کو دلائل و قرآن کی روشنی میں واضح کرنا تفسیر کہلاتا ہے ۔ "

قرآن کی روشنی میں تفسیر کی اہمیت وضرورت :

( 1 ) قرآن پاک سمجھنے کا حکم :اللہ تعالیٰ خود قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ ترجمہ کنز العرفان:تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔ ( سورۃ النساء آیۃ نمبر ۔ 82)

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک کو سمجھنے اور اس میں غور وفکر کرنے کی کتنی ضرورت و اہمیت ہے ۔

مطالعۂ تفسیر کی ضرورت: ( 1 ) قرآن کے درست مفہوم تک رسائی:قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے، لیکن اس کے بعض مقامات اجمال، تمثیل یا مجاز پر مشتمل ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لیے تفسیر ضروری ہے تاکہ انسان غلط مفہوم نہ لے ۔

( 2 )، احکامِ شریعت کا فہم حاصل کرنا:نماز، روزہ، زکوٰۃ، جہاد اور دیگر عبادات کے احکام کی تفصیل تفسیر کے ذریعے معلوم ہوتی ہے ۔

( 3) زندگی کے عملی مسائل کا حل:تفسیر ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو موجودہ زمانے کے مسائل پر کس طرح منطبق کیا جائے ۔

( 4،) ایمان و یقین میں اضافہ:جب انسان تفسیر کے ذریعے قرآن کے معجزات، اسلوب اور حکمت کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے ۔

( 5) دعوت و اصلاح کے لیے تیاری:ایک داعی یا مصلح کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے پیغام کو صحیح طور

پر سمجھے تاکہ وہ دوسروں تک صحیح تعلیم پہنچا سکے ۔

مطالعۂ تفسیر کی اہمیت:

(1)قرآن فہمی کا ذریعہ:تفسیر کے بغیر قرآن کا فہم ادھورا رہتا ہے ۔ مفسرین نے سیاق و سباق، لغت، شانِ نزول، اور احادیث کی روشنی میں معنی واضح کیے ۔

(2) تحریف اور غلط فہمی سے بچاؤ:جو لوگ بغیر تفسیر کے قرآن کو اپنی مرضی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ تفسیر ہمیں ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔

(3)سلفِ صالحین کی رہنمائی:تفسیر ہمیں صحابہ، تابعین اور ائمہ کی فہمِ قرآن سے جوڑتی ہے ۔ یہی صحیح فہم کا اصل ذریعہ ہے ۔

( 4) علم و روحانی ترقی:تفسیر کا مطالعہ انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور دل کو نور ایمان سے منور کرتا ہے ۔

مطالعہ تفسیر محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے کیونکہ قرآن پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب اسے صحیح طور پر سمجھا جائے لہذا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے وہ اہل علم کی رہنمائی میں قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرے تاکہ اس کی زندگی قرآن کے مطابق بن سکے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں مطالعہ تفسیر کا شوق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ 


اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زندگی کے ہر ہر گوشے کے متعلق ہماری رہنمائی فرمائی ہے  ۔ ظلم و بربریت، قطع رحمی، بدسلوکی، بداخلاقی اور بےجا غصہ کرنے سے بچنے حسن اخلاق، صلہ رحمی،حلم وبردباری اور نیک سلوک اختیار کرنے کا درس دیا ۔ عبادات و اخلاقیات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی بھلائی و خیر خواہی والا معاملہ کرنے کو دارین کی سعادت قرار دیا ۔ مقروض کے ساتھ نرمی کرنا بھی انہی امور میں سے ایک ہے ۔ نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف خود مقروض کے ساتھ نرمی و خیرخواہی والا برتاؤ فرمایا بلکہ اس حوالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت بھی فرمائی،پوری امت کو اس کی تعلیم بھی دی حتیٰ کہ مقروض کو ادائے قرض میں آسانی کےلئے دعائیں بھی تعلیم فرمائی ۔ خصوصا جب مقروض تنگدست ہو تو مہلت دینا واجب ہے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ3 سورۃ البقرہ آیت نمبر 280)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ

ترجمہ:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے دو جھگڑنے والے اَفراد میں فقط ایک مبارک جملے سے صلح کروادی ۔ اس مناسبت سے امام بخاری علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس حدیث کو باب الصلح کے تحت لائے ۔

مقروض کے ساتھ نرمی و حسن سلوک کا حکم : عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔

( شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام بالصلح ، ج8 ،ص98 ۔ )

نیکی سے مراد: حدیث پاک میں نیکی سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا ہے ۔ (دلیل الفالحین ،باب فی اصلاح بین الناس، ج 2، ص50،تحت الحدیث 251،دارالمعرفہ بیروت1431ھ )

قرضدار کے ساتھ نرمی اور بھلائی کیجئے : پیارے پیارے اسلامی بھائیو!تنگ دست مقروض تو قابل رحم ہےمگر دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نازیبا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، سب کے سامنےاُس کی عزت پامال کرتے، معاذاللہ طرح طرح کے طعنے دیتے ،آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اس لاچار غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں ۔ حالانکہ کثیر احادیث طیبہ میں تنگدست قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

فرامین آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائےگا ۔ ( صحیح المسلم،کتاب الذکروالدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن،ص1447حدیث2699 ، دارالمغنی عرب شریف 1419ھ)

(2) جس نے تنگدست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی ، کتاب البیوع، باب ماجاء فی انظار المعسروالرفق بہ، ج3، ص52، حدیث 1310،دارالمعرفہ بیروت1414ھ)

اللہ پاک ہمیں آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرض دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے ،نرمی کرنے ، مہلت دینے اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔



اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو نہ صرف اللہ عزوجل کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک ، ہمدردی اور خیر خواہی کی تعلیم بھی دیتا ہے ۔  حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پوری زندگی مبارک ذات انسان کے لیے مشعل راہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جہاں عبادات کی ترغیب دی ہے ، وہیں معاشرتی مسائل پر بھی راہنمائی فرمائی ہے ۔ انہی اہم مسائل میں ایک " مسئلہ" قرض لینے ، دینے کا ہے " ۔ بعض اوقات انسان مجبوری یا ضرورت کے تحت قرض لینے پر مجبور ہوتا ہے ۔ تو مقروض افراد پر سختی برتنا ، ان پر بے جا دباؤ ڈالنا یا ذلت امیز سلوک اختیار کرنا سراسر تعلیمات اسلام کے خلاف ہے ۔ بلکہ دین اسلام نے ان کمزور اور محتاج طبقے کے لوگوں کے ساتھ نرمی ، مہربانی اور سہولت برتنے کا حکم دیا ہے ۔ قارئین کے سامنے اس بارے میں چند احادیث اور ایک واقعہ پیش خدمت ہے ۔

قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات : حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ ( صحیح مسلم ، جلد 5 ، ص 33 ، حدیث نمبر : 1563 )

اللہ عزوجل اسے عرش کے سائے میں رکھے گا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( جامع الترمذی ، جلد 2 ، ص 575 ، حدیث نمبر : 1306 )

حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ ( صحیح البخاری ، جلد 3 ، ص 57 ، حدیث نمبر : 2076 )

مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا تھا : حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا " گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ ، کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے ؟ اس نے کہا ، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ، اس سے کہا گیا : غور کر کے بتا ، اس نے کہا : صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا ، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے در گزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ عزوجل نے ( فرشتے سے ) فرمایا : تم اس سے در گزر کرو ۔

( صحیح مسلم ، جلد 5 ، ص 32 ، حدیث نمبر : 1560 )

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور مجوسی قرضدار : امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رحمہ اللہ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رحمہ اللہ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رحمہ اللہ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) آپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رحمہ اللہ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رحمہ اللہ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رحمہ اللہ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ آپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رحمہ اللہ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء آپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ ( تفسیر کبیر ، الفصل الرابع فی تفسیر قوله : مالک یوم الدین ، جلد 1 ، ص 204 )

مقروض کے ساتھ نرمی برتنا نہ صرف انسانیت ہے بلکہ یہ تعلیم نبوی بھی ہے ۔ موجودہ دور میں جبکہ مالی دباؤ عام ہے ، ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں ، ان پر مہربانی کریں ، اور اگر ممکن ہو تو قرض معاف کردیں یا کم از کم نرمی اختیار کریں ۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو معاشرے میں محبت ، رحم و انصاف کو فروغ دیتا ہے ۔ اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو اپنائیں تو ہمارا معاشرہ ایک بہترین اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے ۔ 


اسلام ایک ایسا کامل اور بہترین دین ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام طرح سے رہنمائی فراہم

کرتا ہے ۔ اس دینِ نے انسانیت کی کامیابی کے لیے جہاں عبادات کی تعلیم دی، وہیں معاملات میں انصاف، آسانی اور ہمدردی کی بھی تعلیم دی ۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا کسی آدمی پر قرض تھا جب اس کے پاس قرض لینے جاتے تو وہ آگے پیچھے ہوجاتا ۔ ایک دن وہ اس کے گھر گئے تو ایک بچہ نکلا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بچے سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا ۔ اس نے کہا وہ گھر میں کھاناکھا رہا ہے انہوں نے آواز دی کہ اے فلاں! باہر آؤ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم یہیں ہو ۔ وہ آدمی آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تو مجھ سے کیوں غائب ہوجاتا ہے؟ اس نے کہا میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اللہ کی قسم! کیا تو واقعی تنگدست ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میں نے اللہ کے رسول (ﷺ) سے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے قرض دار پر نرمی کی یا اس کا قرض معاف کردیا تو وہ روز قیامت عرش کے سایہ تلے ہوگا ۔ ( مسند احمد : کتاب باقی مسند الأنصار، باب حدیث أبی قتادہ)

(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِجس نے کسی مؤمن کی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی تنگدست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2699)

(3) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے آراستہ کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی الگ کر لی جاتی ہے، اسے بدنما بنا دیتی ہے‘‘ ۔ ( مسلم، رقم ۲۵۹۴، مجمع الزواید ،۸/۱۸)

(4) ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ : ایک تاجر لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی تنگدست کو دیکھتا تو اپنے خدام سے کہتا: اسے چھوڑ دو، شاید اللہ ہمیں بھی معاف کر دے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے معاف فرما دیا ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2078، صحیح مسلم، حدیث: 1562)

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مقروض پر نرمی، مہلت اور درگزر نہ صرف اخلاق کا تقاضہ ہے بلکہ یہ عمل انسان کو اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کے قریب کر دیتا ہےاسلام نے انسانی زندگی میں باہمی ہمدردی، نرمی اور آسانی کو بنیاد کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے یہ واضح رہنمائی ملتی ہے کہ مالی معاملات میں بھی رحم و کرم اور درگزر کا جذبہ برقرار رہنا چاہیے ۔ آپ ﷺ نے مقروض پر نرمی، مہلت دینے اور معافی کے عمل کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ اسے عظیم اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا ۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرماتا ہے ۔ لہذا اس دور میں اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ہمدردی اور مشکل وقت میں پریشانی دور کرنے کے لیے حسب توفیق مدد کرنی چاہیے اور اس بات سے بھی بچا جائے کہ لوگوں میں میری واہ واہ ہو میرا نام ہو اور دوسرے مسلمان بھائی کی بھی عزت نفس کا خیال کرنا چاہتے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ


پیارے پیارے اسلامی بھایو!جو شخص مشکل وقت میں قرض دار کے ساتھ رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے گادوسروں کے دکھ میں ساتھ دینا انسانیت کی علامت ہے، قرض دار کے ساتھ نرمی بھی یہی ہے  ۔ قرض دار کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کے مطابق رویہ اختیار کرنا عقل مند کی نشانی ہے آئیے قرض دار پر نرمی کے متعلق کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) قرضوں میں آسانی کرو:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ سَهْلَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي دَيْنِهِ سَهْلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض میں آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور

آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ ( سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3098)

(2) بلاؤں سے نجات :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: مَنْ أَعْطَى الْمُدِينَ مُهْلَةً أَوْ سَهْلَ عَلَيْهِ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَاءِترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روآیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو قرض دار کو مہلت دے یا اس پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اسے بلاؤں سے نجات دے گا ۔ ( سنن الترمذى كتاب البيوع، حدیث نمبر 1322)

(3) قیامت کے دن مہلت :عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ أخَّرَ دَيْنَ مُسْلِمٍ لَهُ أَخَّرَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو کسی مسلمان کے قرض کی ادائیگی میں مہلت دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے مہلت دے گا ۔ (سنن ابی داؤد، كتاب البيوع، حدیث نمبر 3147 )

(4) قرض اچھے طریقے سے ادا کرنا :إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءًترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھا ہو ۔ (صحیح بخاری جلد2 باب حُسْن الْقَضَاءِ حدیث نمبر 2393)

(5) قرض دار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ساتھ :إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يُكْرَهُ الله ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ قرض دینے والے کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ اپنا قرض ادا نہ کرے، بشرط یہ کہ وہ قرض کسی ایسی چیز کے لیے نہ ہو جسے اللہ نآپسند کرتا ہو ۔ (سنن ابن ماجہ،باب مَن أَخَذَ قَرْضًا وَهُوَ يُنْوِي تَسْدِيدَهُ ،جلد 3 صفحہ 270 حدیث نمبر2409)

پیارے پیارے اسلامی بھایو! یہ حدیثیں ہمیں سکھاتی ہے کہ مالی معاملات میں سختی نہیں بلکہ نرمی اور ہمدردی ہونی چاہیے ۔ آج کے دور میں جہاں لوگ معمولی مالی جھگڑوں پر دلوں میں نفرت بھر لیتے ہیں، وہاں یہ تعلیم ہمیں انسانیت بردباری اور سماجی سکون کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اگر ہم قرض داروں کے ساتھ نرمی مہلت اور خیر خواہی کا برتاؤ کریں تو نہ صرف ہمارے دلوں میں سکون آئے گا بلکہ معاشرہ بھی محبت تعاون اور عدل سے بھر جائے گا ۔ اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔