کسی شخص کادین یاقرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے وعدے پر دین یاقرض ادا نہ کرنا اورٹال مٹول سے کام لینا ظلم اور بہت بڑا گناہ ہے،اس پر احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اور اللہ تعالی حقو ق العباد کو اس وقت تک معاف نہیں فرماتاجب تک بندہ خود معاف نہ کردے،لہذا ایسا شخص اگر اسی حالت میں مر گیا کہ لوگوں کا دین اس پرباقی رہاتو بروز محشر قرض دینے والوں کے تقاضے پر اس کی نیکیاں ان (قرض خواہوں)کو دی جائیں گی اور جب اس کےپاس نیکیاں نہیں رہیں گی،تو ان (قرض خواہوں) کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے، لہذا دکان داروں پر لازم ہے کہ جب ادھار مال خریدیں،تو اس کی ادائیگی کی وہی مدت طے کریں جس پر وہ ادا کرسکیں اور پھر جب ادائیگی کا وقت آجائے،تو بلا حیل وحجت ادائیگی کریں تاکہ حق العبد کے گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں۔

اچھی نیت سےقرض لینا: اگر کوئی شخص ادا کرنے کی نیت سے قرض لے تواللہ اس کی اچھی نیت کی بدولت اس کے لیے اسباب پیدا فرما دے گا جس سے اس کا قرض اتر جائے گا۔حضور اکرم، نورمجسم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے لوگوں کا مال (بطورقرض) لیا او ر وہ اس کے ادا کرنے کی نیّت رکھتا ہے تو اللہ اس کی طرف سے ادا کردیتا ہے اور جو ہضم کرنے کے لیے لیتا ہے اللہ اسے ادا کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔ (بخاری، 2/105، حدیث:2387)

اس حدیث پاک کے تحت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حسنِ نیت کی برکت اور بدنیتی کی نحوست کا بیان ہے کہ جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ ادا کرنا چاہے گا اللہ اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے اس توفیق سے محروم رکھتاہے اور وہ قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتاہے۔

حدیث شریف میں ہے: کوئی مقروض نہیں جو قدرت کے باوجود اپنے قرض دينے والے کو ٹالے،مگر یہ کہ اللہ ہر دن اور رات میں اس پر گناہ لکھتا ہے۔ (شعب الایمان، 7/530، حدیث:11232)

ایک روایت میں ہے:قرض میں ٹال مٹول کرنا شیطان کا شعار ہے، جو وہ مومنین کے دل میں ڈالتا ہے۔ (جامع الصغیر، 3/373)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) (پ 3، البقرۃ: 280) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو۔ اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سبب اجر عظیم ہے۔

حدیث مباركہ میں وعید: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

”مطل الغنى ظلم“ کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں: یعنی جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسہ ہو پھر ٹالے، تو وہ ظالم ہے، اسے قرض خواہ ذلیل بھی کرسکتا ہے اور جیل بھی بھجواسکتا ہے،یہ شخص مقروض گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم گنہگار ہوتا ہی ہے۔ (مراۃ المناجیح،4 /342)