قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اسلامی نقطہ نظر میں جائز نہیں قرض کی ادائیگی میں سستی یا ٹال مٹول کرنے کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مالدار قرض ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے کا ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:2400)

اور فرمایا: مومن کی روح اس کے قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔ (ابن ماجہ، 3/145، حدیث: 2413)

اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں لیکن قرض کا بوجھ پھر بھی باقی رہتا ہے۔(مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2، البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔

قرآن کی رو سے قرض کی ادائیگی ایک عہد ہے جسے پورا کرنا ایمان کا حصہ ہے جو شخص استطاعت کے باوجود تاخیر کرتا ہے وہ وعدہ خلافی میں مبتلا ہوتا ہے، قرض لینے والے کو چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنا بوجھ ہلکا کرے، اگر مقروض واقعی غریب ہو تو اس کے پاس ادائیگی کا کوئی ذریعہ نہیں تو اس کی مختلف صورتیں ہیں، ایسی صورت میں تاخیر کرنا گناہ یا ظلم نہیں، قرض دینے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ مقروض کی مجبوری دیکھ کر اسے مہلت دے یا پھر قرض معاف کر دے جس پر اس سے اجر ثواب ملے گا۔

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) (پ 3، البقرۃ: 280) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو۔

الغرض ہمیں اپنا قرض جلد از جلد اتارنا چاہیے جو قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے اللہ پاک اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے اور جو ٹال مٹول کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے مال کو تباہ کر دیتا ہے قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے جو محض توبہ یا اللہ تعالی کی عبادت سے معاف نہیں ہوتا جب تک کہ صاحب حق اسے معاف نہ کرے یا اسے اس کا حق نہ مل جائے۔

رشتہ داروں یا دوستوں سے اگر قرض لیا ہو تو تاخیر سے ادائیگی تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتی ہے، غیر ضروری اخراجات ختم کر کے قرض ادا کرنے میں جلدی کی جائے قرض خواہ کی بددعا سے بچیں کیونکہ جب آپ کسی کا مال روک کر یا اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں تو وہ مظلوم بن جاتا ہے اس کی آہ سے بچنا ایمان کا تقاضا ہے۔

ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ اس شخص کا نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس کے ذمے قرض ہوتا جب تک دوسرا اس کی ادائیگی کی زمہ داری نہ لے لیتا یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرض میں تاخیر یا عدم ادائیگی کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔

فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس مال ہو اور اس پر قرض بھی ہو تو اس کے لیے نفلی حج یا نفلی عمرہ یا صدقہ خیرات کرنے سے پہلے قرض ادا کرنا واجب ہے، اگر کسی کو اپنی جائیداد یا کوئی اور چیز بیچ کر بھی قرض اتارنا پڑے تو ضرور قرض اتارے۔