ہمیں آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا
چاہئے، بلکہ ہمیں آج کا کام آج ہی کرنا
چاہئے، ہمیں کیا معلوم کہ کل ہمارے ساتھ
کیا ہوگا، ہم زندہ ہوں گے یا نہیں اور اگر
آج کا کام کل پر چھوڑیں گے، تو کل کے بھی
تو کام ہوں گے، اس طرح کل کے جو ہمارے کام ہوں گے، وہ بھی نہ ہو سکیں گے، اس طرح کرنے
سے ہمارا کل کا جدول بھی خراب ہو گا، حضرت
عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اپنا آج کا کام کل پر نہ چھوڑتے، ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کام میں
مصروف تھے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے سیر و تفریح کے لئے چلے
جائیں، تو آپ نے فرمایا کہ میرا آج کا کام
تم لوگ کرو گے؟ انہوں نے کہا" کہ آپ
اپنا آج کا کام کل کر لیجئے گا"، تو
آپ نے فرمایا : کہ میں ایک دن کا کام بمشکل کرتا ہوں، تو دو دن کا کام اکٹھا کیسے کروں گا۔
ہمیں آج کا کام آج ہی کرنا چاہئے، ایسے کل کریں گے، کل کریں گے، ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی کا سامنا کرنا
پڑتا ہے، ایسے پھر بہت سارے کام اکٹھے
ہمارے سر پر آ جاتے ہیں اور پھر ہم کر نہیں سکتے۔مثال کے طور پر اگر طالب علم اپنا
روز کا سبق یاد نہ کرے، بلکہ یہ کہتا رہے
کہ کل کر لوں گا، تو اس طرح کرنے سے
امتحان سر پر آ جائیں گے اور اسے سارا اکٹھا یاد کرنا ہوگا اور سارا سب سبق اکٹھا
یاد کر نہیں پاتا، تو اس طرح پھر امتحان
میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ایسے لوگ جو کہتے ہیں کہ کل کر لیں گے، کل کرلیں گے، تو کل تو کبھی آئے گا ہی نہیں اور وہ خود کو بھی
پریشان کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی پریشان کیا ہوتا ہے، ہمیں اس طرح کرنے سے بچنا چاہئے۔
حضرت امام ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ منہاج القاصدین میں فرماتے ہیں کہ "جو شخص
یہ کہتا ہے کہ ابھی رہنے دو کل کرلیں گے، تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جو درخت کو کاٹنے کے لئے
جاتا ہے، اور درخت کو کاٹنا چاہتا ہے، لیکن وہ دیکھتا ہے کہ درخت بڑا مضبوط ہے، اس سے کٹتا نہیں ہے، تو وہ یہ سوچ کر چلا جاتا ہے کہ اگلے سال اسے
آکر کاٹ لوں گا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ یہ
نہیں سوچتا کہ اگلے سال جب آؤں گا، تو
درخت مزید مضبوط ہو جائے گا، اور میری عمر بڑھ جائے گی اور میرے اندر مزید کمزوری
آ جائے گی، تو پھر اسے کاٹنا دشوار اور
مشقت والا عمل ہوجائے گا۔
اس طرح بعض لوگ اپنے فرائض و
واجبات کو بھی یہی سوچ کر ترک کردیتے ہیں
کہ کل کرلیں گے، نماز نہیں پڑھتے اور یہ
کہہ کر کہ ابھی تو نوجوان ہیں، بعد میں
پڑھ لیں گے، ابھی تو پوری عمر باقی ہے، بعد میں پڑھ لیں گے۔
ایسے لوگوں کو چاہئے کہ توبہ کریں اور آج سے ہی شروع کریں، کیا معلوم کہ کس وقت
موت کا پیغام آجائے کیونکہ موت نہ تو جوانی کا لحاظ کرتی ہے، نہ بڑھاپے کا اور پھر جوانی میں جتنی طاقت ہوتی
ہے، بڑھاپے میں اتنی نہیں، بلکہ بڑھاپے میں اعضاء بھی کمزور ہوجاتے ہیں، تو بڑھاپے میں تو ہم ادا نمازیں ہی بمشکل پڑھ
سکیں گے، تو وہ جوانی والی قضاء نمازیں
کیسے لوٹائیں گے، بلکہ ہمیں ایک جدول بنا لینا چاہئے اور اس کو کہیں سامنے لگا دیں، جس پر ہر وقت ہماری نظر پڑتی رہے اور پھر ہر کام
اسی جدول کے مطابق کریں، تو ہمیں پریشانی
کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
دعوتِ اسلامی کے شعبہ اصلاح
ِاعمال للبنات کےتحت 8 جون2021 ء بروز منگل پاکستان
کے شہر راولپنڈی اور ملتان ریجن میں بذریعہ اسکائپ مدنی مشوروں
کاانعقاد ہوا جن میں لاہور ریجن و زون ، ملتان ریجن و زون
سطح علا قائی دورہ کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
پاکستان نگران اسلامی بہن نے ’’ ترقی کے مدنی پھول ‘‘کے موضوع سے
چند نکات بیان کئے اور اسلامی بہنوں کو تقرریاں مکمل کرنے ،
کارکردگی جدول کے مطابق عمل کرنے کاذہن دیا نیز سفر ی جدول بنانے ، ماہانہ مدنی مشورہ لینے اور ماتحت کے ماہانہ مدنی مشورے کا فالو اَپ کرنے کی
ترغیب دلائی اور شعبے کی ماہانہ کارکردگی فارم پُر کرنے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے۔
جوشخص کہتا ہے"ابھی رہنے دو، ابھی رہنے دو، بعد میں کرلیں گے"ایسے
افراد ہمارے گھروں، اسکولوں، دکانوں، شہر وغیرہ میں رہ کر ہمارے معاشرے کو خراب کر رہے ہیں اور خود کو بھی مشکل
میں ڈالتے ہیں، امام ابنِ جوزی نے بڑی
پیاری بات لکھی ہے:"جو شخص کہتا ہے، ابھی رہنے دو، کل کرلیں گے، وہ ایسا آدمی ہے جو کسی درخت کو کاٹنے جاتا ہے
اور درخت مضبوط ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ "چلو اسے اگلے سال کاٹ لوں
گا"، وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگلے سال
درخت زیادہ مضبوط ہو جائے گا اور میری عمر بڑھ جائے گی اور کمزوری مجھ میں آ جائے
گی اور پھر وہ کاٹنا نہایت دشوار اور مشقت والا ہو جائے گا، اس طرح یہ جو ٹال مٹول اور سُستی کا جو معاملہ
ہے، یہ اس طرح ہے کہ آنے والے وقتوں میں
ہمارا کام مشکل سے مشکل ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضرت عبدالعزیز کے بارے میں آتا ہے
کہ آپ کو کسی نے کہا کہ آج کا کام کل پر رکھ دیں، کل کر لیجئے گا تو آپ نے فرمایا:کہ نہیں میرے سے تو ایک دن کا کام بہت مشکل
سے ہوتا ہے، کل جب دو دن کا کام جمع ہو
جائے گا تو میں وہ کیسے کروں گا۔"
امیراہلسنت کا معمول ہے کہ اگر آپ
نے مغرب اور عشاء کے درمیان کھانا نہیں کھایا، تو مثال کے طور پر اگر آپ کہیں، ابھی رہنے دو بعد میں کھالیں گے، تو جو جدول ہمارے سامنے ہے تو بعد میں کھائیں گے
کب! بعد میں کھانے کا ٹائم نہیں ہے، یہی
ایک کھانا کھانے کا وقت ہے، ایک وقت میں
اگر یہ کام نہیں کیا تو دوسرے وقت میں وہ کام کرنے کی گنجائش نہیں کہ وہ وقت تو کسی اور کام کے لئے ہم نے مخصوص کر
دیا ہے، اب یہ کہ یہ جو مزاج ہے، اس میں تبدیلی ضروری ہے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد جب وہ کام کیا جاتا
ہے، تو نقصان ہوتا ہے، اگر واقعی آپ نے اپنے اندر وقت کی پابندی اور ہر
کام کو اس کے وقت پر کرنے کا مزاج پیدا
کرنا ہے، تو نماز کی عادت بنانی ہوگی، یعنی
اُسے قضا کرنے کے بجائے اس کے وقت پر پورا
کرنا چاہئے، کیونکہ یہ معمول انسان کو وقت
کا پابند بناتا ہے۔
آج کا کام کل پر چھوڑنے والے لوگ
خود بھی پریشان ہوتے اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں، اگر آج نیک اعمال نہ کئے تو کل قیامت کو ایک ہی
پکار ہوگی:
فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا۔ ترجمۂ
کنزالایمان:"ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام
کریں۔"(پ21، السجدۃ: 12)
غفلت سے بیدار ہونے کے بارے میں دو فرامینِ
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:
1۔ارشاد فرمایا:" پانچ چیزوں
کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، ٭ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، ٭ صحت کو بیماری سے
پہلے، ٭ مالداری کو تنگدستی سے پہلے، ٭ فرصت کو مشغولیت سے پہلے، ٭ اور زندگی کو
موت سے پہلے۔"(مستدرک، کتاب الرقاق نعمتان مغبون فیھا۔۔الخ، 5/435، حدیث7916)
2۔ارشاد فرمایا:"بندے کاغیر
مفید کاموں میں مشغول ہونا، اس بات کی
علامت ہے کہ اللہ نے اس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے اور جس مقصد کے لئے بندے کو
پیدا کیا گیا ہے، اگر اس کی زندگی کا ایک
لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا، تو وہ اس
بات کا حقدار ہے کہ اس کی حسرت طویل ہو
جائے۔"(تفسیر روح البیان، سورہ بقرہ،
تحت الآیۃ 232، 1/363)
اے جوانو اور توبہ میں تاخیر کرنے
والو! کیا تم غور نہیں کرتے کہ تم کب سے اپنے نفس سے وعدہ کر رہے ہو کہ کل عمل
کروں گا، کل عمل کروں گا اور وہ کل آج میں
بدل گیا، کیا تم نہیں جانتے کہ جو کل آیا اور چلا گیا، وہ گزشتہ کل میں تبدیل ہوگیا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم آج عمل کرنے سے عاجز
ہو تو کل زیادہ عاجز ہو گے۔
آج کا کام کل پر چھوڑنے والا اُس آدمی کی طرح ہے،
جو درخت کو اُکھاڑنے میں جوانی میں عاجز
ہو اور اسے دوسرے سال تک مؤخر کر دے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا جائے گا،
درخت زیادہ مضبوط اور پُختہ ہوتا جائے گا اور اُکھاڑنے والا کمزور ہوتا جائے گا، پس جو اُسے جوانی میں نہ اُکھاڑ سکا، وہ بڑھاپے میں قطعاً نہ اُکھاڑ سکے گا، جو شخص جوانی میں احکامِ شریعہ کی بجاآوری میں کوتاہی
برتتا ہے تو اس سے کیسے اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں ان غلطیوں کا مداوا
کر سکے گا، لہذا جوانی کو غنیمت جانئے اور
اسی عمر میں نفس کو لگام دیجئے اور توبہ
میں جلدی کیجئے، نہ جانے کس وقت موت کا
پیغام آ جائے، کیونکہ موت نہ تو جوانی کا
لحاظ کرتی ہے، نہ بچپن کی پرواہ۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ مجھے اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ (پارہ30، العصر:2)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک آدمی
ضرور نقصان میں ہے۔" کا ترجمہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا، میں ثمرقند کے بازار میں گیا ، وہاں ایک آدمی
برف بیچ رہا تھا اور ساتھ آواز لگا رہا تھا کہ مجھ پر رحم کرو، مجھ سے برف خرید لو، میں ایک ایسا تاجر ہوں جس کا مال بھی پگھلا جا رہا ہے،
بزرگ فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ اِنَّ
الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ کامفہوم کیا ہے، جس طرح سانسیں پگھلتی جا رہی ہیں، اسی طرح زندگی بھی پگھلتی جا رہی ہے۔
اے جوانوں اور توبہ میں تاخیر کرنے والوں! اب جو مخصوص زندگی دی گئی
ہے، یہ تو گزر جانی ہے، ایک لمحہ نہیں ٹھہرے گی، اس لئے زندگی کو اس انداز سے گزارئیے کہ ہمارا
ربّ اور اس کا محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے راضی ہو جائیں، ہر سانس کے بدلے نیکیاں کمائیے،
ورنہ برف کے پگھلتے ہوئے قطروں کی طرح زندگی سانس سانس کر کے ٹوٹ رہی ہے اور ہم ہر
لمحہ موت کے قریب ہو رہے ہیں۔
اللہ کریم ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے
صدقے ہمیں ہر سانس کو بامقصد گزارتے ہوئے،
زندگی کی آخری سانس تک اخلاص و استقامت کے
ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"پانچ
چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، 1۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، 2۔ صحت کو
بیماری سے پہلے، 3۔ مالداری کو تنگدستی سے پہلے، 4۔ فرصت کو مشغولیت سے پہلے، 5۔زندگی
کو موت سے پہلے۔"(المستدرک، کتاب الرقاق، جلد 5، صفحہ 435، حدیث 7916) اور فرمایا:" روزانہ
صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے کہ"اگر آج کوئی
اچھا کام کرنا ہے تو کر لو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔"(شعب
الایمان، باب فی الصیام، ما جا ءلیلۃ
النصف من الشعبان، جلد 3، صفحہ 386، حدیث 3840، ملخصاً)
جو کام آج کا ہے، وہ آج کا ہے اور جو کل کا ہے، وہ کل کا ہے، کل کس نے دیکھی ہے، کل تو کبھی آئی ہی نہیں، ہمارے بزرگانِ دین کا معمول تھا کہ وہ روز کا
کام روز فرماتے تھے اور سُستی اور کاہلی سے بہت دور تھے، جب انہوں نے وقت کی قدر دانی کی تووقت نے بھی ان
کی قدردانی کی اور اُن کا نام ہمیشہ کے لئے روشن ہوا، ہم یہاں کچھ بزرگوں کے اِرشادات ذکر کرتے ہیں:
حضرت علی رضی اللہ عنہ:
"یہ ایّام تمہاری زندگی کے صفحات ہیں، ان کو اچھے اعمال سے زینت دو۔"
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں:
"میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے
اس دن کے مقابلے میں کسی چیز پر نادم نہیں ہوتا، جو دن میرا نیک اعمال میں اضافے سے خالی ہو۔"
امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"خدا عزوجل کی قسم! کھانا
کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک ہو جانے کا مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت نہایت ہی قیمتی
دولت ہے۔"
امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"میں ایک مدت تک اہلُ اللہ
کی صحبت سے فیضیاب رہا، ان کی صحبت سے
مجھے دو اَہَم باتیں سیکھنے کو ملیں:1۔ وقت تلوار کی طرح ہے، تم اس کو کاٹو ورنہ یہ تم کو کاٹ دے گا۔
2۔ اپنے نفس کی حفاظت کرو، اگر تم نے اس کو اچھے کام میں مشغول نہ رکھا تو
یہ تم کو کسی بُرے کام میں مشغول کر دے گا۔"
حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز
علیہ الرحمہ:
"ایک دن آپ رحمۃ اللہ علیہ کے
بھائی نے آپ کو مشورہ دیا کہ کبھی کبھی سیر و تفریح کے لئے بھی نکل جایا کریں، فرمایا:"پھر اس دن کا کام کس طرح انجام
پائے گا؟ انہوں نے کہا: دوسرے دن ہو جائے گا، فرمایا: میرے لئے یہی بہت ہے کہ روز کا کام روز
انجام پاجائے، دو دن کا کام ایک دن میں
کیوں کر پورا ہوگا۔"(سیرت ابنِ جوزی، ص 225، حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز کی
425 حکایات، ص423)
اللہ تعالی ان ہستیوں کے صدقے
ہمیں بھی وقت کا قدردان بنائے اور ہر دن کا کام اُسی دن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
لاہور ریجن ، گلگت بلتستان ، استور پریس کلب کے سینئر صحافیوں میں مدنی حلقے کا انعقاد
میڈیا ڈیپارٹمنٹ
آف دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 04 جون 2021ء بروز جمعہ لاہور ریجن ، گلگت بلتستان ، استور پریس کلب کے سینئر صحافیوں میں مدنی حلقے
کا انعقاد کیا گیا جس میں استور پریس کلب صدر رفیع
اللہآفریدی
، لطف اللہ سابق صدر یونین آف جرنلسٹ، عبدالوہاب
ربانی ناصر جنرل سیکرٹری استور پریس کلب و منیجنگ ڈائیریکٹر استور نیوز ایجنسی ، سبحان
سہیل ممبر پریس کلب استور بیوروچیف بول نیوز اور میڈیا سے وابستہ دیگر افراد نے
شرکت کی۔
ایک مرتبہ کسی نے حضرت سیّدناعمر بن عبدالعزیز
رحمۃاللہ علیہ سے عرض کی، یا امیر المؤمنین!یہ کام آپ کل پر مؤخر فرما دیجئے، آپ نے اِرشاد فرمایا:" میں روزانہ کا کام ایک دن میں بمشکل مکمل کرپاتا ہوں، اگر
آج کا کام بھی کل پر چھوڑ دوں گا، تو پھر دو دن کا کام ایک دن میں کیونکر کر سکوں
گا۔"(انمول ہیرے، صفحہ نمبر 16،17)
مذکورہ واقعے سے آج کا کام کل پر نہ چھوڑنے کا جذبہ ملا، جس طرح وقت کو دُرست جدول کے ذریعے، نیز ترجیحات کو متعین کرکے اور منصوبہ بندی کرنے کے
ساتھ استعمال کرنے کے کئیں فوائد و برکات ہیں، اسی طرح آج کا کام کل پر چھوڑنے کے کئی نقصانات
ہیں، آئیے ان میں سے چند کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
بے ضابطگی:
آج کا کام کل پر چھوڑنے سے انسانی
زندگی کے نظم و ضبط پر کافی اثر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے ضروری اُمور پر توجّہ نہیں
دے پاتا۔
منتشر خیالی:
آج کا کام کل پر چھوڑنے سے انسانی خیالات منتشر
رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انسان ڈپریشن اور
مایوسی کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
مؤ ثر کارکردگی کا نہ ہونا:
آج کام کل پر چھوڑنے سے کارکردگی میں بہتری نہ آنے
کے ساتھ ساتھ انسان ترقی کی جانب قدم نہیں بڑھا سکتا۔
عبادات میں تاخیر:
آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت اپنانے سے انسان
اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ عبادات (نماز، روزہ، زکوۃ، وغیرہ) کو وقت پر ادا نہ کرکے کئیں عذابوں کا
حقدار ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا مشہور جملہ"آج
رہنے دو، کل کروں گا"، آج بہت سے افراد چاہے وہ گھر میں ہوں یا دفتر
میں، دکان میں ہوں یا اسکول میں، یہ جملہ
کہتے ہوئے نظر آتے ہیں، ایسے افراد اپنا
اور اپنے معاشرے کا نقصان کرتے ہیں، کیونکہ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے، اگر کام کو اُس کے مقررہ وقت پر نہ کیا جائے تو
تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ بعد میں وہ کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے، بہت سے افراد بعض اوقات کام کو وقت پر نہ کرنے
کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، لہذا! ہمیں ایسی ٹال مٹول سے بچنا چاہئے اور ہر
کام کو اس کے وقت پر کرنا چاہئے۔
توبہ میں تاخیر کرنا:
اگر ہم دنیاوی نقصانات سے ہٹ کر اُخروی نقصانات
دیکھیں، کام کو وقت پر نہ کرنے کے یا کام
کو کل پر چھوڑنے کے تو ہمیں صحیح معنوں
میں کام وقت پر کرنے کا جذبہ ملے گا، اس
حوالے سے حضرت سیّدنا امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ منہاج العابدین میں
جوانوں اور توبہ میں تاخیر کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:"کہ کیا تم
غور نہیں کرتے کہ تم کب سے اپنے نفس سے وعدہ کر رہے ہو کہ کل عمل کروں گا اور وہ
کل آج میں بدل گیا، کیا تم نہیں جانتے کہ
جو کل آیا اور چلا گیا، وہ گزشتہ کل میں
تبدیل ہو گیا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم
آج عمل کرنے سے عاجز ہو، تو کل زیادہ عاجز
ہوگے، آج کا کام کل پر چھوڑنے اور توبہ و
اطاعت میں تاخیر کرنے والا اُس آدمی کی طرح ہے کہ جو درخت کو اُکھاڑنے سے جوانی
میں عاجز ہواور دوسرے سال کے لئے مؤخر کر دے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا
جائے گا، درخت زیادہ مضبوط اور پختہ ہوتا
چلا جائے گا اوراُکھاڑنے والا کمزور ہوتا چلا جائے گا، پس جو اس درخت کو جوانی میں نہ اُکھاڑ سکا، وہ بڑھاپے میں قطعاً نہ اُکھاڑ سکے گا۔"
اے عاشقانِ رسول! اِمام غزالی رحمۃ
اللہ علیہ کا یہ فرمان کس قدر فکر انگیز ہے کہ جو شخص جوانی میں اَحکامِ شرعیہ اور
اِطاعتِ الہی کی بجا آوری میں کوتاہی برتتا ہے، تو اُس سے کیسے اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ
بڑھاپے میں غلطیوں کا مداوا کر سکے گا، کیونکہ اُس وقت جسم اور اعضاء کمزوری کا شکار ہو
چکے ہوں گے، لہٰذا! جوانی کو غنیمت جانئے
اور اِسی عمر میں نفس کے بے لگام اور منہ زور گھوڑے کو لگام دے دیجئے اور توبہ
کرنے میں جلدی کیجئے، نہ جانے کس وقت
پیغامِ اجل آ جائے، کیونکہ موت تو نہ
جوانی کا لحاظ کرتی ہے، نہ ہی بچپن کی
پرواہ۔
آہ!آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر
نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں
اے عاشقانِ رسول!ابھی اپنے گناہوں
سے توبہ کیجئے اور اپنے ربّ عزوجل کی اطاعت میں مشغول ہو جائیں، اپنے ربّ کو راضی کرنے میں لگ جائیں، اللہ پاک ہم سب
کو توبۃ النصوح کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
جدول بنانا:
دنیا میں اپنا کام وقت پر کرنے کے لئے ضروری ہے
کہ ہم جدول بنائیں، اگر ہم اپنے پیر و
مرشد حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ
کے معمولات پر غور کریں تو ہمیں نظر آئے گا تو آپ اپنا ہر کام مقررہ وقت پر کرتے
ہیں، دُنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی
کامیابی کا انحصار وقت کی پابندی پر ہوتا ہے، جدول بنانے کی ہمیں یہ برکت نصیب
ہوگی کہ ہم بہت سے فضول کاموں سے بچ جائیں گے اور اپنی زندگی کو سُنتِ رسول صلی
اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزاریں گے، بہت
پیاری بات کسی نے کہی ہے کہ"یہ وقت ہی ہے، جو انسان کو سونا بنا دیتا ہے اور یہ وقت ہی ہے،
جو انسان کو مٹی کر دیتا ہے۔"
اللہ پاک ہمیں اپنے وقت کی قدر
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین
فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"روزانہ
صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے، تو اس وقت "دن"یہ
اعلان کرتا ہے:اگر کوئی اچھا کام کرنا ہے تو کر لو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر
نہیں آؤں گا۔"(شعب الایمان، جلد3، صفحہ 386، حدیث نمبر 3740)
آج کا کام کل پر چھوڑنا ایک ایسی
عادت ہے، جس کی وجہ سے بسا اوقات انسان کو
نقصان اٹھانا اور پریشانی و ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے باوجود انسان سُستی یا معمولی تھکاوٹ کی
وجہ سے ایسے کام کو بھی کل پر ڈال دیتا ہے، جس کا آج کرنا ضروری ہوتا ہے، اس حوالے سے ہمارے بزرگانِ دین کا انداز کتنا
محتاط ہوا کرتا تھا، اس کی ایک جھلک
ملاحظہ فرمائیں:
ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز
رحمۃاللہ علیہ سے کسی نے عرض کی، یا امیر المؤمنین!یہ کام آپ کل پر مؤخر فرما
دیجئے، ارشاد فرمایا:" میں روزانہ کا کام ایک دن میں بمشکل مکمل کرپاتا ہوں، اگر
آج کا کام بھی کل پر چھوڑ دوں گا تو پھر
دو دن کا کام ایک دن میں کیونکر کر سکوں گا۔"(نیک بننے اور بنانے کے طریقے،
صفحہ 489)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اے ابنِ
آدم! موت کی تیاری میں جلدی کر اور کل کل کی رٹ نہ لگا، جو کرنا ہے آج کرلے، کیونکہ تو یہ نہیں جانتا کہ کب تجھے اللہ پاک کی
طرف لوٹ کر جانا ہے۔"(مدنی انعامات، صفحہ7)
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء
العلوم میں فرماتے ہیں: توبہ میں تاخیر کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے، جسے ایک درخت کو اکھاڑنے کی حاجت ہے، لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ درخت مضبوط ہے اور اسے
سخت مشقت کے بغیر نہیں اُکھاڑا جا سکتا، تو کہتا ہے:میں اسے ایک سال بعد اُکھاڑوں گا، حالانکہ درخت جب تک قائم رہتا ہے، اس کی جڑیں مضبوط ہوتی جاتی ہیں اور خود اس کی
عمر جوں جوں بڑھتی ہے، یہ کمزور ہوتا جاتا
ہے، تو دنیا میں اس سے بڑھ کر اَحمق کوئی
نہیں کہ اس نے قوت کے باوجود کمزور کا مقابلہ نہ کیا اور اس بات کا منتظر رہا کہ
جب یہ خود کمزور ہو جائے گا اور کمزور شے مضبوط ہوجائے تو اس پر غلبہ پائے گا۔(احیاء
العلوم، جلد 2، صفحہ 238)
یہی معاملہ دیگر کاموں کا بھی ہے،
کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی
مصروفیات بڑھتی اور صحت و طاقت گھٹتی ہے، لہذا! ہمیں گناہ چھوڑنے، توبہ کرنے، نیک اعمال بجا لانے،(حقوق العباد تلف ہوئے ہوں
تو) معافی تلافی کرنے، (قضانمازیں، روزے
وغیرہ ہوں تو ان کو) ادا کرنے، نیز دیگر
ضروری کاموں کو کل پر ٹالنے سے بچنا چاہئے، زندگی یقیناً بے حد مختصر ہے، جو وقت مل گیا، سو مل گیا، آئندہ وقت ملنے کی امید دھوکہ ہے، کیا معلوم آئندہ لمحے ہم موت سے ہم آغوش ہوچکے
ہوں، جیسا کہ مشہور ہے کہ "نماز پڑھو،
اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے"
لہذا! خود پر تھوڑی سختی کیجئے اور اپنے ذہن میں"آج نہیں، کل صحیح" کی جگہ"ابھی نہیں، تو کبھی نہیں" بٹھا لیجئے، مشہور مقولہ ہے:tomorrow never come, do your work today"یعنی کل کبھی نہیں آئے گا، آج ہی اپنا کام کر لیجئے" کل کی بجائے آج
اور آج کے بجائے ابھی کا ذہن بنائیں، ان شاء اللہ دونوں جہاں میں کامیابی آپ کا
مقدر ہوگی۔
Dawateislami