الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے دوسرے مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ ہم پر لازم ہے۔جس طرح دوسری عبادات ہم پر فرض کی گئی ہیں اسی طرح اسلام ہمیں حقوق العباد کو پورا کرنے کا درس دیتا ہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمان دوسرے مسلمانوں کی حق تلفی کرنے میں ذرا بھی خوف و شرم محسوس نہیں کرتے۔ان میں سے سب سے اہم حق ادائیگی قرض میں تاخیر ہے۔ کسی سے قرض لینے کے بعد اسکی ادائیگی نہیں کی جاتی یا پھر بہت تاخیر کردی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے قرض دینے والے کو بہت سے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مال و اسباب موجود ہونے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والوں سے متعلق بہت سی حدیث مبارکہ وارد ہیں، چنانچہ: آقا ﷺ نے فرمایا: مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

جس شخص کے پاس قرض کی ادائیگی کے اسباب موجود ہوں اور اس کے باوجود بھی وہ قرض ادا نہ کرے تو وہ ظالم ہے۔

قرض دار کا جنازہ: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے یہاں نماز جنازہ پڑھنے کے لیے ایک میت لائی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آقا علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر ایک اور جنازہ آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر آقا علیہ السلام نے فرمایا: پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ان کا قرض میں ادا کردوں گا، تب آقا علیہ السلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری،2/72، حدیث:2289)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ قرض کی جلد ادائیگی کتنی ضروری ہے قرض ادا نہ کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھانے سے حضور اکرم ﷺ نے منع فرما دیا۔ لہذا جتنی جلدی ہو سکے قرض ادا کردینا چاہیے۔ ادائیگی قرض میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک طرح کی امانت ہے جو کہ اس کے مالک کو لوٹانا ضروری ہے۔ امانت میں خیانت کرنا مومن کی شان کے خلاف ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔

قیاس کیا جائے تو قرض بھی ایک امانت ہے اور اللہ پاک نے امانت اس کے مالک کو لوٹانے کا حکم ارشاد فرمایا۔

یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اور اللہ حقوق العباد کو اس وقت تک معاف نہیں فرماتا جب تک بندہ خود معاف نہ کر دے۔ لہذا ایسا شخص جس پر کسی کا قرض ہو اور وہ اسی حالت میں مرگیا تو روز محشر قرض دینے والوں کے تقاضے پر اس کی نیکیاں (قرض خواہوں) کو دے دی جائیں گی اور جب اس کے پاس نیکیاں نہیں رہیں گی تو قرض خواہوں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ لہذا جس جس کا قرض اپنے ذمے ہو، اسے فوراً ادا کر دیجیے اور اپنی دنیا و آخرت کو برباد ہونے سے بچا لیجیے۔

شیطان کا شعار: قرض میں ٹال مٹول کرنا شیطان کا شعار ہے جو وہ مومن کے دل میں ڈالتا ہے۔ (جامع صغیر، 3/373)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسے ہوں پھر بھی ٹالے تو وہ ظالم ہے۔ اسے قرض خواہ ذلیل بھی کر سکتا ہے اور جیل میں بھی بھجوا سکتا ہے۔ اور مقروض گناہگار بھی ہو گا کیونکہ ظالم گناہگار ہی ہوتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 4/342)

معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول اور تاخیر کرنے سے دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے۔ ایسا شخص دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہو کر نقصان اٹھاتا ہے اور آخرت کی بربادی کا سامان بھی اکھٹا کرتا ہے۔ لہذا ابھی بھی وقت ہے اگر کسی کا قرض ناحق دبایا ہوا ہو تو اسے فوراً ادا کر دیں۔ عذاب الٰہی سے ڈریں اور اپنی دنیا و آخرت برباد ہونے سے بچائیں۔

اللہ پاک ہمیں بھی وقت پر قرض کی ادائیگی کرنے اور حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین