حیدرآباد ، سندھ میں شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز
دعوتِ اسلامی کے تحت 12 مئی 2026ء کو حیدرآباد ڈویژن کے شفٹ تعلیمی ذمہ داران کا
ماہانہ مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں تعلیمی ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اہم
موضوعات پر گفتگو کی اور آئندہ کے لیے اہداف طے کیے۔
تفصیلات:اس ماہانہ مدنی مشورے میں ڈویژن تعلیمی ذمہ دار
سید غوث علی عطاری نے سابقہ طلبہ پر کوشش
کرنے، کامیابی کی ٹرکس اور ملنے والے ٹاسکس کے مؤثر طریقۂ کار پر تفصیلی گفتگو کی۔
فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز سرائے عالمگیر برانچ کے اسٹاف کا مدنی مشورہ
12 مئی 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان
آن لائن اکیڈمی بوائز کےتحت سرائے عالمگیر برانچ کے اسٹاف کا اہم مدنی مشورہ منعقد
ہوا جس کا مقصد برانچ کے تعلیمی معاملات اور اجتماعی قربانی کا جائزہ لینا تھا۔
5 مئی 2026ء کو شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی
بوائز دعوتِ اسلامی کے تحت فیصل آباد کی مین برانچ ستیانہ روڈ میں پنجاب کے برانچ
ناظمین اور ڈویژن ذمہ داران کا ماہانہ مدنی مشورہ منعقد ہوا۔
اس موقع
پر رکنِ شعبہ مولانا عمران عطاری مدنی نے حاضرین کو سپلائی چین کے نظام سے متعلق
تفصیلی آگاہی فراہم کی اور شعبے کے متعلق چند اہم نکات پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس کے علاوہ رکن، شعبہ نے مالک وقف کی احتیاطی تدابیر اور برانچز میں
سپلائی چین کے نظام کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے چند اہم باتیں بتائیں نیز نمایاں
کارکردگی کے حامل ذمہ داران میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے جس کا مقصد ذمہ داران کی
حوصلہ افزائی اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانا تھا۔ (رپورٹ:محمد
وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
ہانگ کانگ و جنوبی کوریا میں مدرسۃالمدینہ
بالغان کے ذمہ داران کا آن لائن ٹریننگ سیشن
14 مئی 2026ء:
عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی اس وقت دنیا کے کم وبیش 190 ممالک میں اسلامی بھائیوں کو قرآنِ کریم کی
تعلیم، دینی، اخلاقی و شرعی تربیت دینے کے عظیم مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس دوران
دعوتِ اسلامی نے مختلف شعبہ جات قائم کیے ہیں جن میں سے ایک اہم شعبہ مدرسۃالمدینہ
بالغان ہے۔ اس شعبے کے ذریعے مساجد،
دکانوں، دفاتر، تعلیمی اداروں، گھروں اور دیگر مقامات پر 15 سال یا اس سے زائد عمر
کے اسلامی بھائیوں کو صحیح تلفظ و قواعدِ
تجوید کے مطابق قرآنِ مجید، نماز، روزہ اور دیگر دینی مسائل کی تعلیم دی جاتی ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے 13 مئی 2026ء کو دعوتِ
اسلامی کے تحت آن لائن ٹریننگ سیشن ہوا جس میں ہانگ کانگ کے فاریسٹ اور جنوبی کوریا کے ملکی
نگران مولانا محمد فراز عطاری مدنی، امام مبلغین اور شعبہ مدرسۃالمدینہ بالغان کے ذمہ
داران شریک ہوئے۔
اس سیشن میں مرکزی مجلس شوری کے رکن مولانا حاجی
محمد عقیل عطاری مدنی نے مدرسۃالمدینہ بالغان کو بڑھانے، معلمین کو ریفریش ٹیچر ٹریننگ
کروانے،پڑھانے والوں کو شعبے کے نظام و طریقۂ کار کے مطابق تربیت دینے پر زور دیا
گیا۔
اسی طرح ذمہ
داران کو ناظرہ قرآن، نماز، دینی مسائل اور اخلاقی تربیت کے ذریعے نوجوانوں اور
بزرگوں کو معاشرے میں کامیاب فرد بننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے
وابستہ رہنےکی ترغیب دلائی گئی۔
کنزالمدارس
بورڈ، فیصل آباد میں اہم میٹنگ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نے انتظامی امور کا جائزہ
لیا
14 مئی 2026ء، پنجاب:
پنجاب کے شہر فیصل آباد میں قائم دعوتِ اسلامی
کے دینی تعلیمی بورڈ کنزالمدارس میں 14 مئی 2026ء کو ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ایڈیشنل جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل
عطاری اور تمام شعبہ جات کے نگران اسلامی
بھائیوں کی شرکت ہوئی۔
اس میٹنگ میں مختلف انتظامی امور کا تفصیل سے
جائزہ لیا گیا جبکہ خصوصی طور پر انسانی
وسائل سے متعلق اقدامات اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے
تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس میٹنگ کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو بہتر
بنانا اور مستقبل کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا تھا تاکہ ادارے میں مزید
بہتری و ترقی ممکن ہو سکے۔(رپورٹ:
سیّد ذیشان حسین بخاری عطاری، ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل
آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
جید علمائے کرام کی کنزالمدارس بورڈ، ہیڈ آفس
آمد ، دینی تعلیم کے فروغ پر تبادلۂ خیال
14 مئی 2026ء، ہیڈ
آفس، کنزالمدارس بورڈ (دعوتِ اسلامی):
پنجاب،
پاکستان کے شہر فیصل آباد میں قائم دعوتِ اسلامی کے دینی تعلیمی بورڈ کنزالمدارس، ہیڈ آفس میں 14 مئی 2026ء کو عارف والا اور وہاڑی
سے تشریف لائے ہوئے جید علمائے کرام، مختلف جامعات کے مہتممین اور شیوخ الحدیث کی
آمد ہوئی۔
اس موقع پر تشریف لائے ہوئے جید علمائے کرام، مہتممین
اور شیوخ الحدیث کی رکنِ شوریٰ و چیئرمین کنزالمدارس بورڈ مولانا حاجی محمد جنید عطاری مدنی سے ملاقات ہوئی اور
چند اہم امور پر گفتگو کی گئی۔
دورانِ ملاقات بالخصوص عصرِ حاضر کے تقاضوں کے
مطابق دینی تعلیم کے فروغ، نظامِ تعلیم کی بہتری اور اسلامی علوم و فنون کی ترویج
میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
13 مئی 2026ء، فیصل
آباد، پنجاب :
پنجاب میں قائم مدنی مرکز فیضان مدینہ، فیصل آباد میں دعوتِ اسلامی کے تحت
یوسی سکندر سنگھ والا کے اسلامی بھائیوں کے لیے 13 مئی 2026ء کو مدنی مشورہ ہوا جس
میں یوسی ذمہ داران، مدرسۃالمدینہ بالغان میں پڑھنے / پڑھانے والے ، کورسز اور
اعتکاف کرنے والے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر دعوتِ اسلامی کے رکنِ مرکزی مجلسِ
شوریٰ و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے یوسی کی کارکردگی کا
تفصیلی جائزہ لیا اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن کے درمیان تحائف
تقسیم کئے۔
پنجاب کے ڈویژن ذمہ داران کا مدنی مشورہ، رمضان عطیات
کی کارکردگی کا جائزہ
فیصل آباد، پنجاب 11 مئی 2026:
دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ فیصل
آباد میں ایک اہم مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں شعبہ تحفظِ اوراقِ مقدسہ پنجاب کے ڈویژن ذمہ دار اسلامی بھائیوں
نے شرکت کی جن کی رہنمائی کے لیے نگرانِ شعبہ مولانا افضل عطاری مدنی اور صوبائی
ذمہ دار محمد فہم عطاری موجود تھے۔
مدنی مشورے کے دوران نگرانِ شعبہ مولانا افضل
عطاری مدنی نے رمضان عطیات کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور نمایاں کارکردگی
کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تحائف دیے۔
اس موقع پر عشر کے نئے اہداف بھی طے کیے گئے نیز شعبے کے کام کو مزید بڑھانے کا ذہن دیا گیا
جبکہ صوبائی ذمہ دار نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کام کرنے کا ذہن دیا اور کارکردگی کی
رپورٹ وصول کی۔
تاجدارِ
رِسالت، شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
نے جب اِعلان نبوت فرمایا اور لوگوں کو قبولِ اسلام کی دعوت دی تو بغض وحسد سے پاک
دل رکھنے والی نیک طینت ہستیوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی دعوتِ حق پر لبیک کہا، ان کے
اَعْضا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کے لیے جھک گئے اور دل ودماغ دین اسلام
کی خدمت کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح یہ پاک باز ہستیاں کفر وجہالت کی تاریکیوں سے
نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئیں۔ ان میں سے وہ حضرات جنہوں نے اسلام کو اس کے
ابتدائی دنوں میں قبول کیا، قرآنِ کریم نے اِنہیں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے
دل نشین خطاب سے نوازا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تین (3)عظیم
وجلیل بشارتیں بھی سنائیں کہ
٭ اللہ
عَزَّوَجَلَّ اُن سے راضی ہے ٭وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے راضی ہیں ٭اُن کے لئے ایسے
باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں
گے۔
چنانچہ
پارہ گیارہ ، سورۂ توبہ، آیَت نمبر 100 میں ہے:
وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ
اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ
اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ (پ۱۱،
التوبۃ: ۱۰۰)
ترجمہ:اور
سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے،
اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ ،جن کے
نیچے نہریں بہیں ،ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔
یہ اَلسّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ
جنہوں نے اِسلام کو اس کے ابتدائی ایّام میں قبول کیا اور سب سے پہلے حُضُور علیہ
الصلوۃ والسلام
کی نبوت ورِسالت کی گواہی دی، اِن میں سے جلیل القدر صَحابِی رسول حضرتِ سیِّدنا
سُہیل بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ کے بھائی حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن
عَمْرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زَوْجہ حضرتِ سیِّدَتُنا
سَوْدَہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی
تھیں۔
کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو اُن
ظالموں نے اِن لوگوں کی گرفتاری کے لیے اِن کا تعاقب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار
ہو کر روانہ ہو چکے تھے اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے۔ یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی
سرزمین میں اتر کر امن وامان کے ساتھ خدا کی عِبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں
بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفارِ مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ
حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آکر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو
پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں رُوپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفارِ مکہ نے ان
لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر لوگوں
کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والےاور ان کے ساتھ دوسرے
مظلوم مسلمان کل تراسی(83) مرد
اور اٹھارہ (18) عورتوں
نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔
اِس
دوسری بار کی ہجرت میں حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زوجہ حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی
شریک ہوئے۔
ہجرت
کے کچھ عرصہ بعد حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی
اللہُ عنہا اپنے شوہرحضرتِ سیدنا سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کے
ساتھ مکہ معظمہ واپس آ گئیں۔
اس وقت بھی کفار ناہنجار مسلمانوں کی ایذا رسانی میں اسی طرح سرگرم تھے اور ان کی تکلیف
دہی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ لیکن یہ دونوں مقدس ہستیاں سرکارِ رِسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قرب سے
فیض یاب ہونے کے لیے مکہ میں رہائش پذیر دیگر مسلمانوں کے ساتھ یہیں مقیم ہو گئیں اور کفارِ بداطوار کے ظلم وستم نہایت
صبر وتحمل سے سہتی رہیں لیکن اپنے ایمان کے لہلہاتے ہوئے چمن کو شرک وکفر کی آگ کی
ہلکی سی آنچ تک نہ آنے دی۔
تعارف: سیدتنا سَوْدَہ رضی اللہُ عنہا
نام
ونسب:آپ
رضی اللہُ عنہا کا نام سَوْدَہ، والد کا نام زَمعَہ اور والِدہ کا نام شَمُوْس
ہے جبکہ آپکی کنیت اُمِّ اَسْوَد ہے۔
والد
کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ” زَمعَہ بن قیس بن عَبْدشَمْس بن
عَبْدِ وُدّ بن نصر بن مالِک بن حِسْل بن عامر بن لُؤَیّ “
اور
والدہ کی طرف سے یہ ہے: ” شَمُوْس بنتِ قیس بن زید بن عَمْرو بن لَبِیْد بن خِرَاش بن عامر بن غنم
بن عَدِی بن نجار۔ “
حضرتِ
لُؤَیّ میں جا کر آپ رضی اللہُ عنہا کا نسب رسولِ خُدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔حضرت
لُؤَیّ،رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
کے 9ویں جدِّ محترم ہیں۔
حلیہ
مبارک:
آپ رضی اللہُ عنہا طویل القامت اور بھاری جسم کی حامِل تھیں۔
آپ رضی اللہُ عنہا کے پہلے شوہر حضرتِ سیِّدنا سَکران بن عمرو رضی اللہُ عنہ سے آپ کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس
کا نام ”عبد الرحمن“ رکھا گیا۔
چند شرف
صحابیت پانے والے قَرابت دار
اُمُّ
المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا کے ڈھیروں ڈھیر فضائل میں سے ایک فضیلت
یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہا کے خاندان کے بیشتر افراد کو رسولِ کریم، رَءوف رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابی ہونے کا شَرَف حاصل ہے، ان میں سے تین(03) کا
یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
٭حضرتِ
عَبْد بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: یہ
فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کر کے شرف صحابیت سے مُشرف ہوئے۔ اُمُّ
المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی
اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کی والِدہ
عاتکہ بنتِ اَخْیَف ہیں۔
٭حضرتِ
مالِک بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ
المؤمنین حضرتِ سَودہ رضی اللہُ عنہا کے
بھائی ہیں۔ قدیم الاسلام صحابی ہیں اور ہجرتِ حبشہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک
ہوئے۔
٭حضرتِ
عبد الرحمن بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ
المؤمنین حضرت سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی
اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ انہیں کے بارے میں حضرت
عبد بن زَمعَہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی
اللہُ عنہما کے
درمیان اختلاف ہوا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہُ عنہ کہتے تھے کہ یہ میرے بھتیجے ہیں اور حضرت عبد رضی اللہُ عنہ کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ میرے بھائی
ہیں۔ مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک
ومختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فیصلہ کرتے ہوئے حضرتِ عبد رضی اللہُ عنہ سے فرمایا: اے عبد بن زَمعَہ! یہ تمہارا بھائی ہے۔
دو(02)مُبارَک
خواب
ایک
رات حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیدل
چلتے ہوئے اِن کی طرف متوجہ ہوئے حتی کہ اپنے پائے اقدس ان کی گردن پر رکھتے ہوئے
گزر گئے۔ جب آپ نے اپنے شوہرحضرتِ سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کو اس خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے
کہا: اگر تمہارا خواب سچا ہے تو عنقریب
میں یقینی طور پر وفات پا جاؤں گا اور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تجھ سے نِکاح
فرمائیں گے۔
پھر
ایک دوسری رات آپ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ چاند ٹوٹ کر آپ پر گِر پڑا ہے
اور آپ کروٹ کے بل لیٹی ہوئی ہیں۔ بیدار ہونے پر آپ رضی اللہُ عنہا نے اس خواب کا بھی اپنے شوہر سے تذکِرہ کیا۔
انہوں نے کہا: اگر تیرا خواب سچا ہے تو
میں بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد شادی کرو گی۔جس دن حضرتِ سیدتنا
سَودہ رضی اللہُ عنہا نے اپنا دوسرا خواب بیان کیا تھا اسی دن حضرتِ
سیِّدنا سَکران رضی اللہُ عنہ بیمار ہو گئے، کچھ دن بیمار رہے اور پھر بہت جلد
اس دارِ ناپائیدار سے رخصت ہو کر دارِ آخرت کی طرف کوچ فرما گئے۔
حُضُورِاقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے
نِکاح ثانی
جب حضرتِ سیدتنا خدیجہ رضی اللہُ عنہا کا اِنتقال ہوگیا تو حضرتِ خولہ بنتِ حکیم نے
بارگاہِ رِسالت میں عَرض کی: یَا رَسول اﷲ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ سودہ بنتِ زمعہ سے نکاح فرما لیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ خولہ
رضی اللہُ عنہا کے اِس مُخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا چنانچہ
حضرتِ خولہ رضی اللہُ عنہا نے پہلے حضرتِ سودہ رضی اللہُ عنہا سے بات کی تو اُنہوں نے رِضا مندی ظاہر کی، پھر
آپ کے والد سے بات کی تو اُنہوں نے بھی خوشی سے اجازت دے دی، یوں اعلانِ نبوت کے
دسویں سال میں یہ بابرکت نکاح منعقد ہوا۔(سیر اعلام النبلاء،ج3،ص513)
اس طرح آپ رضی اللہُ عنہا رسولِ خدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زوجیت میں
آکر اُمَّہَاتُ المؤمنین کی فہرست میں شامِل ہو گئیں۔ اعلانِ نبوت کے 10ویں سال،
شوال المکرم کے مہینے میں حُضُور سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہُ عنہا سے
نِکاح فرمایا۔
اہلِ
اِسلام کی مادَرانِ شفیق
بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
مدینہ منورہ میں
قیام
جب
مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے ایذائیں دیے جانے کا سلسلہ بہت طویل ہو گیا اور ان
کے ظلم وسِتَم سے مسلمانوں پر عرصہ حَیَات تنگ ہو گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا
اپنے پیارے وطن مکۃ المکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً
وَّ تعظیماً
میں زندگی بسر کرنا دُوْبَھر (دُشْوار) ہو گیا تو سید المرسلین، خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت
کی اِجازت مرحمت فرما دی اور کچھ روز بعد خود بھی ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اس کے گلی کوچوں کو اپنے
جلوؤں سے جگمگانے لگے۔
مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد حُضُورِ اکرم، رسولِ محتشم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ زَیْد بن حارثہ اور اپنے
غُلام حضرتِ ابورَافِع رضی اللہُ عنہما کو
500 دِرْہَم اور دوا ونٹ دے کر مکۃ المکرمہ بھیجا اور یہ حضرتِ فاطمہ، حضرتِ اُمِّ
کلثوم، حضرتِ سَودہ بنتِ زَمعَہ، حضرتِ اُسَامہ اور حضرتِ اُمِّ اَیْمَن رضی اللہُ عنہم کو لے کر مدینہ منورہ آ گئے۔ جب
یہ حضرات مدینہ شریف پہنچے ان دِنوں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجدِ نَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے
گِرد حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے۔ پھر آپ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِنہیں حجروں میں اپنے اہل وعیال کو ٹھہرایا۔
متفرق فضائل و
مَناقب
حضرتِ عائشہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت: اپنے
اعلیٰ اوصاف اور حُسْن اخلاق کی بدولت آپ رضی
اللہُ عنہا ، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت بن چکی تھیں ۔ (زرقانی علی المواھب ،ج4،ص380 ملخصاً)
ایثار وسخاوت
اُمُّ
المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نہایَت
کریم وسخی خاتون تھیں، اللہ عَزَّ
وَجَلَّ
نے آپ رضی اللہُ عنہا کو سخاوت کی نعمت سے بھی بہت
نوازا تھا۔ ایک دفعہ کا ذِکْر ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے آپ رضی اللہُ عنہا کے پاس درہموں سے بھرا ہوا ایک
بڑا سا تھیلا بھیجا۔ آپ رضی اللہُ عنہا نے پوچھا: یہ کیا ہے؟کہا: درہم۔ اس پر آپ نے حیران ہوتے ہوئے
فرمایا: کھجوروں کی طرح اتنے بڑے تھیلے
میں.! ! پھر آپ رضی اللہُ عنہا نے یہ سب دِرْہَم راہِ خدا میں
تقسیم فرما دیے۔
پردہ
اُمُّ
المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سودہ رضی اللہُ عنہا فرض حج ادا کر چکی تھیں۔ جب آپ رضی اللہُ عنہا سے دوبارہ نفلی حج وعمرہ کے لیے
عرض کی گئی تو فرمایا کہ: میں فرض حج کر
چکی ہوں۔ میرے رب عَزَّ
وَجَلَّ نے
مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی
قسم! اب میرے بجائے میرا جنازہ ہی گھر سے
نکلے گا۔ راوی فرماتے ہیں: خدا عَزَّ
وَجَلَّ کی
قسم! اس کے بعد زندگی کے آخری سانس تک آپ رضی اللہُ عنہا گھر سے باہر نہیں نکلیں۔
وِصال
ایک
قول کے مطابق آپ رضی اللہُ عنہا کا وِصال ماہ ِشوال المکرّم
54ہجری کو حضرتِ امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔(فیضانِ
اُمَّہات المومنین،ص66) آپ رضی اللہُ عنہا کی قبر مُبارک جنت البقیع شریف
میں ہے۔
مولانا نعمان
شیخ عطاری مدنی (حیدر
آباد)
تمام زبانیں الہامی ہیں، ہرزبان کا احترام کیا
جائے، مولانا الیاس عطار قادری
29 ذیقعدہ 1447ھ بمطابق 16 مئی 2026ء کو عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی
مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول
نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
مذاکرہ کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد
عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت
سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت
و رہنمائی کی۔
سوال:بال اور ناخن کاٹیں تو بڑھ جاتےہیں لیکن اُنگلی
کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی اس کی کیا
وجہ ہے؟
جواب:یہ نظامِ قدرت ہے بال اورناخن میں جان ہوتی ہےاسی
لیے تو بڑھتے ہیں مگرکاٹنے سے دردنہیں ہوتا ۔اُنگلی کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی ،اس میں بال اورناخن والی صلاحیت
نہیں ۔
سوال:قربانی کے جانوروں کو کیاکھلایا جائےاورکتنی مرتبہ کھلایاجائے ؟
جواب:جانورکو کھلایاپلایا جائے،یہ ہماری طرح تین
مرتبہ نہیں کھاتے بلکہ کھاتے رہتے ہیں، اس لیے قربانی کے جانور کے سامنے پانی اور
چارا زیادہ رکھا جائے، کنجوسی نہ کی جائے وہ چاراکھلایا جائے جو وہ کھاتاہے، جس سے جانور خریدنا
ہو اُس سے پوچھ لیاجائے کہ یہ جانور کون ساچارا کھاتاہے۔
سوال:علمائےحق سے وابستہ ہونے کا کیافائدہ ہے ؟
جواب:ہم علمائے حق کے ساتھ وابستہ رہیں گے تو ہماراایمان
کوئی چھین نہیں سکے گا انْ شآءاللہ الکریم۔ان کی تعظیم فرض ہے، اس دورمیں امامِ اہلسنت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اورجو عالمِ دِین ان کا دامن تھامے ہوئے ہیں، اُن کادامن تھام لیں ۔
سوال:نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کون سے مینڈھے(Sheep) کی قربانی فرمائی ہے ؟
جواب:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینۂ منورہ میں سینگوں والے سیاہ وسفید رنگ والےدو مینڈھوں کی قربانی
فرمائی۔(صحیح البخاری، 2/ 612 )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سینگ والے مینڈھے کو قربانی کے لیےلانے کاحکم دیا پھر مینڈھے کو پکڑ
کرلٹادیا ،اِس کے بعد اسے ذبح فرمادیا۔(مسند احمد،جلد41/39)
سوال:کیا ہرطرح کے الفاظ کا احترام ہے ؟
جواب:جی ہاں !تمام زبانیں الہامی ہیں، ہرزبان کا
احترام کیا جائے ۔ 1980ء میں مَیں نے
سفرحج میں ماچس کی ایک ڈِبیا زمین سے
اٹھائی تھی جس پر کلمہ طیبہ لکھاہوا تھا، مَیں
اسے پاکستان لے آیا تھا۔ہمارے ہاں ادب ہے ،پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں کی جانب ہیں ۔یہ محبت کی بات ہے ،محبت کی تمام باتیں درست ہیں جو شریعت کی حد نہ توڑیں ۔کعبے
کادروازہ بھی پاکستان کی جانب ہے ۔جتنا ادب کریں کم ہے ،باادب بانصیب ،بے ادب بے
نصیب۔اللہ پاک ہمیں باادب رکھے۔
سوال:دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو
کیانصیحت فرمائیں گے ؟
جواب:اجتماع میں آنے والوں کو چاہیے کہ جوسُنیں اسے یادرکھیں،
اس پر عمل کر یں، انہیں اپنی زندگی میں عملی طورپر نافذکریں، دعوتِ اسلامی کے 12 دینی
کاموں میں شرکت کریں، مال خرچ کرنے سے کم
ہوتا ہے لیکن علم خرچ کرنےسے کم نہیں بلکہ اور بڑھتاہے۔ہرمہینے3دن راہِ خدا کے قافلے
میں سفرکریں، خوفِ خدا، عشقِ رسول، دِین کا درد ملے گا انْ شآء اللہ الکریم۔نیک اعمال کا رسالہ حاصل کریں ،اس میں دیے گئے سوالات کے مطابق روزانہ خانے پُر
کریں اورہر ماہ اپنے ذمہ دارکو جمع کروادیں ۔اس سے نیکیو ں پر استقامت ملے گی
اورآپ معاشرے میں اچھے مسلمان بن کر اُبھریں گے۔
سوال: قافلے
کے جدول(Schedule) پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب:ہم سنتیں سیکھنے کے لیے سفرکرنے والے قافلوں میں
سفرکریں گے اوراس کے جدول (Schedule) پر بھی عمل کریں
گے تو پھر دیکھیں کہ کیسی سدھارآتی ہے، اصلاح ہوتی ہے، دونوں جہاں کا بیڑاپارہوجائے
گا۔بعض قافلے میں تو جاتے ہیں مگران میں عمل کی کمی ہوتی ہے، شایدوہ قافلے کے جدول پر عمل نہیں کرتے ہوں گے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ”عقل مند باپ “ پڑھنے یا
سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
الحمدللہ! صحاح ستّہ کی 375 شروحات، حواشی و تعلیقات وغیرہ کی فہرست پر مشتمل رسالہ” صحاح ستہ کی شروحات، حواشی و تعلیقات“
منظر عام پر آچکا ہے، اس رسالے میں صحاح ستّہ کی کئی ایسی شروحات کاذکربطورِخاص کیاگیا ہےجن کے شارحین کا تعلق برِّ عظیم
پاک وہند سےہے اور یہ شروحات اب تک منتظرِ اشاعت ہیں یوں یہ رسالہ اہلِ علم کے ذوق
کی تسکین کے ساتھ اِن شروحات کی تلاش اور بعدِ تلاش تحقیق و تدوین کا سبب بنے گا۔اِن شاء اللہ الکریم
یادرہےکہ اِس رسالے کے مرتّب اسلامی ریسرچ سینٹر
المدینۃ العلمیہ کے لائبریرین مولانا تصوررضا عطاری مدنی زِیدَ عِلْمُہ ہیں،آپ اِس سے پہلے دوکتابیں
لکھ چکے ہیں جب کہ آپ کا تحریرکردہ
رسالہ”عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کی ریسرچ لائبریری کاتعارف وخدمات“اورترتیب
شدہ رسالہ”مجموعہ شمارہ جات ماہ نامہ معین الدین لاہور(1933-1934) کی فہرستِ مضامین “منظر
عام پر آچکے ہیں ۔
رسالے کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی ڈاؤن
کیجئے:
https://www.dawateislami.net/bookslibrary/ur/sihah-sittah-ki-shuruhat-hawashi-o-taliqat
ہمارے معاشرے
میں بیوی کو بعض گھرانوں میں ایک نوکرانی کی حیثیت دی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ ہر
گھر میں ہی ایسا ہو اچھوں کی کمی نہیں ہے۔ مگر بعض گھرانے ایسے ہیں جہاں بیوی کو
بہت نیچا محسوس کروایا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے گھر کے کام کاج، شوہر کی فرمانبرداری، ساس
سسر نندوں وغیرہ سے حسن سلوک بیوی کی ذمہ داری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ بیوی کے بھی
حقوق قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ جہاں دین اسلام نے نماز روزہ زکوۃ حج اور
دیگر عبادات وغیرہ کا درس دیا وہیں بندوں
کے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنے کی بھی
تاکید فرمائی ہے۔ جس طرح شریعت مطہرہ نے بیوی پر مرد کے حقوق لازم کیے ہیں بالکل
اسی طرح شوہر پر بھی بیوی کے حقوق لاگو فرمائے ہیں۔ جیسا کہ پارہ 2 سورۃ البقرہ
آیت نمبر 228 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ
عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-ترجمہ کنز الایمان: اور عورتوں کا بھی
حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔
اسی آیت کے
متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے: اور
عورتوں کے لیے بھی شریعت کے مطابق مردوں پر ایسے ہی حق ہے جیسا عورتوں پر ہے یعنی
جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے
حقوق پورے کرنا بھی لازم ہے۔
اسی طرح قران
کریم میں ایک اور جگہ پارہ 4 سورۃ النساء آیت 19 میں ارشاد فرمایا: وَ عَاشِرُوْهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِۚ- ترجمہ: اور تم عورتوں کے ساتھ حسن سلوک
سے پیش آؤ۔ علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: بیویوں
کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات کرنا اور تمام امور میں ان کے ساتھ انصاف کرنا ان کے
ساتھ اچھا برتاؤ ہے۔
آج کل کے
مردوں کو دیکھا گیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ اور چیخنا چلانا شروع کر دیتے
ہیں بیوی کو گویا انسان سمجھتے ہی نہیں اور مارنے لگتے ہیں۔ گھر گندہ ہے، صفائی
نہیں کی اور اپنی ضروریات کا مطالبہ کرنا وغیرہ جیسی باتوں پر،حالانکہ حدیث پاک
میں ہے: تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دن کے
آخر میں سے صحبت کرے گا۔ (بخاری، 3/465، حدیث: 5182)
بیوی بھی
انسان ہے غلطی کس انسان سے نہیں ہوتی؟ مرد کو چاہیے کہ درگزر کرے، اپنے غصے پر
قابو پائے، اور خود پر غور کرے کہ آیا وہ خود کیسا ہے؟ کیا بیوی کے تمام حقوق پورے
ادا کر رہا ہے یا نہیں؟
میں نے دیکھا
ہے اپنی آنکھوں سے، اور اپنے کانوں سے سنا ہے کہ مرد یہ کہہ کر کہ ”مرد تو کچھ بھی
کرتا ہے“ بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ مرد تو کچھ بھی کرتا ہے؟
شریعت نے تو ہر ایک کے احکام بیان کیے ہیں۔اگر بیوی کو حکم ہے کہ: شوہر کی ہر بات
مانے، اس کا ادب کرے،تو شوہر کو بھی حکم
ہے کہ بیوی کی خواہشات کا، اس کے حقوق کا خاص خیال رکھے، اس پر بے جا ہاتھ مت
اٹھائے اور اس کے ساتھ مخلص رہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ حدیث پاک میں ہے: بے
شک کامل ایمان والا وہ ہے جس کا خلق اچھا ہو اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ نرمی سے پیش
آئے۔ (ترمذی، 5/475، حدیث: 3921)
مزید یہ کہ
دیکھا گیا ہے کہ آج کل کے مرد اپنی بیویوں پر خرچ نہیں کرتے گھر کی ضروریات پر
توجہ نہیں دیتے اور باہر کے لوگوں پر سخی بنے پھرتے ہیں۔ بیوی کسی چیز کا مطالبہ
کرے یا گھر کی کسی ضرورت کا ذکر کرتی جائے تو رزق میں تنگی کی کہانیاں سنانے لگتے
ہیں حالانکہ فضول و حرام کاموں میں خرچ کرتے نظر بھی آتے ہیں۔ ان کی بے جا سختی
اور غصّے کی وجہ سے بیوی اور بچے اپنی خواہشات دبا لیتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: بدترین
انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں پر تنگی کرے۔ عرض کی گئی وہ کیسے تنگی کرتا ہے؟
ارشاد فرمایا: جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے تو بیوی ڈر جاتی ہے بچے بھاگ جاتے ہیں
اور غلام سہم جاتے ہیں اور جب وہ گھر سے نکل جائے تو بیوی ہنسنے لگے اور دیگر گھر
والے سکھ کا سانس لیں۔ (معجم اوسط، 6/287، حدیث: 7898 )
حالانکہ بیوی،
بچوں اور گھر والوں پر خرچ کرنے کا احادیث پاک میں حکم ارشاد فرما گیا ہے، بیشمار
فضیلتیں بیان کی گئی ہیں، چنانچہ حدیث پاک ہے: اللہ کی رضا کے لیے تم جتنا بھی خرچ
کرتے ہو اس کا اجر دیا جائے گا حتیٰ کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو
(اس کا بھی اجر ملے گا)۔ (بخاری، 1/438، حدیث:
1295)
اسی طرح دیکھا
جائے تو ساس کا بھی رویہ جیسا ہونا چاہئے، بدقسمتی سے ویسا ہوتا نہیں ہے۔بعض اوقات
تو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساس کو بہو کا وجود ہی برداشت نہیں ہر چھوٹی چھوٹی بات پر کوستے رہنا، ڈانٹنا
باتیں سنانا حتیٰ کہ بہو پر ہاتھ اٹھانا۔ جی ہاں! اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ایسی
بھی صورت۔
پہلے سارا
سارا دن بہو سے الجھی رہتی ہیں اور اس بات کی دھمکیاں دیتی ہیں کہ آنے دو بیٹے کو
آج تمہاری فلاں شکایت کروں گی اور پھر نند صاحبہ لگی آگ مزید بڑھکانے چلی آتی ہیں۔
پھر جیسے ہی شوہر گھر تشریف لاتا ہے دونوں
ماں بیٹی بہو کے خلاف کان بھرنا شروع کردیتی ہیں اور بیوی جو سارا دن ساس کے طعنے
سن سن کر اور کام کاج کر کر کے تھکن سے پہلے ہی نڈھال ہوئی ہوتی ہے، باقی رہتی کسر
شوہر نکال دیتا ہے۔
ساس کو چاہیے
کہ اپنی بہو کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرے جیسا اپنی بیٹی کے لئے پسند کرتی ہے۔
یقیناً ہر ماں ہی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری بیٹی کو اچھا سسرال نصیب ہو۔ نندیں
اچھی ہوں ساس پیار کرنے والی ملے، اگر اپنی بیٹی کیلئے ایسی خواہش رکھتی ہے تو
دوسرے کی بیٹی کیلئے خود بھی ویسی بننے کی کوشش کرے۔ اسی طرح نندوں کو بھی چاہئے
کہ یہ دیکھیں کہ وه بھی تو کسی گھر کی بہو ہیں۔ کیا خود کے ساتھ بھی ایسا سلوک پسند کرتی ہیں؟
حدیث پاک کا
مفہوم ہے: لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، جو اپنے لیے
ناپسند کرتے ہو اسے دوسروں کےلیےبھی ناپسند کرو، جب تم بولو تو اچھی بات کرو یا
خاموش رہو۔ (مسند امام احمد، 8/ 266،
حدیث: 22193)
اسلام تو
خیرخواہی کا درس دیتا ہے، ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ
بھلائی کرنے کا درس دیتا ہے۔ بعض احادیث میں تو یہاں تک فرمایا گیا کہ جب تک مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے
وہ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے تب تک وہ کامل مومن ہی نہیں ہوسکتا جیسا
کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے
کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی
پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)
اللہ کے نبی ﷺ
نے بتایا ہے کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک
اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا
ہو اور اس کے لیے انہی چیزوں کو ناپسند نہ کرے، جنہیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔
اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور
کوئی اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق
تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔
اگر بہو میں
کوئی ایسی بات ہو جو ساس یا نند وغیرہ کو ناگوار گزرتی ہو، تو پیار اور محبّت سے
سمجھا دیں۔ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ساس کو چاہیے کہ بہو کے ساتھ بھی بیٹیوں کا
سا سلوک کرے۔حسن سلوک سے ہر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔
ہمارا کوئی تو
عمل ایسا ہو جو قیامت کے دن ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔ بلاشبہ قیامت کے دن نجات
الله تبارک و تعالیٰ کی خاص رحمت اور حضورﷺ کی شفاعت سے ہی نصیب ہونی ہے۔
اللہ ہمیں
اپنی اطاعت کرنے کی اور ہر ہر احکام پر استقامت سے عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ
اور اس کے رسول ﷺ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راضی ہو جائیں۔ آمین
Dawateislami