محترم قارئینِ
کرام! ہم سے دو طرح کے حقوق متعلق ہیں:1۔ حقوق اللہ 2۔ حقوق العباد۔
یہاں حق تلفی
کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ آئیے اولاً ہم اس کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھتے ہیں کہ
حق تلفی کہتے کسے ہیں؟ پھر آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کے ذریعے اس کے نقصان کو
سمجھیں گے اور اس کے مختصر اسباب و علاج بھی جانیں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
حق
تلفی کا مطلب: اس
کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا حق چھین لینا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کر دینا۔
مثال کے طور
پہ کسی کو اس کی جائز تنخواہ نہ دی جائے تو یہ حق تلفی ہے اسی طرح کسی کی زمین اس
سے زبردستی چھین لی تو یہ بھی حق تلفی ہے مزید یہ کہ ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں
کے مال کھا جانا، لوگوں کو دھوکہ دینا، مال غصب کر لینا اور کسی کی کوئی چیز چوری
کر لینا کسی کی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھ جانا، کلاس روم میں اس کے مالک سے
پوچھے بغیر ہی اس کی چیز میں تصرف کر دینا، کسی پر راستہ تنگ کر دینا، کسی کے گھر
کے آگے کوڑا کرکٹ پھینک دینا، گاڑھی وغیرہ کھڑی کر دینا یہ سب حق تلفی کی صورتیں
ہیں اور اس کی مثالوں میں شامل ہیں۔
آئیے جانتے
ہیں کہ ہمارا رب اس وصفِ قبیح کے متعلق کیا فرماتا ہے:
حق
تلفی کی مذمت میں آیات مبارکہ:
اللہ رب
العالمین ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے
ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق نا کھاؤ۔
اس آیت میں
باطل ( یعنی ناحق) طریقے سے مراد (ہر) وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے
حرام قرار دیا ہے۔
اسی طرح ایک
اور جگہ اللہ پاک حق تلفی کی مذمت میں ارشاد فرماتا ہے: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱)
الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا
كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ
مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ
الْعٰلَمِیْنَؕ(۶) (پ 30، المطففین: 1 تا 6 ) ترجمہ: کم تولنے والوں
کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں۔اور جب انہیں ماپ یا تول کردیں کم
کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لیے جس دن
سب لوگ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے حضور کھڑے ہوں گے۔
حق
تلفی کی مذمت میں احادیث مبارکہ:
حضور پُرنور ﷺ
کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے
کوڑھی ( یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔ (معجم کبیر، 1/179، حدیث: 636)
مزید ارشاد
فرمایا: یتیم کا مال ناحق کھانے والا قیامت کے روز اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ،
کان، ناک اور آنکھوں سے آگ کا شعلہ نکلتا ہوگا جو اسے دیکھے گا پہچان لے گا کہ یہ
یتیم کا مال ناحق کھانے والا ہے۔ ( تفسیرِ طبری، 3/615، حدیث: 8724)
حق
تلفی کے اسباب و علاج:
1۔ علمِ دین
سے دوری۔ 2۔ مال کی حرص 3۔ بری صحبت 4۔ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہونا 5۔ اچھی
تربیت نہ ہونا وغیرہ۔
اس کے علاج
کیلئے علمِ دین حاصل کیجیے بری صحبت سے خود بھی بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں،
اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں اور حق تلفی سے متعلق آیات مبارکہ اور احادیث
مبارکہ میں جو مذمت بیان ہوئی ہے اسے پڑھنے اور اپنے بارے میں غور وفکر کرنے سے
بھی بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ ان شاءاللہ
اللہ رب
العالمین ہمیں اس مذموم فعل سمیت تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
ثم آمین بجاہ النبی الامین
حق تلفی کہتے
ہیں کسی کو اس کا جائز حق نہ دینا۔ جو حق، چیز، جگہ، مرتبہ اس کا ہے اس میں کمی کر
کے دینا یا بالکل ہی نہ دینا۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا
النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) بَقِیَّتُ اللّٰهِ
خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ
بِحَفِیْظٍ(۸۶) (پ
13،ہود: 85، 86) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین
میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر
تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔
جیسا کہ آپ نے
آیت مبارکہ میں پڑھا کہ کسی کو اسکی چیز کم کر کے دینا کیسا ہے؟ اور ساتھ ہی حل
بھی بتایا ہوا کہ رب کائنات جو تمام چیزوں کا مالک ہے جسکا ہر ہر کام حکمت والا ہے
اس نے جو آپکو دیا ہے وہ آپ کیلئے بہتر ہے۔
حقوق العباد
کو ادا نہ کرنا حق تلفی ہے۔ جیسے والدین بچوں کے حقوق ادا نہ کریں، بچے والدین کے
حقوق ادا نہ کریں، پڑوسی دوسرے پڑوسی کے حقوق ادا نہ کریں، میاں بیوی بہن بھائی
وغیرہا ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کریں۔
حدیث مبارکہ
میں ہے: عنقریب میرے بعد کچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہونگے جو تمہیں ناپسند
ہونگے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسی حالت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
فرمایا: اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہو اور اپنے حقوق اللہ سے مانگتے رہو۔ (بخاری، 4/429، حدیث:7052)
ایک اور حدیث
مبارکہ میں ہے: قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی
کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)
اللہ اکبر! آپ
نے حدیث مبارکہ پڑھی کہ قیامت کے دن ضرور حقداروں کو ان کے حق ملیں گے۔ اس حدیث
مبارکہ میں امید اور خوف دونوں ہے کہ حقداروں کو تو بدلہ ملے گا لیکن جنہوں نے
زیادتی کی ان کا کیا؟
اللہ پاک ہمیں
تمام مسلمانوں کے حقوق بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے اور حق تلفی سے بچائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ
زبان کی حفاظت، فضول گوئی سے بچنا اور اچھے
اخلاق اپنانا ہر مسلمان کی اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔ شیخ طریقت امیر اہلسنت
علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کی اصلاح اور انہیں لایعنی کاموں سے بچانے کے لئے اپنے قلم سے مختلف مدنی
پھول تحریر فرمائے ہیں، جنہیں ”شعبہ ہفتہ وار رسالہ“ نے 18 صفحات پر مشتمل ایک
بہترین رسالے کی شکل میں تیار کیا ہے جس کا نام ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ ہے۔
امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو یہ رسالہ پڑھنے/ سننے کی ترغیب
دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ
”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور
بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔ اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی
زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے ؛
05 مئی 2026ء کو پنجاب کے شہر خانیوال میں
قائم اسپیشل ایجوکیشن اسکول میں دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایک
ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مبلغِ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان
کیا جس میں دینی و اخلاقی تعلیمات سے اسٹوڈنٹس
کو آگاہ کیا گیا۔
اسپیشل پرسنز ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد یوسف عطاری نے
اسپیشل اسٹوڈنٹس کی آسانی کے لیے بیان کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی کی جبکہ
اسٹوڈنٹس کو والدین کا احترام کرنے، پانچ وقت کے نمازوں کی پابندی کرنے اور اچھے
اخلاق اپنانے کا ذہن دیا گیا بالخصوص موسمِ گرما کے حوالے سے، گرمی سے بچاؤ، احتیاطی
تدابیر اختیار کرنے اور صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں مفید رہنمائی کی گئی۔
بعد ازاں اسکول کے سٹاف اور پرنسپل سے ملاقات کا
سلسلہ ہوا جس میں دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہونے والے نئے دینی
و فلاحی کاموں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ اس کے علاوہ دعوتِ اسلامی کے سوشل میڈیا
اکاؤنٹس فالو کروانے کی ہدایت دی گئی تاکہ اسٹوڈنٹس، ٹیچرز، اور معذور افراد دینی
معلومات اور اشاروں کی زبان میں اسلامی مواد سے مستفید ہو سکیں۔
16 مئی 2026ء کو کراچی کے گارڈن ڈسٹرکٹ، لیاری
ٹاؤن میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت ذمہ داران نے معذور افراد کے دو ادارے PWD کا وزٹ اور وہاں ایڈمن اور جسمانی
معذور افراد سے ملاقات کی ۔
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی اس وقت
دنیا کے کم و بیش 190 ممالک میں اسلامی بھائیوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم اور دینی، اخلاقی و شرعی تربیت دینے کے عظیم
مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسی سلسلے میں دعوتِ اسلامی نے مختلف شعبہ جات
قائم کیے ہیں جن میں سے ایک اہم شعبہ مدرسۃالمدینہ بالغان ہے۔ اس شعبے کے ذریعے
مساجد، دکانوں، دفاتر، تعلیمی اداروں، گھروں اور دیگر مقامات پر 15 سال یا اس سے
زائد عمر کے اسلامی بھائیوں کو صحیح تلفظ و قواعد تجوید کے مطابق قرآنِ مجید،
نماز، روزہ اور دیگر دینی مسائل کی تعلیم دی جاتی ہے۔
13 مئی 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے تحت آسٹریلیا کے ذمہ داران کا
آن لائن ٹریننگ سیشن منعقد ہوا جس میں ملکی
نگران عبدالواحدعطاری،شعبہ ذمہ دار رضاالمصطفی عطاری (فیضان
مدینہ سڈنی)، امام مبلغین
مولاناعرفان حفیظ عطاری مدنی، عزیز عطاری (فیضان مدینہ سڈنی)، محمدشاہ میل عطاری (ملیبورن
سٹی)، حافظ محمد عمر (سڈنی)،محمد شہباز عطاری
اورمحمد عمران عطاری (ایڈیلیڈ ساؤتھ آسٹریلیا)
نے شرکت کی۔
اس سیشن میں مرکزی مجلس شوری کے رکن مولانا حاجی
محمد عقیل عطاری مدنی نے مدرسۃالمدینہ بالغان کو بڑھانے، معلمین کو ریفریش ٹیچر ٹریننگ
کروانے،پڑھانے والوں کو شعبے کے نظام و طریقۂ کار کے مطابق تربیت دینے پر زور دیا
گیا۔
اسی طرح ذمہ داران کو ناظرہ قرآن، نماز، دینی
مسائل اور اخلاقی تربیت کے ذریعے نوجوانوں اور بزرگوں کو معاشرے میں کامیاب فرد بننے
کے لیے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنےکی ترغیب دلائی گئی۔
رکنِ شوری نے مدرسۃُ المدینہ بالغان کے ذریعے
ناظرہ قرآن مکمل کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے، ان کی مزید تربیت کرکے انہیں
قرآن ٹیچر ٹریننگ کورس کروانے اور اس میں کامیاب ہونےوالوں کو مدرسۃالمدینہ بالغان
میں پڑھانے کی ذمہ داری دینے پر توجہ دلائی ۔
بعدازاں ملکی نگران عبدالواحد عطاری سمیت مقامی ذمہ داران نے ’’قرآن ٹیچر ٹریننگ
کورس‘‘ کا جلد آغاز کرنے کی اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:مولانا محمد عابد عطاری مدنی معاون رکن شوری حاجی محمد
عقیل عطاری مدنی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
مدرسۃ المدینہ بارہ کہو، ڈھوک جیلانی میں طلبہ کے لیے سیکھنے سکھانے کا حلقہ
16 مئی 2026ء کو اسلام آباد میں قائم مدرسۃ المدینہ بارہ کہو، ڈھوک جیلانی میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ
دعوتِ اسلامی کے تحت سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں طلبہ سمیت دیگر
اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
اس حلقے کے دوران پاکستان سطح کے نابینا افراد کے
ذمہ دار حاجی محمد حنیف عطاری نے مدرسۃالمدینہ بوائز کے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں نابینا افرادکے
مدرسۃالمدینہ و جامعۃالمدینہ کے متعلق آگاہی دی۔
اس موقع پرپاکستان سطح کے ذمہ دار نے اسپیشل
پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت نابینا افراد کے لیے
ہونے والی دینی و فلاحی خدمات کے بارے میں
بتایا نیز بچوں اشاروں کی زبان سیکھنے کی ترغیب دلائی اور
انہیں چند اشارے بھی سکھائے۔(رپورٹ:
سیّد ذیشان حسین بخاری عطاری، ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل
آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد اسحاق، جامعۃ المدینہ قادرپوراں ملتان
نبی کریم ﷺ کو
اپنے تمام صحابہ سے محبت تھی۔آپ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے ان کے مال، جان
اور اولاد میں خیر وبرکت کی دعائیں فرماتے، اپنے اصحاب کی دل جوئی فرماتے۔ صحابہ
کرام علیہم الرضوان میں سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آقا ﷺ کی بہت ہی محبت پائی۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام علیہم الرضوان
میں سے ہیں جن کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت ملی۔آپ رضی اللہ عنہ قطعی جنتی
ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے
خلیفہ ہیں۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ
پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیت اور انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔ حضرت
آدم علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں
آئیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب جنتی صحابی ہیں کہ جن کے نکاح
میں کسی اور نبی کی نہیں بلکہ نبیوں کے سردار، جناب احمد مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں
ایک کے بعد دوسری نکاح میں آئیں۔ اسی سے آپ کا ایک لقب ذوالنورین بھی ہے۔
اللہ پاک کے
پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: اگر میری دس
بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر، 22/
436، حدیث: 1061 )
جب حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں آئے تو آپ ﷺ نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور
فرمایا: میں اس شخص سے کیوں نہ حیا کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(تاریخ
الخلفاء، ص 201)
جب رسول اللہ
ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اہل مکہ کی طرف بطور قاصد گئے
ہوئے تھے جب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام گئے ہوئے ہیں یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنا
ایک ہاتھ دوسرے پہ رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کا دست
مبارک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے اب تمام ہاتھوں سے بہتر تھا۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 208)
حضور نے فرمایا:
ہر ایک کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی (جنت میں) عثمان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
ایک روایت میں
ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے
دعا کی: مولا میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہےتو کل قیامت اس کا حساب نہ لینا کہ وہ
شرم وحیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح،
10/432، تحت الحدیث: 6070 )
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ بارہ سال خلافت فرما کر 18 ذالحجہ الحرام سن 35 ہجری میں بروز
جمعہ روزے کی حالت میں تقریبا 82سال کی عمر مبارک پا کر نہایت مظلومیت کے ساتھ
شہید کئے گئے۔شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رحمت عالم ﷺ کو
خواب میں فرماتے سنا:بے شک عثمان کو جنت میں عالی شان دولہا بنایا گیا ہے۔ (ریاض
النظرۃ، 3/ 73)
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین
ملی
تقدیر سے مجھ صحابہ کی ثنا خوانی ملا
ہے فیض عثمانی ملا ہے فیض عثمانی
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت ندیم یوسف،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
عثمان
ذوالنورین:اے
عاشقان صحابہ اہل بیت! حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے ۔حضور ﷺ آپ سے
کس قدر محبت فرماتے ہیں۔ کہ آپ کے نکاح میں اپنی دو بیٹیاں دے دی اور یہ شان صرف
حضرت عثمان غنی کے ساتھ خاص ہے اس لیے آپ کو ذوالنورین کہتے ہیں اور صرف یہ نہیں
بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ میں نے رسول
اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے اگر
میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح عثمان تم سے کر دیتا
یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (خلفائے راشدین، ص 178)
آپ
کی طرف سے بیعت فرمائی: جب رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا
حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ
معظمہ گئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پربیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو
فرمایا: عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے
ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت
کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)
حضور ﷺ کا
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کا کیا عالم ہے کہ حضور نے اپنے دست مبارک کو
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا اور یہ وہ فضیلت ہے جو صرف حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے اس میں کوئی بھی آپ کے ساتھ شریک نہیں۔
جنتی
ساتھی: فرمان
مصطفی ﷺ ہے: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرا ساتھی( یعنی جنت میں) عثمان
ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)
اس حدیث
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ حضرت عثمان غنی سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے
کہ آپ نے فرمایا عثمان جنت میں بھی میرا ساتھی ہوگا۔
حساب
نہ لینا: ایک
روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی: مولا میرا عثمان
بڑا ہی شرملہ ہے تو قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کیونکہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے
تیرے سامنے کھڑا ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/ 432، تحت الحدیث: 6070
ملتقطا)
حضور ﷺ حضرت
عثمان غنی سے کس قدر محبت فرماتے ہیں اس کا اندازہ ہم حدیث مبارکہ سے لگا سکتے ہیں
کہ آپ اپنے رب سے عثمان غنی کے حساب نہ لینے کے لیے دعا فرما رہے ہیں۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد اسماعیل قادری،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
یوں تو تمام
ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان ہمارے سروں کے تاج ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ کی توشان ہی نرالی ہے۔ اللہ پاک کے کسی نبی علیہ السلام کا داماد ہونا ایک بہت
بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی علیہ السلام کی دو بیٹیاں نہیں
آئیں۔ اسی وجہ سے آپ کو ذو النورین یعنی
دونور والا بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ
نبی کریم ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کو بھی بیان کرتا ہے چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ
ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں یعنی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ارشاد فرمایا:
اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ضرور ایک کے بعد ایک ان سب کا نکاح عثمان سے
کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی یعنی اللہ پاک کے حکم پر ان کے ساتھ
یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔(معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)
نور
کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
حضور ﷺ کی
عثمان غنی سے محبت کی ایک واضح دلیل یہ روایت بھی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جنت میں ہر نبی کا کوئی خاص ساتھی ہوتا ہے اور میرے خصوصی ساتھی عثمان
ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث: 109)
شہزادی
کو حسن سلوک کی وصیت: حضور ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کا ایک نرالا انداز یہ
بھی تھا کہ آپ نے اپنی شہزادی کو آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق وصیت فرمائی کہ رسول
اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھیں۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمايا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ
یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ یعنی ملتی جلتی ہے۔
(اربعین عثمانی، ص 17)
حضرت
عثمان غنی پر کرم نوازی: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ
سے بےحد محبت فرماتے اور حضور بھی جامع القرآن حضرت عثمان پر بے حد و بے انتہا
مہربان تھے، اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ حضرت عبد الله بن سلام
رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے
مكان رفيع الشان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک نہیں
جانے دی جا رہی تھی اور حضرت سید نا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے
رہتے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ اس دن روزه دار تھے۔ مجھ
کو دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ! میں نے آج رات سرکار ﷺ کو
اس روشن دان میں دیکھا، آپ نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: اے عثمان!
ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی
ہاں۔ تو فورا ہی آپ ﷺ نے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں
اس سے سیراب ہوا اور اب اس وقت بھی اس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں اور دونوں
کندھوں کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمايا: اگر تمہاری
خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے
پاس آکر روزه افطار کرو۔ میں نے عرض کی: يا رسول الله! آپ ﷺ کے دربار انور میں
حاضر ہو کر روزہ افطار کرنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔ حضرت عبد الله بن سلام فرماتے ہیں
کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اسی روز باغیوں نے آپ کو شہید کر دیا۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علامہ ابن باطیش
اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ سرکار ﷺ کے دیدار والا یہ واقعہ خواب میں نہیں بلکہ
بیداری کی حالت میں پیش آیا۔
کئی
دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی
شهادت
حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی
(كرامات
عثمان غنی، ص 12، 13، 14)
اللہ اللہ
ایسا محبت کا انوکھا انداز اور ایسی کرم نوازی اللہ پاک سے دعاہے کہ وہ ہمیں عثمان
غنی رضی اللہ عنہ سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور ان کی برکتوں سے ہمیں بھی حصہ
نصیب فرمائے۔ آمین بجاه خاتم النبيين ﷺ
سرکار ﷺ نے
ارشاد فرمایا: سخاوت ایک جنتی درخت ہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس کی شاخوں میں
سے ایک شاخ ہیں۔ ( کنز العمال، جز: 6، 11/ 273، حدیث: 32849)
ایک مرتبہ ایک
شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے اس سے مصافحہ فرمایا: اور جب تک
اس شخص نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اس شخص نے پوچھا یا
رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کیسے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ جنتیوں میں
سے ایک شخص ہیں۔ ( معجم کبیر، 12/ 309، حدیث 13495 )
فرمایا: ہر
نبی کا کوئی ساتھی ہے ( یعنی جنت میں ) اور میرے ساتھی عثمان ہے۔(ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
حکیم الامت
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں
میرے خصوصی ساتھی حضرت عثمان ہوں گے ورنہ مطلقا ساتھی اور بہت سے خوش نصیب حضرات
بھی ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح، 8/ 393)
حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بے مثال خصوصیت: اے عاشقان صحابہ
و اہل بیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیات اور
انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل
نہ ہو سکی حضرت آدم سے لے کر حضور پاک ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں
نہیں ائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خوش نصیب اورجنتی صحابی ہیں جن کے
نکاح میں کسی اور نبی کی بیٹیاں نبی کی نہیں بلکہ سارے نبیوں کے سردار جناب احمد
مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں ایک کے بعد دوسری نکاح میں ائی اس لیے آپ کا ایک لقب
ذوالنورین یعنی دو نور والے بھی ہیں اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا: اگر میری
دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر،
22/ 436، حدیث: 1061 )
عثمان مجھ سے
ہیں اور میں عثمان سے ہوں ( تاریخ دمشق 39 / 102 )
بروز قیامت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں
گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ ( تاریخ دمشق 39 / 122 )
حیا ایمان سے
اور میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار عثمان ہے۔ (تاریخ دمشق، 39/92 )
حضرت عثمان کی
شرم و حیا کے بھی کیا کہنے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بھی آپ سے حیا فرماتے ہیں عموما
دیکھا جاتا ہے کہ ایک غلام تو آپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف کرم کے سبب اس کی
تعریف میں رطب اللسان رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ جب آقا ﷺ بھی اپنے غلام کی
خوبیوں پر اس کی تعریف کریں اور اس کی محبت اور والہانہ تعلق کا اظہار کریں امیر
المومنین حضرت عثمان غنی کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے کہ جن کے
حق میں حضور پاک ﷺ کے لب و جان بخش نے کئی بار جنبش فرمائی کبھی آپ کو دربار رسالت
ﷺ سے جنت کا مژدہ عطا ہوا تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی ﷺ نے اپنا جنتی رفیق قرار دیا
کبھی آپ کو کامل حیات کی سند عطا فرمائی تو کبھی شفاعت کے ذریعے لوگوں کے جنت پانے
کا اعلان فرمایا۔
اللہ کی پاک
بارگاہ میں عرض ہے کہ ہمیں بھی عثمان غنی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد اشرف، جامعۃ المدینہ سمندری فیصل آباد
رسول اکرم ﷺ
کے تمام اصحاب پیکر صدق و صفا ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمت کے اندھیرے میں روشنی کا
وہ مینار ہیں جن سے زمانہ ہدایت پاتا ہے۔ تمام صحابہ کرام قیامت تک آنے والی نسل
انسانی کیلئے روشنی کا مینار ہیں۔ خلیفہ سوم، داماد رسول حضرت عثمان غنی کو اللہ
تعالیٰ نے جن عظیم صفات سے متصف فرما کر صحابہ میں ممتاز فرمایا وہ انہی کا حصہ
ہیں۔ حضرت عثمان غنی حیا کا ایسا پیکر تھے کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ آپ عشرہ
مبشرہ میں سے ہیں۔ حضرت عثمان غنی نے دین اسلام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر
قربانی کو قبول کیا۔ حضرت عثمان غنی نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسول ﷺاور
مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے اپنے دور خلافت میں ہمیشہ استقامت کو
اپنائے رکھا۔
عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کا شمار حضور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب شوری میں بھی ہوتا ہے۔ کامل الحیا و
الایمان کے الفاظ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: میں
اس شخص سے کیسے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)
رسول اکرم ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت
فرماتے تھے کہ آپ نے ایک، ایک کر کے اپنی 2 شہزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے
نکاح میں دیں۔ (نزہۃ القاری، 1/544)
حدیث پاک میں
ہے: اللہ پاک نے مجھے وحی فرمائی کہ میں اپنی دو بیٹیوں کا نکاح عثمان سے کروں۔ (معجم
اوسط، 2/346، حدیث: 3501)
ایک حدیث پاک
میں فرمایا: اگر میری 100 بیٹیاں ہوتیں، ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نکاح
میں دیتا، اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نکاح میں دیتا، یہاں تک کہ میں
اپنی 100 کی 100 شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ کنز العمال،
جز: 13، 7/21، حدیث: 36201)
مولائے کائنات،
علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق سوال ہوا تو
فرمایا: عثمان وہ ہیں کہ انہیں فرشتے ذوالنّورین کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے داماد ہیں، پیارے آقا، مدنی مصطفےٰ ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی۔ (ریاض النضرۃ، 3/6)
جمہور اہل سنت
کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ سے عثمان رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔
اہل سنت کے
مشہور ثقہ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ آپ علی سے زیادہ محبت
کرتے ہیں یا عثمان سے؟ انہوں نے جواب دیا: عثمان سے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر، 41/
334)
Dawateislami