قرض کی تعریف: قرض سے مرادو وہ مال رقم یا اشیا ہے جو ایک شخص یعنی قرض خواہ دوسرے شخص یعنی مقروض کو اس شرط پر دیتا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اتنی ہی مقدار میں یا ویسے ہی مال واپس کرے گا یہ ایک مالی ذمہ داری ہے جس میں مقروض پر اصل رقم واپس کرنا واجب ہوتا ہے۔ (جامع الکتب، 1/34)

قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا کیسا: قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اخلاقی سماجی اور شرعی لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے خاص طور پر جب ادائیگی کی استطاعت موجود ہو اور فقائے کرام نے بلا حاجت شرعی ادائے قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے اس بارے میں حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔

سرکار علی وقار ﷺ نے فرمایا: استطاعت والے کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو یعنی عزت اور اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث: 2400)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: شہید یعنی وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں جان دی ہے اور اس کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔

قرض نہ دینے کے نقصانات: کسی شخص کا دین یا قرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے وعدے پر دین یا قرض ادا نہ کرنا سب گناہ ہے یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اللہ پاک حقوق العباد کو معاف نہیں فرماتا جب تک بندہ خود معاف نہ کرے لہذا اگر ایسا شخص اسی حالت میں مر گیا کہ لوگوں کا دین اس پر باقی رہا تو وہ روز محشر قرض دینے والے کے تقاضے پر اس کی نیکیاں یعنی قرض خواہ کو دی جائیں گی اور جب اس کے پاس نیکیاں نہیں رہیں گی تو ان قرض خواہوں کے گناہوں اس پر ڈالے جائیں گے۔

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ کبیرہ گناہ جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے ان کے بعد اللہ کے نزدیک سب گناہوں سے بڑا یہ کہ آدمی اپنے اوپر دین چھوڑ کر مرے اس کے ادا کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو۔ ابوداود، 3/334، حدیث: 3342