(1)نبیِّ
کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے
پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں
داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
(2)اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(بخاری، کتاب الصلح ، باب ھل یشیر الامام
بالصلح ،2 / 214 ، حدیث : 2705)
مزکورہ حدیث سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:
(1)حتی
المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے ۔
(2)قرض خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں
کمی بھی کرنی چاہیے ۔
(3)قرض خواہ اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت
نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا
باعث ہے ۔
(4)نیک کام کو ترک کرنے کی قسم کھانے والے کو
تنبیہ کرنا سنت سے ثابت ہے ۔
(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی
کریم رؤف رحیم ﷺ کی مراد کو بہت جلد سمجھ جایا کرتے تھے اور
اشارہ ملتے ہی اُس پر عمل پیرا ہوجاتے ، نیز نیکیوں پر بہت حریص ہوا کرتے تھے ۔
(6)یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ سے مقروض کے
لیے سفارش کرنی چاہیے ۔ (فیضانِ ریاض
الصالحین جلد 3 صفحہ 370 تا 371 )
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت
ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ
جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر
لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک
لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت
کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست و مجبور قرض
دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
(1) جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ،
اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ (مسلم، كتاب الذكر والدعا، باب فضل الاجتماع
على تلاوة القرآن ، ص 1447 حدیث: 2699) (2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ،3 / 52 الحدیث: 1310)
(3) جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے
ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ ﷺ کو
فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو
مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔ “ میں
نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ
جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب
ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی
اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ
قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے
پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا
پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا
ب ملے گا ۔ “ ( مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ، 9 / 32 ، حدیث : 23108)(فیضانِ ریاض الصالحین صفحه 369 تا 370 )
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا
قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں
، چنانچہ ا س کے چند فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات
دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث: 32(1563))
(2)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12 الحدیث: 2076 )
(3) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا:میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار
ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث:29(1560)
اسر علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو صرف عبادات پر ہی نہیں بلکہ معاملات، اخلاقیات اور معاشرتی
رویوں پر بھی گہری رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔
اسلامی معاشرت کی بنیاد باہمی ہمدردی، اخوت اور غمخواری پر رکھی گئی ہے
۔ ان ہی تعلیمات کا ایک اہم پہلو مالی
معاملات میں نرمی، خصوصاً مقروض کے ساتھ حسنِ سلوک ہے ۔
قرض دینا
اگرچہ ایک نیکی اور حاجت مند کی مدد ہے، لیکن قرض دینے کے بعد مقروض کے حالات کا خیال
رکھنا اور اس پر سختی نہ کرنا، اسلامی تعلیمات کا وہ روشن باب ہے جس پر عمل پیرا
ہو کر ہم دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکتے ہیں ۔ نبی اکرم، رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اپنی تعلیمات اور اپنے عمل سے مقروض پر نرمی کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم
فرمائی ہیں ۔
اللہ تبارک
و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
نبوی تعلیمات
اور احادیث مبارکہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقروض پر نرمی کرنے، اسے
مہلت دینے اور قرض معاف کر دینے کے عظیم فضائل بیان فرمائے ہیں ۔ یہ تعلیمات ہمیں مختلف کتبِ حدیث میں ملتی ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، باب فضل
إنظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32(1563))
2)حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، 3 / 52، الحدیث: ،152)
(2) درگزر
کرنے پر اللہ کی مغفرت:قرض کے معاملے میں نرمی کرنا اللہ تعالیٰ کی مغفرت
کا سبب بن
جاتا ہے،
چاہے انسان کے دیگر اعمال میں کمی ہی کیوں نہ ہو ۔
(1)حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
9 / 98، الحدیث: 23413، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظارالمعسر، ص843،
الحدیث: 26(1560)
(2)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)
(3) نرمی
سے تقاضا کرنا: (1)ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان
کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری
رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو
بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے ۔ ( صحیح بخاری(کتاب البیوع) حدیث نمبر: 2076)
(4)روزانہ
صدقے کا ثواب: (1)بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا
ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر
دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا“ ۔ (سنن ابن ماجہ/كتاب الصدقات/حدیث: 2418)
(5)قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ
کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب
غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری
کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں
تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان
کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے
ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ
عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا،
اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110-
باب، 5 / 329، الحدیث: 3574)
رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زندگی مقروضوں کے ساتھ نرمی کا بہترین نمونہ ہے ۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا،
انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن
شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے
خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ
تھا ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے
عہد مبارک کا واقعہ ہے ۔ مسجد کے اندر ان
دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سنی ۔ آپ ﷺ اس وقت اپنے حجرے میں تشریف
رکھتے تھے ۔ چنانچہ آپ ﷺ باہر
آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی ۔ آپ ﷺ نے
پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا
کہ آدھا معاف کر دے ۔ کعب رضی اللہ عنہ نے
کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ
سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو ۔ (صحيح البخاری/كتاب الصلح/حدیث: 2710)
قرآن مجید
کا واضح حکم (سورہ بقرہ: 280) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد تعلیمات
(جو صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور دیگر کتب میں موجود ہیں)
اس بات پر متفق ہیں کہ مقروض اگر تنگدست ہے تو
اس پر سختی کرنا، اسے ذلیل کرنا یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اسلامی روح کے
منافی ہے ۔ قرض خواہ کا حق محفوظ ہے، لیکن اس حق کے حصول میں اخلاقیات کا دامن نہیں
چھوڑنا چاہیے ۔ افضل ترین عمل یہ ہے کہ
مقروض کو آسانی تک مہلت دی جائے، اور اگر استطاعت ہو تو قرض کا کچھ حصہ یا تمام
قرض معاف کر دیا جائے، تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے
اور روزِ قیامت اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی
زندگی کے ہر معاملات میں شریعت کا پابند رکھے اور صحیح معنیٰ میں عمل پیرا ہونے کی
توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
گلزار احمدعطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
میرے عزیز
دوستوں بھائیوں قرضدار کو مہلت دینا اس پر نرمی و شفقت کرنا اس کا تو خود ہمارے رب
کریم نے حکم فرمایا ہے میرا رب سورۃ البقرہ آیت نمبر 280 میں فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ
یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ،
جیساکہ نبیِ
کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کا ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے
پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا: غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما د
۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
میرے
دوستوں مقروض پر نرمی کرنا یہ تعلیم نبوی ہے اس مناسبت سے کچھ وہ احادیث جو مقروض
پر نرمی کرنے کے حوالے سے وارد ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
(1) نبی کریم
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض)
پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و
آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض مُعاف کر
دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے
سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)
(3)حضرت سیِّدُنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس
بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے
کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد،
کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر،،،الخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)
(4)حضرت سیِّدُنا
بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے
تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی
کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ ‘‘(مجمع
الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسر،،،الخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)
احسان علی (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
بحمد اللہ
اللہ پاک کا کرم ہے کہ جس ذات نے ہمیں اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا جہاں
اسلام کے اندر شریعت کے احکامات نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں معاشرتی امور کے
حوالے سے بھی ہماری رہنمائی کی گئی ہے ۔
ہمارے معاشرے کے اندر بہت سارے لوگ رہتے ہیں کچھ مسائل کے مدنظر وہ مقروض ہو جاتے
ہیں اور قرض خواہ حضرات ان پر سختیاں اور شدت کرتے ہیں حالانکہ بانی اسلام ﷺ نے
مقروض پر نرمی کرنے کی ترغیب دی ہے کئی ایسی حدیثیں ہیں جن میں مقروض پر نرمی کرنے
کی ترغیب دی گئی ہے اس مناسبت سے میں آپ کے یہاں کچھ احادیث پیش کرتا ہوں تاکہ
معلوم ہو جائے کہ اس حوالے سے تعلیم نبوی ﷺ کیا ہے ۔
(1)نبی کریم
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جو کسی تنگدست (مقروض)
پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و
آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن
ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
(2)
جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض
مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس
دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)
(3) حضرت سیِّدُنا
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:
’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو
اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسرالخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)
(4)حضرت سیِّدُنا
بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے
تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی
کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ (مجمع
الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسرالخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)
ان تمام
احادیث نبویہ ﷺ سے معلوم ہوا کہ مقروض پر نرمی کی جائے اس کو
مہلت دی جائے تاکہ اس کے پاس اسباب ہوجائے جس سے وہ قرض ادا کرسکے اور تعلیم نبوی
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مقروض کے قرض کو معاف کر دے تو اللہ پاک اسے عرش کا سایہ
نصیب فرمائے گا اور اس سے اس مسلمان بہائی کی دل میں خوشی پیدا ہوگی اور کسی
مسلمان کے دل میں خوشی ڈالنا اس حوالے سے ہمارے آقا ﷺ نے
ارشاد فرمایا اللہ عَزَّوَجَلّ کے نزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا
ہے ۔ (معجم کبیر،ج11،ص59،حدیث:11079)
اللہ پاک
ہمیں مقروض پر نرمی و آسانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
شریف اللہ عطاری (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام اپنی
جامع تعلیمات کے ذریعے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی عدل، احسان اور انسان
دوستی کا کامل درس دیتا ہے ۔ دینِ اسلام
نے انسانیت کے ہر طبقے کے حقوق کو واضح کیا ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو
مالی تنگی اور پریشانی کا شکار ہوں ۔
قرآن مجید
اس سے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، پارہ1 / 218صفحہ)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت
سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ
حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں
، چنانچہ اس کے فضائل درجہ ذیل ہیں:
(1)قیامت
کے دن نجات: حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ
اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں
سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1543)
(2)سایہ
عرش کس کس کو ملے گا:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی
یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا
جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار
المعسرالخ،3 / 52، الحدیث: 1310)
قرض دار کو
مہلت دینے کی کئی فوائد ہیں:
(1)اسے قیامت
کے دن عرش کا سایہ عطاء کیا جائے گا ۔
(2)لوگوں
کے دل میں عزت اور محبت بڑھتی ہے ۔
(3)برکت
اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہیے ۔
محمد عمیر جاوید (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
کامل دین ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کو مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہےاور عبادات
کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ اسلام آپس میں خیر خواہی اور ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنے کا بھی درس دیتا
ہے ۔ ایک حدیث پاک میں ہے (یَسِّرُوا و لا
تُعَسِّرُوا) یعنی مسلمانوں پر آسانی کرو اور تنگی نہ کرو ۔ چونکہ روز مرہ زندگی میں قرض کے لین دین کے
معاملات ہوتے رہتے ہیں لہذا اگر کوئی مقروض ہے اور وہ قرض ادا کرنے سے عاجز ہے تو
تو اس کے متعلق رہنمائی کرتے ہو سورہ بقرہ میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا
تمہارے لیے
اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ
سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ
دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ
بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور
آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: قرضدار
کو مہلت دینے یا قرض معاف کرنے کے کئی فضائل احادیث میں بیان ہوئے ہیں ان میں سے 5
احادیث درج ذیل ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص445، الحدیث: (1563)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، الحدیث: (1310)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے
میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، الحدیث: (2076 )
(4) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: (1560)
لہذا ایک
مسلمان کو چاہیے کہ ان احادیث میں مذکورہ فضائل کو حاصل کرنے اور مسلمان کے ساتھ
بھلائی کرتے ہوئے مقروض پر قرضے کی وصولی میں آسانی کرے ۔ اسکے ساتھ مقروض کو بھی
چاہیے کہ ممکنہ صورت میں جلد از جلد قرض اتارنے کی کوشش کرے ۔
یعفور رضا عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
قرض دینے
کے بعد اس کی واپسی کے لیے قرض لینے والے کو ایک مناسب وقت اور مہلت دینا ضروری ہے
تاکہ وہ قرض کی واپسی کے انتظامات کر سکے، اسی طرح بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ
قرض لینے والے کے پاس انتظام نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے طے شدہ وقت میں قرض کی واپسی
اس کے لیے بہت دشوار ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا اسلام میں جہاں قرض دینے کی بڑی فضیلت
وارد ہوئی ہیں، وہیں واپسی میں مہلت دینے پر بھی اللہ کی طرف سے بڑے انعام کا وعدہ
کیا گیا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر: صراط
الجنان :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے
تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست
پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ
بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور
آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ )
قرض خواہی یا
قرض کے مطالبے میں شریعت اسلامی کی تعلیمات تمام ادیان و مذاہب میں منفرد نوعیت کی
تعلیمات ہیں ۔ اس معاملے کا سب سے زیادہ
حسین پہلو یہ ہے کہ اگر مقروض قرض ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے مہلت اور
سہولت دینے کی قرآن و حدیث پر بڑی ہی فضیلت و اجر کی بشارتیں سنائی گئی ہیں
۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی
الله علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:” مَن سرَّہ أن ینجیہ
اللہ من کرب یوم القیامة فلینفِّس عن مُعسِر أو یضع عنہ“ ترجمہ:جو یہ
چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے تو اسے چاہیے
کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (صحیح
مسلم، باب انظارالمعسر، 1563)
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول
اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ
کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ
َ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ
قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔
(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس ﷺ َ نےفرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے
اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ
فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے
روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا
مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ
اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ
سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ
) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا
دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ
عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو
کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی،
احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)
عبد الواحد (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اللہ تبارک
و تعالیٰ کے ارشادات اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات سے ہمیں معلوم
ہوتا ہے کہ یہ زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں، اور ان تعلیمات میں سے ایک اہم
پہلو احساس ہے ۔ اسی احساس کے تحت ہمیں مقروض پر نرمی کرنا نبی علیہ الصلوٰۃ
والسلام اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے ۔
جیسا کہ
اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک
اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگدست یا
نادار ہو تو اسے مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔
احادیثِ
مبارکہ میں بھی اس کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو شخص یہ
چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مُفلِس کو
مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت
ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس نے
تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے
عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جب کہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع،
باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ،
۳
/ ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب
البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:حضور
اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی
روح قبض کرنے کے لیے فرشتہ آیا تو اس سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد
ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ۔ فرشتے نے کہا: غور کر کے بتا ۔ اس
نے کہا: میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر مالدار مہلت مانگتا تو دے دیتا،
اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: تم بھی اس سے درگزر کرو ۔ ("مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(5) صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ
تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور
تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا:میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں،
اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل
انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)
نبی کریم
علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا، جب اس کی روح
قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟وہ بولا: میں نہیں
جانتا ۔ فرشتے نے کہا: غور تو کر ۔ اس نے کہا: میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا
تھا، امیر کو مہلت دیتا اور غریب کو معاف کر دیتا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں
داخل فرما دیا ۔ (بخاری، جلد 2، صفحہ 460، حدیث: 3451)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو!مقروض سے ہمیشہ نرمی اور حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے ۔ ضرورت مندوں
کو قرض دینا اور قرض کی بہترین ادائیگی کرنا اسلام میں جہاں پسندیدہ عمل ہے، وہیں
تنگدست مقروض سے شفقت، مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن
باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ
ہوتا ہے کہ
ضرورت مند کی معاشی اور گھریلو پریشانیاں ختم ہوں ۔ اسی سوچ کے تحت اچھی نیتوں کے
ساتھ دیا گیا قرض ثواب کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ مقروض پر نرمی کے لیے طریقہ یہ ہے کہ
شرائط نرم اور آسان رکھی جائیں ۔ ایسی سخت شرائط عائد کر دینا کہ مقروض پس کے رہ
جائے، باہمی اُلفت و محبت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے ۔
لیاقت علی عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسان کے خالق سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے ۔ بلکہ انسانوں کے آپسی معاملات میں بھی حسن
سلوک اور اخلاقیات کی اعلی ترین مثالیں قائم کرتا ہے مالی معاملات اور قرض کے لین
دین کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسی تعلیمات دی ہیں
جو دلوں میں نرمی پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کو محبت و بھائی چارے کا گہوارہ بناتی
ہیں آج ہم انہیں میں سے کچھ بیان کریں گے ۔
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:
(1)حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالٰی اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب
السماقات والمزارعہ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث 32 )
(2)حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس شخص پر
رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔
( بخاری،
کتاب البیوع باب السہولت السماحہ فی الشراء والبیع 2 )
اور مقروض
پر نرمی کے بارے میں دو فرمانین مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم
(1) جو کسی
تنگدست (مقروض ) پر آسانی کرے گا اللہ پاک اس پر دینا و آخرت میں اس پر آسانی
فرمائے گا ۔
(ابن ماجہ،
جلد 3 ص 147 حدیث 2417 )
(2) جو کسی
تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو اللہ پاک اسے اس دن عرش کے سائے میں
جگہ عطاء فرمائے گا کہ جس دن عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، جلد 3 صفحہ 52 حدیث 1310)
مقروض سے زیادَتی
کی مثالیں: افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر
بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و
آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض
کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں
خصوصاً گاؤں گوٹھوں میں یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام
تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل
کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح (Hurt) کرتے
نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر
شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں
بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا
مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔
نبی
اکرم ﷺ کی یہ تعلیمات دراصل انسانیت کا درس ہیں ۔ یہ سکھاتی ہیں کہ ہمارا معاشرہ لالچ اور خود غرضی کی بجائے ایثار اور ہمدردی
کی بنیاد پر کھڑا ہو ۔ اگر ہم ان نبوی تعلیمات
پر عمل کریں، تو ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا ہو گی، غربت و افلاس کی
وجہ سے قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو سہارا ملے گا، اور دنیا میں بھی سکون میسر
آئے گا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں جگہ نصیب ہو گی ۔
محمد
مبشر (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! ہمارا دین اسلام ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی ہماری
رہنمائی کرتا ہے حسن سلوک ، آسانی اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تعلیم دیتا
ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جن میں سے بیچارے کچھ ایسے
ہوتے ہیں جو تنگدست و مقروض ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں پر قرض خواہ کو چاہیے کہ نرمی
اختیار کرےاور اس نرمی کو اختیار کرنے کی تعلیم خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن فرامین
سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی اختیار کی جائے جو مالی بوجھ تلے
دبے ہوتے ہیں ان فرامین میں سے کچھ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(3)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
پیارے
اسلامی بھائیو ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام ایک ایسا
دین ہے جو صرف عبادات پر زور نہیں دیتا بلکہ انسانوں کے ساتھ ہمدردی ،نرمی اور
معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی عبادت کا درجہ دیتا ہے ۔ مقروض پر نرمی و شفقت کا جو جذبہ ان احادیث میں
جھلکتا ہے وہ انسانیت کی معراج ہے ۔
نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ تنگدست انسان کے ساتھ نرمی صرف اس کا
دل جیتنے کا عمل نہیں بلکہ رب کی رضا حاصل کرنے کا راستہ بھی ہے ۔ ایک مفلس کو مہلت دینا یا اس کا قرض معاف کرنا
گویا اپنے گناہوں کی معافی خریدنے جیسا ہے ۔ کیونکہ روزمحشر جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا، تب یہ عمل انسان کو عرشِ الٰہی
کے ساۓ میں لے جا سکتا ہے جہاں کوئی اور سایہ نہ
ہوگا ۔ ایسے عمل سے نہ صرف دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے بلکہ معاشرہ باہمی ہمدردی،عدل
اور رحم پر قائم ہوتا ہے ۔ لہذا آئیں ہم دلوں کو وسیع کریں ، زبان کو نرم رکھیں
،اور مال کو رب کی رضا کیلئے بانٹنا سیکھیں ۔ کیا پتا کسی مجبور کی مدد، کسی گناہگار کی نجات کا دروازہ بن جاۓ ۔ کیونکہ
جو کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے اللہ پاک اس کیلئے قیامت کے بوجھ ہلکے کر دے تا ہے ۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے
کی توفیق عطا فرمائے اور معاشرے کا ایک اچھا ، مثالی اور بہترین شخص بناۓ ۔ ( آمین
)
انعام
اللہ (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اس سے مراد
وہ ہے جس میں قرض دار کو قرض کی ادائیگی
کے لیے مہلت دی جاتی ہے ۔ یہ اصطلاح عام
طور پر مالی لین دین سے متعلق مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جہاں ایک فریق (قرض
خواہ) دوسرے فریق (مقروض) کو کچھ وقت کا اضافی موقع دیتا ہے تاکہ وہ اپنا قرض ادا
کر سکے ۔
جیساکہ
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو ۔ یعنی تمہارے قرض داروں
میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو ۔ اور تمہارا تنگدست پر اپنا
قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو، کیونکہ
اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم
ثواب ملے گا ۔
(خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1 / 218)
قرض دار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار اگر تنگدست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔
احادیث میں
بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ اس کے پانچ فضائل درج ذیل ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ
چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، باب فضل انظار المعسر، ص
845، الحدیث: 32 (1563)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے:نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا، جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3)حضرت
جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے:حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع،
2 / 12، الحدیث: 2076)
(4)حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں:حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے
ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے
پوچھا: کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام
نہیں ۔ کہا گیا: غور کر کے بتا ۔ اس نے کہا: میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر
مالدار بھی مہلت مانگتا تو دے دیتا، اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: ‘تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند احمد، حدیث حذیفہ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث:
23413 ۔ مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، ص
843، الحدیث: 26 (1560)
(5)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف
کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں
تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔
(مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، ص 844، الحدیث: 29 (1560)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور مجوسی قرض دار:امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ
فرماتے ہیں:منقول ہے کہ ایک
مجوسی پر
امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ آپنے قرض کی وصولی کے لیے
اس مجوسی کے گھر گئے ۔ جب اس کے دروازے پر پہنچے تو اتفاقاً آپ کے جوتے پر نجاست
لگ گئی ۔ آپ نے جوتے کو جھاڑا تو کچھ
نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار پر لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا:
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہوگی، اور
اگر اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی میں آپ نے دروازہ
کھٹکھٹایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ نے
فرمایا:اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہیں ۔ وہ مجوسی آیا اور
گمان کیا کہ آپ قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لیے ٹال مٹول کرنے لگا ۔ امام ابو حنیفہ
رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا: مجھے یہاں قرض سے بھی بڑا معاملہ درپیش ہے ۔ پھر
آپ نے دیوار پر نجاست لگنے کا واقعہ بیان کیا اور پوچھا:اب دیوار صاف کرنے کی کیا
صورت ہے؟یہ سن کر مجوسی نے کہا: میں صفائی کی ابتدا آپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا
ہوں ۔ اور اسی وقت وہ اسلام لے آیا ۔
(تفسیر کبیر،
الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، 1 / 204)
قرض کی
ادائیگی کے لیے دعا:حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم سے روایت ہے:ایک
مکاتب غلام آپ کے پاس آیا اور عرض کی: میں اپنی کتابت (کا مال) ادا کرنے سے عاجز
آگیا ہوں، میری مدد فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو
مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر پہاڑ
برابر قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے گا ۔ تم یہ دعا پڑھا کرو:" اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِيْ
بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ"یعنی: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے
حرام سے کفایت دے، اور اپنی مہربانی سے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے ۔ (ترمذی، احادیث شتّی، باب 110، 5 / 329، الحدیث:
3574)
فضل
القیوم (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
مَقْرُوض
سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا
اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت
مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن
باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو
پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض
ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اگر مقروض
تنگ دست یعنی تمہارے قرض داروں میں سے کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ
کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ
کردینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان
لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں
تمہیں عظیم ثواب ملےگا ۔
قرض دار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل :اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار تنگ دست یا نادار
ہو تو اس مہلت دینا اور قرض کاکچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب
ہے احادیث میں بھی ان کے بہت فضائل بیان ہوئے ۔ چنانچہ ان کے 5فضائل درج ذیل ہیں:
(1)ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن ی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے،(مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ ،باب،فضل انظارالمعسر،ص 825 الحدیث 32)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا (ترمذی ،کتاب البیوع ،باب ما جاء انظار
المعسر الخ 3/52 الحدیث 1310)
(3)حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص
پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضہ کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری کتاب البیوع
،السہولۃ والسماحہ فی الشراء و البیع2/12،الحدیث 2076)
(4)حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کے
روح قبض کرنے کے لیے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا اچھا
کام یاد ہے؟اس نے کہا ،میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے :اس سے کہا گیا غور
کرکے بتا ۔ اس نے کہا صرف یہ عمل تھا کہ
دنیا میں لوگ سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا ،اگر مالدار
بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا
اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے) فرمایا ان کے ساتھ تم درگزر کرو ۔ ( مسند امام احمد ،
حدیث حذیفہ بن یمان ۔ الحدیث 23713)
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف
کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں
تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص877، الحدیث: 29(1570)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی
پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست
چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س
عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نےاس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود
ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس
لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں
تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار
پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ
سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک
کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، 1 / 207)
Dawateislami