دیگر باطنی امراض کی طرح خود غرضی بھی ایک ایسی آفت ہے جو انسان کو دیگر برائیوں کی طرف لے جاتی ہے جیسے دوسروں کو ایذا دینا، کسی کا حق مارنا، چوری کرنا، تہمتیں لگانا وغیرہ۔ خود غرض انسان اپنے مفادات، خوشی اور کامیابی کے لیے دوسروں کے حقوق اور احساسات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ خود غرضی کرنے والا شخص دنیا میں تو نقصان اٹھاتا ہی ہے، دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی نقصان اٹھائے گا۔

یقینا خود غرضی منافقوں کا طریقہ ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں منافقوں کی خود غرضی کے حوالے سے رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّۚ-فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا(۷۲) وَ لَىٕنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا(۷۳) (پ 4، النساء: 72، 73) ترجمہ کنز العرفان: اور تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت آ پڑے تو دیر لگانے والاکہے گا: بیشک اللہ نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فضل ملے تو (تکلیف پہنچنے والی صورت میں تو ) گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی (جبکہ اب) ضرو ر کہے گا: اے کاش میں (بھی) ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔ مکمل

اس آیت مبارکہ کے حوالے سے تفسیر صراط الجنان میں ہے: یہاں منافقوں کا بیان ہے کہ منافقوں کی حالت یہ ہے کہ حتَّی الامکان میدانِ جنگ میں جانے میں دیر لگائیں گے تاکہ کسی طرح ان کی جان چھوٹ جائے اور اگر پھر واقعی ایسا ہوجائے کہ مسلمانوں کو کوئی مصیبت آپہنچے اور یہ منافقین وہاں موجود نہ ہوں تو بڑی خوشی سے کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں وہاں موجود نہ تھا ورنہ میں بھی مصیبت میں پڑجاتا اور اگر اس کی جگہ مسلمانوں پر اللہ کا خصوصی فضل ہوجائے کہ انہیں فتح حاصل ہوجائے اور مالِ غنیمت مل جائے تو پھر وہی جو تکلیف کے وقت اجنبی اور بیگانے بن گئے تھے اب کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے تو ہمیں بھی کچھ مال مل جاتا۔ گویا منافقین کا اول وآخر صرف مال کی ہوس ہے۔ انہیں نہ مسلمانوں کی فتح سے خوشی اورنہ شکست سے رنج بلکہ شکست پر خوش اور فتح پر رنجیدہ ہوتے ہیں۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود غرضی، موقع شناسی، مفاد پرستی اور مال کی ہوس منافقوں کا طریقہ ہے۔ دنیا میں وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہوتا جو تکلیف کے موقع پر تو کسی کا ساتھ نہ دے لیکن اپنے مفاد کے موقع پر آگے آگے ہوتا پھرے۔ مفاد پرست اور خود غرض آدمی کچھ عرصہ تک تو اپنی منافقت چھپا سکتا ہے لیکن اس کے بعد ذلت و رسوائی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ (صراط الجنان، 2/249)

اسلام میں خود غرضی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ اسلام کی روشن تعلیمات تو ہمیں ایثار، خیرخواہی، ہمدردی اور غم خواری سکھاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کےلئے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)

صحابہ کرام کا مبارک عمل: نبی کریم ﷺ کے پیارے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ تھی کہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے دوسروں کے بارے میں سوچتے اپنی فکر نہ کرتے۔ جیساکہ جنگِ یرموک کا واقعہ ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یرموک کی جنگ میں بہت سے صحابۂ کرام شہید ہوگئے۔ میں پانی ہاتھ میں لئے زخمیوں میں اپنے چچا زاد بھائی کو تلا ش کر رہاتھا، آخر اسے پالیا، وہ دم توڑ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابنِ عم! یعنی اے چچا زاد بھائی آپ پانی نوش فرمائیں گے؟ کپکپاتی ہوئی آواز میں آہِستہ سے کہا: جی ہاں۔ اتنے میں کسی کے کراہنے کی آواز آئی، جاں بلب چچا زاد بھائی نے اشارے سے فرمایا: پہلے اس زخمی کو پانی پلا دیجئے۔ میں نے دیکھا وہ حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ تھے، اُن کی سانس اکھڑ رہی تھی میں انہیں پانی کے لئے پوچھ ہی رہا تھا کہ قریب ہی کسی اور کے کراہنے کی آواز آئی، حضرت ہِشام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے اُن کو پلائیے، میں جب ان زخمی کے قریب پہنچا تو ان کو میرا پانی پینے کی حاجت نہ رہی تھی کیوں کہ وہ شہادت کا جام پی چکے تھے۔ میں فورا حضرت ہشام رضی اللہ عنہ کی طرف لپکامگر وہ بھی شہیدہوچکے تھے۔ پھر میں اپنے چچا زاد بھائی کی طرف پہنچا تو وہ بھی شہادت پاچکے تھے۔ رضی اللہُ عنہم اجمعین (کیمیائے سعادت، 2 / 648)

صحابہ کرام کے عملِ مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے دل میں دوسروں کے لیے ہمدردی، محبت اور خدمت کا جذبہ پیدا کرے اور خود غرضی جیسی آفت سے دور رہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظاہری امراض کے ساتھ ساتھ باطنی امراض سے بھی محفوظ فرمائے اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین


ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی چیزیں ہیں ہیں جو آہستہ آہستہ زور پکڑتی جارہی ہیں ان میں سے ایک چیز خود غرضی بھی ہے، خود غرضی کا معنی مطلبی،اپنا مفاد اپنی سہولت دیکھنا۔ خود غرضی سے مراد خود کو اپنی سوچ اور اپنی ذات میں بند رکھنا۔

ہمارے پیارے آقا جان ﷺ نے فرمایا: تم میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)

خوض غرضی پر ایک کہانی: ایک لوہار کا کام بہت عروج پر تھا سارا دن اسکی دکان پر ایک زبردست آواز کی گونج لگی رہتی تھی لوہے اور ہتھوڑوں کی آوازیں بہت شور برپا کردیتی تھیں لیکن ایک عجیب بات تھی اس لوہار کا ایک کتا تھا جو اس لوہار کی دکان کے باہر اتنے زیادہ شور کے باوجود مست ہوکر سویا رہا تھا دوپہر کا وقت ہوتا تو لوہار اپنے ٹفن کو کھولتا تو ٹفن کی ٹک کی آواز سن کر چونک جاتا اور سویا ہوا اٹھ جاتا اور دم ہلاتا ہوا لوہار کے پاس آبیٹھتا۔ لوہار نے اس کتے سے پوچھا کہ سارا دن لوہے اور ہتھوروں کی اتنے شور کے باوجود تو مست ہو کر سویا رہتا تھا مگر جب ٹفن کھلتا تو اسکی ٹک کی آواز سے تو فورا اٹھ جاتا۔ کتے نے بہت عجیب جواب دیا کتا بولا: سارا دن جو ہتھوڑوں کی آواز آتی ہے اس میں میرا کیا مفاد ہے میرا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے کھلتے ہوئے ٹفن کی ٹک کی آواز اس بات کا اشارہ ہے کہ اسکے اندر کوئی مال ہے وہ اس میں میرا بھی حصہ شامل ہے۔

معاشرے میں بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف اپنے مطلب کے لیے ہی ناطہ رکھتے ہیں اور بس وہی کرتے جس کام میں ان کا اپنا مفاد اور سہولت ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں ہر ایک انسان نفسہ نفسی کے مرض میں مبتلا ہے۔

خود غرضی پر واقعہ: ایک شوہر کام سے گھر آیا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج امی ابو بہن بھائی آرہے ہیں، کھانا تیار کر دینا کہہ کر دوبارہ واپس کام پر چلا گیا اور جب رات کوگھرواپس آیا تو شوہر نے بیوی سے کہا کھانا تیار کرلیا؟ بیوی نے جواب دیا: امی ابو بہن بھائی ہی تو آرہے ہیں کون سی بڑی بات ہوگئی ہے گھر کے ہی افراد ہیں جو گھر بنا ہوگا وہی ان کے آگے پیش کر دوں گی جب رات ہوئی کچھ ہی دیر میں دروازے کی گھنٹی بجی شوہر نے دروازہ کھولا اور بیوی نے دیکھا اسکے والدین ہیں دیکھ کر حیران رہ گئی اور پوچھا: امی ابو بھیا آپ! کیسے آنا ہوا ماں بولی: بیٹا تمہیں نی پتہ ہم نے تو داماد جی کو بتایا تھا کہ آج دعوت آپکی طرف ہے ہماری تو بیوی نے والدین کو بٹھایا اور شوہر سے کہنے لگی آپ نے کیوں نہ بتایا مجھے؟ شوہر نے جواب دیا: میں نے تمہیں بتایا تو تھا تو کہنے لگی آپ نے یہ کیوں نہ بتایا میرے امی ابو آرہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہر ایک کو صرف اپنے مطلب سے ہی لینا دینا ہوتا ہے

ہماری زندگی میں کچھ ایسے مرحلے آتے ہیں جس میں ہم صرف وہ کام کرتے ہیں جو کام ہمارے فائدہ اور مفاد کا ہو یہ ہر انسان کی طبیعت میں شامل ہے جب تک ہم اپنے فائدہ کی بنیاد دوسروں کے فائدے پر نہیں رکھتے۔اپنے فائدے کی بنیاد دوسروں کے نقصان پر ہو تو یہ خود غرضی کہلاتا ہے ایسا شخص بس خود کی ہی سوچتا ہے مجھے کیا ملے گا دوسروں کے فائدے کا کچھ نہ سوچتا وہ اسی پلیننگ میں مصروف رہتا ہے کہ دوسروں سے کس طرح اپنا مفاد نکالا جائے یہ لوگوں سے بھی اس وقت تک تعلقات رکھتا ہے جب تک اس کو اس سے مطلب ہوتا ہے جب مطلب پورا ہوجاتاہے تو وہ اپنی آنکھیں پھیر لیتا ہے۔

ہمارے سامنے ایک تحریک کی مثال دعوت اسلامی ہے الحمدللہ دعوت اسلامی کے بانی شیخ طریقت امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ لوگوں کو گناہوں سے بچا رہے اور ان کو عشق رسول کے جام پلا رہے ہیں مگر خود کے مفاد کے کے لیے نہیں اللہ پاک کی رضا اور آقا جان ﷺ کی دکھیاری امت کی اصلاح کے لیے یہ نیکی کے کام کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے ورنہ لوگ پیسے کی خاطر خود کے نام کے لیے دین کے کام کرتے ہیں مگر الحمدللہ امیر اہل سنت نے نہ خود مفاد کے لیے کبھی خود کام کیا بلکہ ہر کام میں اللہ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔

ہمارے بہت ہی شفیق بزرگان دین نے اپنے مریدین اور محبین کی بہت پیارے انداز میں اصلاح فرمائی اور ہمارے بزرگان دین اپنے مطلب کے لیے کبھی کسی سے ناطہ نہیں رکھتے بلکہ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر کا م کر کرتے تھے حضرت شیخ ابو الحسن انطاکی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک بار بہت سارے مہمان تشریف لے آئے رات جب کھانے کا وقت آیا تو روٹیاں کم تھیں چنانچہ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے دسترخوان پر ڈال دئیے گئے اور وہاں سے چراغ اٹھا دیا گیا سب کے سب مہمان اندھیرے میں ہی دسترخوان پر بیٹھ گے،جب کچھ دیر بعد کہ سب کھانا کھا چکے ہوں گے چراغ لایا گیا توتما م ٹکڑے جوں کے توں موجود تھے ایثار کے جذبے کے تحت کسی نے بھی ایک لقمہ بھی نہ کھایا تھا، ہر ایک کی یہ سوچ تھی کہ میں نہ کھاؤں میرے ساتھ والے مسلمان پیٹ بھر کر کھا لیں۔ (اتحاف السادہ، 9/783)

اللہ کریم ان بزرگان دین کے صدقے ہمیں ایثار کا جذبہ عطا فرمائے اور خود غرضی جیسی نحوست سے بچا کر ہمیں اپنے ساتھ کے مسلمانوں کے ساتھ ایثار کا جذبہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہمیں ہمدردی کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین


اپنی ذات کے آگے کوئی اور نظر نہ آئے تو یہ خود غرضی کہلاتا ہے۔ذاتی و آرام و فائدہ و مقصد وپسند ناپسندیا خوشی کے لیے دوسروں کے وجود اور حقوق کو نظر انداز کر دینا باقی سب کی خوشیوں کو روند ڈالنا خود غرضی ہے۔ہماری زندگی میں بھی کئی مراحل ایسے آتے ہیں جب ہم صرف وہ کام کرتے ہیں جس میں ہمارا فائدہ ہو۔ یہ انسان کی طبیت میں شامل ہے۔ یہ عادت اس وقت تک مثبت ہے جب تک ہم اپنے فائدے کی بنیاد دوسروں کے نقصان پر نہیں رکھتے۔

خودغرضی کی ایک علامت: خودغرضی کی ایک علامت یہ ہے کہ ہم کسی راستے کے ساتھ محبت اور خیال کرنے میں اتنے مگن ہوجائیں کہ کوئی اور قریبی رشتہ متاثر ہو جائے یا نظر انداز ہونے لگے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔یہاں پر انسان صرف ترجیحات کوسمجھ کر توازن کرلے تو کامیاب ہوجائے۔

انسان کا اپنے رشتوں سے غم: اپنے رشتوں سے محبت اور بچھڑنے کا غم بھی ایک تکلیف دہ حقیقت ہوتی ہے۔کسی اپنے کی موت ہو جائےتو رونے یا آہ و بکامیں سے اکثر یہ آواز آتی ہے کہ اب میرا کیا ہوگا۔آپ نے بہت کم سنا ہوگا جب کوئی یہ کہے کہ جانے والے کا کیا ہوگا۔ یہ بھی اپنی ذات سے محبت فکر کا قدرتی جذبہ ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے۔

کامل مومن: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیےبھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیےپسندکرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث:13)

چراغ بجھایا گیا لیکن کسی نے ایک لقمہ نہ کھایا: حضرت شیخ ابوالحسن انکاکی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک بار بہت سے مہمان تشریف لے آئے۔رات جب کھانے کا وقت آیا تو روٹیاں کم تھیں۔چنانچہ روٹیوں کے ٹکرے کر کے دسترخوان پر بیٹھ گئے جب کچھ دیر بعد یہ سوچ کر کہ سب کھاچکے ہونگے چراغ لایا گیا تو تمام ٹکڑے جوں کے توں موجود تھے۔ایثار کے جذبے کے تحت ایک لقمہ بھی کسی نے نہ کھایا تھا کیونکہ ہر ایک کی یہی سوچ تھی کہ میں نہ کھاؤں تاکہ ساتھ والے مسلمان بھائی کا پیٹ بھر جائے۔ (اتحاف السادۃ، 9/783)

ہمیں بھی چاہے کہ جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کریں اللہ کریم ہمیں حقیقی معنوں میں اچھے اخلاق والا بنائے۔ آمین


خود غرضی کی تعریف: کوئی شخص خود سے زیادہ سے زیادہ محبت کرتا ہو اور اپنے فائدے کا خیال کرتا ہو اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہ کرتا ہو اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی نہ ڈرتا ہو۔

خود غرض دوست: کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ دو دوستوں نے رزق کی تلاش میں گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کی راستے میں ایک جنگل پڑتا تھا دونوں دوست اس راستے سے گزر رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے ایک ریچھ آگیا ریچھ کو دیکھ کر دونوں دوست خوف زدہ ہو گئے ایک دوست بہت ہوشیار تھا اسے درخت پر چڑھنا آتا تھا وہ اپنے دوست کی پرواہ کئے بغیر درخت پر چڑھ گیا تاکہ اس کی جان بچ سکے، دوسرا دوست بہت پریشانی کی حالت میں نیچے کھڑا تھا اسے کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا تھا ریچھ اس کے بہت قریب آ چکا تھا کہ اسے ایک ترکیب سوجھی اور وہ زمین پر لیٹ گیا اور اپنی سانس بند کر دی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ریچھ مردہ چیز نہیں کھاتا ریچھ اس کے پاس آیا اور اسے سونگھ کر چلا گیا، دوسرا دوست بڑا حیران ہوا کہ ریچھ نے اسے کان میں کیا کہا وہ درخت سے اتر اور اپنے دوست سے پوچھنے لگا کہ ریچھ نے تمہیں کان میں کیا کہا؟ اس کا دوست جو اب سمجھ چکا تھا اس نے جواب دیا کہ ریچھ نے مجھ سے کہا کہ کبھی خود غرض کو اپنا دوست نہ بنانا۔ یوں خود غرضی کے سبب ان کی دوستی ختم ہو گئی۔

خود غرضی اور ہمارا معاشرہ:آج کل ہمارے معاشرے میں جہاں اور بہت سی برائیوں کا زور ہے اسی طرح خود غرضی اور مفاد پرستی کا بھی دور دورہ ہے ہر طرف خود غرضی پھیلی ہوئی ہے ڈاکٹر ز اپنا کمیشن بنانے کے لیے مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ لکھ کر دے دیتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ ان میں سے بہت سے مفلسی کی وجہ سے مہنگے مہنگے ٹیسٹ نہیں کروا سکتے اور علاج سے محروم رہ جاتے ہیں اسی طرح وکیل اپنی رقم یعنی رشوت لینے کے لیے لوگوں کے معاملات میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں چور چوری کرتے وقت اپنی جان بچانے کے لیے لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ساتھ کتنی زندگیاں وابستہ ہوں گی، اپنے فائدے کے لیے لوگوں کا حق مارنا دوسروں پر ظلم کرنا اور بہت سے کام الغرض ہمارے معاشرے میں ہر طرف خود غرضی پھیلی ہوئی ہے۔

خود غرضی کے نقصانات: خود غرضی بد ترین حصلت ہے اس کے کئی نقصانات ہیں اگر ہر شخص معاشرے میں خود عرض بن جائے تو معاشرے میں بھائی چارہ ختم ہو جائے گا اور ہمسائے ہمسائے کے دشمن بن جائیں گے معاشرے میں بد امنی قائم ہو گی، ہر طرف جھوٹ منافقت پھیل جائے گی خود غرض انسان کبھی سکون میں نہ رہے گا خود غرض انسان ذلیل ورسوا ہو جائے گا خود غرض انسان کبھی کامیاب نہیں ہو گا خود عرض انسان جائزو نا جائز کا خیال نہ کرنے کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں تباہ وبرباد ہو جائے گا۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں خود غرضی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں ایثار و ہمدردی پیدا فرمائے۔


اپنی ذات کے آگے کوئی اور نظر نہ آئے تو یہ خود غرضی کہلاتی ہے۔ ذاتی آرام، فائدہ، مقصد، پسند ناپسند، یا خوشی کے لئے دوسروں کے وجود اور حقوق کو نظرانداز کر دینا یا باقی سب کی خوشیوں کو خاک میں ملا دینا۔

خود غرضی ایک ایسا رویہ ہے جس میں انسان صرف اپنا ذاتی مفاد سوچے گا۔ بدلے میں چاہے اگلے شخص کو نفع ملے یا نقصان اس کی کچھ پروا نہیں کرے گا۔ امام سلیمان دارانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص فقط اپنے آپ کو قیمتی سمجھتا ہے وہ خدمت خلق کی مٹھاس کبھی نہیں پا سکتا۔ (رسالہ قشیریہ، 1/ 280)

خود غرض انسان کی نشانیاں: خود غرض انسان صر ف اپنی ذات کے لیے سوچتاہے۔ خود غرض انسان دوسروں کے لیے قربانی نہیں دیتا لیکن دوسروں سے توقع کرتاہے کہ وہ اس کے لیے قربانی دیں۔ خود غرض انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ خود غرض اناپرست ہوتاہے۔ خود غرض انسان نے کبھی بھی کسی دوسرے کا بھلا نہیں چاہا۔

علامہ شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مطلبی اور خود غرض نہ تو بھائی ہے نہ ہی دوست۔ خود غرض انسان کو اردگرد کی دنیا نظر نہیں آتی ہے اور ان سب کے حصول کے لئے وہ اندھی دوڑ میں لگ کر اپنے رشتے ناتے سب روندتا جاتا ہے۔ ہر کسی کو آس پاس، قریبی رشتے داروں میں خود غرض افراد ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

خود غرضی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ ایک ظاہری طور پر نمازی پرہیز گار انسان کسی کو ناپسند کرتا ہو، کینہ اور بغض بھی پالتا ہو اور پھر اپنی نفرت، ناپسندیدگی اور غلط سوچ کو کسی قریبی رشتے دار پر مسلط کرنا چاہے یہ سوچے بغیر کہ ہر کوئی اپنے عمل کا اللہ کو جواب دہ ہے اور کسی بھی زیادتی یا حقوق العباد میں کوتاہی کو نمازیں یا روزے معاف نہیں کروا سکتے۔

خود غرضی کوئی نفسیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک معاشرتی رویہ ہوتا ہے جو ہر انسان میں الگ الگ نوعیت کا ہوتا ہے۔خود غرضی کا یہ منفی کلچر معاشرے میں اگر یونہی بڑھتا چلا گیا تو یہ معاشرتی بگاڑ اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس رویے کو متوازن رکھنے کی کوشش کریں اور صرف اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثبت سوچ رکھیں۔جس کے لیے دوسروں سے ہمدردی پیدا کرنا،انفرادی اور اجتماعی فلاحی کاموں میں شامل ہوکر اس بارے میں اجتماعی شعور بیدار کر سکیں۔

خودغرضی کی سب سے اہم وجہ ہماری اپنے دین سے دوری ہے۔خود غرضی کے بارے میں ہمارے مذہب اور دین نے بڑی وضاحت سے احکامات دئیے ہیں اسی لیے ہم میں سے کسی کو اچھا نہیں لگتا کہ کوئی ہمیں خود غرض کہہ کر پکارے۔کیا ہم خود غرض ہیں؟ ہرگز نہیں کیونکہ اسلامی تعلیمات تو ہمیں ایثار،قربانی،خیر خواہی،ہمدردی اور غم خواری سکھاتی ہیں۔ حدیث مبارک ہے کہ تم میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13) اگر ہم عبادات کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر بھی توجہ دیں تو اس معاشرتی رویے کو سدھارنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔


انسانی معاشرہ باہمی تعاون، ہمدردی اور ایثار پر قائم ہوتا ہے۔ جب ایک فرد صرف اپنی ذات، مفادات اور خواہشات کو مدنظر رکھتا ہے اور دوسروں کی فلاح کو نظر انداز کر دیتا ہے، تو وہ  خود غرضی کا شکار ہوتا ہے۔ خود غرضی ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف انسان کے اخلاق کو داغدار کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بگاڑ دیتا ہے۔ اسلام، جو کہ اخوت، محبت، ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے، اس رویے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

اسلام میں خود غرضی کی مذمت: اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں کئی مقامات پر دوسروں کی مدد، ایثار، قربانی اور بے لوثی کی تلقین کی گئی ہے، جب کہ خود غرضی کو ایک ناپسندیدہ صفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے: وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) 28،الحشر:9) ترجمہ: اور اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کی لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہے۔ مکمل یہ آیت انصار کے ایثار کی تعریف کرتی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خود غرضی ایمان کے اعلیٰ درجے کے منافی ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹) (پ 29، الدھر: 8، 9) ترجمہ: اور وہ کھانا کھلاتے ہیں، اس کی محبت کے باوجود، مسکین، یتیم، اور قیدی کو، کہتے ہیں: ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ مکمل

یہ آیات بے لوث خدمت کی عظمت بیان کرتی ہیں اور خود غرضی کے برخلاف ایک مثالی رویہ پیش کرتی ہیں۔

احادیث مبارکہ:

1۔ تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)اس حدیث میں ایمان کی تکمیل کو ایثار و ہمدردی سے مشروط کیا گیا ہے، جو کہ خود غرضی کی واضح نفی ہے۔

2۔ جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مسلم، ص 1268، حدیث: 2318) خود غرض انسان دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اور اسی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔

خود غرضی کے معاشرتی اثرات: خود غرضی معاشرتی نظام کے لیے زہر ہے۔ جب ہر فرد صرف اپنی خواہشات اور مفادات کو ترجیح دیتا ہے تو رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے، دلوں سے محبت اور ہمدردی نکل جاتی ہے، بے اعتمادی اور نفرت پیدا ہوتی ہے، انسان تنہا، سرد دل اور مطلبی ہو جاتا ہے، ایسے معاشرے میں انصاف، رواداری اور سکون قائم نہیں رہ سکتا۔ خود غرضی انسان کو نہ صرف دوسروں سے بلکہ خدا سے بھی دور کر دیتی ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کی بھلائی کے لیے سوچیں، اپنے نفس کو دوسروں کی خاطر قربان کریں اور اپنے رویے سے دنیا کو بہتر بنائیں۔ اگر ہر انسان ایثار اور ہمدردی کو اپنائے تو دنیا جنت بن جائے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: سب سے بڑا انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے جیتا ہے۔

خود غرضی ایک بیماری ہے جو انسان کے دل کو کھوکھلا، اور روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مؤمن کی زندگی بے لوثی، ہمدردی، اور ایثار سے معمور ہونی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کو نمونہ بنائیں، جنہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لیے جیا اور امت کے غم میں آنکھیں اشکبار کیں۔

خود غرضی کا مطلب ہے صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچنا اور دوسروں کی پرواہ نہ کرنا۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں ہر شخص اپنے مقاصد اور خواہشات کو دوسروں کی ضرورتوں اور جذبات پر ترجیح دیتا ہے۔ خود غرض لوگ اکثر دوسروں کا استحصال کرتے ہیں، ان کے احساسات کو نظر انداز کرتے ہیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خود غرضی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتی ہے، جیسے کہ کمزور خود اعتمادی، عدم تحفظ، یا دوسروں کے ساتھ ناقص تعلقات۔ تاہم، یہ ایک منفی کیفیت ہے جو تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔

خود غرضی کے بہت سے نقصانات ہیں، جیسے:

تعلقات کو نقصان پہنچانا: خود غرض لوگ دوسروں کی پرواہ نہیں کرتے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو ان کے تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

معاشرے میں عدم استحکام: جب لوگ صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ دوسروں کی مدد نہیں کرتے اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

خود اعتمادی میں کمی: خود غرض لوگ اکثر تنہا رہتے ہیں اور دوسروں سے محروم رہتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی میں کمی آتی ہے۔

اخلاقی گراوٹ: خود غرضی اخلاقی گراوٹ کی طرف لے جاتی ہے کیونکہ لوگ دوسروں کے ساتھ ناجائز طریقے سے برتاؤ کرنے لگتے ہیں۔

یہ نقصانات خود غرضی کو ایک منفی کیفیت ثابت کرتے ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

خود غرضی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے، آپ یہ اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

دوسروں کی پرواہ کرنا: دوسروں کی ضروریات اور احساسات پر توجہ دیں اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔

تعاون کا رویہ اختیار کرنا: دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں اور مشترکہ فائدے کے لیے کام کریں۔

شکرگزاری کا اظہار کرنا: اپنے آس پاس کے لوگوں اور چیزوں کے لیے شکر گزار ہوں اور ان کی قدر کریں۔

معاف کرنے کی صلاحیت: اگر کوئی آپ کے ساتھ غلط سلوک کرتا ہے تو اسے معاف کرنے کی کوشش کریں اور اسے بھول جائیں۔

اپنے اندرونی رویے کا جائزہ لیں: اپنے خیالات اور احساسات کو جانچیں اور دیکھیں کہ آپ کی خود غرضی کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

مستقل مزاجی: یہ تبدیلی آسان نہیں ہوگی، لیکن مستقل مزاجی سے آپ خود غرضی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ اقدامات آپ کو خود غرضی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور دوسروں کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات استوار کرنے میں مدد کریں گے۔


خود غرضی (انگریزی Selfishness) کسی کا ایسا برتاؤ ہوتا ہے جس میں حد سے زیادہ یا کسی بھی حد و فکر سے بالا تر ہو کر ایک شخص اپنے ذاتی مفاد اور بہتری، تفریح، رفاہ اور سکون پر توجہ دے، جس میں دوسروں کی کیفیت کی اَن دیکھی شامل ہے۔اس کو خود غرضی کہتے ہیں۔

خود عرضی ہے کیا ؟ اور خود غرضی کے نقصانات کیا ہوتے ہیں ؟ آئیے مثالوں کے ذریعے ملاحظہ فرمائیے۔

ہم میں سے کسی کو بھی اچھا نہیں لگے گا کہ کوئی اسے خود غرض (selfish) کہہ کر پکارے۔ خود غرضی انسان کو دیگر بُرائیوں کی طرف لے جاتی ہے مثلاً جھوٹی خوشامد کرنا، فراڈ کرنا، دوسروں پر ظلم کرنا، کسی کا حق مارنا، چوری کرنا، ڈاکہ مارنا، اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے کسی کو قتل کرنا یا کروا دینا، دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنا، جعلی دوائیاں بیچنا، اپنا کمیشن بنانے کیلئے مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ لکھ کر دینا، رشوت لینے کیلئےکسی کے کام میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کرنا، اپنی ترقی کے لئے دوسروں کے خلاف سازشیں کرنا، تہمت لگانا، امدادی پیکج وغیرہ کے لئے جھوٹا کلیم کرنا، پیٹرول پمپ، بینک، ویکسی نیشن سینٹرز وغیرہ پر قطار کو بائی پاس کرکے اپنا کام پہلے کروانا، بلیک مارکیٹنگ کرنا، الغرض خود غرضی کی بے شمار مثالیں ہمارے معاشرے میں مل جائیں گی۔اب ذرا سوچئے! کہ جب خود غرضی کا رویہ عام ہوجائے تو ہماری سوشل لائف کیسے پُرسکون ہوسکتی ہے! ایسا نہیں کہ دنیا ایثار پسند، دوسروں کی خیرخواہی کرنے والوں سے خالی ہوگئی ہے لیکن ایسوں کی تعداد بہت تھوڑ ی ہے۔

اے عاشِقاتِ رسولﷺ! ہمارے نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کےلئے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1 / 16، حدیث: 13) اس سے یہ درس حاصل ہوا کہ اسلام کی روشن تعلیمات ہمیں ایثار، خیرخواہی، ہمدردی اور غم خواری سکھاتی ہیں نا کہ خودغرضی۔

خودغرضی کےظاہری وباطنی نقصانات:

نبی اکرم ﷺ نے ہم لوگوں سے ارشاد فرمایا: عنقریب تم میرے بعد خود غرضی اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم براجانوگے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: تم ان (حاکموں) کا حق اداکرنا (یعنی ان کی اطاعت کرنا) اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔

خود غرضی اور مفاد پرستی ایثار وہمدردی کی متضاد صفت ہے، خود غرضی ایک مذموم صفت اور بری عادت ہے، نیز ایک طرح سے اس بری عادت میں کفران نعمت یعنی نعمت کی ناشکری بھی ہے، جبکہ یہ مذموم خصلت انسانیت اور فطرت کے بھی خلاف ہے۔

یہ (خود غرضی) بری طرح کا لالچ اور نفس پرستی ہے، چنانچہ یہ سبھی برائیوں کی جڑ ہے بھلے ہی کچھ وقت کے لیے اس میں اپنے نفس کی کچھ بھلائی ہو۔

اسے مفاد پرستی اور ہمارے جدید دور میں انانیت بھی کہا جاتا ہے، یہ لفظ انانیت عربی زبان میں ضمیر متکلم أنا کی طرف منسوب ہے جس کے معنی میں آتے ہیں، کیونکہ جس لالچی کے اندر بھی یہ مذموم صفت ہوتی ہے وہ ہر وقت یہی سوچتا ہے: میں، میں، میری ذات میری ذات، اپنی ذات کے علاوہ مجھے کسی کی فکر نہیں، مجھے میری ذات سے ہی مطلب ہے، میں کسی کے بارے میں کیوں سوچوں۔

نبی کریم ﷺنے اس حدیث پاک میں ہمیں اس کی خبر دی ہے کہ آپ ﷺکی حیات طیبہ کے بعد یہ خود غرضی ضرور پائی جائے گی، کیونکہ آپ ﷺکی حیات مبارکہ میں مہاجرین وانصار اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعلی اخلاق کے اندر جذبہ ایثار (یعنی اپنے آپ پر دوسرے کو ترجیح دینا) وقربانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

خود غرضی اور مفاد پرستی کی مذمت: پیاری اسلامی بہنو! ان سب باتوں سے ہمیں جو سبق حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ خود غرضی، موقع شناسی، مفاد پرستی اور مال کی ہوس منافقوں کا طریقہ ہے۔ دنیا میں وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہوتا جو تکلیف کے موقع پر تو کسی کا ساتھ نہ دے لیکن اپنے مفاد کے موقع پر آگے آگے ہوتا پھرے۔ مفاد پرست اور خود غرض آدمی کچھ عرصہ تک تو اپنی منافقت چھپا سکتا ہے لیکن اس کے بعد ذلت و رسوائی اس کا مقدر ہوتی ہے۔

الله پاک ہمیں تمام ظاہری و باطنی مہلک امراض سے نجات عطافرمائے اور ہمارے ظاہر و باطن کو ستھرا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

خود غرضی ایک ایسی منفی صفت ہے جو نہ صرف انسان کی شخصیت کو داغدار کرتی ہے بلکہ اس کے تعلقات اور سماجی حیثیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ خود غرض انسان صرف اپنے مفاد کو مقدم رکھتا ہے اور دوسروں کے احساسات، مشکلات یا حقوق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ ہر بات میں اپنا فائدہ تلاش کرتا ہے چاہے اس کی قیمت کسی دوسرے کے نقصان کی صورت میں کیوں نہ چکانی پڑے۔

ایسے لوگ وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتے ہیں مگر دیرپا کامیابی اور حقیقی خوشی ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو رشتے صرف مفاد پر مبنی ہوں، وہ جلد یا بدیر ٹوٹ جاتے ہیں۔ معاشرہ ایسے افراد کو خود سے الگ کر دیتا ہے، اور وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خود غرضی سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے بھی وہی سوچے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ قربانی، ایثار، اور ہمدردی جیسے جذبات کو اپنانا ہی ایک خوشحال اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔

انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے جس کی زندگی رشتوں، تعلقات اور باہمی تعاون پر قائم ہوتی ہے۔ لیکن جب خود غرضی دل میں گھر کر لیتی ہےتو یہی خوبصورت رشتے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ خود غرضی وہ زہر ہے جو محبت، خلوص اور ایثار جیسے جذبات کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔

خود غرض شخص صرف اپنی سوچتا ہے۔ اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کے فیصلے یا اعمال دوسروں پر کیا اثر ڈالیں گے۔ وہ دوسروں کے جذبات کو کچل کر آگے بڑھنے میں فخر محسوس کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہ راستہ آخرکار تنہائی، ندامت اور بے سکونی کی طرف جاتا ہے۔

معاشرے میں خود غرضی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتی ہے جیسے کہ عدم تحفظ،کمزور خود اعتمادی یا دوسروں کے ساتھ ناقص تعلقات وغیرہ۔تاہم یہ ایک منفی کیفیت ہے جو تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں ایثار و قربانی کی بہت اہمیت ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار دوسرے انسانوں کا خیال رکھنے ان کی مدد کرنے اور اپنے مفاد پر دوسروں کو ترجیح دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔(بخاری، 1/16، حدیث: 13)

لہٰذا اگر ہم ایک بہتر، پرامن اور محبت بھرا معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خود غرضی کو ترک کر کے ایثار، ہمدردی اور خلوص کو اپنانا ہوگا۔ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔

خود غرض لوگ دوسروں کی پرواہ نہیں کرتے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ان کے تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

خود غرضی ایک ایسا لفظ جو بظاہر مختصر ہے مگر اپنے اندر ایک دنیا سمائے ہوئے ہے۔ یہ وہ خاموش وبا ہے جو آہستہ آہستہ دلوں کو تنگ کر دیتی ہے، رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور سماج کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے۔ خود غرضی انسان کی فطری خوبیوں جیسے ہمدردی، محبت، اور خلوص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

آج کا انسان چاند پر پہنچ چکا ہے مگر دل کی وسعت میں تنگ دلی کا شکار ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بے خبر ہیں۔ ہم دوسروں کی مسکراہٹوں میں خوشی تلاش کرنے کے بجائے صرف اپنی کامیابی کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے ہیں، یہی خود غرضی ہے۔ جب ہم دوسروں کی تکلیف کو نظرانداز کر کے صرف اپنے فائدے کی فکر کرتے ہیں۔

خود غرضی کے پیچھے اکثر خوف، عدمِ تحفظ یا خواہشات کی شدت چھپی ہوتی ہے۔ مگر انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقتی فائدہ دیرپا سکون کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص جو صرف اپنا سوچتا ہے وہ شاید دنیا جیت لے مگر دل ہار دیتا ہے۔

جب انسان دوسروں کے لیے جیتا ہے تب ہی اصل زندگی کا مزہ ہے۔ ایثار، قربانی اور ہمدردی سے جُڑی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ اگر ہر فرد دوسروں کی بھلائی کا سوچے تو یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے۔

تو آئیے خود غرضی کے اندھیروں سے نکل کر انسانیت کے اُجالوں کی طرف بڑھیں۔ کیونکہ سچی خوشی دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں خود غرضی جیسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


عناد حق ہو،مداہنت ہو،یا بندگئ نفس ان سب کی اصل ہے یہ خود غرضی

خود غرضی ایک مذموم بیماری ہے جو مہلکات کا تنا ہے اگر نہ کاٹا جائے تو حق پر خود کو ترجیح نہ دینے والے میں عناد حق بن جاتی ہے جہاں خود غرضی انسان کو مسلمانان غزہ و دینی مدد نصرت پر سستی دلائے وہاں یہ مداہنت بن جاتی ہے جہاں خود غرضی انسان کو ظالم کی خوش آمد میں لگائے کہ اسکا ظلم مجھ پر تھوڑی ہے اور اس امراء کی تعظیم کروائے وہاں یہ تعظیمِ امرا ہے جہاں خودغرضی انسان کو اپنے سکوں کی قید اور تفریح کے جال میں غرق کرے اور احکام الہی اور مظلوم کی مدد میں سستی اور دلائے اورنافرمانی میں مشغول کرے وہاں یہ تساہل فی اللہ کا نام ہے خود غرضی کے تنے سے نکلنے والے کئی مہلکات ہیں جیسے بندگی نفس، غفلت،تملق،تعظیم امراء۔

خود غرضی کے اسباب اور ان کا علاج:

1۔ پہلا سبب خود پسندی ہے کہ جس کے کرنے والے کو اللہ کی ناراضگی کا مظہر ٹھہرایا۔

علاج: انعام اللہ کو دیکھے جن کی وجہ سے خود کو حق پر تر جیح دی اور خوف کرے کہ یہ نعمتیں چھن بھی سکتی ہیں اور آج جن آزمائشوں میں دیگر مسلمان ہیں ان میں میں بھی آسکتی ہوں۔

2۔ دوسرا سبب محبت دنیا اور دل کی سختی ہے حدیث پاک میں ان دونوں کو عمل ضائع کرنے والی چیزیں فرمایا گیا ہے۔

علاج: دنیا کو بوڑھی عورت جان کر اسکے انجام پر غور کرے اورغور کرے جس دشمن کے ہوٹل میں بیٹھ کر عمدہ کھانا کھاتے ہیں اس کھانے کا انجام غلاظت گندگی ہے تو ہمارا قبر میں کیا حال ہوگا۔

3۔ تیسرا سبب طلب شہرت، حدیث پاک میں ہے،شہرت کے لئے عمل کرنے والے کو اللہ رسوا فرمائے گا۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 86)

علاج: بندہ محاسبہ کرے کہ میرے بنائے گئے خاکہ سے حاصل کردہ مصنوعی تعریفات تفریح کا سامان بن کر قوم و ملت کی حدود فکر کو کتنا نقصان پہنچاتی ہیں۔ الغرض خود غرضی کو اگر نفس کا لالچی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

ارشاد ربانی ہے: وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) 28،الحشر:9) ترجمہ: اور اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کی لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہے۔ مکمل

حرفِ آخر یہ کہ خود غرضی کا ترک دراصل تقوی ہے اور تقوی کامل کامیابی ہے۔


تاریخ اسلام کی وہ عظیم القدر ہستیاں جن کے علم کے نور سے زمانہ آج بھی پر نور ہے اور وہ اعلی اخلاق اور عمدہ اوصاف کی وجہ سے آج بھی اسی طرح زندہ وجاوید ہیں جیسے ظاہری حیات میں تھیں ان میں سے ایک مرتبہ رتبہ ذات ام المومنین، زوجہ سید المرسلین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہے۔

یہ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نور نظر اور دختر نیک اختر ہیں۔

ازواج مطہرات میں سے یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہ نبوت میں محبوب ترین تھیں۔

حضور ﷺ کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب میرے بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الہی اترتی رہتی ہے۔ (بخاری، 2/552، حدیث: 3775)

امت کی اس عظیم ماں کو اللہ نے اس قدر کثیر فضائل سے نوازا ہے جس کا احاطہ و شمار ممکن نہیں، ایک یہی فضیلت کیا کم ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا سرکار عالی وقار، محبوب رب غفار ﷺ کی سب سے محبوب زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ مزید یہ کہ آپ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی خود رب کریم نے دی اور اس کے لیے قرآن کریم کی 18 آیات نازل فرمائیں، آپ کو حضرت جبریل امین علیہ السلام نے سلام کہا، آپ کے بستر اقدس میں رسول کریم، روف رحیم ﷺ پر وحی نازل ہوئی، آپ ہی کے حجرے میں رسول کریم ﷺ نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا، یہیں آپ ﷺ کا مزار اقدس بنا اور قیامت تک یہ مزار اقدس فرشتوں کے جھرمٹ میں رہے گا۔

بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تین راتیں میں خواب میں یہ دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں،اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔ (ترمذی، 5/470، حدیث: 3906)

مدینہ منورہ میں ہجرت کے کچھ عرصہ بعد تک تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے والدین کے پاس رہیں پھر ہجرت کے 7 ماہ بعد شوال المکرم میں رخصت ہو کر کا شانہ نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں داخل ہوئیں۔ (سیرت سید الانبیاء، حصہ: دوم، ص 250)

جب آپ کاشانہ اقدس میں آئیں اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف 9 برس تھی۔

چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کے کھلونے بھی تھے اور آپ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، سرکار نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ بھی آپ رضی اللہ عنہا کی دل جوئی کا خاص اہتمام فرماتے تھے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں جب رسول اکرم، شاہ بنی آدم ﷺ تشریف لاتے تو وی اندر چھپ جاتیں آپ ﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے اور وہ پھر میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ (بخاری، 4/134، حدیث: 6130)

اسی طرح ایک روز آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کی گڑیوں کو دیکھ کر استفسار فرمایا یہ کیا ہے؟ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میری گڑیاں ہیں۔ آپ ﷺنے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا، جس کے کپڑے کے دو پر تھے۔ فرمایا: یہ ان کے درمیان کیا نظر آتا ہے؟ عرض کی:گھوڑا۔ فرمایا:اس کے اوپر کیا ہے؟ عرض کی: دو پر۔ فرمایا:گھوڑے کے دو پر؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا آپ ﷺنے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے پروں والے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر آپ ﷺنے اتنا تبسم فرمایا کہ میں نے دندان مبارک کی زیارت کر لی۔ (مدارج النبوة 2 /471)

بہرحال اس کم عمری کے عالم میں ہی آپ رضی اللہ عنہا نے امور خانہ داری کے گھر کے کام کاج سیکھنے اور نہایت خوش و اسلوبی سے انہیں انجام دیتی رہیں حتی کہ اپنے کپڑے خود سی لیتیں،خود ہی جو شریف کو پیس کرآٹا بناتیں۔ سرکار اقدس ﷺقربانی کے لیے جانور بھیجتے خود اپنے ہاتھوں سے ان کے لیے رسیاں بٹتیں اور اس کے ساتھ رحمت عالم شاہ آدم و بنی آدم ﷺ کی خدمت میں بھی کوئی کمی نہ ہونے دیتیں۔

امیر المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ مبارک حیات میں ہمارے لیے سیکھنے کے بے شمار مدنی پھول ہیں آپ حضور ﷺکی ازواج مطہرات میں سب سے کم عمر تھی مگر علم و فضل زہد و تقوی سخاوت اور عبادت ریاضت میں بہت نمایاں تھیں اس کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کاج نہایت و خوش اسلوبی سے انجام دیتیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ آرام پسند اور کام کاج سے جی چرانے والی نہ تھیں بلکہ ان کا ہر ہر منٹ اللہ کی عبادت حضور اقدس ﷺکی خدمت، دین سیکھنے اور گھریلو کام کاج کرنے میں گزرتا تھا۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دن رات سرکار والا تبار مکے مدینے کے تاجدار ﷺ کے شربت دیدار سے اپنی آنکھوں کو سیراب کرتے ہوئے کاشانہ اقدس میں آرام و سکون کے ساتھ دن گزار رہی تھیں کہ وہ قیامت خیزسانحہ بپا ہونے کا وقت قریب آیا جب سرکار علی وقار محبوب پروردگارﷺ نے اس دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا۔

وصال شریف سے چند روز قبل جب آپ ﷺ بستر علالت پر تشریف فرما ہوئے تو آپ ﷺ کی کیفیت یہ تھی کہ بار بار دریافت فرماتے: کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟

امہات المومنین رضی اللہ عنہن جان گئیں کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنا چاہتے ہیں لہذا سبھی نے متفقہ طور پر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضور جہاں رہنا پسند فرماتے ہیں، رہیے! چنانچہ پھر آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنے لگے۔ (بخاری، 3/468، حدیث: 5217)

تقریبا آٹھ روز تک عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں مقیم رہنے کے بعد آپ ﷺ اس دنیا سے پردہ ظاہری فرمایا۔

وصال شریف کے وقت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اپنے سینے پر سہارا دیا ہوا تھا۔ (سیرت الانبیاء، ص 597)

اور رسول خدا ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا اور کسی کو کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔

رسول اکرم ﷺ کی حیات شریف کے آخری لمحات میں فرشتوں اور آپ رضی اللہ عنہا کے سوا حضور اقدس ﷺ کے پاس اور کوئی نہ تھا۔

اللہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اعظم فضائل و مناقب میں سے ان سے حضور ﷺ کا بہت زیادہ محبت فرمانا بھی ہے، کہ پیارے آقا ﷺ نے اپنی شہزادی فاطمۃ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: رب کعبہ کی قسم !تمہارے والد کو عائشہ (رضی اللہ عنہا) بہت زیادہ پیاری ہیں۔ (ابو داود،4/359، حدیث: 4898)

اظہار محبت: آقا کریم ﷺ وقتا فوقتا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے اپنی محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے جیسا کہ مروی ہے کہ ایک شب حضور ﷺ رات بھر چلتے رہے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایادیکھو !تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ (طبقات کبری لابن سعد، 10 / 78)

پیارے القابات سے پکارنا: ٭عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حر سے) واپس آرہے تھے اور میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں سے آخر میں تھامیں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز مبارک سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:واعروساہ ہائے! میری دلہن۔ (مسند امام احمد، 10 / 584، حدیث: 26866)

٭آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا: تم اپنا دو تہائی دین اس حمیرا (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے حاصل کر لو۔ (مدارج النبوت، 2/469)

وجہ تسکین: آپ رضی اللہ عنہاکی ذات وجہ تسکین جان مصطفی ﷺ تھی چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاخود فرماتی ہیں کہ میری پیشانی پر بوسہ دے کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اللہ پاک تجھے اچھا بدلہ عطا فرمائے تم مجھ سے اتنا خوش نہیں ہوتی ہوگی جتنا میں تم سے خوش ہوتا ہوں۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/52، حدیث: 1464)

حیات ظاہر ی کے آخری لمحات کی قربت نبی کریم ﷺ کی حیات شریف کے آخری لمحات میں فرشتوں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا حضور ﷺ کے پاس اور کوئی نہ تھا۔ (فیضان عائشہ صدیقہ، ص 729)

آقا ﷺ بستر علالت پر تشریف فرما ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی مرض وفات شریف میں پوچھتے تھے کہ کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ (راوی کہتے ہیں) کہ آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے باری کے دن کو پسند فرما رہے تھے لہذا تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہیں پھر آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے حتی کہ انہیں کے پاس وصال فرمایا۔ (بخاری، 3/468، حدیث: 5217)

نزع کے وقت بھی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ بھولے۔ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے جنت میں عائشہ دکھائی گئی تاکہ مجھ پر موت آسان ہو جائے گویا میں اس کے دونوں ہاتھ دیکھ رہا ہوں۔(طبقات الکبری لا بن سعد، 10/65) آقا ﷺ کو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس قدر پیار تھا کہ آپ ﷺ نزع کے وقت بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ بھولے اور مزید آپ ﷺ کا ارشاد کہ مجھے جنت میں عائشہ دکھائی گئی تاکہ مجھ پر موت آسان ہو جائے تو یہ آپ ﷺ کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص محبت پر دلالت ہے۔ (فیضان عائشہ صدیقہ، ص 277)