رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر کوئی آدمی اللہ سبحانہ و تعالی کے راستے میں شہید کیا جائے پھر اسے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کیا جائے پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کیا جائے اس حال میں کہ اس کے ذمے قرض واجب الادا ہو تو ایسا شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اس کی طرف سے قرضہ ادا نہ کر دیا جائے۔(مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

واپس نہ کرنے کی نیت سے قرض لینے والا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرض لے اور اس کا پختہ ارادہ ہو کہ قرض واپس نہیں کرے گا تو یہ شخص اللہ تعالی سے چور ہو کر ملے گا یعنی میدان حشر میں اس کا شمار چوروں میں ہو گا۔ (ابن ماجہ، 3/143، حدیث: 2410)

زندگی میں اپنا قرض ادا کرنے کی فکر کیجئے: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: اللہ کے نزدیک ان کبیرہ گناہوں (زنا سود وغیرہ) کے بعد جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس پر قرض ہوں اور اس لیے اپنے پیچھے ایسی کوئی چیز نہ چھوڑی ہو یا جس سے قرض کی ادائیگی کا انتظام ہو سکے۔ ابوداود، 3/334، حدیث: 3342

اسی طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے لیکن قرض معاف نہیں ہوگا۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

مذکورہ بالا احادیث کی بنا پر ہر شخص کو چاہے کہ سب سے پہلے اپنے قرضوں کی ادائیگی کی فکر کریں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نہ ہو چنانچہ قرض ادا کرنے کے بعد اس کے پاس جائے تھوڑا مال بچے یا بالکل بھی نہ بچے اللہ پاک اس میں برکتیں عطا فرمائے گا جبکہ دوسروں کا مال واپس نہ کرنا دنیا و آخرت کی خرابیوں اور بے برکتی کا سبب بنتا ہے ایک حدیث میں ذکر ہے کہ جب آپ ﷺ کو ایک میت کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس پہ قرض ہے تو آپ ﷺ نے ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے سے انکار فرما دیا۔

قرض کی ادائیگی میں ٹال ماٹول کرنا ظلم ہے، جو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں ان کے لیے نبی اکرم ﷺ کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہیں حتی کہ آپ ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرما دیتے تھے جس پر قرض ہو یہاں تک کہ اس کے قرض کو ادا کر دیا جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے یعنی جنت کے دخول سے روک دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کر دی جائے۔ (ابن ماجہ، 3/145، حدیث: 2413)