دین اسلام
ایک ایسا دین ہےجہاں مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔
ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس
کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے
۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں
خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا
ذریعہ بھی بنے گا ۔ مقروض پر نرمی کے طریقے نہایت آسان اور نَرْم شرائط رکھی جائیں ۔ ایسی کڑی شرائط رکھ دینا کہ مقروض پِس کے رہ
جائے باہَمی اُلْفت کو ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ یَکْمُشْت ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں
قِسْطوں میں تقسیم کر دیجئے ۔ وُصُول کرتے
ہوئے رَویہّ میں نَرْمی بہت ضَروری ہے، ادائیگی میں تاخیر پر خوامخواہ شور مچانا،
باتیں سنانا مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید اُلجھا دےگا ۔ اگر قُدْرت ہو تو مکمل یا
کچھ مُعاف کر دیجئے ۔ افسوس! آج کل ہمارے
یہاں مقروض سے نرمی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اس کے بہت فضائل ہیں ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے
تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے
اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
3 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
(1) جو کسی
تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن
عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ
ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)
(3) نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد
ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا
تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں
دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا
اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔
(بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
مقروض سے زیادَتی کی مثالیں افسوس! ہمارے ہاں ایک
تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے
ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے
۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس
طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں خصوصاً گاؤں کوٹھوں میں
یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر
ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا
بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ
مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے
مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث
نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی
اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔
اگر قرض
دار مالدار ہے اور ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ سختی
کے ساتھ آپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے امام اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے
اور اس پر تشنیع وملامت جائز ۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23،ص286)
معاشرتی
فائدہ:ایسی نرمی سے معاشرے میں سختی، نفرت اور دشمنی کم ہوتی ہے اور محبت، اخوت
اور تعاون بڑھتا ہے ۔ اگر ہم نبی ﷺ کی ان
تعلیمات پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ ایک ہمدرد اور انصاف پسند معاشرہ بن جائے ۔
مقروض پر
نرمی کرنا نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر کا سبب
بھی بنتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرض کے
معاملات میں آسانی پیدا کریں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو ۔
عامر فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظیم
سادھوکی لاہور، پاکستان)
"مقروض
پر نرمی" ایک نہایت خوبصورت اور اخلاقی تصور ہے جو قرآن و سنت میں بار بار
تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔ اس کا مطلب
ہے کہ جس شخص پر قرض ہے ، اگر وہ ادائیگی میں تنگی یا مجبوری کا شکار ہے ، تو اس
کے ساتھ سختی نہ کی جائے بلکہ نرمی، مہلت اور ہمدردی سے پیش آیا جائے ۔
(1)غریب کو
قرض معاف کر دینے کی فضیلت: نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے:
تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو
اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں
دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا
اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)
(2)دنیا
اور آخرت میں بھلائی:فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ
وسلَّم جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی
کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس
پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج
3،ص147، حديث: 2417)
(3)قیامت کے دن سختیوں سے نجات :حضرت عبد
اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقروض کو طلب کیاتو(قرض کی ادائیگی پر قادر
نہ ہونے کی وجہ سے)وہ چھپ گیا،پھر بعد میں انہوں نے اسے پالیا(اور اس سے چھپ جانے
کی وجہ پوچھی )تو اس نے کہا:میں تنگ دست ہوں،حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے
پوچھا:خدا کی قسم(ایساہی ہے)؟اس نے کہا:خدا کی قسم(ایسا ہی ہے)،اس پر حضرت
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:جس شخص کو یہ
بات پسند ہو کہ اللہ تعالی اسے قیامت کے
دن کی سختیوں سے نجات دےتو اسے چاہیے کہ
وہ(قرض کی ادائیگی میں ) تنگ دست(مقروض) کو مہلت دے یا اس کا(پورا یاکچھ)قرض معاف کردے (صحيح
مسلم، كتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر، 3/1196، رقم:1563، ط: دار إحياء
التراث العربی بيروت)
(4)عرش کے
سائے میں رکھے گا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص
ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(5)قیامت
کے دن تکلیفوں سے نجات :حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا
اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845
الحدیث: 32(1563)
اللہ پاک
قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 280 میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو ۔
اس آیت
مبارکہ کے تحت مفتی محمد قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
اس سے ثابت
ہوا قرض دار پر شفقت کرنی چاہیے کیونکہ رب عزوجل نے قرآن مجید میں نرمی کرنے کی
ترغیب دلائی ہے قرض دار ،مقروض پر نرمی کے بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں اس
کو مہلت دینا بھی نرمی میں داخل ہے اور اسکو معاف کر دینا بھی نرمی میں داخل ہے آئیں
ہم آپ کو نبی پاک ﷺ کے فرمان مبارک مقروض پر نرمی کے فضائل سنتے ہے:
مُسلِم شریف
کی حدیث ہے: سیِّدِعالم ﷺ َ نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تَعَالٰی اس کو اپنا
سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ “
اسی طرح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :سرکارِمدینۂ
منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ ﷺ َ کافرمانِ عالیشان ہے : جس شخص کو یہ بات پسند
ہو کہ اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن غم سے بچائے، تو اُسے چاہیے کہ تنگدست قرضدار
کومُہْلَت دے یا قر ض کا بوجھ اس کے اُوپر سے اُتاردے(یعنی معاف کردے) ۔ (
مُسْلِم، کتاب المساقاة، باب فضل اِنظار المعسر، ص۸۴۵، حدیث : ۱۵۶۳)
اسی طرح
موجودہ زمانے میں دیکھا جائے جب ہر تیسرا شخص حالات کے ہاتھوں پریشان ہے تو ہمیں
بھی پیارے آقا کی سنتوں کواپنا کر اپنے مقروضوں نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے اور
ان احادیث پرعمل کرنا چاہیے آج کے دور میں غریب تو ہے لیکن سرمائے دار بھی پریشان
نظر آتے ہیں قرض دار کو مہلت و نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے حدیث پاک میں ہے ۔
حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے نبی پاک ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ
آپ ﷺ نے
فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پا س کوئی نیکی
ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا ۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں
مالداروں کو مہلت دیا کرتاتھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر
اس کی بخشش ہو گئی ۔
(صحيح
البخاری ،کتاب فی الِاسْتِقْرَاضِ
وَأَدَاءِ الدُّيُونِ ،حدیث 2391)
نبی کریم ﷺ
نے مقروض کی تنگدستی کے وقت اس پر سختی کرنے سے منع فرمایا اور قرض خواہ کو ترغیب
دی کہ وہ یا تو اسے مہلت دے، یا اگر ممکن ہو تو معاف ہی کر دے ۔ اس عمل میں اللہ کی رضا اور آخرت کی سختیوں سے
نجات کا وعدہ ہے ۔
اسلامی بہنوں کو دینی علوم سکھانے، قرآن و حدیث
کے احکام سے انہیں آگاہ کرنے اور مختلف
امور پر اُن کی تربیت و رہنمائی کرنے کے لئےدعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر مہینے
مختلف کورسز و سیشنز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
معلومات کے مطابق ماہِ مارچ 2026ء میں دعوتِ
اسلامی کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسلامی بہنوں کے درمیان مختلف کورسز و سیشنز ہوئے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ماہِ مارچ میں اسلامی بہنوں کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والے کورسز و سیشنز کی مجموعی کارکردگی
|
کورس کی تعداد:51 |
مقامات کی تعداد:26 ہزار 569 (26, 596) |
شرکاء کی تعداد:4 لاکھ 8 ہزار 99 (4, 08, 099) |
|
سیشنز کی تعداد: 81 |
مقامات کی تعداد:30 ہزار
589 (30, 589) |
شرکاء کی تعداد :2 لاکھ 47
ہزار 836 (2, 47, 836) |
پاکستان میں اجیر اسلامی بہنوں کے لئےٹیچر ٹریننگ کورس اور لرننگ کورس
منعقد کئے گئے۔ یہ کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو زبان میں
منعقد کئے گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:1 |
شرکاء کی تعداد: 11 |
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:1 |
شرکاء کی تعداد: 11 |
(2)شعبہ رہائشی
کورسز:
مارچ 2026ء،
بیرونِ ملک میں تمام اسلامی بہنوں کے لئے ,Let's Enlighten our hears,
Faizan e Quran , Zia e Ramazan Faizan e Namaz Course, Bounties of Ramadanکورسز منعقد کئے گئے۔ یہ کورسز رہائشی اردو اور بنگلہ زبان میں کروائے گئے۔
جبکہ پاکستان میں تمام اسلامی بہنوں کے لئے دینی کام
کورس ،فیضانِ نماز کورس،فیضانِ سورۃ النساء کورس ،الوداع ماہِ رمضان کورس ، نورِ رمضان کورس، فیضان سورۃ نور
کورس رہائشی اور اردو زبان میں منعقد کئے
گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد: 5 |
مقامات کی تعداد:21 |
شرکاء کی تعداد: 436 |
|
اوورسیز |
کورس کی تعداد: 6 |
مقامات کی تعداد:13 |
شرکاء کی تعداد: 1183 |
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد: 11 |
مقامات کی تعداد:52 |
شرکاء کی تعداد: 1619 |
(3)شعبہ
قرآن ٹیچر ٹریننگ:
مارچ 2026ء، بیرونِ ملک میں ایسی اسلامی
بہن کے لئے مدنی قاعدہ کورس، قرآن ٹیچنگ کورس اور تجوید القرآن کورس منعقد کئے گئے جس نے مدنی قاعدہ
پڑھا ہو اور ناظرہ قرآن کریم پڑھ سکتی ہو۔یہ
کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو،بنگلہ،انگلش،پرتگال،تامل
اور ہندی زبان میں منعقد کئے گئے۔
پاکستان میں یہ کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو،انگلش،سندھی اور
بلوچی زبان میں کروائے گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد: 4 |
مقامات کی تعداد:712 |
شرکاء کی تعداد:7 ہزار 530 (7,
530) |
|
اوورسیز |
کورس کی تعداد: 3 |
مقامات کی تعداد:72 |
شرکاء کی تعداد: 349 |
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد: 7 |
مقامات کی تعداد:784 |
شرکاء کی تعداد:7 ہزار 879
(7, 879) |
(4)شعبہ
روحانی علاج:
مارچ 2026 بیرونِ ملک دہرائی سیشن فزیکل اور اردو زبان میں منعقد ہوا۔
|
اوورسیز |
سیشنز کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:1 |
شرکاء کی تعداد:9 |
|
مجموعی کارکردگی |
سیشنز کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:1 |
شرکاء کی تعداد:9 |
(5)شعبہ
کفن دفن :
مارچ 2026ء، بیرونِ ملک میں عوام و ذمہ داران کے لئے غسل ِمیت و کفن کورس اور شریعت سیشن منعقد کئے گئے۔ یہ سیشن اور کورس فزیکل
و آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشن اور
کورس اردو،انگلش اور بنگلہ زبان میں منعقد
کئے گئے۔
پاکستان میں
اسراف ،ایصال ثواب سیشن ، شریعت تکفین سیشن اورغسل
میت و کفن سیشن فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔
|
پاکستان |
سیشنز کی تعداد: 5 |
مقامات کی تعداد:12 ہزار 278 (12, 278) |
شرکاء کی تعداد:43 ہزار 586 (43, 586) |
|
اوورسیز |
کورس کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:59 |
شرکاء کی تعداد: 781 |
|
سیشنز کی تعداد:1 |
مقامات کی تعداد:16 |
شرکاء کی تعداد:388 |
|
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:59 |
شرکاء کی تعداد: 781 |
|
سیشنز کی تعداد: 6 |
مقامات کی تعداد:12 ہزار 294 (12, 294) |
شرکاء کی تعداد:43 ہزار 974 (43, 974) |
(6)شعبہ مدنی کورسز :
مارچ 2026ء، بیرونِ ملک میں بچوں،تمام اسلامی بہنوں اور ذمہ داران کے لئے فیضان تلاوت
قرآن کورس، صراط الجنان کورس، بچوں کا رمضان کورس، الوادع ماہ رمضا ن کورس، اعتکاف
اور خواتین کورس، عید کی خوشیاں ، فیضان زکوۃ، فیضان عمرہ، تفسیر ریگولر کلاسز، خواتین اسلام، نیکیاں اور نیت، جنت کا راستہ، بیٹی
کا کردار، صبر و شکر، بچوں کی میٹھی عید
سیشن، عمرہ سیشن، نماز سیشن، زندگی کی
کہانیاں،Healthy life,Guest of Rehman,My beloved Father,
Weekend Wisdom, who Deserves Wayl, the Valley of hell?, Admontary examples, My friend my identity,Stages of life ,سیشنز اور کورسز منعقد کئے گئے۔یہ سیشنز اور کورسز فزیکل و آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز اور
کورسز انگلش،اردو،بنگلہ،تامل،کریول،عربی
اور بلوچی زبان میں منعقد کئے گئے۔
پاکستان میں یہ سیشنز اور کورسز فزیکل و آن لائن منعقد کئے گئے نیز یہ
سیشنز اور کورسز اردو زبان میں کروائے گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد: 6 |
مقامات کی تعداد:24 ہزار 897 (24,
897) |
شرکاء کی تعداد:3 لاکھ 85 ہزار 773 (3,
85, 773) |
|
سیشنز کی تعداد: 4 |
مقامات کی تعداد:2 ہزار 89 (2, 089) |
شرکاء کی تعداد:25 ہزار 428 (25, 428) |
|
|
اوورسیز |
کورس کی تعداد: 10 |
مقامات کی تعداد:725 |
شرکاء کی تعداد:10 ہزار 974 (10,
974) |
|
سیشنز کی تعداد: 14 |
مقامات کی تعداد:370 |
شرکاء کی تعداد:6 ہزار 693 (6, 693) |
|
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد: 16 |
مقامات کی تعداد:25 ہزار
622 (25, 622) |
شرکاء کی تعداد:3 لاکھ 96
ہزار 747 (3, 96, 747) |
|
سیشنز کی تعداد: 18 |
مقامات کی تعداد:2 ہزار 459 (2, 459) |
شرکاء کی تعداد:32 ہزار 121 (32, 121) |
(7)شعبہ گلی گلی مدرسۃالمدینہ:
مارچ 2026ء، پاکستان میں بچوں کے لئے
بچوں کی میٹھی عید سیشن منعقد کئے گئے۔ یہ
سیشن فزیکل اور اردو زبان میں کروائے
گئےجبکہ بیرونِ ملک میں یہ کورس آن لائن ہوا۔
|
پاکستان |
سیشنز کی تعداد:1 |
مقامات کی تعداد:14 ہزار 591 (14, 591) |
شرکاء کی تعداد:1 لاکھ 46 ہزار 72 (1, 46, 072) |
|
اوورسیز |
سیشنز کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:2 |
شرکاء کی تعداد:20 |
|
مجموعی کارکردگی |
سیشنز کی تعداد: 2 |
مقامات کی تعداد:14 ہزار 593 (14, 593) |
شرکاء کی تعداد:1 لاکھ 46 ہزار 92 (1, 46, 092) |
(8)شعبہ جامعۃالمدینہ:
مارچ 2026ء، بیرونِ ملک میں طالبات ، ناظمات اور معلمات کے لئے فیضانِ تلاوت سیشن منعقد کیا گیا ۔ یہ سیشن فزیکل کروایا گیا نیز
یہ سیشن اردو اور انگلش زبان میں منعقد
کیا گیا ۔
پاکستان میں طالبات، دیگر عملہ اور اسلامی بہنوں کے
لئے رمضان سیشن منعقد کیا گیا۔ یہ سیشن فزیکل کروایا گیا نیز یہ سیشن اردو زبان
میں منعقد کیا گیا ۔
|
پاکستان |
سیشنز کی تعداد: 13 |
مقامات کی تعداد: 347 |
شرکاء کی تعداد:6 ہزار 767 (6, 767) |
|
اوورسیز |
سیشنز کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:13 |
شرکاء کی تعداد: 300 |
|
مجموعی کارکردگی |
سیشنز کی تعداد: 14 |
مقامات کی تعداد: 360 |
شرکاء کی تعداد:7 ہزار 76 (7, 076) |
(9)شعبہ نیو سوسائٹیز :
مارچ 2026ء، پاکستان میں بچوں اور اسلامی بہنوں کے لئے بچوں کا رمضان، بچوں کی میٹھی عید ، الوداع ماہ رمضان، اعتکاف اور خواتین، روزے کے احکام، اعتکاف اور خواتین ، شب قدر کی فضیلت، فطرے کی
فضیلت ، نماز توڑنے کے اسباب ، کامیاب لوگ، بچوں کی میٹھی، فیضان تلاوت کورس، شکر
کے فضائل،حیض و نفاس،طہارت،ایصال ثواب،کفن دفن،تلاوت قرآن، بچوں کا رمضان، عید کی
خوشیاں، روزے کے احکام،اعتکاف اور خواتین ،شب قدر کی فضیلت، فطرے کے احکام،طہارت
کورس، بچوں کا رمضان، بچوں کی میٹھی عید،الوداع ماہ رمضان ،اعتکاف اور خواتین ،شب
قدر کی فضیلت سیشنز اور کورسز منعقد کئے گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد:12 |
مقامات کی تعداد:57 |
شرکاء کی تعداد: 598 |
|
سیشنز کی تعداد: 19 |
مقامات کی تعداد:63 |
شرکاء کی تعداد:1 ہزار 177 (1, 177) |
(10)شعبہ تعلیم :
مارچ 2026ء، پاکستان میں اسٹوڈنٹس، ٹیچرز، پرنسپلز، ڈاکٹرز
اور نرسز کے لئے welcome ramadan/ Blessings of zakat/ Eid
ul fitr /weekly bayan/Blessings of
Ramadan/How to be a good student/ how to be a good umatti/ Wudu and
Science/Come correct your Salah/ Blessings of Eid ul fitr/ eid blessings/ Iman
up Ramadan series.. Diseases of the heart series 3/ Iman up Ramadan series.. Diseases
of the heart series 4/ Muaaf karne k fazail Sunnat Tariqa / pani peene ke adab/
Baat cheet karne ki sunnatain Aur Adaab/ Barkaat e zakaat/ nakhun katne ki
sunnat salam karne ki sunnat/ Ramadan preparationsکورسز کروائے گئے۔ یہ کورسز فزیکل و
آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔
بیرونِ ملک میں اسٹوڈنٹس کے لئے Seerah of the Prophet،katame nabuwat finality of the last prophet،غوث پاک،qualities of a good student،نماز کا
عملی طریقہ،کامیاب لوگ،The Great
Mawlid،The blessed mawlid،Aqeeda Khatam e Nabuwat، secondary،The great daughter،how to be a good student،A woman’s asset،Seerat e Mustafaاور higher secondary سیشنز
منعقد کیے گئے۔ یہ سیشنز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز انگلش،اردو
اور بنگلہ زبان میں منعقد کیے گئے۔
|
پاکستان |
سیشنز کی تعداد: 5 |
مقامات کی تعداد: 376 |
شرکاء کی تعداد:12 ہزار 266 (12, 266) |
|
اوورسیز |
کورس کی تعداد:2 |
مقامات کی تعداد:32 |
شرکاء کی تعداد: 416 |
|
سیشنز کی تعداد: 19 |
مقامات کی تعداد:95 |
شرکاء کی تعداد:1 ہزار 426 (1, 426) |
|
|
مجموعی کارکردگی |
کورس کی تعداد:2 |
مقامات کی تعداد:32 |
شرکاء کی تعداد: 416 |
|
سیشنز کی تعداد: 19 |
مقامات کی تعداد:471 |
شرکاء کی تعداد:13 ہزار 692 (13, 692) |
(11)شعبہ حج و عمرہ :
مارچ 2026 پاکستان میں عمرہ پر جانے والیوں
کے لیے اور ذمہ داران اسلامی بہنوں کے لیے حج/عمرہ سیشن اور رفیق الحرمین کورس منعقد کیا گیا۔ یہ سیشن اور کورس فزیکل اور آن لائن کروایا گیا نیز یہ سیشن اور
کورس اردو زبان میں منعقد کیے گئے۔
|
پاکستان |
کورس کی تعداد: 1 |
مقامات کی تعداد:6 |
شرکاء کی تعداد: 48 |
|
سیشنز کی تعداد: 2 |
مقامات کی تعداد: 348 |
شرکاء کی تعداد:2 ہزار 695 (2, 695) |
(12)شعبہ مدرسۃالمدینہ بالغات:
مارچ 2026ء، بیرونِ ملک میں الوداع ماہ رمضان سیشن آن لائن اور اردو زبان میں منعقد ہوا
۔
|
بیرونِ ملک |
سیشنز کی تعداد:1 |
مقامات کی تعداد:2 |
شرکاء کی تعداد:35 |
محمد یعقوب عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُالمدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو ہمیں اپنے اسلامی بھائیوں کے ساتھ
مل جل کر رہنے اور دوسروں کی حق تلفی سے اجتناب کا حکم دیتا ہے بلکہ معاشرے میں بھائی چارہ قائم رکھنے کےلئے
بھلائی اور دوسروں کے ساتھ نصرت کا حکم دیتا ہے انہی نصرت کے کاموں میں سے ایک کام
اپنے محتاج بھائی کو قرض دے کر مدد کرنا ہے ۔
قرض دینے
کے بعد اب طلب کےوقت اگر وہ حالت عسر میں ہے تو اس پر شفقت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ
کے اس فرمان پر عمل کیا جائے ،قال الله تعالى فی کلام المجید:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت
فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی
روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا
کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳،
مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
شعبہ مدنی
کورسز (اسلامی بہنیں ) دعوتِ اسلامی کے تحت تمام (Teenage) بچیوں کے لئے کورس”قرآن اور
سائنس“ مرتب کیا گیاہے جس کا آغاز پاکستان میں وارڈ سطح پر
جبکہ اوورسیز میں ڈویژن سطح پر ہو
گا۔
مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ
کورس 18 اپریل 2026ء کو شروع ہوکر 20 اپریل 2026ء
کو ختم ہوگا جس کا دورانیہ روزانہ ایک گھنٹہ (60
منٹ) ہوگا۔
کورس کی
خصوصیات:
الْحَمْدُ لِلّٰہ! اس کورس میں
قرآن کے بارے میں عقائد، قرآن اور پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی شان، قرآن اور سائنسی علوم مثلاً Cosmology, biology, Oceanic Barriers, کے بارے میں مفید معلومات نیزاس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملےگا ۔
کورس میں داخلہ لینے کی اہلیت : (Teenage) بچیوں کے لئے۔۔ تو جلدی کیجئےکہیں دیر
نہ ہوجائے۔
داخلے کے لئے رابطہ : اسلامی بہنیں اپنی ٹاؤن/
ڈسٹرکٹ/ڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں سے
رابطہ فرمائیں۔
اسلامی بہنیں اس
ای میل ایڈریس سے بھی مزید معلومات حاصل کر سکتیں ہیں۔
مجتبیٰ بشیر خانانی (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دینِ رحمت ہے جو انسان کے دلوں میں ہمدردی، عدل و انصاف اور خیرخواہی کے
جذبات کو پروان چڑھاتا ہے ۔ یہ دین صرف
عبادات تک محدود نہیں بلکہ مالی اور معاشرتی معاملات میں بھی عدل و نرمی کی تعلیم
دیتا ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اُس شخص پر جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، اور
قرض وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے ۔ ( صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2076)
یہ تعلیم
بتاتی ہے کہ لین دین اور مالی معاملات بھی عبادت کا حصہ بن سکتے ہیں اگر ان میں
عدل، انصاف اور نرمی شامل ہو ۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشادِ مبارک ہے:وَ اِنْ
كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ
لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو
اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر
جانو ۔ (سورۃ البقرہ، آیت 280)
یہ آیت قرض
خواہ کو اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتی ہے کہ مقروض پر سختی نہ کرے بلکہ اسے سہولت اور
وقت دے ۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے قرض میں رعایت کرے، اللہ تعالیٰ
اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا ۔ (جامع ترمذی، کتاب البیوع، رقم: 1306)
ایک اور روایت
میں ہے: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کو معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ
اسے جہنم سے آزاد کر دے گا ۔ (مسند احمد،
حدیث: 21996)
یہ سب واضح
کرتے ہیں کہ مالی تنگی کے شکار شخص سے نرمی کرنا عبادت، صدقہ اور جہنم سے نجات کا
ذریعہ ہے ۔
رسولِ اکرم
ﷺ کی سیرتِ طیبہ رحم، درگزر اور آسانی سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلا"ایک شخص قرض دیا
کرتا تھا، جب وہ اپنے نوکروں کو قرض وصول کرنے کے لیے بھیجتا تو کہتا: اگر کوئی
تنگ دست ہو تو اسے چھوڑ دو، شاید اللہ بھی ہمیں معاف کر دے" ۔ چنانچہ اللہ
تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے بھی اسے معاف کر دیا ۔ (صحیح بخاری، کتاب المساقاة، حدیث: 2078؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاة، حدیث:
1562)
اسی طرح
رسول ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو قرض دیا، اس کے لیے ہر دن صدقہ لکھا
جاتا ہے، اور اگر اس نے ادائیگی کی مہلت بڑھا دی تو ہر دن دو صدقے کا ثواب لکھا
جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات،
حدیث: 2430)
اور فرمایا:
جس نے تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا
۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:
2699)
یہ احادیث
بتاتی ہیں کہ مقروض پر نرمی اللہ کی رحمت اور بخشش کا ذریعہ ہے، اور یہ عمل دنیا و
آخرت دونوں میں کامیابی کا سبب بنتا ہے ۔
اسلام کی
تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص مالی تنگی میں ہو تو اس کے ساتھ نرمی،
سہولت اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے
پر آسانی فرمائے جو لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرے ۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2697)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تاکہ ہمارا معاشرہ عدل، محبت اور رحمت کا
گہوارہ بن جائے ۔
محمد عبد اللہ (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ اسلام جیسے معتدل اور متوازن دین میں پیدا
فرمایا ایسا دین جو ہر قسم کی افراط و تفریط سے پاک، انسان کی فطرت کے عین مطابق
اور زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔ اسلام نے ہمیں نہ صرف عبادات کے
اصول سکھائے بلکہ معاشرتی، معاملات اور مالی لین دین کے آداب بھی سکھائے ہیں ۔ جب
کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب جائے تو اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایسے مقروض کے
ساتھ سختی نہیں بلکہ نرمی، ہمدردی اور آسانی کا معاملہ کیا جائے ۔
قرآن کریم
میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے
مہلت دو آسانی تک ۔ (سورۃ البقرۃ: 280)
یہ آیت
مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی مالی تنگی میں مبتلا ہے تو اسے وقت دیا
جائے، دباؤ نہ ڈالا جائے، بلکہ ممکن ہو تو معافی اور رعایت سے کام لیا جائے ۔ اسی
نرمی کی تعلیم ہمیں نبیِ آخرالزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بھی ملتی ہے ۔
حضرت ابو
قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی
مقروض کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیاتو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے
عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مسند احمد: جلد دوم، صفحہ 359)
اسی طرح
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا
اس کا قرض معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا ۔ (الدر
المنثور: جلد 1، صفحہ 389)
ان احادیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ قرضدار کے ساتھ نرمی کرنا محض اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ایمان
داروں کے لیے جنت کا ذریعہ اور جہنم کی آگ سے حفاظت کا سبب ہے ۔
نبی پاک صلی
اللّہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اسلام رحم، عدل اور ہمدردی جیسی خوبصورت صفات
پر قائم ہے ۔ جو شخص تنگ دست مقروض کے ساتھ نرمی اور مہلت کا
برتاؤ کرتا ہے، دراصل وہ اللہ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے ۔ ایسا شخص دنیا میں سکون
پاتا ہے اور آخرت میں عرشِ الٰہی کے سایہ میں جگہ پاتا ہے ۔
پس ہمیں
چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص تنگی میں ہو، تو اس کے ساتھ نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق آسانی، فراخ دلی
اور خیرخواہی کا سلوک کریں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جنہیں
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ
اہتمام ذی القعدۃ 1447ھ کے تیسرے ہفتے کے
دوران ہر بیمار مسلمان کے لئے خصوصی دعاؤں اور عیادت کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ اس اجتماع کا مقصد بیمار مسلمانوں کے لئے شفایابی کی دعا کرنا، روحانی
علاج، ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام ہے۔
اجتماع کی
تفصیلات:
٭بیان ”بیماری پر صبر کے فضائل “٭111 بار یَاسَلَامُ کا
ورد٭درودِ شِفاء کا ورد٭متعدد روحانی علاج٭جہاں کہیں بھی مسلمان بیمار ہیں ان کی
شفا یابی کے لئے خصوصی دُعائیں ۔
عبد الوحید (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
معاشره
انسانی ضرورتوں پر قائم ہے، اور بسا اوقات انسان مالی تنگی یا حاجت کا شکار ہو
جاتا ہے ۔ ایسے مواقع پر قرض لینا مجبوری
بن جاتا ہے، اور قرض دینا ایک اخلاقی و دینی فریضہ بن جاتا ہے ۔ لیکن جب قرض دار تنگ دست ہو، تو اس پر سختی
کرنا ظلم ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے اس معاملے
کو بہت اہمیت دی ہے اور تنگ دست کو مہلت دینے نرمی برتنے حتی کہ معاف کرنے پر دنیا
و آخرت کی عظیم فضیلتیں بیان فرمائی ہیں ۔
یہی وجہ ہے
کہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں نہ صرف قرض دینے کی ترغیب دی گئی بلکہ تنگ دست
قرض دار کے ساتھ حسن سلوک کو ایمان کی علامت اور جنت کے سائے کا سبب قرار دیا گیا
ہے ۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں قرض دار کو مہلت دینے کے
بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز العرفان:اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)
تفسیر :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر
آپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات
جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں
تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت
فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(2) حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3) حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار
ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے
گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے
گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے
پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ
گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور
فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو
رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: آپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ
دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا
مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء آپنے آپ کو پاک کرنے سے
کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
قرض کی
ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے
کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے
عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ
الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ
وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر
بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ
بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے
اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی
سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)
سید دلدار حسین (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالی نے جس انسان کو مال و دولت سے نوازا
تو اس سے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کو اللہ تعالی نے دینے والا بنایا
ہے کسی سے مال لینے کا محتاج نہیں بنایا
اگر اس شخص کو اللہ تعالی نے جو کچھ عطا کیا اس پر اگر شکر ادا کرے گا تو اللہ تعالی
اس کے مال و عزت میں مزید اضافہ فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالی کو شکر کرنے والی
زبان اور صبر کرنے والا دل بہت زیادہ
محبوب یعنی پسند ہے اس شخص کو اللہ تعالی نے مال دیا اور اس نے کسی غریب کی مدد کی
قرض کے ذریعے لیکن اگر جس کو اس نے قرض دیا اس شخص نے اس کو وقت پر قرض نہیں لوٹایا
جس وقت پر اس کو قرض وآپس لوٹانا تھا لیکن اگر اس پر وہ صبر کرے اور مقروض یعنی
قرضدار پر نرمی و صبر کرنے کو ترجیح دیتا ہے ایسے شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی اس شخص کو قیامت کے دن تکلیفوں سے
نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ ( صراط الجنان صفحہ
نمبر 417) (مسلم کتاب الذکر والدعاباب فصل الاجتماع علی تلاوت القرآن ص 1447 حدیث
2699)
چنانچہ اس زمن میں دو فرامین مصطفی ملاحظہ کیجیے:
(1) نبی کریم
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو دنیا میں تنگ دست کو آسانی
فراہم کرے گا اللہ عزوجل دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا
۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)
(2) جس نے
تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنا عرش
کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ریاض
الصالحین،ج 3 ص 332)
دیکھیے نبی
کریم ﷺ نے کس طرح ہماری تربیت فرمائی اگر کوئی شخص کسی تنگدست کو قرض دے اور وہ
اپنی تنگدستی کی وجہ سے واپس نہ کر سکے تو ایسے شخص کو معاف کر دینا بہتر ہے
۔ کیونکہ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ
تعالی علیہ فرماتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی اس لیے ہے کہ ان دونوں کو ایک دین
نے جمع کر دیا ہے اور دینی بھائی ہونا تو حقیقی بھائی ہونے سے بھی افضل ہے کیونکہ حقیقی بھائی ہونا دنیاوی
پھل ہے جبکہ دینی بھائی ہونا اخروی پھل ہے ۔ ( ریاض الصالحین،ج 3 ص 332)
اگر تم ان تمام باتوں پر عمل کرو گے اور مقروض
سے قرض لینے میں نرمی کرو گے تو دنیا میں
لوگ تمہاری تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ
وسلم
علی احسان (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں عدل وانصاف نرمی اور رحم دلی کی
تعلیم دیتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ میں ہمیں یہ سبق
ملتا ہے کہ انسان کے ساتھ بھلائی ،نرمی، اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
بہت پسندیدہ عمل ہے خاص طور پر مالی معاملات میں نرمی کرنا جیسے قرض دینے اوراُسکے
مطالبہ کرنے میں نرمی کرناقرآن پاک میں بھی قرضدار پر نرمی کے حوالے سے فرمایا گیا
ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ
کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر:اس
آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا
کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔
آئیں اس
بارے میں چند فرامینِ مصطفیٰ ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شخص کا
انتقال ہوا قبر میں اس سے سوال ہوا تمہارے پاس کوئی نیکی ہے اس نے کہا میں لوگوں
سے خرید و فروخت کرتا تھا اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا تو میں مالداروں کو مہلت دیا
کرتا تھا اور تنگ دستوں کے معاف کردیا کرتا تھا ِاس پر اُس کی بخشش ہوگئی ۔ (صحیح
مسلم ج1:ص843:حدیث1560)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا :(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3)حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا :جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے
نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے :(صحیح مسلم ج 1:ص845:حدیث1523)
(4)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844 ، الحدیث: 29 (1560)
بعض لوگوں
کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قرضدار پر نرمی کے بجائے سختی کرتے ہیں اور طرح طرح کی شرط
لگاتے ہیں ۔ مقروض کو اپنا غلام بناتے ہیں
اُس کو مجبور کرکے طرح طرح کے کام لیتے ہیں انہیں بےعزت کرتے ہیں اگر مقروض ادائیگی
میں تأخیر کرے تو شور مچاتے ہیں اور لوگوں کو جمع کرتے ہیں ہمیں چائیے اگر کوئی
قرض واپس کرنے سے عاجز ہو تو اسے مہلت دیں اس کی عزت نفس کا خیال رکھیں اور اسے
شرمندہ نہ کریں یاد رہے کہ جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے اللہ تعالی اس کے
لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چائیے کہ نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مقروض پر نرمی اختیار کریں بلکہ اگر ممکن ہو تو اس کا
قرض معاف کرکے اپنی آخرت سنواریں ۔
Dawateislami